پی ٹی آئی اس ملک کی سیاست میں"ایڈز"تھی
اور
پیپلز پارٹی سیاست کا"کینسر"
1-جس میں ہار جاو
وہ الیکشن ماننا نہیں
2-صوبے بننے نہیں دینے
3-ڈیم بننے نہیں دینے
4-نہریں بننے نہیں دینی
5-عوام کو ہنرمند نہیں BISP سے بھکاری بنا کر رکھنا ہے
6-بنگلہ دیش بنوا دیا
7-نیشنلائزیشن کر کے اس ملک کی معیشت کو 55 سال پہلے تباہ کرنے کی بنیاد رکھ دی
8-ہمیشہ کرپشن کے ریکارڈ توڑے
9-ہمیشہ لسانیت پھیلائی
10-سرکاری اداروں میں لوگ بھرتی کر کے اداروں کو تباہ کر دیا۔
11-نجکاری کی ہمیشہ مخالفت کی
12-جرائم پیشہ لوگوں کی ہمیشہ سرپرستی کی
13-امن و امان ہمیشہ تباہ کروا کر رکھا
14-انفراسٹرکچر،ڈویلپمنٹ میں کوئی دلچسپی نہیں
15- قبروں،مردوں اور لفاظی پر ہمیشہ نسل در نسل سیاست کی۔
پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ
اسے پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی جیسی بیماریاں لاحق ہیں۔
(اسد آر چوہدری)
سسٹم تو کلپس کرے گا ہی ، جب پاکستان کی تمام جماعتوں میں
صرف ایک PMLN عوامی خدمت کرے گی ۔
اور باقی PPP, PTI , اور JUI جیسے جماعتیں اپنے صوبوں میں جہاں ان کی حکومتیں ہیں وہاں تباہی مچا دیں گئ ۔
کاہنہ ٹیوشن سینٹر کی ٹیچر حمیدہ بی بی پہلی سے پانچویں جماعت تک کے غریب بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی تھیں، والدین نے بتایا کہ ماہنامہ فیس 300 اور چار سو لیتی ہیں ۔ ایک گھر کے دو بچے پانچ سو ماہانہ بھی دیتے تھے ۔ اور کئی بچے وہ بغیر فیس کے بھی پڑھاتی تھیں ۔ اس علاقے کے بچوں کے والدین پرائیویٹ سکول کا خرچہ نہیں اٹھا سکتے تھے۔ شام کے یہ چند گھنٹے ان بچوں کے لیے تعلیم کا واحد دروازہ تھے، اور حمیدہ بی بی کے لیے گھر چلانے کا سہارا۔ اس محنت کے بدلے مہینے میں نو دس ہزار روپے ملتے تھے، جس سے صرف بجلی کا بل ہی شاید ادا ہوتا ہو ۔ ایک ایسی رقم جو آج کے مہنگائی زدہ دور میں ایک ہفتے کا راشن بھی مشکل سے پورا کرتی ہے۔
ان کے شوہر محلے میں پھل کی ریڑھی لگاتے، دن بھر کی کمائی تین چار سو روپے، اس امید پر کہ شام کو گھر میں چولہا جل جائے۔ یہ ایک عام سا گھرانہ تھا جو دو محاذوں پر لڑ کر بمشکل زندگی کی گاڑی آگے دھکیل رہا تھا۔ جس وقت چھت گری، حمیدہ بی بی خود اسی ملبے تلے آگئیں، ان کی بیٹی زخمی ہوئی، اور ان کے دیور کی چار سالہ بیٹی بھی ثانیہ آج زندگی کی بازی ہار گئی۔ حمیدہ کے شوہر اور دیور پولیس کی حراست میں ہیں اور وہ بچی سمیت ہسپتال میں ۔۔
اپ بے شک ٹیچر کو قصوروار سمجھیں، مگر یہ قدرت کی طرف سے آئی ہوئی مصیبت ہے ، جو والدین دو سو روپے ماہانہ فیس بمشکل دے پاتے ہیں، ان کے بچوں کے لیے حکومت نے کیا محفوظ متبادل دیا ہے، دوسری طرف صوبائی حکومت کے، وسائل اربوں روپے کے جہاز پر خرچ ہوجاتے ہیں، تنقید ہو تو دفاع میں یہی کہا جاتا ہے
ہاں بھئی ۔۔ ہم نے جہاز خریدا ۔۔ جو کرنا ہے کر لو
ایک طرف سسکتی رینگتی زندگی ۔۔۔ اور دوسری طرف عیاشی کے لیے ان کے ہی پیسوں سے گیارہ ارب روپے کا لگژری جہاز !!
