آج کی پوسٹ پشاور کے باسی خصوصاً ہندکو بولنے والوں کیلئے۔ جو رنجیت سنگھ کے دور سے ہر عسکری حکومت کے یا کسی بڑبولے کے پیچھے صرف اپنی معیشت کو بچانے کیلئے انکے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں۔ ان افراد کی سابقہ سے موجودہ زندگی تک کیا فطرت ہے کیا دلچسپیاں ہیں۔ کیا طرز زندگی یا محفلیں ہیں۔ اور وہ اپنے احباب کے ساتھ کون سے تعلّق میں ہیں۔ میں اس پوسٹ کے بعد عربی میں انسانی تعلقات کے تیرہ درجے کچھ اہل علم نے اختصاراً لکھے ہیں۔ اس پر توجہ دینے سے آپ کو سیاسی مذہبی کاروباری اداروں کے افراد سے تعلق اور اپنے اہداف مقرر کرنے میں آسانی رہے گی۔
اللہ دین کا چراغ مل گیا۔ مگر اُس چراغ کا جِن پاکستانیوں کے نت نئے مطالبوں کو پورا کرنے میں ناکامی کے بعد بھاگ گیا۔ عمران خان کو بھی جاتے کہہ گیا۔
"اندُر اِی رَے ، اِناں دَے کہار، تیرے جئے، ہزاراں عمران وِی، آ جوؤون ، تا پورا نیں کر سکدے۔ دنیا سی عزت نل جا، آخری عمر ای آپ نوں نہ شرما۔ باز نیں آناں ویں، تا تو اِس "ڈیووے" وِیچ وَڑ جا۔ اِتنِیں رَگڑے دے سوں نیں۔ کہ تیری " توتھی بوتھی" اُڈہا دیسیونڑ۔ تِے تَنوؤں وِی پتہ چَل "جَسْسِیْیا" کے سَیرْ دی کتنیاں پَک دِی یَوؤن۔ اِس چہلی دے پُتْتُور ، نوں وی اَے پتہ "نِیں گا"۔ تے لگا اَو یَے "ڈیووے" نوں "چمکاں دا پِیْیَا۔ اَو میرے پِیْوَو دی تَوبہ، او میں نیں واپس نیں آڑاں۔ جِن باوے دا تیل َکدْدِیاں دا نِکْکُل چُکا، وے ۔ ہونڑ اَے جَاوَے، تے "پُوڑانڑِیْںیَاں" براستاں پشور وِیچ لبھے ۔ تے اَوتھے اِس لیمپ نوں رکھے، او بھی پشور ویچ کسی پڑاڑیں بیری وَلِّی گلی ویچ، کہ لوگ پھول چڑھاوون، کہ اے تا "بی بی جان" دا آلڑرا، وے۔ متے دال ساگ شروع ہو جَوْوُس۔" جِن باوے، نَس، اَو باوے نَس"۔ متے وَت "ڈیووِے " وِیچ نہ منڈ دیووؤں نیں"
The suffering Pakistanis are facing today is, a consequence of the policies of Fitna-tul-GHQ. Yet, instead of acknowledging their own failures, those responsible continue to blame others for the country’s problems.
حصہ اول:
سادہ اشعار سادہ صداکار !
