Look at our mothers. Forced to bake bread in literal dirt while #Islamabad sits on billions from our copper and gold. The #Pakistani state isn't governing #Balochistan; it’s looting it dry. 1/3
How long will attacks on Sindhi students at Karachi University continue? Sindhis and Sindhi students have long faced rampant discrimination in Karachi. Clashes between student groups at universities are nothing new; however, a group linked to IJT has a history of leading racist attacks. It is time to launch an investigation into this incident and ensure that no Sindhi student faces racism in the future.
Many UN experts, independent human rights organizations, and international observers have said that the conviction of Mahrang Baloch is unfair and inconsistent with Pakistan’s domestic and international legal obligations. But some continue to promote the false narrative that it is legitimate, despite these serious concerns.
#ReleaseMahrangBaloch
ارے ارے جناب @JamalRaisani صاحب، آپ اور قبائلی روایات؟ توتک کے قبرستان سے جب لاشوں کے ڈھیر شفیق مینگل نے بچھائے تھے اور بلوچوں نے تڑپ تڑپ کر وہ انسانی ہڈیاں اٹھائیں تھیں تب آپ کی “روایات” کہاں تھیں؟ یا بلوچستان میں عورتیں سال بھر سے جبری گمشدگی کا شکار ہیں اور ان کا کوئی پتہ نہیں ہے، آخری بار ان کو دیکھا گیا تھا جب ریاستی فورسز ان کو گھسیٹ کر اپنی گاڑیوں میں ڈال رہے تھے، تب آپ کی روایتیں کہاں تھیں؟
یہ تصویر جو آپ میرے ہاتھ میں دیکھ رہے ہیں، یہ میرے بھائی شہید حمدان کی ہے، جسے 29 دسمبر 2025 کو گھر سے لاپتہ کیا گیا،میرے بھائی کو تین مرتبہ عدالت میں بھی پیش کیا گیا، لیکن وہ ہر بار کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔اگلی پیشی کی تاریخ سے ایک دن پہلے، میرے بھائی اور تین بلوچ نوجوانوں کو اپنی کسٹڈی میں تشدد کرکے ماورائے عدالت قتل کیا گیا، اور پھر اسے مقابلے کا نام دیا گیا۔
#StopBalochGenocide
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما سمی دین بلوچ نے تشدد سے متاثرہ پشتونوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ میڈیا، سول سوسائٹی اور دیگر متعلقہ حلقے حکومت کو سکیورٹی کی ناکامی پر جوابدہ ٹھہرانے کے بجائے بلوچ اور پشتون قوم پرستوں کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں۔
کراچی: رینجرز کا بی ایل اے ارکان کی گرفتاری کا دعویٰ
رینجرز نے کراچی سے بلوچ لبریشن آرمی ارکان کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔
سی ٹی ڈی ترجمان نے جاری کردہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کراچی میں سی ٹی ڈی اور وفاقی حساس ادارے کی مشترکہ کارروائی میں کالعدم تنظیم کے 2 ارکان کو حراست میں لے لیا۔
سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق گرفتار ارکان کراچی میں حساس تنصیبات اور قانون نافذ کرنے والے دفاتر کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔
سی ٹی ڈی کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں مجاہد بلوچ اور فرید بلوچ عرف ذاکرین شامل ہیں، ملزمان اپنی تنظیم کے کمانڈر ساجد بلوچ اور بشیر زیب کی ہدایت پر کراچی میں مقیم تھے۔
گرفتار ارکان سے چار کلوگرام وزنی بارودی مواد ڈیٹونیٹر، پرائما کارڈ اور بال بیرنگ برآمد کرلیا ہے۔
واضح رہے کہ سی ٹی ڈی کی جانب سے اس سے قبل بھی کراچی و دیگر علاقوں سے جبری گمشدگی شکار افراد کو مسلح تنظیم کا رکن ظاہر کرکے گرفتاری ظاہر کی گئی ہے، اور متعدد افراد کو بعد ازاں جعلی مقابلوں میں قتل کردیا گیا ہے۔
Two Baloch students forcibly disappeared by Pakistani security forces from Islamabad on the night of July 2.
