سوشل میڈیا پہ افواہیں چل رہی ہیں کہ ارم آنٹی نے جہاز میں رومانس کے بعد عاصم منیر سے بدلہ لینے کے لیے اپنے باورچی کے ساتھ فوجی جیپ میں رومانس کرنے کا اعلان کیا ہے
نشر مکرر
کسی بھائی نے ایک دفعہ کسی پوسٹ پر رپلائی کیا تھا کہ نہتے نکلے تو سامنے بندوق آگئی۔ بندوق نکلی تو سامنے ٹینک آجائیں گے۔ ٹینک لے کر نکلے تو گن شپ ہیلی کاپٹروں سے ماریں گے۔ نو مئی کو تین درجن لوگ شہید ہوئے۔ چھبیس نومبر کو درجن بھر کارکنان کی لاشیں ملیں اصل تعداد آج بھی معلوم نہیں ہوسکی ۔ اگر چند ہزار لوگ لیکر ایک بار پھر چند لاشیں مزید اٹھا کر واپس جانا ہے تو خدا کے لیے ماوں کی گودیں اجاڑنے کی تمنا بند کردیجیے۔
اس فوج نے مشرقی پاکستان میں ہزاروں لوگ مار دیے پھر جب اپنے ترانوے ہزار گھیرے میں آگئے تو پتلونیں چھوڑ کر بھاگے۔ بلوچستان میں سارا مسئلہ قبضے کا ہے۔ فوج ہزاروں لوگ مار چکی ہے ابھی تک سلسلہ جاری ہے لیکن فوج کورس کریکشن کے لیے تیار نہیں ہے۔ ایک اور پوسٹ مشرقی پاکستان کے حوالے سے کی کہ پہلی دفعہ فوج نے گولی فروری 1952 میں چلائی۔ بنگلہ دیش آزاد 1971 میں ہوا۔ یعنی اگر انیس سال بعد بھی ہم آزادی لیں تو وہ کامیابی ہے۔ اس پر آپ میں سے بہت سوں نے اسے مایوسی پھیلانا قرار دیا۔
عسکری منرلز بل کے لیے تحریک انصاف کی آدھی قیادت تڑپ رہی ہے۔ کسان لٹ گیا ہے کسی نے اسکے لیے آواز نہیں اٹھائی۔ ڈاکٹرز نے احتجاج کیا تحریک انصاف ان کے ساتھ شامل نہیں ہوئی۔ گزشتہ برس اربوں روپے کے گندم سکینڈل پر تحریک انصاف کسانوں کو موبلائز نہیں کرپائی۔ پختونخواہ میں حکومت ہونے کے باوجود نہ کوئی قانون سازی ہوئی ، نہ رجیم چینج کے بعد سے مظالم میں ملوث لوگوں کے خلاف کاروائی ہوئی۔ الٹا کور کمانڈر ہاوس میں افطاریاں ہوئیں۔ کسی میٹنگ یا اجلاس کے بائیکاٹ کرنے تک کے اصولی فیصلے پر قیادت کی ایک بڑی تعداد کا منہ گول گپے جیسا ہوجاتا ہے۔
ہم نے قاتلوں سے آزادی لینی ہے ریہڑی سے نان چھولے نہیں لینے جو دس منٹ میں مل جائیں گے۔ اسکے لیے ایک طویل جدوجہد ، نظریاتی قیادت ، چھوٹی سے چھوٹی سطح پر موبلائزیشن اور لمبے چوڑے ویژن کی ضرورت ہے۔ اس کا احوال ایک مفصل پوسٹ میں تحریر کیا جاچکا۔ خلاصہ پیش خدمت ہے۔
اوورسیز پاکستانیوں سے ماہانہ بنیادوں پر فنڈنگ جنریٹ کرنی ہوگی
شیڈو اوورسیز قیادت قائم کرنی ہوگی جو سخت اور کھلا موقف اپنا سکے
سالانہ یا ششماہی بنیادوں پر تحریک انصاف کے آن لائن انٹرا پارٹی انتخابات کروانے ہوں گے تاکہ لوگ انگیج رہیں
چھوٹے چھوٹے عوامی مسائل پر عوام کو تھوڑا تھوڑا موبلائز کرنا ہوگا
عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی پر پختونخواہ حکومت کو عدم تعاون تحریک کا اعلان کرنا ہوگا
سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی کے سبھی اجلاسوں کا ویڈیو لنک سوشل میڈیا پر لائیو چلانا ہوگا تاکہ عوام کو دکھائی دے کیا ہورہا ہے اور کیا کیا جارہا ہے
سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو حقیقی معنوں میں انفلوئنسر بننا ہوگا اپنے اپنے بھگوان کا پالشیا نہیں
ایکس / فیس بک / ٹک ٹاک یہ سب سے بڑے ہتھیار ہیں ان کے ذریعے عوام تک لٹریچر ویڈیوز گرافکس اور پوسٹس کے ذریعے لگاتار جنریٹ کرنا ہوگا اور ہر پلیٹ فارم کی آڈینس کے حساب سے ڈیٹا تیار کرنا ہوگا
بار کے سبھی الیکشنز میں وکلاء کی حمایت کے بدلے تحریری مطالبات منظور کروانا ہوں گے۔ جیسے کہ حمایت یافتہ کامیاب امیدوار لاپتہ افراد کے کیسز میں خود پیش ہوتا رہے
ہم نے خود کو ایک طویل جنگ کے لیے تیار کرنا ہے۔ ہماری لڑائی اس سوچ سے ہے جو عوام کا مینڈیٹ چھینتی ہے۔ کسی ایک جرنیل سے ہرگز نہیں۔ جب تک یہ سوچ ختم نہیں ہوگی لڑائی جاری رہے گی۔
پختونخواہ میں بہت سارے اراکین صرف اس لیے خاموش ہوں گے کہ انہیں کوئی نا کوئی کرنل قائل کررہا ہوگا کہ آپ بہت ذہین آدمی ہیں آپ کو ہم دو تین مہینے تک وزیراعلی لگا دیں گے عمران خان سے ملاقات بھی کروا دیں گے اور پھر آپ آرام سے سات نسلوں تک حکومت کرنا۔ یہ فوج کی روٹین کی پلے بک ہے۔ کسی کے ہاتھ کچھ نہ آئے گا۔
میجر حسنین شہزاد کی نمازِ جنازہ کور کمانڈر منگلا لیفٹیننٹ جنرل شاکر اللہ خٹک نے 30 ملازموں کے ساتھ باجماعت پڑھائی اور سور میجر کا تابوت اس جگہ پڑھا تھا جہاں ہم پنڈ والے اپنی گدھی بندھنتے ہیں
سہیل آفریدی درست یا غلط
سہیل آفریدی کو حکومت ملی تو جو کام سہیل آفریدی کو کرنا چاہیے تھا وہ اس نے نہیں کیا۔ تحریک انصاف کے اندر سے باہر سے اور صحافیوں نے اور دیگر کچھ لوگوں نے اسے امیدیں دلائیں کہ جلد حالات بہتر ہوجائیں گے۔ فلاں مہینے تک سب ٹھیک ہوجائے گا۔ ان جھوٹے وعدوں اور لاروں پر یقین کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ عمران خان طویل مدت تک قید تنہائی میں رکھا گیا ، بیماری کی خبریں آئیں تو اسے علاج تک کی سہولت نہ ملی۔
پھر ایک وقت آیا کہ حالات بہتر ہونے کی امیدیں مرنے لگیں ، سہیل آفریدی پر دباؤ بڑھنے لگا ، اور بالآخر اس نے تمام تر کشتیاں جلا دیں۔ اگر سہیل آفریدی نہ ہوتا تو یقیننا تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی ان دستاویزات پر دستخط کردیتی جہاں تحریک انصاف اور پختونخواہ حکومت کو دہشتگرد اور انکا ہمدرد ٹھہرایا جارہا تھا۔ سہیل آفریدی نے پورے صوبے میں عوام کو موبلائز کیا۔ ہفتوں تک پریشر بنائے رکھا۔ میڈیا پر ہائپ بنائی۔ انٹرنیشنل میڈیا انگیج کیا۔ دو سال کے سقوط کو توڑا اور لانگ مارچ کیا۔
