رسول الله ﷺ نے فرمایا:
ایک آدمی راستے پر چلا جا رہا تھا، اُس نے راستے پر ایک کانٹے دار ٹہنی (شاخ) دیکھی تو اُسے ایک طرف ہٹا دیا. الله تعالیٰ نے اُسے اس کا انعام دیا اور اُس کی مغفرت فرما دی.
بخاری 652، 2472
(مسلم 6669، 4940؛ ترمذی 1958؛ موطا امام مالک 292؛ مشکوٰۃ 1904)
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
بیشک میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ جنت میں لطف اندوز ہو رہا تھا، (کیونکہ) اُس نے راستے کے درمیان سے ایک ایسے درخت کو کاٹ دیا تھا جو لوگوں کو اذیت دیتا تھا.
مسلم 6671
(مسند احمد 12599، 13443)
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
ایک آدمی راستے پر چلا جا رہا تھا، اُس نے راستے پر ایک کانٹے دار ٹہنی (شاخ) دیکھی تو اُسے ایک طرف ہٹا دیا. الله تعالیٰ نے اُسے اس کا انعام دیا اور اُس کی مغفرت فرما دی.
بخاری 652، 2472
(مسلم 6669، 4940؛ ترمذی 1958؛ موطا امام مالک 292؛ مشکوٰۃ 1904)
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
بیشک میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ جنت میں لطف اندوز ہو رہا تھا، (کیونکہ) اُس نے راستے کے درمیان سے ایک ایسے درخت کو کاٹ دیا تھا جو لوگوں کو اذیت دیتا تھا.
مسلم 6671
(مسند احمد 12599، 13443)
ایک صاحب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا:
اسلام کی کون سی حالت افضل ہے؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہ ( اللہ کی مخلوق کو ) کھانا کھلاؤ اور سلام کرو، اسے بھی جسے تم پہچانتے ہو اور اسے بھی جسے نہیں پہچانتے۔
(صحیح بخاری ،٦٢٣٦)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے لوگوں شرک سے بچو، کیونکہ یہ چیونٹی کے چلنے کی آہٹ سے بھی زیادہ چھپا ہوا ہوتا ہے ایک آدمی نے کہا:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو پھر ہم اس سے کیسے بچ سکیں گے، جبکہ وہ چیونٹی کے چلنے کی آہٹ سے بھی زیادہ چھپا ہوا ہوتا ہے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دعا پڑھا کرو
*اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُشْرِكَ بِكَ وَأَنَا أَعْلَمُ ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا أعلم*
اے اللہ بیشک ہم اس چیز سے تیری پناہ چاہتے ہیں کہ تیرے ساتھ ایسی چیز کو شریک ٹھہرائیں کہ جس کو ہم جانتے ہیں اور تجھ سے اس چیز کی بخشش چاہتے
ہیں، جس کو ہم نہیں جانتے.
الادب المفرد جلد 1 113
صحیح الجامع - 3731
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما��ا:
میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی احد ( پہاڑ ) کے برابر سونا خرچ کر دے تو وہ ان کے ایک مد یا نصف مد کے برابر بھی نہ ہو گا۔
(سنن ابی داؤد، ۴۶۵۸)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جمعہ کا دن تمہارے بہترین دنوں میں سے ہے، لہٰذا اس دن میرے اوپر کثرت سے درود ( صلاۃ ) بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارے درود مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں ۔
(سنن ابوداؤد ،۱۵۳۱)
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہیں اور حسن و حسین (رضی الله عنہم و عليهم السلام) اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں.
ترمذی 3781
(مشکوٰۃ 6171؛ مسند احمد 23719؛ حبان 6960)
رسول الل�� صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ( تہجد ) ہے“.
(جامع ترمذی،۴۳۸)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”ساری امت جنت میں جائے گی سوائے ان کے جنہوں نے انکار کیا۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انکار کون کرے گا؟ فرمایا ”جو میری اطاعت کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو میری نافرمانی کرے گا اس نے انکار کیا۔“.
(صحیح بخاری ، ۷۲۸۰)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی احد ( پہاڑ ) کے برابر سونا خرچ کر دے تو وہ ان کے ایک مد یا نصف مد کے برابر بھی نہ ہو گا۔
(سنن ابی داؤد، ۴۶۵۸)
اللھم صل علی محمد و علی آل محمد کما صلیت علی ابراھیم و علی آل ابراھیم انک حمید مجید
اللھم بارک علی محمد و علی آل محمد کما بارکت علی ابراھیم و علی آل ابراھیم انک حمید مجید
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ( مصیبت کے وقت ) اپنے رخسار پیٹے، گریبان پھاڑ ڈالے، اور جاہلیت کی پکار پکارے۔
(صحیح بخاری،۳۵۱۹)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“اے اللہ! ان دونوں یعنی ابوجہل اور عمر بن خطاب میں سے جو تجھے محبوب ہو اس کے ذریعہ اسلام کو طاقت و قوت عطا فرما“،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“تو ان دونوں میں سے عمر (رضی اللہ ع��ہ ) اللہ کے محبوب نکلے“۔
(ترمذی،۳۶۸۱)