تامل ناڈو کے دبنگ وزیر اعلیٰ بھارتی اداکار وجے کا دبنگ اعلان میرے صوبہ میں جس کی ہاں بھی بیٹی پیدا ہوگی وہ کسی بھی مذہب سے ہو وہ اپنا رجسٹریشن کروائے اس کی بچی کو سونے کی انگوٹھی فوراً ملے گی اور اس کے نام پر ایک اکاؤنٹ کھولے گا جس میں ہماری سرکار ہر ماہ رقم ٹرانفسر کرئے گی جب بچی اٹھارہ سال کی ہوجائے گی تو اس کو اس فنڈ سے پندرہ لاکھ روپے ملیں گے تا کہ وہ کسی پر بھی بوجھ نہ ہو اور اپنا مستقبل خود طے کرسکے
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے پر آئل کمپنیاں خاموش ہو جاتی ہیں جبکہ عالمی منڈی میں قیمتیں گرنے کے بعد عوام کو کچھ ریلیف دینے پر انہیں تکلیف ہوتی ہے۔ وطن عزیز میں مافیا بے لگام گھوڑا بن چکا ہے، حکومت ان کے سامنے لیٹ جاتی ہے۔ عوام کی کھال اتارنے والے سب ایک پیج پر ہیں
@WENewsPk پنجاب حکومت جن مجوسیوں پہ ریاستی مشینری اور پیسہ لگا کر چاپلوسی کر کے ووٹ اکٹھے کرنے کا پلان بنا رہی ہے۔
انکو ہم بتا دیتے ہیں کہ ان مجوسیوں نے حُسینؓ کو خط لکھ لکھ کے بُلایا تھا ووٹ دینے کے لئے اور پھر جو حُسینؓ کے ساتھ انہوں نے کیا وہ دنیا جانتی ہے۔۔۔باقی تواڈی مرضی اے ہن
@chsandhilaa پنجاب حکومت جن مجوسیوں پہ ریاستی مشینری اور پیسہ لگا کر چاپلوسی کر کے ووٹ اکٹھے کرنے کا پلان بنا رہی ہے۔
انکو ہم بتا دیتے ہیں کہ ان مجوسیوں نے حُسینؓ کو خط لکھ لکھ کے بُلایا تھا ووٹ دینے کے لئے اور پھر جو حُسینؓ کے ساتھ انہوں نے کیا وہ دنیا جانتی ہے۔۔۔باقی تواڈی مرضی اے ہن
100% درست کہا۔۔ ان دس بیس ہزار مجوسیوں کیلئے سارا شہر بند کر کے لاکھوں روپے کے مشروب پلا کر کچھ نہیں ملے گا۔
سپلاں دے پتر متر نئیں بندے پویں چولیاں ددھ پلائیے ۔
پنجاب حکومت جن مجوسیوں پہ ریاستی مشینری اور پیسہ لگا کر چاپلوسی کر کے ووٹ اکٹھے کرنے کا پلان بنا رہی ہے۔
انکو ہم بتا دیتے ہیں کہ ان مجوسیوں نے حُسینؓ کو خط لکھ لکھ کے بُلایا تھا ووٹ دینے کے لئے اور پھر جو حُسینؓ کے ساتھ انہوں نے کیا وہ دنیا جانتی ہے۔۔۔باقی تواڈی مرضی اے ہن۔
پنجاب حکومت جن مجوسیوں پہ ریاستی مشینری اور پیسہ لگا کر چاپلوسی کر کے ووٹ اکٹھے کرنے کا پلان بنا رہی ہے۔
انکو ہم بتا دیتے ہیں کہ ان مجوسیوں نے حُسینؓ کو خط لکھ لکھ کے بُلایا تھا ووٹ دینے کے لئے اور پھر جو حُسینؓ کے ساتھ انہوں نے کیا وہ دنیا جانتی ہے۔۔۔باقی تواڈی مرضی اے ہن۔
@ParvezBaig1055 سالے ایک ارب ڈالر کیلئے آئی ایم ایف کے آگے لیٹ جاتے ہیں اور پھر شوخی ان ڈالروں سے گاڑیاں خرید کر ڈالر جاپان کو دے دیتے ہیں اور غریب عوام سالوں تک انہی ڈالروں کا سود ادا کرتی رہتی ہے