ریاست کے ہاتھوں معصوم شہریوں کا قتل عام، رینجرز کی فائرنگ سے متعدد شہری شدید زخمی، شہادت کا خدشہ، یہ وہ نظام ہے جس کے خلاف عمران خان جھکنے کو تیار نہیں ہے، وہ ریاست جو اپنے ہی بچوں کو کھا جائے، وہ ماں جیسی نہیں ہو سکتی!
#اپنا_ادارہ_ٹھیک_کرو#ساڈا_حق_ایتھے_رکھ
عمران خان کی قابلِ فخر قوم!
آپ نے ہمیشہ عمران خان کی لاج رکھی ہے، آپ کی جرات آپ کے حوصلے کو سلام۔
آئی ایس ایف اور یوتھ کے جوانو!
شکریہ۔ آپ نے وفاداری اور بہادری کی جو داستانیں رقم کی ہیں اس ملک کی تاریخ ہمیشہ اس کی گواہی دے گی۔
اسلام آباد، راولپنڈی اور گردونواح کے شہریوں!
آپ کے ہم وطن گذشتہ ۲۴ گھنٹے سے ریاستی جبر کے خلاف برسر پیکار آپ کے شہر پہنچے ہیں۔ آج آپ نے ایک مرتبہ پھر ۲۵ مئی اور ۱۸ مارچ کی اپنے ایثار کی روایت دہرانی ہے۔
آپ کا صبر، جبر پر غالب آرہا ہے۔ پوری دنیا میں پاکستانی آپ کے ہم آواز ہیں۔ آپ نے یونہی پرامن رہنا ہے۔ تھکنا نہیں، تھکانا ہے۔ وہ بندوق کے بھروسے ہیں اور آپ کی طاقت آپ کا حوصلہ ہے۔ اسے قائم رکھنا ہے۔ آپ کا صبر، آپ کا حوصلہ جیتے گا۔ جیتنے والا ہے انشاء اللہ۔ اپنی نظریں اسی طرح منزل پر رکھیں۔ ڈی چوک پہنچنا آپ کے لیڈر کا حکم ہے اور فیصلے صرف اور صرف عمران خان کا اختیار۔
🚨 شیل ختم ہونے پر ہجوم سے بچنے کے لیے رینجرز نے اپنی گاڑیاں بھگائیں تو تین اہلکار ایک گاڑی سے گرے جو پیچھے والی گاڑی نے کچل دیے۔
ایک اور ریاستی اور دلالی صحافتی پروپیگنڈے نے پھیلنے سے پہلے ہی دم توڑ دیا۔
#UndeclaredMartialLaw#PakistanUnderFascism
جھوم سے بچنے کے لیے بھاگتے ھوے رینجرز نے اپنے ھی ساتھیوں کو اپنی گاڑی کے نیچے کچل دیا ۔۔پولیس دباؤ ڈال رھی ھے کہ ان اموات کا پی ٹی ای کارکنوں کو زمہ دار ٹھہرایا جاے
بشری بی بی کی طرف سے خان صاحب کے پیغام کی آڈیو
۔۔
کوئی بہانہ نہیں چلے گا ۔۔ کوئی گرفتاری والا سلسلہ کام نہیں کرے گا،
“صحیح دو ٹوک میسیج ہے فنکار اپنی صفیں درست کر لیں”
عمران خان آج بڑے غصہ میں تھے اور دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ تمام ٹکٹ ہولڈرز بشمول دیگر قیادت کے پاس یہ آخری موقع ہے - 24 کو قافلے لے کر اسلام آباد روانہ ہوں ، اگر کسی نے بہانے بنائے، خود کو اغوا کروایا یا گرفتار کروایا تو پارٹی میں اس کا کوئی مستقبل نہیں ہوگا
صداقت عباسی جنہیں اغوا کرکے بے انتہا تشدد کیا گیا اور عمران خان کیخلاف نومئی میں گواہی دینے کیلئے کہا گیا جھوٹے انٹرویو ریکارڈ کرائے گئے لیکن آج انہوں نے صاف انکار کردیا اور حقیقت بھی بیان کردی
#نومبر24_خان_کی_کال
یوتھ، آئی ایس ایف، ایکٹویسٹس اور کارکنان کی تیاری اور قوم کا جذبہ دیکھ کر پرامید ہوں کہ انشاء اللہ ۲۴ نومبر کو لاکھوں پرامن پاکستانی اپنے لیڈر عمران خان کی آزادی، اپنے مینڈیٹ کی واپسی اور ملک میں آئین اور قانون کی عملدآری کےمطالبے کے ساتھ اسلام آباد ڈی چوک پہنچیں گے۔
۲۴ سے پہلے یہ ہمارے پاس آخری ہفتہ ہے اور یقیناً اس وقت آپ کی تیاری آخری مراحل میں ہوگی اس لئے چند ضروری ہدایات؛
۱- اس بات کو یقینی بنائیں کے آپ نے اپنے عزیز و اقارب اور دوستوں تک ناصرف ۲۴ کو احتجاج کو پیغام پہنچا دیا ہے بلکہ ڈی چوک پہنچنے تک کا آپ کا اور ان کا سارا انتظام اور پروگرام بھی طے شدہ ہے۔
۲۔ ۲۴ نومبر کو آپ سب نے پاکستانی پرچم کے ساتھ امن کا سفید جھنڈہ، رومال یا دوپٹہ لے کر نکلنا ہے اور کسی کو بھی اپنا پر امن کا احتجاج سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دینی۔
۳– عین ممکن ہے کہ آپ کو مایوس کرنے کے لیے چند دن پہلے سے ہی انٹرنیٹ سروسز معطل کردی جائیں۔ آپ نے بہر صورت ڈی چوک پہنچنا ہے اور بڑی تعداد میں پہنچنا ہے۔ فیصلوں کا اختیار صرف اور صرف عمران خان کے پاس ہے اس لیے کسی بھی مس انفارمیشن پر کان نہیں دھرنے۔
۴- مطالبات کی منظوری کے بغیر واپسی نہیں ہوگی اس لیے پوری تیاری سے نکلنا ہے۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
عمران خان کا 24 نومبر کا پلان
یہ کال تحریک انصاف اور پاکستان کی بقا کا فیصلہ کرے گی:
1- میں جب جیل سے باہر آؤں گا تو پہلے والا عمران خان نہیں ہونگا جو ہر کسی پر اعتبار کر لیتا تھا, ہر کوئی اپنی accountability کے لیے تیار رہے اور اپنے حلقے کی ذمہ داری اٹھاۓ ورنہ ٹکٹ کینسل
2-ہر ٹکٹ ہولڈر دس ہزار عوام کو ساتھ لاۓ گا اور اپنی ویڈیوز بناۓ گا اور کوریج کرے گا
3-جب تک ہمارے مطالبات نہیں مانے جاتے قیادت اپنےساتھ لاۓہوۓ لوگوں کی پوری ذمہ داری اور ہر قسم خرچہ اٹھاۓ گی
4- فرمائشی گرفتاریاں قابل قبول نہیں ہونگی اور ہر لیڈر خان کے حکم کا پابند ہے
5-جو لوگ پارٹی چھوڑ کر جا چکے ہیں ان کا PTI سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
6-سوشل میڈیا واریئرز ہماری طاقت ہیں اور کسی کو ان کے متعلق تنقید کرنے کی اجازت نہیں ہے