اس سے زیادہ وہ کیا کرسکتا تھا ؟ اپنی حکومت قربان کردی۔ اپنا سیاسی مستقبل داؤ پر لگادیا بلکہ ایک دفعہ تو ختم کردیا۔ اب معلوم نہیں وہ کن حالات میں ہے اور اس کے ساتھ کیا سلوک ہورہا ہے۔ لیکن اب یہ کہنا کہ یہ سب سکرپٹڈ تھا اور اسے کسے بڑے پلان کے لیے تیار کیا جارہا ہے، اب جب وہ قید میں ہے اسے مشکوک بنانا سمجھ سے باہر ہے۔
اگر ایسی ہی ڈاٹ کنیکٹنگ کرنی ہے تو پھر کرتے ہیں شروع ۔ ادارہ ہذا یعنی میں فوج کا ایجنٹ ہوں۔ میرا کام فوج کے خلاف نفرت پھیلانا ہے تاکہ اسے دیکھ دیکھ کر فوج کے اندر تحریک انصاف کے لیے نفرت پیدا ہوجائے۔ مراد سعید کو فوج نے عمران خان کے قتل کے بعد ہیرو بنانے اور عمران خان کا جانشین بنانے کے لیے خود چھپایا ہوا ہے۔ اوورسیز یوٹیوبرز سارے پاک بھارت چند روزہ جنگ میں پاک فوج کے حمایتی اور ہمدرد بن گئے تھے ان سب کے پاس وہی ڈیل ہے جو جاوید ہاشمی کو دی گئی تھی کہ جب ہماری ضرورت ہو ہمارے ساتھ مل جاؤ باقی ہم پر جب چاہے جتنی چاہے تنقید کرو۔ کیسا؟
یعنی دیکھا آپ نے؟ کسی کے بارے میں شک پھیلانا کتنا آسان کام ہے؟ اور ان مشکل حالات میں جب کوئی تحریک نہیں اٹھ رہی تھی ، جب کوئی شخص سڑک پر نہیں آرہا تھا ہم ان حالات میں ہزاروں لوگوں کو سڑک پر لانے والے کو مشکوک بنا دیں؟ ہم سے یہ ظلم نہیں ہوگا۔ ہم یہ ظلم کرنے والوں کو روکیں گے۔ اگر یہ سلسلہ چل نکلا تو پھر کل کو جو کوئی بھی احتجاج کرے گا ، جو کوئی بھی قید کیا جائے گا اسے ہم مشکوک بناتے چلے جائیں گے؟ چار سال سے شاہ محمود جیل میں ہے۔ سب سے زیادہ اسے مشکوک بنایا گیا۔ کیا چار سال میں اس سے متعلق کسی کا اندازہ درست ثابت ہوا؟ بس کردیں اور جانے دیں۔ جو لائن سے ہٹتا ہے وہ خود ہی مروت اور گنڈاپور ہوجاتا ہے۔ جو لائن پر آتا ہے اسے کوئی چاہ کر بھی گنڈاپور یا مروت نہیں بنا سکتا۔
نوٹ ؛ لانگ مارچ کے یوں اچانک خاتمے کے بعد ایسی لڑائی ہونا مایوس کن ہے۔ لیکن اگر ایسی لڑائی شروع ہوجائے تو اس میں کودنا ناگزیر۔
وما علینا الا البلاغ المبین
جب انکی جڑیں واٹس ایپ کاٹ رہا تھا تب پابندی ٹوئٹر پر لگا دی تھی۔ جب ملک کی ستر فیصد آبادی کی انٹرنیٹ تک رسائی ہوگئی تو یہ سڑکوں کنارے لگے بورڈ توڑ کر نشان مٹانے کے چکر میں ہیں۔
مبلغ بارہ جماعت پاس پھدو دماغ
یہ عمران خان کو سمجھے ہی نہیں جب یہ خبر پہلی بار جاری کی گئی تو میں نے تب ہی کہا تھا عمران خان نے کسی صورت ویڈٰو ریکارڈ نہیں کرنی تھی وہ تو اپنے آستین کے سانپوں کے دیکھ رہے تھے کہ ویڈٰو بنوانے کی جلدی کس کس کو ہے کون کون ان کیساتھ مک مکا کرکے آیا ہے!