دو طبقات میں تفریق بھی ۔ ۔۔ زمین آسمان کے فاصلے سے زیادہ ہے۔ 💔
ایک طرف آہیں ، چیخیں ، بین ، بھوک ، گرتی کمزور چھتیں ۔۔۔
اور دوسری طرف
ہاں بھئی ہم نے جہاز خریدا ہے ۔۔
منقول
کاہنہ ٹیوشن سینٹر کی ٹیچر حمیدہ بی بی پہلی سے پانچویں جماعت تک کے غریب بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی تھیں، والدین نے بتایا کہ ماہنامہ فیس 300 اور چار سو لیتی ہیں ۔ ایک گھر کے دو بچے پانچ سو ماہانہ بھی دیتے تھے ۔ اور کئی بچے وہ بغیر فیس کے بھی پڑھاتی تھیں ۔ اس علاقے کے بچوں کے والدین پرائیویٹ سکول کا خرچہ نہیں اٹھا سکتے تھے۔ شام کے یہ چند گھنٹے ان بچوں کے لیے تعلیم کا واحد دروازہ تھے، اور حمیدہ بی بی کے لیے گھر چلانے کا سہارا۔ اس محنت کے بدلے مہینے میں نو دس ہزار روپے ملتے تھے، جس سے صرف بجلی کا بل ہی شاید ادا ہوتا ہو ۔ ایک ایسی رقم جو آج کے مہنگائی زدہ دور میں ایک ہفتے کا راشن بھی مشکل سے پورا کرتی ہے۔
ان کے شوہر محلے میں پھل کی ریڑھی لگاتے، دن بھر کی کمائی تین چار سو روپے، اس امید پر کہ شام کو گھر میں چولہا جل جائے۔ یہ ایک عام سا گھرانہ تھا جو دو محاذوں پر لڑ کر بمشکل زندگی کی گاڑی آگے دھکیل رہا تھا۔ جس وقت چھت گری، حمیدہ بی بی خود اسی ملبے تلے آگئیں، ان کی بیٹی زخمی ہوئی، اور ان کے دیور کی چار سالہ بیٹی بھی ثانیہ آج زندگی کی بازی ہار گئی۔ حمیدہ کے شوہر اور دیور پولیس کی حراست میں ہیں اور وہ بچی سمیت ہسپتال میں ۔۔
اپ بے شک ٹیچر کو قصوروار سمجھیں، مگر یہ قدرت کی طرف سے آئی ہوئی مصیبت ہے ، جو والدین دو سو روپے ماہانہ فیس بمشکل دے پاتے ہیں، ان کے بچوں کے لیے حکومت نے کیا محفوظ متبادل دیا ہے، دوسری طرف صوبائی حکومت کے، وسائل اربوں روپے کے جہاز پر خرچ ہوجاتے ہیں، تنقید ہو تو دفاع میں یہی کہا جاتا ہے
ہاں بھئی ۔۔ ہم نے جہاز خریدا ۔۔ جو کرنا ہے کر لو
ایک طرف سسکتی رینگتی زندگی ۔۔۔ اور دوسری طرف عیاشی کے لیے ان کے ہی پیسوں سے گیارہ ارب روپے کا لگژری جہاز !!
دو طبقات میں تفریق بھی ۔ ۔۔ زمین آسمان کے فاصلے سے زیادہ ہے۔ 💔
ایک طرف آہیں ، چیخیں ، بین ، بھوک ، گرتی کمزور چھتیں ۔۔۔
اور دوسری طرف
ہاں بھئی ہم نے جہاز خریدا ہے ۔۔
منقول
آواز ِ دروں —•—
دھائیوں کی غفلتوں اور محلاتی سازشوں کے بعد ھماری پیاری سیاسی جماعتیں اور پارلیمنٹ بے وقعتی کی حدوں کو پہنچ چکی ھیں ----
تھوڑی سی محنت جماعتوں کی تنظیم ،اندرونی جمہوری رویوں کے قیام ، میرٹ پر مبنی سیاست اور مخالفانہ آوازوں کو برداشت کرنے پرکر لی جاتی تو ھم ایک پر امن ، مستحکم اور جمہوری معاشرہ بن چکے ھوتے
جب بھی ملک کو چند قدم آگے بڑھانے کی کوشش کی گىئ ، جمہوریت ، انصاف ، ترقی ، قومی مفاد ، استحکام اور قومی سلامتی کی آڑ میں اسے ریورس گئیر لگا دیا گیا ۔۔
بد قسمتی سے اس حمام میں سب ننگے ھیں ، کسی جماعت یا ادارے کے ھاتھ صاف نہیں
