#NobelPeacePrizeForMahrang
⏰ 8:00 PM - 11:59 PM
🗓 1st October 2025
Tomorrow, October 1, 2025, from 8 PM to midnight, Baloch Voice of Justice @BalochV4Justice, The Baloch Circle @BalochCircle_ & Baloch Activists Alliance Media @OfficialsBaam will hold a joint campaign to celebrate Dr. Mahrang Baloch’s nomination for the Nobel Peace Prize on X using the hashtag.
All social media users are encouraged to participate.
ریاست کی ھٹ دھرمی اور فراہمی ِانصاف سے روگردانی کے پیش نظر اسلام آباد میں 73 دنوں سے قائم کیمپ کو آج ختم کرنے کے ساتھ ساتھ لاپتہ افراد کی بازیابی اور بی وائی سی کے لیڈران کی رہائی کیلئے تحریک جاری رکھنےکا اعلان کرتے ہیں
ہم بلوچستان سے لاپتہ افراد کے خاندان گزشتہ ڈھائی ماہ سے ملک کے دارالخلافہ میں انصاف اور پیاروں کی بازیابی کیلئے پرامن طور پر ریاست سے ��نیادی انسانی حقوق کا مطالبہ کرتے رہے ، مگر ریاست کی جانب سے ایک بار پھر ��ہ حقیقت واضح کی گئی کہ بلوچ کیلئے اس ملک میں کہیں بھی انصاف ، انسانی حقوق نام کی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی ۔ ریاست کا مسلسل جابرانہ رویہ اس حقیقت کا اظہار ہے کہ بلوچوں کی جبری گمشدگیاں ، مسخ شدہ لاشیں ، جعلی انکاؤنٹرز ، سیاسی پرامن کارکنان کو قید و بند کرنا اور ٹارگٹ کلنگز ریاستی منصوبہ بندی و پالیسی ہیں ، جسے وہ ظالمانہ طرز پر جاری رکھنا چاہتا ہے اور احتجاج و انصاف کی پکار سے اس کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی, اس کے تمام ادارے خواہ وہ عسکری ہوں یا برائے نام عوامی جیسے پارلیمنٹ ، عدلیہ ،میڈیا وہ بلوچ کے خلاف ایک پیج پر ہیں ۔
ہر آنے والے دن کے ساتھ بلوچ عوام کا ریاست سے لگائی گئی امید کی کمزور ڈوری مزید کمزور و دم توڑ رہی ہے ۔ ہم لاپتہ افراد کے لواحقین کئی دہائیوں سے انتہائی کٹھن حالات میں اپنے ��یاروں کی بازیابی اور بلوچستان میں جاری نسل کشی کے خلاف مسلسل سیاسی جدوجہد کرتے آرہے ہیں لیکن ریاست کی جانب سے کبھی بھی مصلحت ، ڈائیلاگ اور انصاف کی فراہمی کیلئے ہاتھ نہیں بڑھایا گیا بلکے غلط بیانی ، دھونس و دھمکی اور ناجائز ریاستی طاقت کے استعمال سے حقائق کو چھپانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے ۔
ہماری اسلام آباد میں جاری یہ 73 روزہ احتجاج بھی اسی انتھک جدوجہد کا تسلسل تھا نہ کہ آخری کوشش ۔ جب تک ظلم و اندھیر نگری اور بلوچ نسل کُشی کو روک نہیں پڑتی اس وقت تک ہماری یہ جدوجہد یوں بلکے نظم و شدت کے ساتھ جاری رہے گی ۔
اسلام آباد احتجاج کو ختم کرنے اور طاقت کے ایوانوں سے خال�� ہاتھ لوٹنا ہماری ناکامی نہیں بلکہ ریاست کی ریاستی جواز و ساخت کی ہار ہے ۔ ہم اپنے بلوچ ماؤں ، بہنوں اور چھوٹی بچیوں کی اس عظیم جدوجہد کی ایک ایک واقعے کو اپنی تاریخی جد و جہد اور قومی یاداشت کا اثاثہ سمجھتے ہوئے محفوظ رکھیں گے اور مزید ابھریں گے ۔ اپنی عوام کے ساتھ ہونے والے ہر ناانصافی و ظلم زیادتی کا پردہ چاک کریں گے ۔ حکومتی اداروں کے خالی نعروں ،جھوٹ کی فیکٹریوں اور دروغ گوئی پر مبنی بیانیوں سے اپنے عوام کو آشنا کریں گے ۔
ہم لاپتہ افراد کے لواحقین اپنا مقدمہ اپنے قوم کے سامنے رکھتے ہوئے ، واپس اپنی سر زمین کی طرف لوٹیں گے ۔ ہم پرعظم ہیں کہ ہماری جدوجہد حق و سچ پر مبنی ہے اور جیت ہماری ہی ہوگی ۔