عشق ھوش عقل سے مغلوب رہا ہے
میرے من میں فقط ایک ای محبوب رہا ہے
نہ دنیا نہ جوانی نہ حسن رنگ رہے گا
ھڈ چم جسم دم نہ کچھ سنگ رہے گا
سینے میں سمایا سجن خوب رہا ہے
اصل یار حقیقی ہے اللہ پیارا
ھر حال میرے ساتھ جو کرتا ہے گذارا
طالب کی طلب میں مطلوب رہا ہے
عشق ھوش عقل سے مغلوب رہا ہے
میرے من میں فقط ایک ای محبوب رہا ہے
راضی خیال محبت میں ہوا مست مدامی
برہہ سوز حیران کیا درد دوامی
وحدت کے دریا میں عاشق ڈوب رہا ہے
عشق ھوش عقل سے مغلوب رہا ہے
میرے من میں فقط ایک ای محبوب رہا ہے
{ کلام سائیں فقیر راضی قلندری }
{صداکار منجھی فقیر اور ساتھی}
پورے کلام کو ایک ساتھ دیکھنے سے اس میں ایک نہایت خوبصورت صوفیانہ سفر نظر آتا ہے: انسان ظاہری دنیا اور جسم کی ناپائیداری کو پہچان کر عشقِ حقیقی تک پہنچتا ہے، اور آخر میں وحدت میں خود کو بھلا دیتا ہے۔
کلام: سائیں فقیر راضی قلندری
عشق ہوش عقل سے مغلوب رہا ہے
میرے من میں فقط ایک ای محبوب رہا ہے
تشریح
عشق ایسی قوت ہے جو صرف ظاہری عقل کے پیمانوں سے نہیں سمجھی جا سکتی۔ شاعر کہتا ہے کہ جب عشق غالب آیا تو میرا ہوش اور عقل اس کے سامنے مغلوب ہو گئے۔
لیکن یہاں شاعر کا عشق کسی ایک دنیاوی شخص تک محدود نہیں۔ اگلے اشعار واضح کرتے ہیں کہ اس کا محبوب اللہ تعالیٰ ہے۔ اسی لیے وہ کہتا ہے:
"میرے من میں فقط ایک ای محبوب رہا ہے"
یعنی میرے دل میں متعدد خواہشیں، محبوب اور مقاصد نہیں رہے؛ صرف ایک محبوبِ حقیقی باقی رہ گیا ہے۔
دنیا، جوانی اور حسن کی حقیقت
نہ دنیا نہ جوانی نہ حسن رنگ رہے گا
ہڈ چم جسم دم نہ کچھ سنگ رہے گا
سینے میں سمایا سجن خوب رہا ہے
یہاں شاعر دنیا کی فنا پذیری بیان کرتا ہے۔
دنیا ہمیشہ نہیں رہے گی۔ جوانی ختم ہو جائے گی۔ حسن و رنگت باقی نہیں رہیں گے۔ یہاں تک کہ:
"ہڈ چم، جسم، دم"
یعنی ہڈیاں، جلد، جسم اور زندگی کی سانس بھی ایک دن ختم ہو جائے گی۔
یہ صوفیانہ فکر کا بنیادی نکتہ ہے: جس چیز کو انسان اپنی اصل سمجھتا ہے، وہ سب عارضی ہے۔
لیکن ان سب فنا ہونے والی چیزوں کے درمیان ایک چیز دل میں باقی رہتی ہے:
سینے میں سمایا سجن خوب رہا ہے
سجن یہاں محبوبِ حقیقی کے لیے ہے۔ یعنی دنیا اور جسم ختم ہو جائیں گے، مگر اللہ کی محبت دل میں قائم رہے گی۔
اصل یار کون ہے؟
اصل یار حقیقی ہے اللہ پیارا
ہر حال میرے ساتھ جو کرتا ہے گزارا
طالب کی طلب میں مطلوب رہا ہے
یہاں شاعر نے اپنے کلام کا راز تقریباً کھول دیا ہے:
"اصل یار حقیقی ہے اللہ پیارا"
یعنی جسے میں محبوب، سجن اور یار کہہ رہا ہوں، وہ دراصل اللہ تعالیٰ ہے۔
"طالب" اور "مطلوب"
صوفیانہ زبان میں:
طالب = تلاش کرنے والا، طلب رکھنے والا
مطلوب = جس کی طلب کی جا رہی ہو
شاعر خود کو طالب سمجھتا ہے اور اللہ کو مطلوب۔
لیکن اس مصرعے میں ایک گہری کیفیت بھی ہے:
طالب کی طلب میں مطلوب رہا ہے
یعنی عاشق اللہ کو تلاش کر رہا ہے، مگر صوفیانہ نظر سے دیکھا جائے تو اس طالب کے دل میں مطلوب کی طلب بھی اسی مطلوب کی عطا ہے۔ انسان کا اللہ کی طرف متوجہ ہونا بھی اللہ ہی کی طرف سے ہدایت اور کشش ہے۔
اسی لیے صوفیانہ فکر میں کبھی یہ تصور آتا ہے کہ بندہ محبوب کو تلاش کرتا ہے، مگر حقیقت میں محبوب ہی بندے کو اپنی طرف کھینچ رہا ہوتا ہے۔
"راضی" کا مقام
راضی خیال محبت میں ہوا مست مدامی
یہاں آپ کی وضاحت کے مطابق راضی شاعر کا تخلص ہے۔
یعنی شاعر اپنے آپ سے کہتا ہے:
"راضی" محبت کے خیال میں ہمیشہ مست و سرشار رہا۔
مدامی کا مفہوم ہے: ہمیشہ، دائمی طور پر، مسلسل۔
یہاں "مستی" شراب یا دنیاوی نشے کی نہیں بلکہ عشقِ الٰہی کی سرشاری کی علامت ہے۔
"برہہ سوز" کی گہری تشریح
برہہ سوز حیران کیا درد دوامی
یہ مصرعہ بہت اہم ہے۔
برہہ/برہ = ہجر، فراق، جدائی
