خارجہ اور داخلی امور کوئی فرمائشی پروگرام نہیں ہے
اس وقت عمران خان ریاست کے سربراہ ہے اور ریاستی ادارے جب تک ان کو کلیرنس نہیں ��ینگے وہ اپنی مرضی سے کہیں نہیں جاسکتا ہے ۔
بینظر اور لیاقت علی خان کے قاتل کا ابھی تک پتہ نہیں چلا ہے
حق حکمرانی لے کر پیدا ہونے والی آصفہ زرداری اپنی سیاسی اننگز شروع کرنے جارہی ہے
جبکہ اعتزازاحسن، رضا ربانی، قمر زمان کائرہ ،خورشید شاہ، قائم علی شاہ مولا بخش چانڈیو، جیسے فرمانبردار جیالے آصفہ کی بیعت کر کے نسل درنسل غلامی کی درخشاں جمہوری روایات کو مزید مستحکم کرنے جا رہے ہیں
@KhalidKPTI @ImranKhanPTI سب سے پہلے تو آپ کو بہت بہت مبارک ہو یقننا میرٹ پہ فیصلہ کیا ہے جناب وزیراع��م نے ۔
سر آپ صرف دو کام کریں تبدیلی خود بخود آئیگی۔
سردیوں میں تمام بیوروکریٹ اور منسٹر جاکے جی۔بی ہاوس میں بیٹھتے ہے اور کو روکے۔
دوسرا سردیوں میں جی۔بی میں عدالتوں کی چھٹی ہوتی ہے تو انصاف کیسا ہوگا
اس کو بھی سنو ریحام خان اور عا��یہ گلہ لِی پہ نہ جانے ا��ھوں نے کتنے پروگرام کے جب بات عمران خان پہ آے تو ٹھیک اور شریف زرداری پہ آجاے تو ان کو تمیز یاد اتا ہے
ٹک ٹالک پرپابندی سے بہترہے کہ وزیراعظم اپنی زبان درست کرکے طلال چودھری جیسے معاملات پر گفتگو نہ کریں اور بدتمیزی کرنےوالےترجمانوں کی زبانوں کوکنٹرول کریں۔ ٹک ٹالک سے زیادہ یہ لوگ کلچرکو تباہ کررہےہیں۔ٹک ٹالک مخصوص طبقہ استعمال کرتاہےلیکن انہیں پوری قوم کوبھگتنا پڑتا ہے۔
گ��شتہ دوسال کی سیاست کاخلاصہ:
نون لیگ اور پیپلز پارٹی،اسٹیبلشمنٹ کےساتھ معافی تلافی کرکےتعلقات بہتر کرنےکی کوشش کرتی رہیں جبکہ پی ٹی آئی سبوتاژکرکےانکولڑاتی رہی۔اس ملک کی اس سےبڑی بدقسمتی اورکیاہوسکتی ہےکہ اسکی حکومت،دن رات اس کے اداروں اور اپوزیشن کولڑانے کےلئے سرگرم عمل ہے۔