ہم ایسے بد مزہ اور بے لطف زمانے میں جے رہے ہیں کہ جہاں محبت کے بجائے شادی کے پروگراموں کو، میت سے زیادہ کفن دفن کے مراسم کو،جسم سے زیادہ لباس کو اور اللہ سے زیادہ عبادت خانوں کو اہمیت حاصل ہے
#بٹگرامی
فرق ملاحظہ کریں !!!
ایک طرف جمعیت کی قیادت، سادگی سے زخمیوں کی عیادت اور عوام سے ملاقات ،
دوسری طرف گورنر کا پروٹوکول اور عام مریضوں کو وارڈ سے منتقل کرنے کی شکایات۔
عوامی نمائندگی کا اصل انداز کون سا ہونا چاہیے؟
الحمدللہ، فخر ہے اپنی قیادت پر 💯❤
مولانا محمد حنیف شہید ایک حق گو ، جری اور بہادر عالم دین تھے ، ان کی حق گوئی کا اعتراف ہے ہیکہ وہ شہادت کے اعلی مرتبے پر فائز ہوئے ، میں اک شہید کا بیٹا اس درد کو بہتر محسوس کرسکتا ہوں ، ان کی خدمات ہمارے لئے مشعل راہ ہیں ، ان کا مشن جاری ہے اور قاتل تاقیامت رسوا ہوتے رہیں گے ، اللہ تعالی حضرت مولانا محمد حنیف شہید کی روح کو راحت اور تسکین پہنچائے ، آمین یارب
#یوم_شہادت_مولانامحمدحنیف
محمد رضوان کے حق میں ایک اور گواہی۔ اسلامی سکالر محمد نعیم صاحب کے مطابق اُنہوں نے پہلے ہی محمد رضوان کو تنبیہ کر دی تھی کہ جوئے کے خلاف کھڑا ہونے پر جوا مافیہ تمھارے پیچھے پڑ جائے گا۔
عمران کے لشکر میں زیادہ تعداد چُوری کھانے والے طوطوں کی ہے ۔۔۔یہ طوطے ٹیں ٹیں کر کے شور شرابا تو کر سکتے ہیں لیکن اڈیالہ والے پنجرے کا دروازہ نہیں کھلوا سکتے۔۔۔اس کام کے لئے اُس نواز شریف، مولانا فضل الرحمن اور آصف زرداری کی مدد درکار ہے جنہیں یہ طوطے اور اُن کا اڈیالہ والا طوطا اپنی ٹیں ٹیں سے ناراض کر چکے ہیں
ملک تمہاری پالیسیوں کی وجہ سے ٹوٹا ہے،یہی ہماری فوج کی حکومت تھی، اور چار صوبوں کو ایک صوبہ کیاگیا، ون یونٹ لگا دیا گیا۔ مغربی پاکستان چار صوبوں والا، اب وہ صرف ایک صوبہ کہلائے گا، صوبہ مغربی پاکستان،،،،یہ بھی اسی فوج کی سوچ تھی۔
اور آج ان چار صوبوں کو توڑا جا رہا ہے، ٹکڑوں ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے، یہ بھی ہماری فوج کی سوچ ہے۔ ویسے خامخواہ کاکے کو آگے کیا گیا، وہ بھی ان کی سوچ تھی، یہ بھی ان کی سوچ ہے۔
تم پاکستان کے مالک ہو، جب چاہو پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دو، اور جب چاہو چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دو۔ تو ہر فیصلے کے پیچھے تمہارے اپنے عزائم ہوتے ہیں، وہاں قوم کو مفاد نہیں ہوا کرتا۔
ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو اپنے ضمیر کی بات کریں گے۔ ہم خیرخواہی کی بنیاد پر بات کرتے ہیں، ہم آپ کی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں، ہم آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں۔
لیکن تمہارا مزاج بن گیا ہے کہ تمہیں خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے، لیکن تمہارے سامنے کوئی سیدھی بات کرے تو وہ تمہیں بری لگتی ہے۔
لیکن ہم ملک کو آپ کی ملکیت نہیں مانتے۔ یہ ملک ہمارا ہے، ہم اس کے شہری ہیں، اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔
ہم اصولاً کسی یونٹ کے بنانے کے خلاف نہیں ہیں۔ یونٹیں بنتی رہتی ہیں، ہندوستان میں بھی بنی ہیں، افغانستان میں بھی بنی ہیں، دوسرے ملکوں میں بھی بنی ہیں، لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہیے۔
ہم نے یہ نہیں کہا تھا کہ فاٹا کو صوبے میں انضمام نہیں ہونا چاہیے۔ ہم نے کہا، دو تین آپشنز ہیں، یہ صورت بھی اور یہ صورت بھی اور یہ صورت بھی۔ یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے، ان کی منشا سے فیصلہ کیا جائے۔
لیکن آپ نے ان پر تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟
اس وقت باجوا صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے۔ اور جب میں نے ان کو جوابات دیے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔
آج ہمارا جنرل مجھے کہتا ہے، کسی اور کو نہیں، مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔
تمہاری مرضی ہے، تم جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو کچھ کرو، اور پھر تم جب چاہو کچھ اور طریقہ بناؤ۔ روز آپ کا فیصلہ آج ناگزیر ہے، اور کل وہ فیصلہ آپ کا غلط ہے۔
ایک فیصلہ تو بتا دو اللہ کے بندوں، جو تم نے کیا ہو اور اس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔ کیوں ایسا کرتے ہو؟ آخر لوگوں سے پوچھو۔
یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ہم کہتے ہیں، ڈیبیٹ کرنی چاہیے۔ یک طرفہ آپ کوئی فیصلہ مسلط نہ کریں۔ یہ ملک عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے، عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔
صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟
نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔
دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتی۔
یہ ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اب صوبے تقسیم کرو تاکہ ازسرِنو پھر ہم معدنیات کے فیصلے بھی پھر سے کریں اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے بھی پھر سے کریں۔
تو ہم تو صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور آپ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں
اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔ اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
مسئلہ مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ۔۔۔۔ اب بتاؤ، جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے، کابینہ کا ممبر ہے۔
اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی۔ ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ۔اس میں تضادات ہیں،
تو ذاتی نوکر، پاکستان ہم ان کے حوالے کر دیں؟ یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا لاہور میں خطاب
اسلام آباد ٹریٹری کیلئے دو کمیٹیاں بنی ہے،ایک میں بھی کاکاجی(محسن نقوی) ہے اور دوسرے میں بھی کاکاجی(محسن نقوی) ہے، دونوں کی رپورٹ میں تضاد ہے،تو کیا ہم پاکستان ذاتی نوکر کے حوالے کرے، مولانا فضل الرحمان
اس لئے مولانا کو ٹارگٹ کیا جارہا تھا شہیدو کی توہین کے نام پر کھی پیڈ صحافیوں کے زریعے یہ تاثر دینے کی کوشش تھی کہ مولانا کو پاکستان سے زیادہ افغانستان کے مفادات عزیز ہیں۔شیعہ ایران کے لئے ہاکستان کو آگ لگائے اور جوان تک شہید کرے۔ کاکے اپنے نگرانی میں ایران یاترا پہ بھی لے جائے۔
مجھے اعظم خان نے فون کر کے کہا کہ وزیراعظم اپ سے ملنا چاہتے ہیں میں جب وزیراعظم ہاؤس میں گیا تو مجھے کہا گیا کہ خواجہ اصف سمیت کچھ رہنماؤں کے خلاف کیس بناؤ میں نے کہا میرٹ کے مطابق ان کے خلاف کیس نہیں بن سکتے اس دوران عمران خان نے مریم نواز شریف کو غلیظ گالیاں دینا شروع کر دی جس میں میں نے کہا یہ ملک کی بہت بڑی بد قسمتی ہے کہ تم جیسا متکبر انسان وزیراعظم ہے جس کو یہ بھی نہیں پتہ کہ ہمارے معاشرے میں بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں اور تم ایک بیٹی کو گالیاں دے رہے ہو میں اونچی اواز میں بات کرنے لگا تو مجھے اعظم خان نے دوسرے کمرے کے واش روم میں بند کر دیا تاکہ میری اواز باہر نہ آئیں بشیر میمن کا فخر دورانی کو دیے گئے انٹرویو میں انکشاف
آج ان چار صوبوں کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے،جب فوج کی حکومت تھی انہی چار صوبوں کو ایک صوبہ مغربی پاکستان بنا کر ون یونٹ لگا دیا تھا،وہ بھی ہماری فوج کی سوچ تھی اور آج صوبوں کو توڑ کر تقسیم کرنا بھی اسی فوج کی سوچ ہے،خواہ مخواہ ایک "کاکے" کو آگے کردیا ہے۔
