ملک اور قوم پر رحم کریں، اقتدار چھوڑ دیں اور دفع ہوجائیں،
محسن نقوی کی تقریر دراصل مکمل ناکامی،ٹوٹل فیلئیر، کا اعتراف ہے۔ یہ سسٹم فیل نہیں ہوا، بلکہ ہارے ہوئے_/ مسترد شدہ نااہل ترین اور کرپٹ حکمران ٹولہ فیل ہوا ہے۔ جب عوام کے مسترد کردہ اور انتخابات میں ہارنے والے لوگوں کو ایوانوں میں بٹھایا جائے گا، اور عوام کی دوتہائی اکثریت کی حمایت رکھنے والے رہنماؤں کو جیلوں میں ڈال دیا جائے گا، تو پھر نظام اسی طرح فیل ہوگا۔ کوئی بھی نظام عوام کے مسترد شدہ اور ہارے ہوئے لوگوں کے ذریعے کامیابی سے نہیں چل سکتا۔ گزشتہ پانچ برسوں میں پاکستان کو معاشی، سیاسی، قومی یکجہتی اور امن و امان کے حوالے سے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔ آج یہی مسترد شدہ، نااہل اور کرپٹ ٹولہ سسٹم کی ناکامی کا ذکر کر رہا ہے، حالانکہ انہی کی ناقص حکمرانی اور غلط پالیسیوں نے ملک کو اس بحران سے دوچار کیا ہے۔ اپنی تباہ کن ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے اس مسترد شدہ، نااہل اور کرپٹ ٹولے کو نئے انتظامی یونٹس بنانے یا اس قسم کے شوشے چھوڑنے کا کوئی اخلاقی یا سیاسی جواز حاصل نہیں۔ ملک اور قوم پر رحم کریں، اقتدار چھوڑ دیں، اور اس ملک کو عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کے سپرد کر دیں تاکہ پاکستان کو بحرانوں سے نکال کر ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔
🚨🚨🚨 لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر پاکستانیوں اور کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد راولاکوٹ اور کشمیر میں جاری بربریت اور بیمار ذہنیت کے خلاف مظاہرہ کر رہی ہے۔ نعروں سے موجودہ نظام اور یزید کے بارے عوام کے جذبات آپ سن سکتے ہیں
واحدة من أكثر الحركات "نذالة" في كرة القدم عبر التاريخ |
إن الصندوق يخطف ماتياس من فريقه السعودي المستقر وبطل آسيا والأفضل والأجهز ، ويذهب به خلال ساعتين فقط من استقالته لفريقه الآخر في انجلترا في أسرع خطفه وحركة نذلة في التاريخ.
سجل ياتاريخ ♥️♥️♥️
وزیر داخلہ فوج کا ، وزیر خزانہ فوج کا ، افغان و کشمیر پالیسی فوج کے ہاتھ میں ، سرمایہ کاری کا ادارہ فوج نے بنایا ، ضلعی افسران کو فوج کے سیکٹر کمانڈرز کنٹرول کرتے ہیں ، الیکشن فوج نے چھینا آئینی ترامیم فوج نے کیں۔ آج ناکامیوں کا اعتراف بھی فوج کا ہے۔
عرض کیا تھا یہ جیت نہیں سکتے ہم ہار نہیں سکتے۔
ڈکٹیٹر کا پیشاب ڈکٹیٹر کی خواہش پر اس کو وردی والا صدر بنوانا چاہتا ہے اور بس۔ قومی مسائل کا حل عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنے میں ہے، ناکہ نئے صوبے بنانے میں۔ عوامی مینڈیٹ پر حکومت بنے، فوج واپس بیرک میں جائے، انوسٹر کانفیڈنشن بحال ہو، تو ملکی معیشت بھی ٹھیک ہوسکتی ہے۔ پھر چاہے عوام کی مرضی سے نئے صوبے بنائیں جائیں یا موجودہ صوبوں کو حقیقی خودمختاری مل جائے، ہر حال میں خیر ہوسکتی ہے۔ مگر اس سب کی راہ میں ایک وردی والا کالا کتا حائل ہے، جسے کنواں سے نکالنا ہوگا۔
عاصم منیر ایک سرکاری ملازم ہے لوگ اس نام لینے سے ڈرتے ہیں کیونکہ اس کے ہاتھ میں بندوق ہے لیکن ہم اس سے نہیں ڈرتے زیادہ سے زیادہ وہ ہمیں شہید کر دے گا ہم اس کے لیے تیار ہیں
علیمہ خان
مو بيد الشنقيطي
طيب يمشي
حتى يمشي كمان مو بيده ؟
تحركنا العواطف
يبكي واحد قدامنا نعطيه كل اللي معانا
اش معنى
وقت البطولة أنا عرابها
ووقت الخراب هم مو أنا
سوالف
- من يوم حققنا النخبة الثانية قبل 4 أشهر وفيه تواصل مع ماتياس لإنهاء علاقته بالأهلي، كما ذكر الإعلامي @salem_alahmadi ، وربعنا نايمين ومكبرين المخدة ..
حسبنا الله ونعم الوكيل !