اخے عوام ٹیکس نہی دیتی ہے اور کاروبار ریاست تو جیسے شہباز شریف رات کو ٹوپیاں سی کر بیچتے اس کمائی سے چلتے ہیں
یہ بند بجلی گھروں کے اربوں روپے یہ لگثری جہاز یہ لامحدود مراعات سب اسی کمائی سے آتی ہیں
آپ لوگ آر اے شہزاد سے لاکھ اختلاف کریں لیکن یہ بات سبھی مانتے ہیں کہ بندہ بالکل عوامی ایشوز کو اجاگر کر رہا ہے
اختلاف کرنے والے صرف اس وجہ سے اختلاف کر رہے ہیں کہ یہ ھماری پیاری ن لیگ کے خلاف بات جا رہی ہے
ورنہ مانتے سبھی ہیں کہ باتیں ٹھیک کر رہا ہے
اقرار نہیں کر سکتے کیونکہ راتب خور جو ٹھہرے
اسے کہتے ہیں منہ انگلیاں سر دھڑ سب کچھ کڑاہی میں~یہ بجلی گھر بجلی پیدا کریں یا نہ کریں انہیں اربوں کی ادائیگی ہوتی ہے۔ان کا آڈٹ نہیں ہوسکتا۔اب انکشاف ہوا ہے ان کو چار سالوں میں 7000 ارب روپے کی کیپسٹی چارجز کی مدد میں ادائیگی ہوئی ہے اس پر کوئی انکم ٹیکس نہیں لیا جاتا۔ بلکہ کسی کمائی پر ٹیکس نہیں ہے۔😳
سب بھاری ٹیکس، چارجز، لیوی، بلز، عوام نے دینے ہیں۔۔ یہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آئے ہیں جنہیں اتنا کچھ دیا جارہا ہے۔۔
کہتے آپ حکومت پر بہت تنقید کرنے لگ گے خدا کو ایمان کو گواہ بنا کر بتائیں کس چیز کی تعریف کریں ؟
روز روز پیٹرول پر لگنے والے ٹیکے کی ؟ بجلی کے فکسڈ ٹیکس کی ، سلیب سسٹم نے ظلم کی ؟ گیس کے فکسڈ ٹیکس کی شارٹ ہوتی گندم کی یا الیٹ اشرافیہ کے بلیو پاسپورٹ کی یا وزیروں کی آٹھ سو فیصد بڑھی تنخواہوں کی یا بل کی وجہ سے ہونے والی غریب کی خودکشیوں کی ؟
کونسا عوام کے لئے ایسا کام کیا جس سے انکی زندگی آسان ہوئی ہو اور میں نے اس کی تعریف نا کی ہو ؟
اور ناظرین آگیا وہ شاہکار جس کا تھا انتظار
چونکہ گزشتہ روز پٹرول کی قیمت ایک روپیہ سستا کی گئی آج وہی پٹرول پھر مہنگا کردیا گیا جبکہ ڈیزل کی قیمت بھی اوتے چلی گئی
میاں صاحب آج ایک ہی مرتبہ بتلا دیں کی پکائیے فیر
خام تیل سستا ہونے سے پٹرول سستا نہیں ہوتا عالمی منڈی میں ریفائن شدہ تیل مہنگا ہے: وزیر پٹرولیم
عالمی منڈی میں خام تیل ایک سینٹ بھی مہنگا ہو تو پاکستان میں پڑا ریفائن شدہ تیل آٹو میٹک مہنگا ضرور ہوجاتا ہے... کیسے کیسے کُتی سوچ کے ظالم فرعون مسلط ہوئے ہیں ہم پہ.
🚨فرعون کی حکومت نے عوام کو رلیف دینے سے انکار کر دیا
شہباز شریف کی ظالم ترین حکومت میں عالمی منڈی میں دس فیصد کمی ہونے کے باوجود آج ڈیزل تقریباً چار روپے بڑھا دیا جبکہ پیٹرول کی قیمت فقط ایک روپے کم کی ہے
شہباز شریف نے قسم کھائی ہے عام آدمی کو کسی صورت رلیف نہی دینا ہے
قوم یوتھ کو فخر درانی پر بڑا غصہ ہے کہ را کے مسجز لیک کئے!