جب چاہیں پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دیں اور جب چاہیں چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، جہاں ہر فیصلے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے اپنے عزائم ہوں وہاں کوئی قومی مفاد نہیں ہوتا۔
ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو خیرخواہی کی بنیاد پر اپنے ضمیر کی بات کرتے ہیں،ہم اپنی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں اور آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں،مگر ان کا مزاج بن گیا ہے کہ ان کو خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے۔
لیکن ہم ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی ملکیت نہیں مانتے،یہ ملک ہمارا ہے،ہم اس کے شہری ہیں،اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔
ہم اصولاً کسی یونٹ بنانے کے خلاف نہیں،دوسرے ملکوں میں بھی یونٹس بنتے ہیں لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہئے۔
ہم نے فاٹا کو صوبے میں انضمام کے وقت بھی کہا تھا یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے لیکن آپ نے ان پر انضمام تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟
اس وقت باجوہ صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے اور جب میں نے ان کو جوابات دئے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔
آج ہمارا جنرل خود مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔
جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دو اور پھر جب چاہو طریقہ بدل دو، آپ کا فیصلہ جو آج ناگزیر ہے،کل آپ کا وہ فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہے،کسی ایک فیصلے کی مثال بھی نہیں ملتی جس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔
یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ڈیبیٹ ہونی چاہئے یک طرفہ فیصلہ مسلط نہ کریں،یہ عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے،عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔
صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟
نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔
دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتا،یہ بھی ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔
اب صوبے تقسیم کرو تاکہ یہ لوگ ازسرِنو معدنیات اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے پھر سے کریں۔
ہم صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں
اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ہیں جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے،وہ کابینہ کا ممبر ہے۔
اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی، ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ اس میں تضادات ہیں تو پاکستان ہم ان کے حوالے نہیں کرسکتے، یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے اسکا فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔
مولانا فضل الرحمان اس وقت اسٹیبلشمنٹ پر کافی سیخ پا دکھائی دیتے ہیں۔انہوں نے محسن نقوی کو کاکا قرار دیدیا ہے۔ویسے آپ کو خبر بتا دوں کہ مولانا فضل الرحمان اور محسن نقوی کے بہت قریبی تعلقات ہیں مولانا کئی بار محسن نقوی کے پاس قیام بھی کر چکے ہیں۔مولانا فہم و فراست والے انسان ہیں ان سے مکالمہ کر کے ان کو قائل کیا جا سکتا ہے۔
پاکستانی سیاست میں مولانا فضل الرحمان کا امتیاز یہ ہے کہ انہیں نہ خوف خاموش کرا سکتا ہے، نہ دباؤ جھکا سکتا ہے اور نہ طاقت اپنی مرضی پر مجبور کر سکتی ہے۔ جو مؤقف اختیار کریں، اسے مصلحتوں کے پردے میں چھپانے کے بجائے ڈنکے کی چوٹ پر بیان کرتے ہیں۔ اختلاف ضرور کیا جا سکتا ہے، مگر یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ مولانا کو دباؤ سے نہیں، صرف دلیل، احترام اور بامعنی ڈائیلاگ سے قائل کیا جا سکتا ہے۔ یہی ان کی سیاست کا وزن اور ان کی شخصیت کی طاقت ہے۔
