پاکستان بھارت جنگ کے موقع پر میری پوسٹس کی وجہ سے بھارت کی حکومت کے لیگل نوٹس پر میرا ٹویٹر اکاؤنٹ بھارت میں بین کر دیا گیا ہے
Proud 👏 movement for
Me Pakistan 🇵🇰 zindabad
سالہا سال سے غیر حاضر اساتذہ کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، جبکہ ریگولر اساتذہ کو وفاق کی طرز پر 45٪ ڈسپیرٹی ریڈکشن الاؤنس، 50٪ کنوینس الاؤنس دیا جائے، لیو انکیشمنٹ اور رول 17-A بحال کیے جائیں، اور پنشن پر عائد کٹوتیاں ختم کی جائیں۔
منجانب: انجمن اساتذہ پاکستان، پنجاب
On Kashmir Martyrs’ Day, I pay tribute to the 22 martyrs of 13 July 1931, whose courage and sacrifice awakened the political consciousness of the people of Jammu and Kashmir.
Their enduring legacy continues to inspire the just struggle of the Kashmiri people for the realization of their inalienable right to self-determination, in accordance with the UN Security Council resolutions.
Pakistan stands in unwavering solidarity with our Kashmiri brothers and sisters. #KashmirMartyrsDay
کیا آپ کو پتہ ہے کہ جس پاکستان کے خلاف آپ کو اکسایا جا رہا ہے، اس نے آزاد کشمیر کو کیا دیا؟ تقریباً 35 لاکھ کی آبادی پر مشتمل آزاد کشمیر میں آج 4,039 پرائمری اسکول، 1,052 مڈل اسکول، 791 ہائی اسکول، 121 ہائر سیکنڈری اسکول، 90 انٹرمیڈیٹ کالجز، 78 ڈگری کالجز، 14 پوسٹ گریجویٹ کالجز، 4 میڈیکل کالجز، 2 کیڈٹ کالجز اور 6 سرکاری یونیورسٹیاں قائم ہو چکی ہیں۔ جہاں 1947 میں بنیادی ڈھانچے کا تصور تک نہ تھا، وہاں آج پاکستان کے تعاون سے ہزاروں کلومیٹر پختہ سڑکیں، جدید ہسپتال، پن بجلی کے منصوبے، موبائل اور انٹرنیٹ نیٹ ورک، بینک، عدالتیں اور تمام سرکاری ادارے چوبیس گھنٹے فعال ہیں۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان کا غریب شہری خود 2900 روپے میں 20 کلو آٹا خریدتا ہے اور 55 روپے فی یونٹ تک بجلی کا بل بھرتا ہے، لیکن اپنے کشمیری بھائیوں کی محبت میں وہاں 2100 روپے میں 40 کلو آٹا فراہم کیا جا رہا ہے اور بجلی محض 3 روپے فی یونٹ دی جا رہی ہے جو پوری دنیا میں سب سے سستی ترین بجلی اور آٹا ہے۔ یہ سب کچھ اس محبت اور بجٹ کا نتیجہ ہے جو پاکستان اس خطے پر نچھاور کرتا ہے۔
اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آج وہاں کوئی مسئلہ نہیں ہے یا حکومتوں سے سوال نہیں ہونا چاہیے، عوام کو بہتر تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف کا مطالبہ کرنے کا پورا حق حاصل ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر 1947 کے آزاد کشمیر کا آج کے آزاد کشمیر سے موازنہ کیا جائے تو غیر معمولی ترقی ہوئی ہے۔ مگر افسوس کہ آج یو کے کے ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر کچھ ناسمجھ لوگ اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی جیسے بھارتی فنڈڈ فتنوں کے آلہ کار اس احسان کا بدلہ پاکستان کے خلاف نفرت پھیلا کر دے رہے ہیں۔ آزاد کشمیر کے بجٹ کا بڑا حصہ پاکستان سے آتا ہے اور 30 لاکھ کی آبادی میں سے ڈیڑھ لاکھ لوگ سرکاری نوکریاں لے کر بیٹھے ہیں جن میں سے اکثر کی کارکردگی صفر ہے۔ پاکستان نے اب تک صرف محبت اور مراعات دی ہیں لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ان انتشاری عناصر اور مفت خوروں کے خلاف قانون کا سخت ڈنڈا استعمال کیا جائے۔ قومیں تبھی مضبوط فیصلے کرتی ہیں جب وہ اپنی تاریخ کو پورے تناظر میں دیکھتی ہیں، اس لیے تاریخ کا انصاف یہی ہے کہ جہاں شکوے ہوں وہاں کامیابیوں کو بھی تسلیم کیا جائے اور بیرونی ایجنڈے پر کام کرنے والے غداروں کو پہچان کر الحاقِ پاکستان کے اس قلعے کو مضبوط کیا جائے۔
جب ہم نے کہا جموں اور لداخ ریجن کے لوگ خود کو کشمیری نہیں سمجھتے، یہ صرف وادی کے لوگوں کو کشمیری سمجھتے ہیں تو کچھ دوستوں کو اعتراض ہوا کیونکہ آزاد کشمیر کے کچھ علاقے جموں ریجن میں شامل ہیں، ڈاکٹر کرن سنگھ مہاراجہ ہری سنگھ کی اکلوتی اولاد ہے، جموں و کشمیر کے شاہی حکمران خاندان کے واحد چشم و چراغ ہیں خود کو اب بھی ریاست کا اعزازی مہاراجہ سمجھتے ہیں، ان کا خاندان ڈوگرہ راجپوت "جموال" قبیلے سے ہے، کہتے ہیں مجھے کشمیری نہ کہیں کیونکہ میں ڈوگرہ ہوں، ریاست کا نام اسی لئے جموں اینڈ کشمیر ہے۔