'Flight'Mare @ 30,000 Ft
Dubai-Tel Aviv Flight 'Terror'
Co-Pilot Stabs Pilot Mid-Air
Plane Nosedives 17,000 Ft
Attempt To 'Crash' Plane: Israel
Terror, Hijack Or Cockfight?
Watch NATION WANTS TO KNOW with @Shreyadhoundial
Shafeeq, meri gal sun. Unfollow-follow wali games na khed te na hi meri posts nu like-unlike karke attention lain di koshish kar. Main teri zara vi respect nahi kardi, so hun mera te mera SM da time waste na kar. Paran mar.
مسلمانوں کی سنبھلی ہوئی حجابی عورتیں vs انگریزوں کی رُلی ہوئی اور بے حیا عورتیں
مغرب کے بےحیا پُرباش مرد vs مسلمانوں کے باحیا فرسٹریشن شدہ ترسے ہوئے ٹھرکی مرد
🔴 32 سال بعد ماں کو پتا چلا کہ اس کا بیٹا زندہ ہے… باپ نے کہا تھا “وہ مر چکا ہے” 😢💔 پھر جو ہوا، دنیا رو پڑی.
یہ ایک سچی اور دل کو ہلا دینے والی انسانی کہانی ہے—ایک سعودی نوجوان اور ایک مصری ماں کی کہانی، جن کے درمیان بتیس سال کی جدائی حائل رہی۔
اس نوجوان کا نام ترکی خالد السنید ہے۔ وہ ایک #سعودی والد اور مصری والدہ کا بیٹا تھا۔ زندگی نے اسے بہت چھوٹی عمر میں ایک ایسا زخم دیا جو برسوں تک بھرتا نہ تھا۔
جب وہ صرف چار سال کا تھا تو وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ #مصر گیا، نانا نانی سے ملنے۔ وہ سفر خوشیوں کا ہونا چاہیے تھا، مگر وہاں ماں باپ کے درمیان ایسا شدید جھگڑا ہوا کہ بات علیحدگی تک جا پہنچی۔ ماں مصر میں رہ گئی، اور باپ ننھے ترکی کو ساتھ لے کر سعودی عرب واپس آ گیا۔ ماں کو اپنے بیٹے کو آخری بار گلے لگانے کا موقع تک نہ ملا۔ اسی دن سے ترکی اس کی زندگی سے یوں غائب ہو گیا جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔
ماں نے برسوں تک اسے ڈھونڈا۔ لوگوں سے پوچھا، پیغام بھیجے، ہر ممکن کوشش کی۔ مگر باپ نے ایک دن ایسا جملہ کہہ دیا جس نے اس کی دنیا ہی توڑ دی—اس نے کہا کہ تمہارا بیٹا مر چکا ہے۔ ایک ماں کے لیے اس سے بڑا صدمہ کیا ہو سکتا ہے؟ وہ اس بات کو سچ مان بیٹھی۔ سالہا سال وہ اپنے زندہ بیٹے کو مردہ سمجھ کر اس کا سوگ مناتی رہی، اس کے لیے دعائیں کرتی رہی، اور دل میں ایک قبر سا اٹھائے جیتی رہی۔
ادھر #ترکی سعودی عرب میں بڑا ہو رہا تھا۔ دادا دادی کے ساتھ رہتا تھا۔ وہ اکثر اپنی ماں کے بارے میں پوچھتا، مگر اسے کبھی صاف جواب نہ ملا۔ دل میں ایک خلا تھا، ایک کمی، جس کی وجہ وہ پوری طرح سمجھ نہیں پاتا تھا۔
جب وہ سولہ برس کا تھا تو اس کی دادی کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد وہ مختلف رشتہ داروں کے ساتھ رہا۔ اٹھائیس سال کی عمر میں اس نے #شادی کر لی، مگر ماں کی یاد اور تلاش اس کے دل سے کبھی نہ گئی۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی زندگی کا ایک حصہ ابھی بھی ادھورا ہے۔
آخرکار اس نے خود سچ جاننے کا فیصلہ کیا۔ وہ ریاض میں مصری سفارت خانے گیا، کوئی سراغ مانگا—کچھ ہاتھ نہ آیا۔ مگر اس نے ہار نہیں مانی۔ پھر وہ مصر گیا۔ وہاں سعودی سفارت خانے میں پرانی فائلوں، پاسپورٹ ریکارڈز اور کاغذات میں کھوج لگوائی۔ فائل بہت پرانی تھی، مگر اسی میں امید کی ایک کرن چھپی تھی۔
