مسلم کانفرنس کے قائد سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان کا (روزنامہ جنگ 1992) میں گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے حوالے سے چھپنے والا چشم کشا حقائق پر مبنی کالم
#OneYearSiege
جب تک کشمیر پاکستان کے ساتھ شامل نہیں ہو جاتا تب تک پاکستان اپنی جغرافیائی، نظریاتی، تاریخی، معاشی اور دفاعی سرحدات میں مکمل نہیں ہے.
#ilhaqEPakistanDay
جو قربانیاں الحاق پاکستان کے نعرے پر دی گئی تھیں ان کی مثال لانا ناممکن نہ سہی‘ اس کے قریب ضرور ہے۔ پھر یہ کیا منطق ہے کہ یہ نعرہ صرف مسلم کانفرنس کا ہے.
#ilhaqEPakistanDay
یہاں (آزادکشمیر) سے خودمختاری کا نعرے لگانے کا فوری مطلب وہاں (مقبوضہ کشمیر میں) یہی لیا جاسکتا ہے کہ یہ لوگ جو آزاد ہیں اور پاکستان کے ساتھ ہیں وہ پاکستان سے مایوس ہوگئے ہیں یا پاکستان والے خود ہی چاہتے ہیں کہ کشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ نہ ہو.
#ilhaqEPakistanDay
نظریہ الحاق پاکستان و تحریک آزادی کشمیر اور دفاع پاکستان لازم و ملزوم ہیں "کشمیر بنے گا پاکستان" کا نعرہ جنوب ایشیائی توازن کی ضمانت ہے۔
#ilhaqEPakistanDay
ہم نے ریاستی تشخص اور قومی وقار کے تحفظ کا عہد کر رکھا ہے اور مسلم کانفرنس کی موجودگی میں کوئی اس پر سودے بازی کرنے کی جرات نہیں کر سکتا۔
#ilhaqEPakistanDay
سلامتی کونسل میں بھی ہمارا مقدمہ اسی (الحاق پاکستان کے) موقف پر مبنی ہے۔ اسے تبدیل کرنے یا اس سے لاتعلق ہونے یا اسے کمزور کرنے کا نتیجہ کیا ہو سکتا ہے وہ کسی بھی ایسے شخص سے پوشیدہ نہ ہوگا جسے ملی و سیاسی شعور ہے.
#ilhaqEPakistanDay
ہم نے ریاستی تشخص اور قومی وقار کے تحفظ کا عہد کر رکھا ہے اور مسلم کانفرنس کی موجودگی میں کوئی اس پر سودے بازی کرنے کی جرات نہیں کر سکتا۔
#ilhaqEPakistanDay
19th July 1947 has significance in contemporary political history and mass movement of the right to self-determination of the people of Jammu and Kashmir multi-dimensionally.
#ilhaqEPakistanDay
کتنی عجیب بات ہے کہ بعد میں آنے والے کچھ لوگ اپنی صفیں بنا کر کھڑے ہو جائیں اور یہ مطالبہ کریں کہ پہلے والے پیچھے مڑ کر ان کے ساتھ شامل ہو جائیں.
#ilhaqEPakistanDay