Rubina Bezanjo, abducted while preparing to leave for Karachi to visit family and Bahram Baloch s/o Ubaid, r/o Kech, taken from his flat.
#EndEnforcedDisappearances
Yesterday, 320 members of Pakistan’s civil society, including senior lawyers, human rights organizations, journalists, academics, activists, political leaders, and parliamentarians such as Mehmood Khan Achakzai and Senator Allama Raja Nasir Abbas, addressed an extraordinary letter to the Chief Justice of Pakistan, Justice Yahya Afridi, and the Chief Justice of the Balochistan High Court, Justice Muhammad Kamran Khan Malakhail. Their message was unmistakable: courts do not remain neutral when they legitimise injustice through silence. Every act of judicial inaction has consequences, and every court is accountable for the precedents it allows to stand.
Today, that warning reaches the Balochistan High Court.
Our legal team has formally challenged the life sentences imposed on Dr. Mahrang Baloch and Sibghatullah Baloch. Those convictions did not emerge from a fair trial. They emerged from proceedings that excluded the accused from critical stages of their own case, denied them meaningful access to the lawyers they had chosen, prevented them from effectively confronting the evidence against them, and discarded the most basic guarantees of due process. A life sentence imposed through such a process does not strengthen the rule of law: it empties it of meaning.
This appeal is about far more than my sister and Sibghatullah. It asks whether constitutional rights in Pakistan still belong to every citizen, or whether they disappear the moment the state labels someone an enemy. It asks whether the Constitution binds the powerful as firmly as it binds the powerless, or whether due process has become a privilege reserved for those who pose no challenge to authority.
The Balochistan High Court now faces a choice that cannot be postponed or avoided. It can subject this judgment to the constitutional scrutiny that justice demands, or it can allow a conviction secured through a fundamentally defective process to stand. That choice will not only determine the fate of two prisoners. It will tell every citizen whether the guarantees written into Pakistan’s Constitution remain enforceable when they are needed most.
Courts do not defend the Constitution by invoking it. They defend it by applying it, especially when doing so is inconvenient. History will not remember the speeches made about judicial independence. It will remember what the judiciary did when confronted with a case that tested whether those words meant anything at all.
#ReleaseBYCLeaders
حیدر علی کی لاش گزشتہ روز جیوانی میں برآمد ہوئی، اہل خانہ کےمطابق وہ پہلے سےجبری لاپتہ تھے، 25 اگست 2025 کو انکے اہلِ خانہ نے ان کی بحفاظت بازیابی کے لیے گوادر میں ڈی سی آفس کے سامنےدھرنا بھی دیا تھا،حیدر علی کی ماورائےعدالت قتل کی مذمت کرتےہیں، وقعہ کی تحقیقات کامطالبہ کرتےہیں
🚨 BIG BREAKING:
Mojtaba Khamenei is no more.
According to reports, the US has launched a massive strike on a secure location in Tehran, resulting in the immediate death of prominent Iranian leader Mojtaba Khamenei.
This incident has caused an uproar across Iran and created an atmosphere of fear among the people.