#ReleaseBYCLeaders
#EndEnforcedDisappearances
#IStandWithBYCLeaders
ریاست کی ھٹ دھرمی اور فراہمی ِانصاف سے روگردانی کے پیش نظر اسلام آباد میں 73 دنوں سے قائم کیمپ کو آج ختم کرنے کے ساتھ ساتھ لاپتہ افراد کی بازیابی اور بی وائی سی کے لیڈران کی رہائی کیلئے تحریک جاری رکھنےکا اعلان کرتے ہیں
ہم بلوچستان سے لاپتہ افراد کے خاندان گزشتہ ڈھائی ماہ سے ملک کے دارالخلافہ میں انصاف اور پیاروں کی بازیابی کیلئے پرامن طور پر ریاست سے بنیادی انسانی حقوق کا مطالبہ کرتے رہے ، مگر ریاست کی جانب سے ایک بار پھر یہ حقیقت واضح کی گئی کہ بلوچ کیلئے اس ملک میں کہیں بھی انصاف ، انسانی حقوق نام کی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی ۔ ریاست کا مسلسل جابرانہ رویہ اس حقیقت کا اظہار ہے کہ بلوچوں کی جبری گمشدگیاں ، مسخ شدہ لاشیں ، جعلی انکاؤنٹرز ، سیاسی پرامن کارکنان کو قید و بند کرنا اور ٹارگٹ کلنگز ریاستی منصوبہ بندی و پالیسی ہیں ، جسے وہ ظالمانہ طرز پر جاری رکھنا چاہتا ہے اور احتجاج و انصاف کی پکار سے اس کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی, اس کے تمام ادارے خواہ وہ عسکری ہوں یا برائے نام عوامی جیسے پارلیمنٹ ، عدلیہ ،میڈیا وہ بلوچ کے خلاف ایک پیج پر ہیں ۔
ہر آنے والے دن کے ساتھ بلوچ عوام کا ریاست سے لگائی گئی امید کی کمزور ڈوری مزید کمزور و دم توڑ رہی ہے ۔ ہم لاپتہ افراد کے لواحقین کئی دہائیوں سے انتہائی کٹھن حالات میں اپنے پیاروں کی بازیابی اور بلوچستان میں جاری نسل کشی کے خلاف مسلسل سیاسی جدوجہد کرتے آرہے ہیں لیکن ریاست کی جانب سے کبھی بھی مصلحت ، ڈائیلاگ اور انصاف کی فراہمی کیلئے ہاتھ نہیں بڑھایا گیا بلکے غلط بیانی ، دھونس و دھمکی اور ناجائز ریاستی طاقت کے استعمال سے حقائق کو چھپانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے ۔
ہماری اسلام آباد میں جاری یہ 73 روزہ احتجاج بھی اسی انتھک جدوجہد کا تسلسل تھا نہ کہ آخری کوشش ۔ جب تک ظلم و اندھیر نگری اور بلوچ نسل کُشی کو روک نہیں پڑتی اس وقت تک ہماری یہ جدوجہد یوں بلکے نظم و شدت کے ساتھ جاری رہے گی ۔
اسلام آباد احتجاج کو ختم کرنے اور طاقت کے ایوانوں سے خالی ہاتھ لوٹنا ہماری ناکامی نہیں بلکہ ریاست کی ریاستی جواز و ساخت کی ہار ہے ۔ ہم اپنے بلوچ ماؤں ، بہنوں اور چھوٹی بچیوں کی اس عظیم جدوجہد کی ایک ایک واقعے کو اپنی تاریخی جد و جہد اور قومی یاداشت کا اثاثہ سمجھتے ہوئے محفوظ رکھیں گے اور مزید ابھریں گے ۔ اپنی عوام کے ساتھ ہونے والے ہر ناانصافی و ظلم زیادتی کا پردہ چاک کریں گے ۔ حکومتی اداروں کے خالی نعروں ،جھوٹ کی فیکٹریوں اور دروغ گوئی پر مبنی بیانیوں سے اپنے عوام کو آشنا کریں گے ۔
ہم لاپتہ افراد کے لواحقین اپنا مقدمہ اپنے قوم کے سامنے رکھتے ہوئے ، واپس اپنی سر زمین کی طرف لوٹیں گے ۔ ہم پرعظم ہیں کہ ہماری جدوجہد حق و سچ پر مبنی ہے اور جیت ہماری ہی ہوگی ۔
#ReleaseBYCLeaders
#EndEnforcedDisappearances
#IStandWithBYCLeaders
Today in Mauripur, Karachi (Tikri Village Road), families of the disappeared staged a dharna demanding the safe release of their loved ones:
• Zahid Ali – 25-year-old IR student at Karachi University, forcibly disappeared along with his rickshaw on 17 July 2025.