سوز = جلنا، تڑپ، اندرونی کرب
دردِ دوامی = ہمیشہ رہنے والا درد
لہٰذا: "برہہ سوز" = محبوب سے جدائی کی تڑپ اور سوز
شاعر کی کیفیت یہ ہے کہ وہ محبوبِ حقیقی کی محبت میں مست بھی ہے اور اسی محبوب کی طلب میں ہجر کے درد سے بےقرار بھی۔
یہ صوفیانہ عشق کی ایک خوبصورت تضاد آمیز کیفیت ہے:
محبت میں سرور بھی ہے اور درد بھی۔
محبوب قریب محسوس ہوتا ہے، پھر بھی عاشق اسے تلاش کرتا رہتا ہے۔
"حیران" کیوں؟ "حیران کیا" کا مطلب صرف عام حیرت نہیں ہے۔
صوفیانہ شاعری میں حیرت ایک روحانی کیفیت بھی ہے۔
جب انسان عقل کے معمولی پیمانوں سے آگے بڑھ کر خدا کی ذات، عشق اور وحدت کے راز کو محسوس کرنے کی کوشش کرتا ہے تو عقل جواب دے جاتی ہے اور انسان حیرت میں داخل ہو جاتا ہے۔
حصہ دوم:
اسی لیے پہلے شاعر نے کہا تھا:
عشق ہوش عقل سے مغلوب رہا ہے
اور اب کہتا ہے: حیران کیا
یعنی عشق نے عقل کو مغلوب کیا، پھر ہجر کے سوز نے اسے حیرت میں ڈال دیا۔
آخری مصرع: وحدت کا دریا
وحدت کے دریا میں عاشق ڈوب رہا ہے
یہ پورے کلام کا شاید سب سے گہرا مصرع ہے۔
وحدت = ایک پن، یگانگت، اللہ کی وحدانیت
وحدت کا دریا ایک صوفیانہ استعارہ ہے۔ عاشق اس دریا میں "ڈوب" رہا ہے، یعنی اپنی انا، خودی اور جداگانہ خواہشات کو پیچھے چھوڑ کر اللہ کی محبت میں غرق ہوتا جا رہا ہے۔
یہاں "ڈوبنا" منفی چیز نہیں بلکہ عشق میں فنا ہونے کی علامت ہے۔
یعنی:
میں اپنے آپ کو بھول رہا ہوں، اور محبوبِ حقیقی کی محبت میں غرق ہوتا جا رہا ہوں۔
پورے کلام میں "ایک محبوب" کا راز
اگر پورے کلام کو ترتیب سے پڑھیں تو شاعر بار بار ایک ہی حقیقت کی طرف لے جاتا ہے:
"ایک ای محبوب"۔ پھر: "سجن"۔پھر: "اصل یار حقیقی"
پھر صاف کہتا ہے: "اللہ پیارا" ۔ اور آخر میں: "وحدت کے دریا"
اس لیے یہ تمام الفاظ ایک ہی روحانی مرکز کی طرف اشارہ کرتے ہیں: اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی وحدانیت۔
ایک جملے میں پورے کلام کا مفہوم
دنیا، جوانی، حسن اور جسم سب فنا ہونے والے ہیں؛ حقیقی محبوب صرف اللہ ہے۔ عاشق جب اس حقیقت کو دل سے پا لیتا ہے تو عشق اس کی عقل و ہوش پر غالب آ جاتا ہے، ہجر کا سوز اسے تڑپاتا ہے، اور بالآخر وہ وحدتِ الٰہی کی محبت میں خود کو بھول کر غرق ہو جاتا ہے۔
یہ کلام خاص طور پر "عشقِ حقیقی، فنا، طالب و مطلوب، ہجر و سوز اور وحدت" کی صوفیانہ اصطلاحات کو ایک مسلسل روحانی تجربے کی صورت میں پیش کرتا ہے۔
Part: 1
Former Frontier Constabulary members, Pashtuns, Balochs, and various linguistic nations and tribes that have lived for generations in the areas stretching from Balochistan on the other side of the Durand Line to the Hindu Kush Mountains, West Pakistan, Waziristan, Attock, and the sections of the Indus River flowing through these regions should participate together in a struggle for independence.
Although these linguistic groups speak different languages, they share common ethnic and cultural characteristics and, in many respects, belong to the same broader nations. They should therefore seek to participate collectively in determining their political future.
The behavior and political approach of the Persian-speaking Tajik groups of Afghanistan should be avoided, particularly the manner in which some of their political forces aligned themselves first with the Soviet Union and later with elements of the Pakistani military and Western establishment. A different strategy is required.
