افسوس! رشتوں کا جنازہ نکل گیا
باغ میں بہنوئی اور کزن کی درندگی نے یتیم بچی کی زندگی اجاڑ دی۔ دو دن تک اغوا اور مسلسل زیادتی۔۔۔
تفصیلات کے مطابق ایس پی باغ محمد ریاض مُغل کو ایک شکایت موصول ہوئی جس میں یہ بتایا گیا کہ ایک یتیم لڑکی کو چند لڑکوں نے اغواء کر کے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے جس پر فوری نوٹس لیتے ہوئے SP باغ نے انسپکٹر CiA رفاقت عباسی کو فوری ملزمان کو گرفتار کرنے کا حُکم دیا جس پر انسپکٹر CiA رفاقت عباسی نے ہمراہ گوہرعارفsi ،وقار حمید،حسنین شاہ، انصر نصیر ، کرامت اور شہباز کنسٹیبلان کے کارروائی کرتے ہوئے ملزمان ظہیر سکنہ پلین بٹی، قمر سکنہ مآخرہ اور اسحاق سکنہ نڑیولہ کو مختلف مقامات پر ریڈ کرکے وقوع میں استعمال ہونے والے تین موٹر سائیکلز سمیت 24 گھنٹے کے اندر گرفتار کر لیا۔
ملزمان نے فرسٹ اِیئر کی طالبہ ایک یتیم لڑکی کو اغواء کر کے دو دِن تک حبسِ بے جا میں رکھ کر مسلسل اجتماعی زیادتی (گینگ ریپ) کا نشانہ بناتے رہے۔ملزمان میں حقیقی بہنوئی اور ایک کزن بہنوئی شامل ہیں ۔
ملزمان پر زنابالجبر کا مقدمہ درج کرتے ہوئے تفتیش کا آغاز کر دیا۔
مزید سنسی خیز انکشافات متوقع
ایسے درِندہ صفت ملزمان کو ہر قیمت پر کیفرکرادار تک پہنچائیں گے اور قانون کے مطابق سخت ترین سزا دلوائیں گے:SP باغ کا موقف
ایک عورت قصاب کی دکان بند ہونے سے کچھ ہی دیر پہلے اندر داخل ہوئی اور پوچھا: "کیا آپ کے پاس ابھی مرغی دستیاب ہے؟"
قصاب نے ڈیپ فریزر کھولا، اس میں موجود آخری مرغی نکالی اور ترازو پر رکھ دی۔ وزن کیا تو وہ ڈیڑھ کلو نکلی۔ عورت نے مرغی کو غور سے دیکھا اور پھر سوال کیا: "کیا اس سے ذرا بڑی مرغی مل سکتی ہے؟"
قصاب نے وہی مرغی دوبارہ فریزر میں ڈالی، ایک لمحے بعد دوبارہ نکالی اور اس بار کمالِ ہوشیاری سے اپنا انگوٹھا ترازو کے پلڑے پر دبا دیا۔ وزن دو کلو ظاہر ہوا۔ عورت کے چہرے پر مسکراہٹ آئی اور وہ خوش ہو کر بولی: "یہ تو بہت زبردست ہے! ایسا کیجیے، مجھے یہ دونوں ہی مرغیاں دے دیں۔"
یہی وہ لمحات ہوتے ہیں جب انسان کو اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی دیانتداری اور ساکھ کتنی اہم ہے۔ جب آپ کی عیاری حد سے بڑھ جائے تو وہ الٹا آپ ہی کو بے وقوف ثابت کر دیتی ہے۔ اب وہ قصاب سر جھکائے فریزر کی گہرائیوں میں وہ 'پہلی' مرغی تلاش کر رہا ہے جو حقیقت میں تھی ہی نہیں۔
عقلمند عورت نے قصاب کی چالاکی بھانپ لی تھی، مگر بحث کرنے کے بجائے اسے اسی کے بنے ہوئے جال میں پھنسا کر خاموشی سے شرمندہ کر دیا۔ بعض اوقات عقل کا بروقت استعمال بحث و تکرار سے کہیں زیادہ موثر ہوتا ہے۔
Punjab will enjoy a long weekend with Kashmir Day on February 5, a provincial Basant holiday on the 6th, followed by Saturday and Sunday.