• Shiraz & Selaan – two brothers, forcibly disappeared by CTD from their home in Mauripur on 23 May 2025.
• Sarfaraz – forcibly disappeared by CTD from Burhani Hospital, Karachi, on 26 February 2025. His mother’s health has severely deteriorated in these months of waiting.
• Abdul Rehman, son of Khuda Baksh – forcibly disappeared on 15 June 2025.
#EndEnforcedDisappearances
#StopBalochGenocide
𝗗𝗮𝘆 𝟭𝟱: 𝗗𝗲𝘀𝗽𝗶𝘁𝗲 𝗛𝗲𝗮𝘃𝘆 𝗥𝗮𝗶𝗻 𝗶𝗻 𝗞𝗮𝗿𝗮𝗰𝗵𝗶, 𝗭𝗮𝗵𝗶𝗱 𝗔𝗹𝗶’𝘀 𝗙𝗮𝘁𝗵𝗲𝗿 𝗖𝗼𝗻𝘁𝗶𝗻𝘂𝗲𝘀 𝗣𝗿𝗼𝘁𝗲𝘀𝘁 𝗮𝘁 𝗣𝗿𝗲𝘀𝘀 𝗖𝗹𝘂𝗯
Today is the fifteenth consecutive day that the family of Zahid Ali, a 25-year-old International Relations student at the University of Karachi, has been holding a protest camp outside the Karachi Press Club. Zahid was forcibly disappeared by Pakistani forces on 17th July 2025, along with his rickshaw, which he drove part-time to support his family.
This morning, Karachi witnessed heavy rain, yet Zahid’s father, Abdul Hameed—a hepatitis patient with declining health—remained at the camp, refusing to abandon the sit-in for even a moment. His only demand is the safe release of his son.
We urge students, civil society, media, and all concerned citizens to stand with Abdul Hameed and his family in their time of struggle.
#EndEnforcedDisappearances
#StopBalochGenocide
بی وائی سی کی گرفتار قیادت کے اہلخانہ کی جانب سے آج سوشل میڈیا پر ایک کمپین چلایا جائے گا جس میں اس غیر قانونی حراست کے خلاف آواز اٹھائیں جائے گی
جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ مین اسٹریم میڈیا پر ہمارے لیے قندغن لگائی گئیں ہے جہاں ہمیں دیکھ کر میڈیا مائیک اور کیمروں کے شٹر بند ہوجاتے ہیں
ہمارے لیے اپنی آواز پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا واحد پلیٹ فارم ہے اس لیے اس کمیپن میں بھرپور حصہ لینے کی اپیل کی جاتی ہے
خاموشی جرم ہے
#ReleaseBycLeaders
#EndEnForcedDisapperances
𝗗𝗮𝘆 𝟮𝟲 – 𝗜𝘀𝗹𝗮𝗺𝗮𝗯𝗮𝗱 𝗦𝗶𝘁-𝗜𝗻
Today marks the 26th consecutive day of the Baloch families’ sit-in in Islamabad, held to demand the release of Baloch Yakjehti Committee (BYC) leaders and an end to enforced disappearances in Balochistan.
Amidst scorching heat, these families including elderly women and young children remain on the roadside without shelter, as authorities continue to deny them the right to set up a camp. The road to the Islamabad Press Club remains sealed, cutting them off from the space traditionally meant for victims to raise their voices.
Instead of addressing their legitimate demands, Pakistani authorities maintain road blockades, conduct surveillance, and harass participants.
