اللھم صل علی محمد و علی آل محمد کما صلیت علی ابراھیم و علی آل ابراھ��م انک حمید مجید
اللھم بارک علی محمد و علی آل محمد کما بارکت علی ابراھیم و علی آل ابراھیم انک حمید مجید
عبدالله بن مسعود ؓ کی اہلیہ زینب ؓ کہتی ہیں:
رسول الله ﷺ نے ہم سے خطاب کیا اور فرمایا: "اے گروہ عورتوں کی جماعت! صدقہ دو، خواہ اپنے زیورات ہی سے کیوں نہ دو. کیونکہ قیامت کے دن جہنم والوں میں تم ہی سب سے زیادہ ہوگی."
ترمذی 635
(بخاری 1466؛ مسلم 2318؛ نسائی 2584؛ مسند احمد 3620)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کبیرہ گناہوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ﷺنے فرمایا:
اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا،
ماں باپ کی نافرم��نی کرنا،
کسی کی جان لینا
اور جھوٹی گواہی دینا۔
(صحیح بخاری، ۲۶۵۳)
مریم نے کہا : پروردگار مجھ سے لڑکا کیسے پیدا ہو جائے گا جبکہ مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں ؟ اللہ نے فرمایا : اللہ اسی طرح جس کو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جب وہ کوئی کام کرنے کا فیصلہ کرلیتا ہے تو صرف اتنا کہتا ہے کہ “ ہوجا ” بس وہ ہو جاتا ہے۔
سورۃ آل عمران آیت نمبر 47
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ ایسے شخص پر رحم کرے جو بیچتے وقت اور خریدتے وقت اور تقاضا کرتے وقت فیاضی اور نرمی سے کام لیتا ہے۔
(صحیح بخاری، ۲۰۷۶)
اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے لیے مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کردے گا۔
اور اُسے ایسی جگہ سے رزق عطا کرے گا جہاں سے اُسے گمان بھی نہیں ہوگا۔ اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے، تو اللہ اُس (کا کام بنانے) کے لئے کافی ہے۔
﴿سورۃ الطلاق، ۲-۳﴾
قالَ ﷺ:
میت کے پیچھے تین چیزیں ہوتی ہیں، ان میں سے دو لوٹ آتی ہیں اور ایک ساتھ رہ جاتی ہے. اس کے گھر والے، اس کا مال، اور اس کا عمل اس کے پیچھے ہوتے ہیں. گھر والے اور مال لوٹ آتے ہیں�� اور اس کا عمل ساتھ رہ جاتا ہے.
مسلم 7424
(بخاری 6514؛ ترمذی 2379؛ نسائی 1939؛ مشکوٰۃ 5167)
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپﷺکی وفات سے تین دن پہلے فرماتے ہوئے سنا:
تم میں سے ہر شخص اس حال میں مرے کہ وہ اللہ سے اچھی امید رکھتا ہو۔
(سنن ابوداؤد،۳۱۱۳)
اور اے ہمارے پروردگار! ہمیں وہ کچھ بھی عطا فرمائیے جس کا وعدہ آپ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے ہم سے کیا ہے ، اور ہمیں قیامت کے دن رُسوا نہ کیجئے۔ یقینا آپ وعدے کی کبھی خلاف ورزی نہیں کیا کرتے۔
سورۃ آل عمران آیت نمبر 194
اللھم صل عل�� محمد و علی آل محمد کما صلیت علی ابراھیم و علی آل ابراھیم انک حمید مجید
اللھم بارک علی محمد و علی آل محمد کما بارکت علی ابراھیم و علی آل ابراھیم انک حمید مجید
اور ہم کسی شخص کو اُس کی طاقت سے زیادہ کسی کام کی ذمہ داری نہیں دیتے، اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو (سب کا حال) ٹھیک ٹھیک بول دے گی، اور اُن پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔
﴿سورۃ المومنون ، ۶۲﴾