معمار نو اکیڈمی، گوادر (Meymar E Neo Academy)کے پرنسپل اور جبری طور پر لاپتہ کیے گئے بی این ایم کے رہنما رمضان بلوچ کے چھوٹے بھائی، عبدالحق مراد بلوچ، Abdul Haq Muradکو فروری میں گوادر سے پاکستانی فوج کی جانب سے گرفتار کیے جانے کے بعد جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔ آج ان کی تشدد زدہ لاش پانوان ، جیمڑی کے علاقے سے برآمد ہوئی۔ انہیں جعلی مقابلے میں قتل کیا گیا اس کے علاوہ چار دیگر افراد کو بھی قتل کیا گیا ہے، جن میں پیری اور شاہ بخش بھی شامل ہیں۔۔
یاد رہے کہ عبدالحق مرادبلوچ نے بلوچستان یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی۔ بعد ازاں انہوں نے مشکے میں ’’ معمار نو اکیڈمی‘‘ کے نام سے ایک اسکول قائم کیا، جسے پاکستانی فوج نے زبردستی بند کروا دیا ۔ اس کے بعد انہوں نے گوادر میں اسی نام سے ایک اکیڈمی کی بنیاد رکھی، جہاں بچوں کو تعلیم فراہم کی جا رہی تھی۔ تاہم، فروری میں انہیں پاکستانی فوج نے گرفتار کیا، جس کے بعد وہ جبری گمشدگی کا شکار رہے ، اور انھیں زیرحراست قتل کرکے لاش پھینکی گئی۔
اس سے پہلے بھی گوادر میں اویسس اسکول کے پرنسپل، زاھد آسکانی، کو پاکستانی فوج نے شہید کیا تھا۔ پاکستان میں اساتذہ کے قتل کی ایک طویل فہرست موجود ہے، جو واجہ صبا دشتیاری سے لے کر شہید غمخوار حیات اور شہید عبدالحق مراد تک پھیلی ہوئی ہے۔ بلوچستان میں تعلیم کی سہولیات پہلے ہی نہ ہونے کے برابر ہیں، اور جو لوگ جذبے کے ساتھ تعلیم دے رہے ہیں، انہیں چُن چُن کر قتل کیا جا رہا ہے۔
اسی طرح بی این ایم کے رہنما رمضان بلوچ کو بھی 25 جولائی 2009 کو، جب وہ مشکے سے گوادر جا رہے تھے، اوتھل زیرو پوائنٹ سے گرفتار کرکے جبری طور پر لاپتا کر دیا گیا۔ وہ اب بھی پاکستانی فوج کے نامعلوم حراستی مراکز میں اذیتیں برداشت کر رہے ہیں۔
پاکستانی فوج پر بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں، جو جنگی جرائم ہیں۔ ہم انسانی حقوق کے قومی اور بین الاقوامی اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں اور ان کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنائیں۔
بلوچستان میں کوئی بھی طبقہ محفوظ نہیں ہے، خواہ وہ استاد ہو، طالب علم، وکیل ہو یا ڈاکٹر۔ یہاں ہر طبقہ عدم تحفظ کا شکار ہے۔ ریاستی جبر، قومی غلامی اور تشدد کی واضح نشانی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست بلوچستان کو ایک کالونی کی حیثیت سے چلا رہی ہے۔ بلوچ قوم اس قبضے کے خلاف متحد ہے۔ جبر و ظلم ہمیشہ قائم نہیں رہتے، ایک نہ ایک دن ان کا خاتمہ ہونا ہی ہوتا ہے، کیونکہ ظلم کی عمر زیادہ نہیں ہوتی۔
#EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide #BalochistanCrisis #BalochMartyrs
یہ گوادر میں پھینکی گئی مقامیوں کی مسخ لاشیں ہیں
وہی گوادر جسے کبھی آنیوالے دِنوں کا سنگاپور ، تو کبھی جنوبی ایشیا کا دبئی کہا جاتا ہے
اِن آنکھ نکلی ، ناک کٹی ، منہ میں گولیوں سے چھلنی مسخ لاشوں کو عالم اسلام کی عظیم ریاست پاکستان نے پھینکا ہے
چونکہ لاشوں سے ملنے والے شناختی پر پنجاب نہیں لکھا تو کوئی واویلہ نہیں ہوگا اور کسی تک ان سیاہ چمڑی والے تیسرے درجے کے شہریوں کی خبر پہنچ بھی جائے تو گویا اہل پنجاب و وفاق کو پہلے سے ہی معلوم ہے کہ " ممکن ہے انہوں نے کچھ کیا ہو "
اور خداناخوستہ یہ کسی پنجاب جاتی بس سے اتارے گئے "پنجاب" کے شناختی کارڈ والا شہری ہوتا تو ریاستی میڈیا اور سوشل میڈیا انفلونسرز فوراً بلوچوں کو ظالم اور وحشی قرار دیتے ، بلوچستان نہ جانے کی مہم چل رہی ہوتیں ، کوئٹہ ہوٹل بائکاٹ کیا جاچکا ہوتا ، جاگ پنجابی جاگ کے نعرے ہوتے ، پنجاب کی یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے بلوچ طلبا کے پنجاب بے دخل کرنے کے مطالبے ہوتے اور بلوچستان پر شدید طرز کی بمباریوں اور آپریشن کی زورشور سے ڈئمانڈ ہوتی ۔
پنجابی وزرا ٹوئٹس کرکے پنجاب دوستی کی مہم چلاتے ، بلوچستان کے سستے گل خانے انفلوئنسرز انسٹا ریل بنا کر وضاحت کررہے ہوتے کہ دیکھیں کیسے ہم پرامن ہیں ، اور وغیرہ !
