🚨 نیویارک میں اسرائیلی فوجیوں کا مقابلہ کرنے والی امریکی خاتون کو انسپائر مینٹل ہیلتھ سروسز میں ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔اس کی برطرفی کے بعد اس خاتون نے کہا: "میں جب بھی انہیں دیکھوں گی تو چیختے ہوئے کہوں گی یہ قابض فوجی بچوں کے قاتل ہیں۔"
میر رضا کو پیچھے سے گولی ماری گئی، اس کی شرٹ پر تیزاب کے نشانات ہیں یعنی جو تیزاب اُس کے چہرے پر پھینکا گیا وہ اُس کی شرٹ پر بھی آیا۔ اُسے تیزاب سے نہلایا گیا اس لیے وہ گل سڑ گیا، جبران ناصر کی میڈیا سے گفتگو
زلے شاہ کی شہادت کے بعد پہلے روز ہی دھمکایا گیا۔ مجھ سے پوچھا گیا کہ دوسرا بیٹا کیا کام کرتا ہے تو میں نے بتایا دوسرا بیٹا میڈیکل ریپ ہے موٹر سائیکل پر جاتا ہے۔
تو انہوں نے دھمکاتے ہوئے کہا کہ جب سیاہ ڈالہ ہٹ کرتا ہے تو بندہ 300 گز تک جاتا ہے
شہید زلے شاہ کے والد کی گفتگو 💔
یہ کیسا انصاف ہے اور کیسی اندھیر نگری ہے؟ راولپنڈی میں پولیس نے اس شخص کو بے دردی سے قتل کر دیا اور اپنی جان چھڑانے کے لیے فوراً الزام لگا دیا کہ اس نے سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی تھی۔ حد تو یہ ہے کہ ہمارے مین اسٹریم میڈیا نے بھی بغیر کسی تحقیق کے اس مقتول کو دہشت گرد بنا کر پیش کر دیا۔
لیکن اگر ذرا سی عقل اور منطق استعمال کی جائے تو اس پورے ریاستی بیانیے پر چند سیدھے اور منطقی سوالات اٹھتے ہیں جن کا جواب کسی کے پاس نہیں
اگر اس شخص نے واقعی فورسز پر فائرنگ کی تھی، تو جس تیزی سے ٹی وی چینلز پر اسے دہشت گرد ڈکلیئر کیا گیا، اسی تیزی سے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج یا کوئی ویڈیو ثبوت قوم کو کیوں نہیں دکھایا گیا؟
اگر یہ واقعی کوئی دہشت گردانہ حملہ اور مسلح مقابلہ تھا، تو مقتول کا وہ اسلحہ کہاں ہے جس سے اس نے فائرنگ کی؟ اور کیا فورسز کا کوئی اہلکار اس مبینہ فائرنگ سے زخمی ہوا؟
میڈیا نے کس عدالت یا تفتیشی ایجنسی کی رپورٹ کی بنیاد پر چند لمحوں میں یہ فیصلہ کر لیا کہ یہ شخص دہشت گرد ہے؟ کیا یہ کوئی پہلے سے تیار شدہ سکرپٹ تھا جو لاش گرتے ہی نیوز اینکرز کو تھما دیا گیا؟
ایک شہری کی جان لے کر الٹا اسی کو غدار اور دہشت گرد ثابت کر دینا ظلم کی بدترین اور بزدلانہ شکل ہے۔ بغیر ثبوت کے کسی کی لاش پر جھوٹ کا یہ محل کھڑا کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ دال میں کچھ کالا نہیں، بلکہ پوری دال ہی کالی ہے
کیا اس ملک میں کوئی ایسا قانون یا ادارہ بچا ہے جو ان وردی والے قاتلوں اور جھوٹ بیچنے والے میڈیا سے ان سوالات کا جواب مانگ سکے؟
یہ کشمیر نہیں پختونخوا ہے!💔
کشمیر سے لیں بلوچستان اور بلوچستان سے لیں پختونخوا تک پورے پاکستان میں لاشیں ہی لاشیں!
ذہنی مریض کو روکے ورنہ ملک کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے میں دیر نہیں لگے گا!!
روالاکوٹ شیہد ہونے والے مشتاق کی اکلوتی بیٹی 4 سال کی عائشہ یتیم بے سہارا ہونے والی اپنے والد کے گھر آنے کا راستے میں انتظار کررہی ہے پاپا بسکٹ اور پاپڑ لے کر آئے گا بازار سے😭💔 معصوم عائشہ کو کیا پتہ ظالموں نے رب کے پاس پہنچا دیا
تیسرے درجے سے میڈل اور میٹرک کر کے فوج میں بھرتی ہونے والے فوجیوں نے اسلام آباد یونیورسٹی سے PHD کرنے والے اسامہ کو گولی مار کر شہید کیا ہے ۔۔
پڑھے لکھنے اور شعور رکھنے والے نوجوان ان جاہل وردی والوں کے سب سے بڑے ٹارگٹ ہوتے ہیں ۔۔
ہمارا ایک سولین اسامہ 7 لاکھ ڈفرز سے کروڑ درجے بہتر تھا ❤️🩹
جس طرح پاکستان میں 9 مئی کے دن فوج نے سی سی ٹی وی کیمرے چرائے، بالکل ایسے ہی اب پاکستانی قابض فوج آزاد کشمیر میں بھی سی سی ٹی وی کیمروں کو توڑ رہی ہے، تاکہ حقیقت کیمرے میں ریکارڈ نہ ہو جائے، دہشت گردوں کے چہرے بے نقاب نہ ہو جائیں۔
اب اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ دہشت گرد کون ہیں۔
"سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے..."
قائد اعظم یونیورسٹی کا پی ایچ ڈی طالب علم اسامہ جمیل راولاکوٹ میں گولی کا نشانہ بن کر شہید ہو گیا۔
قائداعظم یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کا طالب علم اسامہ جمیل فیصلہ سازوں کے اقتدار بچانے کی حوس کا نشانہ بن گیا۔ جب سے یہ رجیم آئی ہے اس نے پرامن مظاہرین کو قابو کرنے کے لیے سیدھی گولیوں کا فسطائی نظام شروع کیا ہے،اس کے باوجود چار سال سے عوام ان کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ آج جو خون کا کھیل آزاد کشمیر میں کھیلا جارہا ، یہی کھیل پہلے چھبیس نومبر کو پی ٹی آئی کے خلاف ، مریدکے میں ٹی ایل پی کے خلاف بھی کھیلا جا چکا ہے۔ جب تک پوری قوم متحد ہوکر نہیں نکلے گی ماوں کے بے گناہ بچے ایسے ہی شہید ہوتے رہینگے۔
جب تک پوری قوم متحد ہو کر اس ظلم کے خلاف نہیں کھڑی ہوگی، ماؤں کے بے گناہ بچے یوں ہی قربان ہوتے رہیں گے۔
#مزاحمت_سے_انقلاب_آئے_گا
"آپ میڈیا والے بھی احتجاج کریں ایک دن کیمرے بند کردیں چینل مالکان کو کہیں کہ اب ہم ظلم برداشت نہیں کریں گے ، رپورٹ کرنے پر بندے اٹھا کے لے جاتے ہیں۔ ہم سب کا ایک ہی مسئلہ ہے سب جانتے ہیں کہ ظلم ہورہا ہے لیکن ڈرے ہوئے ہیں اب تھوڑا بہت ڈر ختم ہورہا ہے۔ لوگوں کو اکٹھے ہونا پڑے گا ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونا پڑے گا"۔ علیمہ خان