یاد رہے پرویز مشرف نہیں چھوڑ رہا تھا ،عوامی نفرت عروج پر جا چکی تھی، حالانکہ ن لیگ قیادت ملک سے فرار تھی، نہ عوامی مقبولیت تھی، معیشت بھی 9فیصد پر تھی اور پھر اس نےخود ابرار قریشی کو لندن میں بتایا کہ میرے اپنے لگائے”وفاداروں” نے مجھے اوپر بھیجنے کے لیے چار مرتبہ قاتلانہ حملے کیے اور پھر وہ تنگ آکر خوف میں چھوڑنے پر تیار ہوگیا اور یہ لال مسجد ایمرجنسی کے بعدہوا تھا پھر وہ استعفیٰ دے کر ملک چھوڑ گیا۔
یہ چار حملے ریکارڈ پر موجود ہیں
پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
۔۔۔۔۔۔۔
ایران پارلیمنٹ کے اس رکن نے کہا ہے کہ ہمارے پڑوس میں کچھ ملک ایسے ہیں جو ثالثی کے دعویدار ہیں ،جب کہ ہمیں معلوم ہے ان کے لیڈروں کے ٹویئٹ بھی امریکی لکھتے ہیں
———
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا
ہمارے کچھ ہمسائے دوست ہیں جو ثالث بنے ہوئے ہیں حالانکہ ان کے وزیرِ اعظم کے ٹویٹ بھی امریکی لکھتے ہیں، بس میں بات کو زیادہ کھولنا نہيں چاہتا ... چھوڑیں، لیکن ہمیں سب پتہ ہے۔ ڈاکٹر محسن زنگنه رکن ایرانی پارلیمنٹ