تم بدلے تو سہی لیکن اور بھی دور ہونے کو
جیسے رات پھیل جائے صبح سے دور ہونے کو
یہ جو اک خول آسودگیِ زیست کو چڑھا لیا ہے تم نے
یہی وجہہ بن رہا ہے اب زندگی سے دور ہونے کو
ہارٹ اٹیک ناگہانی موت
نروس بریک ڈاؤن کو
کرونا وائرس کی ویکسین پر مت ڈالیے
جو مری مرغیوں کے شوار مے
گندے ائل میں بنے ہوٹل کے کھانے
10 دن فریزر میں لگے پائے
نہاری بونگ اور شادی بیاہ پر
انے واہ کھابے کھانے سے گریز کیجئے
ورنہ احباب دفن کرتے ہوئے بھی
کرونا وائرس کو کوسے گا
سوات کا سیلاب: قیامت سے پہلے قیامت ...
وہ ایک ایک کر کے زمین کے پیٹ میں اترتے گئے
اور ہم،
ایک ایک کر کے ان کی موت کی ویڈیوز اپلوڈ کرتے گئے
کیسا منظر ہوگا ...
ہمارے سامنے ہمارے معاشرے کے جیتے جاگتے لوگ - جس میں مرد، عورتیں، بچے، جوان، بوڑھے سبھی موجود ہیں - کل ملا کر 18 تقریباً
وہ سب کے سب ہم سے کچھ فاصلے پر ہی کھڑے تھے
لیکن ہمارے اور ان کے درمیان پانی کا ایک ایسا سیلابی ریلا موجود تھا، جس کو عبور کرنا تو دور کی بات، اس میں پاؤں رکھنا بھی اپنی موت کو دعوت دینا تھا
ہم بےبسی کی آخری حد پر کھڑے تھے
اور وہ،
اپنی موت کو آنکھوں سے آتا ہوا دیکھ رہے تھے
موت کا منظر: بے بسی کی انتہا ...
وہ لمحہ ایسا تھا ان پھنسے ہوئے لوگوں کے لیے،
جیسے موت کے فرشتے ان کی روح قبض کرنے سے پہلے ان کو آخری استغفار کی مہلت دے رہے ہوں
وہ لمحہ ایسا تھا،
جیسے موت اپنی باہیں کھول کر کھڑی ہوئی ہو - اور وہ لوگ اس آغوش سے دور ہونا چاہتے ہوں
وہ لمحہ ایسا تھا،
جب ہر قسم کی امید، ہر قسم کا سہارا، ہر قسم کی انسانی کوشش بھی ان لوگوں کے حالات کے آگے ہار مان چکی تھی
وہ لمحہ ایسا تھا،
جو دیکھنے والوں کے ذہنوں پر زندگی بھر کے لیے ایک ایسا نقش چھوڑ گیا ہے - جو زندگی بھر نہ دھل سکے گا، نہ مٹ سکے گا
وہ لمحہ ایسا تھا،
کہ خوفناک سے خوفناک خواب بھی اس حقیقت کے سامنے ہلکا لگنے لگا
وہ لمحہ ایسا تھا،
جب ہم سمجھ گئے - کہ قیامت صرف میدانِ حشر کی نہیں ہوتی، کبھی کبھی یہ دنیا ہی میدانِ قیامت بن جاتی ہے
تماشائی، موبائل اور موت کی گواہی ...
کیسا تھا وہ وقت،
کہ دیکھنے والے بھی مجبور،
اور پھنسے ہوئے لوگ بھی مجبور
ہماری نظروں کے سامنے وہ ایک کے بعد ایک سیلاب کا شکار ہوتے چلے گئے
مظلوموں کے پاس صرف آہیں اور چیخیں رہ گئیں،
اور تماشائیوں کے پاس،
صرف کیمرے
ہر شخص کا موبائل ان اموات کی گواہی بن گیا اور آنے والی نسلوں کو پیغام دے گیا - کہ موت کب، کہاں، کیسے آ جائے - کوئی نہیں جانتا
اور یہ بھی کہ،
کہ موت سے نہ پہلے کبھی کوئی جیت سکا ہے اور نہ کبھی کوئی جیت سکے گا
ہم ریکارڈ کرتے گئے،
وہ ایک ایک کر کے اپنی جان کی بازی ہارتے رہے
اس کو کہتے ہیں بے بسی کی انتہا - وہ بھی ہماری اپنی آنکھوں کے سامنے