دہشت گردی کی رٹ لگا کر گورنر راج اور ایمرجنسی لگانے والی اس جفا کار فوج کا مقصد اب سامنے آ چکا ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ خیبر پختونخوا ریئر ارتھ منرلز کے ذخائر سے بھرا ہوا ہے۔ مائنز بھی ہیں۔ عاصم منیر نے ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس جا کر وہ ذخائر دکھائے تھے اور دنیا کے سامنے اپنا CV پیش کیا تھا۔ پوری دنیا نے دیکھا تھا۔
عمران خان نے اس کو اجازت نہیں دی تھی! اور اس لیے نہیں دی تھی کیونکہ اس کی تاب کاری ہزاروں سال تک پھیلے گی۔ ہزاروں سال تک پشتون کینسر جیسی موذی بیماریوں سے گزرے گا!
اب جب امریکی سفارت خانے کی ناظمُ الامور اپنے عزائم لے کر سامنے آ گئی ہیں اور 7 کھرب ڈالر کا تخمینہ بھی لگایا ہوا ہے، تو پیچھے کیا رہ گیا ہے؟ یہ چین ہے جو وہاں تمام SOPs کی پاسداری کرتے ہوئے کام کر رہا ہے۔ ان کو وہاں سے نکالنے اور امریکہ کو مسلط کرنے، گورنر راج لگانے اور پاکستان کی تاریخ کی سب سے پاپولر حکومت کو اقتدار سے نکالنے کا عمل اسی لیے کیا گیا ہے۔ یہ اپنے گھناؤنے عزائم پورے کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
میرے پختونوں! اس فوج نے آپ کو امریکہ کو بیچنے کے لیے دنیا کے سامنے دہشت گرد بنا کر پیش کیا ہے۔ عمران خان واقعی ان کے اور آپ کے بیچ آخری دیوار ہے۔ ان کے اس عمل کا نقصان آپ کی نسلوں کو ہوگا۔
یہ ہر ایک کے تن سے کپڑے اتارنا چاہتی ہے۔ وہ سب کچھ بیچ دے گی۔ آپ مریں یا آپ کی نسلیں تباہ ہوں، ان کو اس سے کوئی غرض نہیں۔ غرض ہے تو ڈالروں سے ہے۔
یہ جو کچھ ہو رہا ہے، اگلی باری پنجاب کی ہے اور اس کے بعد سندھ کی۔ یہ صوبے کے صوبے امریکہ کو پیش کر رہے ہیں۔ بلوچستان تو یہ پہلے ہی پیش کر چکے ہیں۔ آزاد کشمیر کے پاس بھی ریئر ارتھ منرلز ہیں، اسی لیے وہ بھی ان کی تاب کاری سے نہیں بچے گا۔ افغانستان میں بھی ان کے یہی عزائم تھے، مگر انہوں نے انہیں پورا نہیں ہونے دیا۔
کوئی ہوش کے ناخن لیں۔ نانگا پربت کی ایک فلائیٹ کی مار ہے آپکی سندھ حکومت اور بلاول-
۔ اور ساتھ اگر نور جہاں مشہور زمانہ گانا چل رہا ہو تو :
جدوں ہولی جئی لیندہ میرا ناں میں تھاں مر جانی آں
بتیس ہزار فٹ پر مستری اور معشوق اعلٰی
تو پھر نیچے صفدر میاں کیوں ذلیل ہورہے ہیں؟
دو مرد ایک عورت۔۔۔
ویسے اگر ایبٹ آباد والے ڈاکٹر کو بھی ساتھ شامل کرلیں تو تین مرد اور ایک عورت کی کہانی بن جائے گی!
بی آر ٹی پشاور کی بسیں شفٹ کی جا رہی ہیں... یوں لگتا ہے جیسے پاکستان کا انتظام کسی پاکستانی نہیں بلکہ کسی دشمن کے ہاتھ میں آ چکا ہے جو جان بوجھ کر اور کسی منصوبے کے تحت سب کو اکسا کر اس ملک کو برباد کر رہا ہے. ورنہ اتنا بیوقوف کون ہو سکتا ہے.
آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں کٹھ پتلیاں اور جعلی نشستوں پر بیٹھے ہوئے لوگ بیرسٹر گوہر ، محمود اچکزئی اور تحریک انصاف کے اراکین کو ذلیل کریں گے جس پر دلی سکون ہوگا۔ ان کی یہی سزا ہے کہ ان اسمبلیوں میں خواجہ آصف ان پر تھوکے ان کو رسواء کرے ان کا مذاق اڑائے ان کو بے عزت کرے۔
خیبر پختونخواہ کی پولیس کو غیر سیاسی رکھنا ہمارا فخر تھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں ہماری پولیس نے دیں۔ پختونخواہ کے عوام آج بھی اپنی پولیس کی سر کٹی لاشیں، خودکش دھماکوں کے بعد بجلی کے کھمبوں سے ان کے یونیفارم کے ٹکڑے اور اپنی سڑکوں سے ان کے گوشت کے لوتھڑے جمع کرنے کے مناظر بھولے نہیں۔ قابض مافیہ نے جب خیبر پختونخواہ کو دوبارہ آگ میں جھونکنے کا فیصلہ کیا تو ہماری قوم نے اپنی ملک سعد اور صفوت غیور کی وارث پولیس کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ان کے اس ناپاک منصوبے کو خاک میں ملایا تھا۔ آج عاصم منیر اور اس کی کٹ پتلیوں نے دہشت گردی کا بہانہ استعمال کرکے اپنے ناجائز استعمار کو تقویت دینے کے لیے پولیس کو اپنی عوام کے مقابل کھڑا کر تو دیا ہے۔ مگر اس کا خمیازہ اسی پولیس کو بھگتنا پڑیگا جو ذاتی فوائد، ترقیوں اور تنخواہ کے لیے ان غیر آئینی قوتوں کی آلہ کار بن رہی ہیں۔ کل کو جب ان کے لائے ہوئے دہشت گرد آپ کو اپنی کاروائیوں کا نشانہ بنائیں گے اور عاصم منیر کی فوج ہمیشہ کیطرح آپ کو canon fodder بنائے گی، ایسے میں جب آپ کی پشت پر یہ قوم نہیں ہوگی تو آپ کو احساس ہوگا کہ آپ کی تنخواہیں اور ترقیوں کی کوئ وقعت نہیں۔ باڑہ میں نہتے مظاہرین کس بات پر احتجاج کررہے ہیں جو وہ واجب القتل ہوگئے؟ ان کا منتخب نمائندہ، تمام عمر سے محروم علاقے کا پہلا وزیر اعلی گذشتہ تین دن سے غاصبوں کے ہاتھوں لاپتہ ہے۔ اُس کا جرم اپنی قوم کا سودا کرنے سے انکار۔۔
آپ میں رتی برابر غیرت ہوتی تو سوال پوچھتے، کسی کی ہمت کیسے ہوئ آپ کی عملدآری میں آ کے آپ کے چار کروڑ عوام کے چیف ایگزیکٹو کو اغوا کرنے کی؟ آپ کی آنکھوں کے سامنے اور آپ سمیت جن کو ایک نئی آگ میں جھونکنے کی سبیل کردی گئی ہے وہ اپنی زندگی کا سوال بھی نا کریں؟ خاموشی سے بے گھری، بے بسی کی موت قبول کرلیں؟
افسوس صد افسوس۔ عاصم منیر اور اس کے حواری تو اپنی طاقت کے لیے ملک کو بیچ چکے۔ آپ کا ہمارا تو جینا مرنا اس ملک کے ساتھ ہے آپ کی اس بے ضمیری کا انجام ہم نے اکیلے نہیں بھگتنا۔ مریں گے آپ بھی ہمارے ساتھ۔ جنازے آپ کے گھروں سے بھی اٹھیں گے۔ یتیم آپ کی اولادیں بھی ہونگی۔ تب اپنے افسران کا گریبان مت پکڑنا۔ خود سے سوال کرنا کہ جن پر آج بندوقیں تھامے کھڑے ہو وہ کس کے حق کا سوال کررہے تھے۔