These groups should consider establishing a government in exile, drawing lessons from the experience of General Zia-ur-Rehman and the freedom-oriented Awami League of the former East Pakistan, while maintaining regular diplomatic communication with the international community—particularly Western countries, China, Russia, and India.
If it becomes clear that immigrant settlers, Kashmiris, Punjabis, Urdu-speaking communities, or other groups are unwilling to reconsider policies that are perceived as oppressive toward the indigenous nations of these regions, then the affected nations may seek international allies and political support for their struggle for self-determination.
However, this struggle should be conducted through political, diplomatic, and lawful means. No population should be collectively treated as an enemy because of its ethnicity, language, religion, or place of origin. Individuals who commit crimes or participate in violence should be held accountable through due process, regardless of their ethnic or political identity.
History provides many examples of how political conflicts can develop into prolonged and devastating wars when there is no unified political leadership or organized civilian administration. The experience of Afghanistan following the Soviet withdrawal is particularly relevant. The Afghan resistance had fought a major war against a powerful state, but after the Soviet departure, competing factions lacked a sufficiently unified political and administrative structure capable of peacefully replacing the previous system. The resulting struggle contributed to years of civil war.
There is a danger that our region could face a similar outcome if political movements remain divided and religious or secular pressure groups are allowed to evolve into competing armed organizations. Political disagreements in Balochistan, Gwadar, Khyber Pakhtunkhwa, Kashmir, and other regions should therefore be addressed through political institutions rather than through the creation of armed factions.
The history of East Pakistan also demonstrates how political conflicts can gradually become militarized. Organizations that initially emerge from political struggles can eventually become armed groups, with devastating consequences for ordinary people. Kashmir provides another example of how prolonged conflict can leave local populations bearing the greatest human cost.
For this reason, the immediate priority should be political unity, diplomatic organization, and the creation of a credible civilian political structure capable of representing the interests of the affected nations. The experience of West Bengal, former East Pakistan, and Afghanistan provides important historical lessons—both positive and negative—that should be carefully studied.
Part :2
At the same time, Afghanistan should be offered the possibility of a loose federation or another mutually acceptable political arrangement rather than allowing another rigid political system to be imposed upon the region in the future. Such an arrangement could provide greater autonomy to different regions while maintaining cooperation on matters of common interest.