@AsadAToor@MoulanaOfficial مولانا فضل الرحمان صاحب نام ہی جرات کا ہے
یہ ان علماء کرام کا وارث اور جانشین ہیں جنہوں نے پھانسیاں قبول کی مگر انگریز کے سامنے جھکا گوارا نہیں کیا
وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کے بقول پنجاب میں دہشت گردی اس لیے ختم ہوئی کہ وہاں دہشت گردوں کے سہولت کار نہیں، تو کیا رانا ثناءاللہ یہ الزام پختونخوا کے عوام پر لگا رہے ہیں کہ وہ دہشتگردوں کی سہولتکاری کررہے ہیں؟ پختونخوا نے دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ جان و مال کی قربانیاں دی ہیں۔ اس پر ایک سنجیدہ اور کھلی بحث ہونی چاہیئے کہ ہمارے خطے میں دہشت گردی کس نے مسلط کی، اس کے محرکات کیا تھے اور پختونخوا کو اپنے وسائل، معدنیات اور حقوق سے کیوں محروم رکھا جارہا ہے۔ پاکستان کی مضبوطی تمام صوبوں کو برابر حقوق اور وسائل دینے میں ہے۔
ارباب محمد عثمان خان
رکن صوبائی اسمبلی، اے این پی
#ANP | #ANPPakhtunkhwa
@MoeedNj اگر آپ کے والدین نے آپ کو اپنے بڑوں اور اساتذہ کا ادب سکھایا ہوتا تو آپ جائیداد ہتھیانے کے لیے اپنے مرے ہوئے باپ کے انگھوٹے نہ لگواتے اور بزرگوں پر اس طرح کتوں کی طرح نہ ٹوٹ پڑتے ۔
بے شرم انسان
🚨🚨پی ٹی آئی کا جنرل فیصل نصیر سے مسئلہ کیا ہے؟ کچھ ایسے واقعات جو شاید کبھی پوری طرح لکھے ہی نہیں گئے۔
اس کہانی کو سمجھنے کے لیے ذرا پیچھے جانا
پی ٹی آئی کے لیے جنرل فیصل نصیر کا مسئلہ دراصل صرف جنرل فیصل نصیر نہیں تھا۔ مسئلہ اس پس منظر کا تھا جس میں جنرل فیض حمید کا کردار موجود تھا۔ جنرل فیض نے DG-C اور بعد میں DG-ISI کی حیثیت سے جس طرح سیاسی معاملات میں اثر و رسوخ قائم کیا، عمران خان اس پورے نظام کے براہِ راست سیاسی beneficiary رہے۔ یہی وہ پس منظر تھا جس نے بعد میں آنے والے ہر فوجی افسر کو عمران خان کی نظر میں ایک خاص lens سے دیکھنے کی بنیاد فراہم کی۔
جولائی 2022 میں فیصل نصیر میجر جنرل کے عہدے پر ترقی پاتے ہیں اور اسی عرصے میں ISI کے Counter-Intelligence یعنی DG-C کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں۔ یہ وہ وقت تھا جب عمران خان کی حکومت ختم ہوئے صرف چند ماہ گزرے تھے، تحریک انصاف سڑکوں پر تھی اور سیاسی کشمکش تیزی سے بڑھ رہی تھی۔ جنرل سرفراز علی یکم اگست 2022 کو ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہوئے اور اسی زمانے میں فوج کے اندر اہم تقرریاں بھی ہو رہی تھیں۔
اگست 2022 میں شہباز گل گرفتار ہوئے۔ اسی دوران بنی گالہ میں عمران خان کی بہنیں، سلمان احمد اور خرم حمید روکھڑی موجود تھے۔ خرم روکھڑی اس وقت تحریک انصاف سے وابستہ تھے، میانوالی کی سیاست میں فعال تھے اور عمران خان کے قریبی حلقے میں شمار ہوتے تھے۔
یہیں وہ بات ہوئی جو بعد کی پوری کہانی کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔
عمران خان کی بہنوں، خصوصاً علیمہ خان نے خرم روکھڑی سے کہا:
“روکھڑی، تم فیصل کو جانتے ہو۔”
یعنی جس جنرل فیصل نصیر کو بعد میں تحریک انصاف کے بیانیے میں ایک خوفناک کردار بنا کر پیش کیا گیا، اسی وقت عمران خان کے گھر کے اندر یہ سمجھا جا رہا تھا کہ خرم روکھڑی انہیں جانتے ہیں اور شاید ان کے ذریعے بات ہو سکتی ہے۔
روکھڑی کے مطابق اسی دوران سلمان احمد نے بتایا کہ عمران خان کا خیال ہے کہ جنرل فیصل نصیر DG-C بن کر آئے ہیں اور وہ تحریک انصاف کو تباہ کر دیں گے۔
یہاں ایک بات سمجھنے کی ہے: اس وقت عمران خان کے ذہن میں جنرل فیصل نصیر کا جو تصور بن رہا تھا، اس کے پیچھے جنرل فیض حمید کے دور کی بریفنگز اور سیاسی ماحول کا بھی اثر تھا۔ فیض حمید کے زمانے میں عمران خان نے ریاستی طاقت کے اندر ایک ایسا سیاسی mechanism دیکھا تھا جس میں intelligence apparatus اور سیاست ایک دوسرے سے بالکل الگ نہیں رہے تھے۔ اس لیے نئے DG-C کو بھی اسی سیاسی lens سے دیکھا جانے لگا۔