اسی ریکارڈ سے ماں کا نام اور پرانا پتہ ملا۔ سفارت خانے نے تلاش شروع کی، پوچھ گچھ کی، اور بالآخر اس ماں تک پہنچ گئے جو برسوں سے اپنے بیٹے کو مردہ سمجھ کر جی رہی تھی۔ جب اسے بتایا گیا کہ اس کا بیٹا زندہ ہے اور اسے ملنا چاہتا ہے، تو اسے یقین ہی نہ آیا۔ اسے لگا شاید کوئی غلطی ہے، یا برسوں کے دکھ نے اسے خواب دکھانا شروع کر دیا ہے۔
پھر وہ لمحہ آیا جس کا انتظار دونوں نے اپنی اپنی دنیا میں تنہا کیا تھا۔ بیٹا سامنے کھڑا تھا۔ بتیس سال بعد۔ ایک طویل گلے ملنا، آنسو جو رکنے کا نام نہ لیتے تھے، اور الفاظ جو ہچکیوں میں ٹوٹ جاتے تھے۔ ایک ماں جس نے اپنے بیٹے کی فرضی قبر دل میں بنا رکھی تھی… اور ایک بیٹا جو ساری زندگی اسی لمحے کے خواب دیکھتا رہا۔
ترکی نے بعد میں ان کی تصاویر شیئر کیں اور سب کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس کی مدد کی۔ اسے سب سے زیادہ درد اس بات کا تھا کہ اس کی ماں نے اتنے سال یہ یقین کیے رکھا کہ وہ مر چکا ہے۔ اس کی زندگی کا سب سے بڑا خواب صرف ماں سے ملنا تھا—اور آخرکار وہ خواب پورا ہو گیا۔
جہاں تک اس باپ کا تعلق ہے جس نے ضد اور انا کی وجہ سے ایک ماں کو بیٹے سے جدا کیا، اور ایک بچے کو ماں کی محبت سے محروم رکھا—یہ ایک ایسا بوجھ ہے جس کا حساب یقیناً کسی نہ کسی دن دینا پڑے گا۔
یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ماں اور اولاد کا رشتہ وقت، فاصلے اور جھوٹ سے بھی زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔ کبھی کبھی دیر ہو جاتی ہے، مگر سچ اور محبت اپنا راستہ بنا ہی لیتے ہیں۔
زندگی اور موت کے مابین فاصلہ تقریباً مٹ گیا تھا جب میری چھوٹی بہن بچے کو جنم دیتے ہوئے اس حالت کو پہنچ گئی ، لیڈی ڈاکٹر نے بلیڈنگ روکنے کی ہرممکن کی مگر بے سود ۔۔۔ جیسے ہی ایچ بی 2.5 پر پہنچا اور میری بہن لٹھے کی مانند سفید ہونے لگی تو لیڈی ڈاکٹر نے اس کے ہسبنڈ سے کہا یوٹریس نکالنا ہی آخری حل ہے ، میرے بہنوئی نے فوراً پیپر پر دستخط کردیے ، دوران سرجری اور بعد میں او نیگیٹو خون اور پلازما کی اٹھارہ بوتلیں لگیں، اس کے بعد نیم مردہ جسم میں زندگی کی رمق نظر آئی، لیکن اسے مکمل ٹھیک ہونے میں بھی دو سال لگے ، جسم سے ایک ایک قطرہ خون کا نچڑ جائے تو سوچیے پیچھے کیا رہ جاتا ہے ؟ تب بھی ڈاکٹر Tahira Kazmi صاحبہ نے آگاہی کے لیے بہت بہترین ویڈیو بنائی اور میری بہن کے کیس کا ذکر کیا ۔ کل پیاری مریم بھی زچگی کے دوران اسی کھٹن مرحلے سے گزری مگر زندگی کی جنگ ہاااار گئی ۔۔۔ یہ بات پلے سے باندھ لیجیے کہ بچے سے بھی زیادہ ماں کی جان قیمتی ہے اور اسے بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں ۔ بچے کی ڈلیوری کے بعد بلیڈنگ نہ رکے تو بچہ دانی قربان کردیجیے ۔۔۔ بچوں کی ماں نہیں 🙏💔
Hania Aamir keeps proving why she’s one of the most talented actors out there. Today’s episode showcased her range, depth, and sheer control. Absolutely phenomenal....She was kind of holding herself back but lost her shit in the end.
#MeriZindagiHaiTu#HaniaAamir
یہ لڑکی وائٹنگ ٹریٹمنٹ کے لئے ڈاکٹر سدرہ کے پاس گئی۔ 60 ہزار لگانے کے بعد بھی رنگ گورا نہیں ہوا تو ڈاکٹر کی کلاس بھی لی اور ساتھ چھپکے سے وڈیو بنا کر وائرل بھی کر دی۔
اب اس میں قصور ڈاکٹر کا ھے یا اس لڑکی کا؟؟