The history of Iran also demonstrates how political change can be constrained when one institution or political establishment becomes overwhelmingly dominant. More broadly, the rise and decline of nations appear repeatedly throughout history, reminding us that political complacency can have serious consequences.
Those who remain complacent should recognize that political circumstances do not remain unchanged forever. If the peoples of these regions wish to avoid another prolonged and destructive conflict, they must begin now by pursuing unity, political organization, diplomacy, and a clear vision for a peaceful political future.
1: بین الاقوامی دنیا "فیڈریشن آف پاکستان" کے اردگرد، اُس کے اندر موجود مختلف قوموں، مذہبی و لسانی اور قابض رجیم کے مختلف گروہوں کی سیاسی، جغرافیائی و انتظامی بالادستی حاصل کرنے اور اسکے توازن میں تبدیلی کی کشمکش اور جاری عمل۔
2: "فیڈریشن آف پاکستان" (مغربی پاکستان اور مغربی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور قبائلی علاقہ جات اور سابقہ ریاستیں) میں ان گروہوں کا قومی، نظریاتی, سیاسی, اخلاقی, تمدنی، معاشرتی و معاشی ، انتظامی امور پر بالادستی کے حصول کی جنگ، اس کی وجہ سے خلفشار۔
3: مغربی پاکستان اور اسکے انتظامی علاقوں کی اقوام و عوام:
آپ سب کو مزاج میں کچھ نہ کچھ تبدیلی کی ضرورت ہے۔ یہ وقت رد عمل کی سوچ اور شعور Reactionary thinking and consciousness کہ جس زاویے و جہت میں بھی موجود ہے، اُس سے آزاد ہو کر، اپنی ذات، اپنے اردگرد اپنے گروہوں یا اداروں کے طرزِ عمل، طریقہ کار اور نظم میں مثبت تبدیلی کا وقت ہے۔
مغربی پاکستان اور اسکے زیر انتظام جغرافیہ و انسانی معاشرے کو، موجودہ بین الاقوامی اور سیاسی و جغرافیائی بالادستی کی کشمکش اور قومی رویوں میں وقوع پذیر ہونے والی تیز تر تبدیلیوں سے جو خطرات لاحق ہیں۔
ان سے احسن و مدبرانہ مصلحتوں کے تحت خطے، فیڈریشن و مملکت کو درپیش سنگین حالات سے بہتر طریقے سے عہدہ براء ہونے کا وقت ہے۔
ان حالات سے فائیدہ اٹھاتے ہوئے، اپنی سیاسی، مذہبی یا گروہی منفعتیں حاصل کرنے کا موقع نہیں ہے۔
ورنہ اس شاخ کو ہی آپ لوگ کاٹ دیں گے ۔ کہ جس شاخ پر آپ لوگوں کا بسیرا ہے۔
اور یہ شاخ، کھجور کے اونچے درخت کی، سب سے اوپر والی شاخ ہے۔
امید ہے وہاں سے گرنے کے بعد جو ہولناک انجام ہو گا۔ تو آپ لوگ اس نتیجہ سے بخوبی واقف ہی ہونگے۔
