سیکرٹری صحت کا اضافی چارج سنبھالنے والے کیپٹن ریٹائرڈ محمد محمود کمشنر پنڈی، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن سمیت دیگر عہدوں پر بھی رہ چُکے ہیں، راولپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل اور دیگر انتظامی امور کی وجہ سے کئی بار خبروں میں رہے، پنڈی رنگ روڈ اسکینڈل میں اُنہیں کلین چٹ مل چُکی تھی۔۔!!
سیکرٹری صحت کو ہٹانے سے کچھ نہیں ہو گا۔ پمز کے ایم ایس، اس وارڈ کے انچارج ڈاکٹر، ہسپتال کے ایڈمن انچارج، اس شفٹ کے زمہ دار سینئر جونئر ڈاکٹرز، نرسز، الیکٹریشن، اے سی ٹیکنیشن سب کو نوکری سے نکال کر ان کے خلاف اجتماع قتل کے مقدمات درج کئے جائیں۔
پھر کچھ بہتری ہو سکتی ہے
ہری پور میں 16 روز بعد معصوم آیت نور کی لاش کنویں سے برآمد ہونے کی خبر نے دل دہلا دیا۔ ہاتھ بندھے ہوئے، منہ میں شاپر اور چہرے پر ٹیپ—سوچ کر روح کانپ اٹھتی ہے کہ اس بچی نے کتنی اذیت برداشت کی ہوگی۔
خیبرپختونخوا پولیس اس سفاک جرم میں ملوث تمام ملزمان کے خلاف ناقابلِ تردید شواہد اکٹھے کرے اور مقدمہ فوری ٹرائل کے ذریعے منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ مجرموں کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا ملنی چاہیے تاکہ کسی اور بیٹی کے ساتھ ایسا ظلم نہ ہو۔
#JusticeForAyatNoor
پمز اسپتال اسلام آباد کے ریکارڈ کے مطابق 15 بچے زیرِ علاج/داخل تھے جن میں سے 14 جانبحق ہوۓ جبکہ 15ویں بچے کو ریسکیو کیا گیا-
بچے نمبر 1: خاتون جویریہ کا نومولود بچہ، والد کا نام سمیع اللہ-
بچہ نمبر 2: خاتون عالیہ کانومولود بچہ، والد کا نام راشد-
بچہ نمبر 3: خاتون انیسہ کا نومولود بچہ، والد کا نام عبداللہ-
بچہ نمبر 4: خاتون آسیہ بی بی کا نومولود بچہ، والد کا نام بہادر، ٹوئن ون-
بچہ نمبر 5: خاتون آسیہ بی بی کا نومولود بچہ، والد کا نام بہادر، ٹوئن ٹو-
بچہ نمبر 6: خاتون شکیلہ کا نومولود بچہ، والد کا نام محمد تنویر-
بچہ نمبر 7: خاتون سدرہ کا نومولود بچہ، والد کا نام عمران-
بچہ نمبر 8: خاتون سنبل کا نومولود بچہ، والد کا نام عثمان-
بچہ نمبر 9: خاتون کرن فاطمہ کا نومولود بچہ، والد کا نام محمد سعد الرحمٰن-
بچہ نمبر 10: خاتون آمنہ کا نومولود بچہ، والد کا نام خرم-
بچہ نمبر 11: خاتون ماریہ کا نومولود بچہ، والد کا نام قیوم-
بچہ نمبر 12: خاتون خضرہ کا نومولود بچہ، والد کا نام مدثر-
بچہ نمبر 13: خاتون حفصہ کا نومولود بچہ، ایم ایل سی کیس، والد کا نام اشتیاق-
بچہ نمبر 14: خاتون عروسہ سعید کا نومولود بچے، والد کا نام ادریس خان-
بچہ نمبر 15: آصفہ کے نومولود بچے، والد کا نام وقاص، جسے مبیّنہ طور پر ریسکیو کر لیا گیا-
الله تعالیٰ جانبحق بچوں کے والدین کو صبر جمیل عطا فرمائیں (آمین)🤲😥
یہ جناح ہاسپٹل لاہور کا گائنی وارڈ ہے یہ چار دن پہلے ایک رشتے دار کے لیے وزٹ کیا حالت اپ کے سامنے ہے باقی خواتین کی پرئویسی کی وجہ سے دکھا نہی سکتی کاکروجز سے بھرے بیڈ ز دیواریں
پانچ منٹ بیٹھنے کے بعد الٹی والی کیفیت تھی
