رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ان میں اپنے دین پر صبر کرنے والا آدمی ایسا ہو گا جیسے ہاتھ میں چنگاری پکڑنے والا“ ۔
(جامع ترمذی،۲۲۶۰)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھوت لگ جانا (یعنی کسی کے چھونے سے بیماری پھیلنا) ، بد شگونی ہونا یا الو (الو کے بولنے سے کچھ برا ہونا) یا صفر (کے مہینے) کی نحوست یہ کوئی چیز نہیں ہے ۔
صحیح بخاری، جلد ٧، ٥٧٥٧
جسکی محتاجگی شدید ہوجائےاور وہ دعاکرے،یا جسکاخوف بڑھ جائےاور وہ رو پڑے،تو یہی وہ وقت ہے جس میں اسےدعا کرنی چاہیے،کیونکہ یہ قبولیت کی گھڑی اورمانگنے میں سچائی کاوقت ہے،اور کسی بھی سچےانسان نےدعا نہیں کی مگر یہ کہ اس کی دعا قبول کی گئی۔
ابن عقیل رحمہ اللہ
الآداب الشرعیہ (2/282)
رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ جب آدمی اپنے گھر میں جاتا ہے، اور گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ جل جلالہ کا نام لیتا ہے، تو شیطان ( اپنے رفیقوں اور تابعداروں سے ) کہتا ہے کہ نہ تمہارے یہاں رہنے کا ٹھکانہ ہے، نہ کھانا ہے اور جب گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتا تو شیطان کہتا ہے کہ تمہیں رہنے کا ٹھکانہ تو مل گیا اور جب کھاتے وقت بھی اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتا تو شیطان کہتا ہے کہ تمہارے رہنے کا ٹھکانہ بھی ہوا اور کھانا بھی ملا۔
صحیح مسلم جلد ۵ ۵۲۶۲
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کے عذر کے سلسلے میں حجت تمام کر دی جس کی موت کو مؤخر کیا یہا ں تک کہ وہ ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ گیا
صحیح بخاری جلد٧ حدیث ٦٤١٩
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا الله کے ذکر کے سوا بہت زیادہ بات کرنے بچو کیونکی الله کے ذکر کے سوا زیادہ بات کرنا دل کو سخت بنا دیتا ہے اور لوگوں میں اللہ سبحانه سے سب سے زیادہ دور سخت دل والا ہو گا۔
جامع ترمذی جلد ۲ ، حدیث ٢٩٨ -حسن
ابو سعید خدریرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے وضو کیا پھریہ دعا پڑھی
تو اسے( جہنم سے) آزاد لوگوں میں لکھ دیا جاتا ہے۔ اور ایک مہر لگا دی جاتی ہے جو قیامت تک نہیں توڑی جاتی
*سُبْحَانَكَ اللهُمّ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَه إِلَا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوب إِلَيْك*
اے اللہ تو اپنی تعریف کے ساتھ پاک ہے ، تیرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں، میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں، اور تجھ سے توبہ کرتا ہوں۔
السلسلہ صحیحہ ٢٩٥١
المستدرك على الصحيحين ٢٠٠٥ حسن
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے
*اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ *
اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم والم سے ، عاجزی سے ، سستی سے ، بزدلی سے ، بخل ، قرض چڑھ جانے اور لوگوں کے غلبہ سے ۔
صحیح بخاری ٦٣٦٩
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جمعہ کا دن تمہارے بہترین دنوں میں سے ہے، لہٰذا اس دن میرے اوپر کثرت سے درود ( صلاۃ ) بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارے درود مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں ۔
(سنن ابوداؤد ،۱۵۳۱)
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں:
ایک آدمی نے عرض کیا: الله کے رسول! فلاں عورت اپنی نمازوں، روزوں، اور صدقات کی کثرت کے حوالے سے مشہور ہے، لیکن وہ اپنی زبان درازی سے اپنے پڑوسیوں کو تکلیف پہنچاتی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ جہنمی ہے."
مشکوٰۃ 4992
(احمد 9673؛ حبان 5764؛ حاكم 7304)