We hope people across Punjab take this time to relax, recharge, and make the most of the break 🫶🏻
باغ آزاد کشمیر
شدید برف باری سے باغ ملوٹ سے تعلق رکھنے والے راجہ اخلاق جان کی بازی ہار گئے مقامی ذرائع کے مطابق راولپنڈی سے باغ جاتے ہوئے برفانی طوفان کی زد میں آ گئے تھے انکو ریسکیو کر کے ہسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ پہلے ہی وفات پا چکے تھے
شوگر کے مریضوں اور موٹاپے کا شکار افراد لیے خوشخبری
چھلی کے تُکے کا قہوہ پیئیں اور شوگر موٹاپا غائب
یقین نہ آہے تو یہ پڑھیں
جنوبی کوریا کی سپر مارکیٹ میں چھلیوں کے تکے کا پیکٹ2000 کورین وون کا بک رہا ہے، اس کا قہوہ بنتا جو بلڈ شوگر کو کنٹرول کرتا اور وزن کم کرتا۔۔
جبکہ ہم لاکھوں روپے کے تکے ضائع کردیتے
ایک فون کال جو پولیس کو کروڑوں کے فراڈ کے ملزم تک لے گئی۔
یہ ایک معمول کی کال تھی،ہم شاید روزانہ ایسی درجنوں کالز کرتے ہیں، مگر یہ کال آنے والے دنوں میں کتنی اہمیت اختیار کرے گی اس کا علم نہ کال کرنے والے کو تھا اور نہ کال سننے والوں کو، کال کی گئی سنی گئی اور پھر چند ہی گھنٹوں بعد پولیس کال کرنے والے دروازکے باہر کھڑی تھی۔
یہ داستان ہے لاہور کے اچھرہ فراڈ کے مرکزی ملزم شیخ وسیم اختر کی گرفتاری کی، دروازے پر دستک کے بعد شہری نے جب دروازہ کھولاتو سامنے پولیس کو دیکھ کر وہ ششد ر رہ گیا کہ پولیس کی اتنی بھاری نفری اس کے دروازے پر کیوں کھڑی ہے؟ پولیس نے شہری سے اس کا موبائل فون مانگا تو شہری نے بتایا کہ یہ موبائل تو اس نے چند روز قبل دوکان سے خریدا ہے اور اس کی رسید بھی موجود ہے۔پولیس نے نوجوان سے کہا ہمیں دوکاندار تک پہنچا دیں،پولیس چند ہی لمحات کے بعد اس دوکان کے باہر کھڑی تھی جہاں چند روز قبل دو موبائل فون فروخت کیے گئے تھے۔دوکاندار نے بتایا کہ یہ موبائل تو چند ہفتے قبل فروخت ہوئے ہیں،رسید، سی سی ٹی وی سب ریکارڈموجود ہے۔پولیس نے فوری سی سی ٹی وی ریکارڈ نکلوایا تو تصدیق ہوگئی کہ موبائل فون فروخت کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ لاہور کے علاقہ اچھرہ کی گولڈ مارکیٹ کے تاجروں اور اپنی سوتیلی والدہ سے کروڑوں کا فراڈ کرنے والا ملزم شیخ وسیم اختر ہے۔
پولیس کو جہاں رسی کا ایک سرا ملا مگر بدقسمتی یہ تھی کہ یہ رسی بہت چھوٹی تھی اور ملزم اسوقت کہاں ہے وہاں تک نہیں پہنچا پارہی تھی،اس دوران دوکاندار نے اچناک انکشاف کیا کہ شہری نے دو موبائل فروخت کئیے تو دو خریدے بھی تھے یہ سنتے ہی پولیس افسر کی آنکھیں دوبارہ ایسے کھلیں جیسے اندھیرے میں کسی چیز کو دیکھنے کی کوشش کے دوران آنکھیں مکمل کھلتی ہیں۔ پولیس کو رسی کا ایسا سرا مل گیا جو اسے ملزم تک لے گیا، پولیس نے فوری طور پر ان موبائل فون نمبرز کے IMEI نمبرز حاصل کئیے اور پھر ان نمبرز کی بدولت پولیس اگلے چند روز میں مرکزی ملزم شیخ وسیم اختر کے دروازے کے باہر کھڑی تھی۔ملزم کے خلاف لاہور کے تھانہ اچھرہ میں فراڈ اور غبن کے دس مقدمات درج ہیں،ملزم اپنی والدہ سمیت سونے کے تاجروں سے 16 کروڑ سے زائد کا فراڈ کرکے فرار ہوا تھا اور پولیس گزشتہ دو ماہ سے اسے تلاش کررہی تھی۔
بھارت کیلئے موت کی خبر!