امر ِ واقعہ یہی ھے کہ مخالفین کو دبانے کیلئے ریاستی اداروں کے کندھے استعمال کرتے کرتے سول سپیس براۓ نام رہ جاتی ھے اور آپ اخلاقی جواز کھو بیٹھتے ھیں لیکن ھمیں اپنے مفاد میں یہ سب سُہانا دکھائ دیتا ھے تا آنکہ ھماری اپنی باری آ جاتی ھے
ھماری عزیز از جان نیم جمہوری سیاسی جماعتیں اور حکومتیں گُڈ گورننس کرنیکی بجاۓ سب کچھ ریاستی اداروں کی طاقت پر چھوڑ دیتی ھیں ، بعد از خرا بئِ بسیار نیم دلی اور نیم رضامندی سے سیاسی حل تلاش کیا جاتا ھے جو عموماً ناکام رھتا ھے
اور پھر قومی سلامتی کے نام پر طاقت کا بے محابا استعمال ھی آخری حل سمجھا جاتا ھے
آئین ِ پاکستان کی روح کے مطابق عمل کرنیوالوں کیلئے سیاست میں رھنے گنجائش کم ھو رھی ھے اور دائروں میں ھمارا سفر جاری ھے
یہی حالات رھے تو مختلف ناموں اور ٹائٹلز سے بننے والے
جتھے ، کمیٹیاں اور مسلح لشکر راج کرتے نظر آئیں گے ۔۔۔
ایک دوسرے کو پچھاڑنے ، گرانے اور رگیدنے سے فرصت ملے تو اپنی غلطیوں پر غور و خوض کر کے دلدلوں کی جانب اجتماعی پیش قدمی روکنے پر غور کر لیا جاۓ
اب جس کے جی میں آۓ وھی پاۓ روشنی
ھم نے تو دل جلا کے سر ِ عام رکھ دیا
آواز ِ دروں —•—
دھائیوں کی غفلتوں اور محلاتی سازشوں کے بعد ھماری پیاری سیاسی جماعتیں اور پارلیمنٹ بے وقعتی کی حدوں کو پہنچ چکی ھیں ----
تھوڑی سی محنت جماعتوں کی تنظیم ،اندرونی جمہوری رویوں کے قیام ، میرٹ پر مبنی سیاست اور مخالفانہ آوازوں کو برداشت کرنے پرکر لی جاتی تو ھم ایک پر امن ، مستحکم اور جمہوری معاشرہ بن چکے ھوتے
جب بھی ملک کو چند قدم آگے بڑھانے کی کوشش کی گىئ ، جمہوریت ، انصاف ، ترقی ، قومی مفاد ، استحکام اور قومی سلامتی کی آڑ میں اسے ریورس گئیر لگا دیا گیا ۔۔
بد قسمتی سے اس حمام میں سب ننگے ھیں ، کسی جماعت یا ادارے کے ھاتھ صاف نہیں
امر ِ واقعہ یہی ھے کہ مخالفین کو دبانے کیلئے ریاستی اداروں کے کندھے استعمال کرتے کرتے سول سپیس براۓ نام رہ جاتی ھے اور آپ اخلاقی جواز کھو بیٹھتے ھیں لیکن ھمیں اپنے مفاد میں یہ سب سُہانا دکھائ دیتا ھے تا آنکہ ھماری اپنی باری آ جاتی ھے
ھماری عزیز از جان نیم جمہوری سیاسی جماعتیں اور حکومتیں گُڈ گورننس کرنیکی بجاۓ سب کچھ ریاستی اداروں کی طاقت پر چھوڑ دیتی ھیں ، بعد از خرا بئِ بسیار نیم دلی اور نیم رضامندی سے سیاسی حل تلاش کیا جاتا ھے جو عموماً ناکام رھتا ھے
اور پھر قومی سلامتی کے نام پر طاقت کا بے محابا استعمال ھی آخری حل سمجھا جاتا ھے
آئین ِ پاکستان کی روح کے مطابق عمل کرنیوالوں کیلئے سیاست میں رھنے گنجائش کم ھو رھی ھے اور دائروں میں ھمارا سفر جاری ھے
یہی حالات رھے تو مختلف ناموں اور ٹائٹلز سے بننے والے
جتھے ، کمیٹیاں اور مسلح لشکر راج کرتے نظر آئیں گے ۔۔۔
ایک دوسرے کو پچھاڑنے ، گرانے اور رگیدنے سے فرصت ملے تو اپنی غلطیوں پر غور و خوض کر کے دلدلوں کی جانب اجتماعی پیش قدمی روکنے پر غور کر لیا جاۓ
اب جس کے جی میں آۓ وھی پاۓ روشنی
ھم نے تو دل جلا کے سر ِ عام رکھ دیا