مگر !
یہ لاشیں گوادر کے پانچ رہائشیوں کی ہیں جنھیں گھر ، سکول اور دفتر سے اٹھایا گیا تھا ، پیری عسا کو خاندان کے سامنے ، عبدالحق کو سکول کے بچوں کے سامنے ، شاہ بخش کو دوستوں کے سامنے۔۔۔
اٹھایا کیوں گیا ؟
کیونکہ گوادر میں بڑھتی بے امنی میں یہ چار پانچ باقی جنوری میں اٹھائے گئے 400 سمیت مشکوک تھے ،
تو پھر مارا کیوں گیا ؟ کیونکہ گوادر میں ان کے گاوں کے پاس حملہ ہوا تھا
جب اٹھایا گیا ، 7 ماہ آپ کے پاس تھے ؟ تو " مشکوکیت کے کیا شواہد ملے ؟ کوئی سرفراز بھٹی ، کوئی ڈی جی اعزاز گورایہ ، کوئی ھوم سیکٹری چودھری شفاقت ، ایک پریس کرکے بتا دے ؟
یا پھر خاندان خود پوچھنے آئے تو پریس کلب تک جانے دیا جائے گا ؟ اور آگر سڑک کو آخری سہارا سمجھ کر دو گھنٹے دھرنا دیا جائے تو اسے بی ایل اے کی سیاسی پراکسی تو نہیں کہا جائے گا ؟
مگر نہیں !
المختصر بلوچ تھے ، ریاست نے ان کے گاوں میں حملہ ہونے کے بعد زندانوں سے اٹھا کر غصے میں مار دیئے۔ کوئی وضاحت نہیں !
لہذا میرے پیارے پاکستانیو ، اگر کوئی سر پھرا بلوچ اپنے عام شہریوں کی گردن کٹی ، ناک و آنکھ نکلی مسخ لاشیں دیکھ کر تمہیں بھی اسی درد کا احساس دلاتا ہے تو ہم سے اتنی گزارش کریں گے کہ ان کے منہ ، ناک یا چہرہ مسخ نہ کرنا ، تشدد کرتے ہوئے لمبی سرخ داڑھی و توند کیساتھ گالی بکتا سپاہی نہ بننا ، منہ نہ نوچنا کیونکہ ماوں نے دفن سے پہلے آخری بار چہرہ چومنا ہوتا ہے
#StopBalochGenocide
#Balochistan
Sad to learn of Abdul Haq, a peaceful, kind, & completely non-political man being killed & dumped. Kill-and-dump policy is back in full motion. After every violent attack, missing persons are killed, dumped, & declared insurgents. It didn’t work back in 2010, & it won’t work now.
Abdul Haq Baloch was among those who were extrajudicially killed & dumped by Pakistani forces today in #Balochistan. He was forcibly disappeared in February. He was the younger brother of missing Muhammad Ramzan (2010) and the uncle of young Ali Haider who marched to Islamabad.
Tonight my second podcast:The Mahrang Baloch Verdict Explained: Where the Law Falls Short & why the Sindh High Court Bar & the Balochistan High Court Bar are condemning it vehemently with lawyers of BHC. Keep watching this space, more to come https://t.co/MOTrQm1c1v @NadiaBaloch99@BalochYakjehtiC@SindhHighCourt@SalAhmedPK