( فیڈریشن آف پاکستان پر قابض ٹولہ حکومتی نظم، عدلیہ، انتظامیہ، مقننہ اور اصل طاقت فوجی اسٹیبلیشمنٹ کے سربراہ ہے۔ جن کا درحقیقت اس وقت چند ضلعوں راولپنڈی، جہلم، چکوال، سرگودھا، لاہور، گجرانوالہ، لکی مروت، کوہاٹ و بنوں، چارسدہ وغیرہ کے فوجی گھرانوں سے ہے۔ اسی طرح بیوروکریسی، سیاسی خاندانوں و مذہبی جماعتوں پر کنٹرول کا تعلق، تارکینِ وطن آبادکاروں ہندوستانی زیر انتظام کشمیر و جموں، ہندوستانی پنجاب، ہندوستانی اردو بولنے والے لسانی طبقات کے خاندانوں یا گرووں کے کنٹرول میں ہے۔ جو نام بدل بدل کر سامنے آتے رہتے ہیں۔
یہ ہی وہ اصل گروہوں ہیں جن سے غلام اقوام نے نمٹنا اور نجات حاصل کرنی ہے۔ جیسے مشرقی پاکستان والوں نے نمٹا اور انکو واپس کیمپوں تک محدود کر دیا۔ اور سخت ترین سزائیں دیں۔ یا ملائشیا کی طرح کہ انھوں نے چینی نژاد اقوام کو "بھومی پتر" کے سٹیٹس سے ہٹھایا اور ملائین مسلم و غیر مسلم مقامی قوموں نے انکے استحصال سے نجات حاصل کی اور ترقی کی۔ )
اصطلاح کا پس منظر اور لغوی معنی
* لغوی معنی: "بھومی پتر" (Bumiputera / Bhumiputra) سنسکرت زبان کے الفاظ "بھومی" (زمین) اور "پتر" (بیٹا) کا مرکب ہے، جس کا لغوی ترجمہ "زمین کا بیٹا" یا "سن آف دی سಾಯಿل" (Son of the Soil) بنتا ہے۔
* وجود میں آنے کا وقت: ملائیشیا کی تاریخ میں یہ اصطلاح باضابطہ طور پر 1960 کی دہائی کے وسط (خاص طور پر 1965ء کے قریب) سیاسی اور پارلیمانی مباحثوں میں استعمال ہونا شروع ہوئی۔ اس کا مقصد ملائیشیا کے آئین کے آرٹیکل 153 کے تحت مقامی باشندوں کے "خصوصی حقوق" کی عکاسی کرنا تھا، اور بعد ازاں 1971ء میں جب ملائیشیا کی حکومت نے "نیو اکنامک پالیسی" (NEP) نافذ کی تو یہ اصطلاح ملکی سیاست اور معیشت میں مرکزی حیثیت اختیار کر گئی۔
اس اصطلاح سے مراد اور اس کا دائرہ کار
ملائیشیا میں اس اصطلاح سے مراد وہ آبائی یا اصل مقامی باشندے ہیں جنہیں ملک کے دیگر تارکینِ وطن (بنیادی طور پر چینی اور بھارتی نژاد آبادی جو برطانوی دورِ حکومت میں وہاں آباد ہوئی تھی) کے مقابلے میں آئینی اور معاشی تحفظات اور ترجیحات حاصل ہیں۔ اس زمرے میں درج ذیل گروہ شامل ہیں:
* ملایئس (Malays): جو نسلی اور آئینی لحاظ سے اس کا سب سے بڑا حصہ ہیں۔
* اورانگ اصلی (Orang Asli): جو جزیرہ نما ملائیشیا کے قدیم ترین قبائلی باشندے ہیں۔
* مشرقی ملائیشیا کی دیسی قبائل: صباح اور سراواک (Borneo) کی مختلف مقامی دیسی قبائلی برادریاں۔
اہم مقصد
اس اصطلاح اور اس سے جڑی حکومتی پالیسیوں کا بنیادی مقصد ملائیشیا کی معاشی اور تعلیمی پسماندگی کا شکار native (مقامی) آبادی بالخصوص ملایئس کو آگے بڑھانا ہے، تاکہ وہ ملک کی تجارت، تعلیم اور سرکاری ملازمتوں میں دوسری خوشحال برادریوں کا مقابلہ کر سکیں۔
ممکن ہے "توریہ اور تقیہ" کے الفاظ آپ نے اس مذکورہ تحریر میں پہلی دفعہ پڑھے ہوں گے۔ اس فعل کا جاننا انتہائی ضروری ہے۔