بیٹا ہم ادھر را کے بیانیہ پر تم سب کے پرانے ٹویٹ اکٹھے کرنے میں مصروف ہیں۔
ایک ہی تاریخوں میں جو ایک جیسے ٹویٹ، ایک ہی ٹرینڈ پر کر رہے تھے، وہ سب اکٹھا ہو رہا ہے۔
ابھی تو کہانی صرف شروع ہوئی ہے۔
بھارت میں ڈیم بھرتا ہے۔ وہ سپل وے کھول دیتے ہیں اور یہاں خبر چلائی جاتی ھے کہ بھارت نے آبی جارحیت کر دی۔ بھائی جب ڈیم بھر گیا ہے تو وہ کیا ڈیم تڑوا کر تباھی کروا لیں؟ سپل کھولنے کیلئیے ہوتے ہیں انہوں نے کھول دئیے آپ بتائیے آپ نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ کوئی ڈیم بنایا ہے کہ جب فالتو پانی آئے تو ڈیم بھر جائے؟ کوئی سیلابی نہریں بنائی ہیں؟ کیا آپ کا کام صرف عیاشی اور سیر سپاٹے کے لیے جہاز خریدنا ھے اور بیرون ملک بینک بھرنا ھے یا پھر دریائ زمین پر سوسائٹیاں بنانا رہ گیا ہے؟
تجربہ کاری
گندم کی درآمد پر تقریبا 75سے80 ارب خرچ ہونگے یہی رقم کسان کو دی جاتی وہ خوشحال ہوتا
یہی پیسہ مارکیٹ میں معاشی سرگرمیاں بڑھتیں حکومت نے کسان کا گلہ دبایا اپنی عوام کو ریلیف نہ دیا اور اب یہی پیسہ عوام کی جیبںوں سے ٹیکس صورت نکل کر بیرون ملک جائے گا
بات نیت کی ہوتی ہے یقین کریں لوگوں کو اس حکومت کی نیت پر اعتماد نہی ہے لوگ ان کو بدنیت سمجھتے ہیں کیونکہ جب عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت انتہائی نیچے چلے گئی تب بھی پاکستان کی شہباز شریف حکومت نے پیٹرول کم کرنے سے صاف انکار کیا وزیر الٹی سیدھی تاویلیں گھڑتے رہے یہاں تک کہہ دیا کہ عالمی قیمت کا تعلق تو خام تیل سے ہے جبکہ ہم تو پیٹرول بیچتے ہیں
میڈیا کا فرض ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر سنسنی نہ پھیلائے ۔ احسن اقبال
آج عالمی مارکیٹ میں دوبئی خام تیل 7 ڈالر کم ہوا اور ریفائن پروڈکٹ “ سنگاپور والی “ میں بھی گراوٹ آئی ہے ۔ علی پرویز ملک
پیٹرول3.66 روپے اضافہ ۔ اوگرا انکل
وڈے میاں صاحب دیکھ رہیں ہیں ان کی بے شرمیاں
نون لیگ کشمیر میں سو الیکٹرک بسیں دے مگر نون لیگ کے پارٹی فنڈ سے یا بطور کشمیری ذاتی جیب سے دیں پنجاب کا سرکاری خزانہ پنجاب کے عوام کا حق ہے
پنجاب کے عوام پر جرمانے کر کے ہزار طرح کے ٹیکس لگا کر اس سے کمائی رقم دوسرے صوبوں پر لگانا جائز نہی ہے
پٹرول سستا ہونے پر مہینے بعد بھی نہیں پہنچتا تھا
مہنگا ہونے پر روزانہ پہنچتا ہے۔
بھارتی چیف جسٹس اور حکومت صرف"یوتھ"کو کاکروچ سمجھتی تھی
جبکہ ہماری یہ حکومت ساری عوام کو"کاکروچ"بھی سمجھتی ہے اور چ بھی۔
تیل،بجلی،گیس،آٹا۔۔مہنگا
یا شارٹیج
زیادہ عوامی ردعمل آئے تو
احسان عظیم کر کے چند دن لیے کے لیے تھوڑا سا ریلیف دے دیتے ہیں
اور چند دنوں میں
پھر واپس۔۔پرانی ڈگر پر آ جاتے ہیں۔
4 سال میں بہتری کے بجائے بدترین معاشی بدتری کی طرف گئے ہیں۔
(اسد آر چوہدری)
پہلے پٹرول ڈیزل کی قیمتوں کا تعین مہینے بعد ہوتا تھا۔۔پھر یہ کام پندرہ دن بعد کرنا شروع کردیا حکومت نے۔
اب روزانہ کی بنیاد پہ ہو رہا ہے۔۔۔عین ممکن کسی بھی دن یہ اعلان ہوجاے کہ
آج سے پٹرول ڈیزل کی قیمتوں کا تعین دن میں 5 بار ہر فرض نماز کے بعد کیا جاوے گا۔