@KhSaad_Rafique@SalmanRafiquePK@RashidNasrulah
بینظیر پارک کلفٹن میں 8 جون 2011 کو سرفراز شاہ کے قتل کے واقعے میں سندھ رینجرز نے فائرنگ کرنے والے مرکزی ملزم شاہد ظفر سمیت موقع پر موجود اہلکاروں کو گرفتار کر کے پولیس کے حوالے کیا تھا
اس وقت کے ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل اعجاز چوہدری صاحب سرفراز شاہ کے گھر ہجرت کالونی گۓ تھے اس واقعے پر سرفراز شاہ کی فیملی سے معافی مانگنے
انسدادِ دہشت گردی عدالت نے فائرنگ کرنے والے اہلکار شاہد ظفر کو سزائے موت جبکہ دیگر رینجرز اہلکاروں کو عمر قید کی سزائیں سنائی تھیں
بعد میں سرفراز شاہ کے اہلِ خانہ نے دیت کی رقم لیکر تمام اہلکاروں کو معاف کر کے صلح کر لی تھی ،،
ٹی وی چینلز کے مالکان کے علاوہ صحافیوں کے بھی ذاتی نجی ہسپتال ہیں، ایک ہسپتال کی ملکیت میں تو جناب صابر شاکر اور جناب سامی ابراہام بھی شراکت دار ہیں، اس لئے سرکاری ہسپتال کی بری حالت تو ہے ہی لیکن شدید بری دکھانے میں ہمارے نجی میڈیا کو بھی دخل ہے۔
ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہے
پاکستان کی صوبائی اور وفاقی اسمبلی کے قانون سازوں کی کُل تعداد 1085 ہے، گریڈ 17 سے 22 تک تقریباً 40 لاکھ بیوروکریٹس ہیں ۔
یہ وہ لوگ ہیں جو 1947 سے آجتک خدمت کینام پر دونوں ہاتھوں سے اس ملک کو لُوٹ رہے ہیں اور اپنے خاندانوں کو پال رہے ہیں مگر ان ظالموں کے پیٹ ہیں کہ بھرتے ہی نہیں
ایک طرف ایسے ممالک ہیں جہاں ڈاکٹرز زلزلے کے دوران اپنی جان بچانے کی بجائے بچوں کو بچاتے ہیں اور ایک طرف اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے کہاں ڈاکٹرز نرسز ایک بھی بندہ پندرہ بچوں کو بچانے کے لیے موجود نہ تھا ، سولہواں بچہ بھی کسی نے نیچے سے جا کے بچایا ورنہ تعداد سولہ تھی 💔
اسلام آباد جیسا چھوٹے سائز کا شہرعملی طور پر ایک صوبہ ہی ہے۔ یہاں کے حالات دیکھ کر خود اندازہ لگا لیں چھوٹے صوبے بنانے سےگورننس کتنی بہتر ہوجائے گی۔
یہی اشرافیہ چھوٹے صوبوں میں بھی ایسی ہی گورننس کرے گی کیونکہ توجہ ان کی سوچ اور پڑھائے جانے والے سلیبس بدلنے کی بجائے جغرافیائی باؤنڈریز پر ہے تاکہ مزید اشرافیہ سرکاری پروٹوکول اور وسائل استعمال کر سکے۔
حکمرانی کرنے والے لوگوں کی ذہنیت بدلیں تب ہی کولیپسڈ سسٹم تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس اشرافیہ کو دُنیا کا بہترین سسٹم دے دیں، کارکردگی ایسی ہی رہے گی۔
It’s not the gun but man behind the gun
جب 15 بچے مر رہے تھے تب متعلقہ وزیر کراچی میں وزارات صوبہ بندی میں مشغول تھا
جب 5 پنجابی بلوچستان میں قتل ہو رہے تھے تب وزارات داخلہ کا متعلقہ وزیر ایران میں وزارات خارجہ کے امور میں مشغول تھا
مسئلہ صرف اتنا ہے منہوس اپنا اپنا کام نہیں کرتے یہی اس مُلک کا مسئلہ ہے
شیم آن یو پرائم منسٹر صاحب یہ گدھے آپ نے مسلط کیے ہیں
یااللہ ،تو بہتر جانتا ھے ،ھم کم عقل ھیں،تیرے ھر کام میں مصلحت ھے،ھم گناہگار ھیں،ھمارے گناھوں اور خطاؤں کا بار ھماری اولادوں پر نا ڈال۔ھمیں معاف فرما دے۔آمین