کیونکہ اس دور میں 'جماعت خود ساختہ اسلامی" سے لیکر تمام مذہبی و سیاسی فرقوں کے علماء کی اکثریت اور حکومتی ادارے اس کو بطورِ نظریاتی دین و عملی طور پر اپنا کر استعمال کرتے ہیں۔ اصل اہداف مقاصد صرف انکو معلوم ہوتے ہیں جو انکے سب سے اوپر کا طبقہ ہے۔
ان سے وہ ہی مومنین و مسلمین بچ سکتے ہیں جو پہلے ہی اس نظریاتی عمل کی ابتداء اور کب اسکا ابلیسی حربہ کے طور پر استعمال شروع ہوا اُس سے واقف ہوں۔ اور سامنے والے گروہ کے معاشرتی سماجی اعمال پر ہمیشہ کڑی نظر رکھے۔ کم از کم عام فہم عادل مسلم کو اس سے ضرور واقف ہونا چاہیے۔
عربی زبان میں صحیح لفظ "توریہ" (ت و ر ی ہ) ہے، جبکہ "طوریہ" (ط و ر ی ہ) غلط اور بے بنیاد املا ہے۔ حرفِ اول طائے مختلطہ (ط) نہیں بلکہ تائے فوقانی (ت) ہے۔
صحیح تلفظ اور حرکات
* وزن: تَفْعِلَة
* حرکات: تَوْرِيَة (ت پر زبر، واؤ ساکن، را پر زیر، یاے مشدد مفتوح اور آخر میں ہائے مختفی)।
لغوی معنی
عربی لغت میں "توریہ" کا مادہ (و ر ی) ہے۔ اس کے لغوی معنی پردہ پوشی کرنا، کسی بات کو چھپانا، یا کسی چیز کو اس طرح ظاہر کرنا کہ اس کے پیچھے کوئی اور مقصود ہو۔ حسی اعتبار سے اس کا تعلق آگ چھپانے یا چقماق سے آگ ظاہر کرنے سے ہے۔
اصطلاحی تعریف (علمِ بدیع میں)
فنِ بدیع کی ایک مشہور صنعت ہے جس میں متکلم ایک ایسا کلمہ استعمال کرتا ہے جس کے دو معنی ہوتے ہیں: ایک قریب اور ظاہر جو سامع کے فہم میں فوراً آتا ہے (مورّح بہ)، اور دوسرا بعید اور پوشیدہ جو متکلم کا اصل مقصود ہوتا ہے (مورّح عنہ)۔ متکلم ظاہری معنی کے ذریعے سامع کو دھوکا دیتا ہے جبکہ مراد مخفی معنی ہوتے ہیں۔
تاریخ و ارتقا
توریہ کی جڑیں عربی شعری روایت اور بلاغت میں بہت پرانی ہیں، لیکن بطورِ مستقل صنعتِ بدیعی اس کا باقاعدہ تعارف اور تدوین عباسی دور کے اواخر میں ہوئی۔
* چوتھی اور پانچویں صدی ہجری کے ائمۂ بلاغت جیسے امام ابو ہلال العسکری اور ابن رشیق القیروانی نے اس کے مضمر اصولوں پر بحث کی۔
* چھٹی اور ساتویں صدی ہجری میں خطیب قزوینی (تلخیص المפתח) اور دیگر ماہرینِ بیان نے اسے صناعاتِ معنویہ میں باقاعدہ مقام دیا۔
* آٹھویں اور نویں صدی ہجری میں مملوکی دور کے شعرا اور ناقدین (خصوصاً صفی الدین الحلی اور ابن حجہ الحموی جو کہ "خزانہ الادب" کے مصنف ہیں) کے ہاں یہ فن اپنے عروج پر پہنچا، جہاں فارسی اور اردو شعرا نے بھی اسے اپنایا۔
اردو شاعری میں اہمیت:
اردو شعرا نے فارسی کی توسط سے اس صنعت کو اپنایا۔ ولی دکنی، میر تقی میر، اور مرزا غالب کے کلام میں توریہ کی لطیف مثالیں ملتی ہیں جہاں ایک ہی لفظ بیک وقت دو مختلف معنوی تزمیں پیدا کرتا ہے، اور سامع بظاہر ایک معنی سمجھ کر حیران ہوتا ہے جبکہ شاعر کا مقصود کچھ اور ہوتا ہے۔" جاری ہے۔"