چند دن بعد سلمان احمد نے خرم روکھڑی سے کہا کہ عمران خان چاہتے ہیں کہ وہ جنرل فیصل نصیر کو engage کریں۔
خرم روکھڑی نے جنرل فیصل نصیر سے رابطہ کیا۔
عجیب بات ہے کہ
باہر جلسوں میں فوج کے خلاف سخت تقاریر ہو رہی تھیں، “Dirty Harry” جیسے القابات استعمال ہو رہے تھے، لیکن اندرونِ خانہ ایک back-channel communication بھی چل رہی تھی۔
اور اس وقت جنرل عاصم منیر ابھی آرمی چیف نہیں بنے تھے۔
روکھڑی کا کہنا تھا کہ وہ عمران خان کو جانتے تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ اگر بعد میں کوئی بات سیاسی طور پر inconvenient ہو جائے تو عمران خان اس سے لاتعلقی اختیار کر سکتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے عمران خان سے کہا کہ جب بھی وہ کوئی پیغام لے کر جائیں گے، عمران کی طرف سے ایک نمائندہ بھی ساتھ ہونا چاہیے۔
عمران خان نے سلمان احمد کو اپنا نمائندہ مقرر کیا۔
سلمان احمد جنرل فیصل نصیر سے ملے۔
اس کے بعد بات یہاں تک پہنچی کہ عمران خان اور فوجی قیادت کے درمیان براہِ راست ملاقات ہونی چاہیے۔
ملاقات کے لیے یہ سوچا گیا کہ عمران خان کی طرف سے ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی سی سے ملاقات ہو اور مقام کوئی neutral venue ہو۔
روکھڑی کے مطابق عمران خان کی طرف سے کچھ شرائط بھی سامنے آئیں اور دوسری طرف سے بھی یہ واضح کیا گیا کہ سیاسی سرگرمی اور سیاسی مہم چلانے پر اعتراض نہیں، لیکن فوج اور شہداء کے خلاف مہم اور گالم گلوچ بند ہونی چاہیے۔
یعنی عجیب بات یہ تھی کہ ایک طرف عمران خان جلسوں میں فوج کو نشانہ بنا رہے تھے اور دوسری طرف اسی فوجی قیادت سے ملاقات کا راستہ تلاش کیا جا رہا تھا۔
یہاں کہانی میں جنرل فیض حمید دوبارہ داخل ہوتے ہیں۔
روکھڑی کے مطابق جنرل فیض حمید نے عمران خان کو اس ملاقات سے روک دیا۔
اس وقت فیض حمید کی اپنی سیاسی اور عسکری positioning بھی اہم تھی۔ وہ آرمی چیف بننے کے امیدواروں میں سمجھے جا رہے تھے اور عمران خان کے ساتھ ان کی قربت کسی سے پوشیدہ نہیں تھی۔ چنانچہ یہ تاثر پیدا ہوا کہ عمران خان کو جنرل فیصل سے براہِ راست بات کرنے دینے کے بجائے فیض حمید چاہتے تھے کہ سیاسی صورتحال ان کے اپنے مستقبل کے حساب سے آگے بڑھے 1/3
حکومت نے اگست میں بھی بجلی مہنگی کی تھی اب پھر تقریباً تین روپے فی یونٹ مہنگی کر دی ہے اور یہ فیول ایڈجسٹمنٹ ہے حکومت نے بجلی گھروں کے معاہدے میں یہ شرط بھی مان رکھی کہ تیل مہنگا ہوا تو اس کا خرچہ بھی عوام دے گی مطلب آپ مہنگا پیٹرول بھی خریدیں اس مہنگے تیل کی قیمت بجلی گھروں کی بھی وہ بھریں
شہباز شریف کی حکومت غریب عوام کے لیے ایک عذاب ہے اب مجھے جتنی مرضی گالیاں دیں مگر بجلی پیٹرول اور مہنگائی پر عوام کے لیے لکھنا نہی چھوڑیں گے
جو لڑکیاں مولانا فضل الرحمان کے خلاف ویڈیوز بناتی ہیں، اگلے ہی روز انہیں ریاستی اداروں کی جانب سے پروٹوکول دیا جاتا ہے۔
اس محترمہ نے قصور کے جلسے کے خلاف ویڈیو بنائی تو اگلے ہی روز اس کی تصویر جی ایچ کیو میں نظر آئی۔ گزشتہ تین، چار روز سے اس کے وی لاگز مولانا صاحب کے خلاف آ رہے ہیں، اور آج اس کی تصویر طورخم بارڈر سے سامنے آئی ہے۔
حالانکہ اس کا تعلق کسی سیٹلائٹ ٹی وی چینل، کسی مستند صحافتی ادارے یا رجسٹرڈ نیوز ایجنسی سے نہیں ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر اسے یہ خصوصی رسائی اور پروٹوکول کس حیثیت میں دیا جا رہا ہے؟
حقیقت تو یہ ہے کہ اس کی ویڈیو پر 13 ویوز بھی نہیں آئے، جبکہ ایکس پر ایک لائیک تک اس کی ریچ نہیں پہنچ سکی۔
کم از کم انویسٹمنٹ کسی صحافی پر تو کریں، آپ بیوٹی پارلر کی لڑکیوں سے مولانا کی کردار کشی کروا رہے ہیں!