#EndEnforcedDisappearances
#StopBalochGenocide
#ReleaseBYCleaders
اگر ہم ریاست کو تسلیم نہ کرتے تو یہاں پرامن سڑکوں پر نہیں بیٹھتے۔ آج ہمارے ہاتھ میں بھی بندوق ہوتی، بندوق اٹھانا آسان آپشن ہوتا ہے۔ اس طرح اسلام آباد کی سڑکوں پر بیٹھ کر آئین اور قانون کی بات کرنا جرات اور ضمیر کی بات ہے۔ اگر آج ہم پرامن احتجاج کر رہے ہیں تو ریاست کو چاہیے کہ ہمارے اس احتجاج کو سنے۔ اگر اس طرح ہمیں دہشتگرد بنایا گیا تو پھر وہ جو پرامن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اُن کا بھی اعتبار اٹھ جائے گا،
سمی دین، رہنما بلوچ یکجہتی کمیٹی!!!!
Today is the sixth consecutive day that the family of Zahid Ali, a 25-year-old International Relations student at the University of Karachi, has been sitting in protest outside the Karachi Press Club. Zahid was forcibly disappeared by Pakistani forces on 17th July 2025, along with his rickshaw, which he drove part-time to support his family.
Led by his ailing father, Abdul Hameed, a hepatitis patient—the family continues their sit-in, demanding Zahid’s immediate and safe release.
Zahid has now been missing for 24 days. His disappearance is part of the wider pattern of enforced disappearances of Baloch in Karachi and Balochistan.
We urge students, rights activists, journalists, and the people of Karachi to stand in solidarity, visit the camp, and amplify the call for justice.
#EndEnforcedDisappearances
#StopBalochGenocide
My Letter to the Domestic and International Press
For 24 days, Baloch protesters in Islamabad have faced government restrictions and harassment. We are peacefully demanding the release of Mahrang Baloch including with other BYC leaders and an end to enforced disappearances, extrajudicial killings, and repression.
For years, Balochistan has been deliberately kept as an information black hole. Foreign journalists have been denied access, and the voices of its people have been silenced before they could reach the world.
Now, we are here in the heart of Pakistan’s capital. We are visible, accessible, and willing to engage in conversation. I urge you: visit us, interview the protesters, document our experiences, and help share our story with the world.
@abidhussayn@cyalm@ElianPeltier@mehreenzahra@salmanmasood@JanjuaHaroon@SaeedShah@mehdirhasan@pressfreedom@ICFJ@MansourJuliette@FarhatJavedR@tomthehack@taahir_khan@HamidMirPAK@Matiullahjan919@asmashirazi@AsadAToor
23 دن ہو چکے ہیں کہ ہم سراپا احتجاج ہیں۔ ان 23 دنوں میں ہم بارش میں بھیگے، تپتی دھوپ میں جھلسے، اور کھلے آسمان تلے بیٹھے رہے لیکن ریاست کے کسی نمائندے کو ہماری آواز سننے کی توفیق نہ ہوئی۔ کیوں؟ کیا ہم نے کوئی غیر آئینی یا ریاست دشمن مطالبہ کیا ہے؟ ہرگز نہیں۔
ہمارے مطالبات سیدھے، سادہ اور پاکستان کے آئین کے عین مطابق ہیں:
1- ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر بی وائی سی رہنماؤں کو فی الفور رہا کیا جائے۔
2- مارچ سے ج جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل عام میں تیزی آئی ہے۔ اس پالیسی کا خاتمہ کیا جاۓ اور تمام لاپتہ افراد کو فوراً بازیاب کیا جائے۔
اب سوال یہ ہے کہ ان مطالبات میں ایسا کون سا جرم ہے جو ریاست کو برداشت نہیں؟ آخر کب تک عوام کو لاپتہ کرنا، ٹارچر اور خاموش کرانا قومی سلامتی کہلائے گا؟ اگر مظلوموں کی فریاد اور پُر امن جہدوجُہد بھی بغاوت بن جائے تو پھر ریاست کو خود سوچنا چاہیے ��ہ وہ کس کی محافظ ہے آئین کی یا ظلم کی؟
پھر ریاستی ادارے شکایت کرتے ہیں کہ بلوچ ��ات نہیں کرتے، مذاکرات نہیں کرتے۔ پہلے آپ عوام کو انسان سمجھیں، ان کی بات سنیں، تب جا کے کوئی بات چیت ممکن ہوگی۔
#ReleaseBycLeaders
نادیہ بلوچ، ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کی بہن ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) کی جانب سے منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران فیکٹ فائنڈنگ مشن کی رپورٹ پر اپنا بیان پیش کیا۔
#ReleaseBYCLeaders#EndEnForcedDisapperances