پاکستان کا دفاع مضبوط ترین بنانے کے بعد پاکستان کی زرعی معیشت مضبوط بنانے کیلئے پاکستان اور چین نے ملکر 4.4 ارب ڈالر کے 79 زرعی معاہدے بھی کر لئے!
بچی کا والد گم ہو گیا تو بچی کو کہا کہ اپنے والد کی تصویر بنا کر دکھائے تو بچی نے جو تصویر بنائی
اور جب والد ملے تو اینکرز کی حالت آپ خود دیکھ سکتے ہیں 🤣😂
جس کو یہ عقل و شرم سے عاری کچھ لوگ کبھی سزا تو کبھی عزاب کہہ رہے ہیں، ان کو کیا پتا کہ اس سے بڑا اللہ کی طرف سے تحفہ کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔ اگر آپ کے گھر میں ایک ایسا بچہ ہے جو معصوم ہے، فرشتہ صفت ہے، جس کی اللہ رب العزت کے نزدیک ہونے اور جنتی ہونے کی نوید ہے تو اس بچے سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی رحمت بھلا آپ پر اور کیا ہو سکتی ہے؟
اور ماں باپ کا اپنے بچوں کو پیار دینا، ان کا خیال رکھنا کسی پر کوئی احسان نہیں بلکہ ایک فطری عمل اور فریضہ ہے۔ اگر کوئی بچہ کسی بھی ذہنی یا جسمانی تکلیف میں مبتلہ ہو تو ماں باپ سے شاید وہ دوسرے بچوں سے کچھ زیادہ ہی پیار لے جائے، کم نہیں۔
کوئی بھی ماں باپ اپنے سپشل بچوں کو اگر لوگوں میں لے جانے یا ان کا ذکر کرنے میں شرم محسوس کرتے ہیں تو بالکل غلط کرتے ہیں۔ یاد رکھیے کہ یہی بچے روزِ محشر آپ کا ہاتھ پکڑ کر ان شاءاللہ آپ کو جنت الفردوس میں لے کر جائیں گے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پڑوس میں گھر دلوائیں گے۔
اپنے سپیشل بچوں کو پھولوں کی طرح، شہزادے شہزادیوں کی طرح رکھیں۔ یہ آپ پر اللہ میاں کا بہت بڑا انعام ہیں۔ شکریہ
#AutismProudDad
میں نے روئت ہلال کمیٹی کو کہا کہ اگر چاند ٹیکنالوجی کی بجائے عام انسانی آنکھ سے دیکھنا ہے تو پھر تو روئت ہلال کمیٹی میں بابوں کی بجائے 18/20 سال کے لڑکے لڑکیاں ہونی چاہیے تمہیں تو میں سامنے بیٹھا نظر نہیں آ رہا تو چاند کیسے نظر آئے گا ! فواد چوہدری 🤣🤣