@Aadiiroy2 آپ ماشاءاللہ سمجھدار ہیں ۲۰۰۶ سے پہلے کی بائیک اور گاڑی رکھنے والے امیر ہی یا پاکستانی نہیں
یہ سوال وزیر اعظم سی بھی پوچھا جواب نہیں دیا آپ ضرور دیں
@CMShehbaz 2011 یا اس کی بعد کی گاڑیوں کی رجسٹریشن میں کیا راز ہے
کیا جن کے پاس ۲۰۱۱ سے پہلے کی گاڑی یا موٹر سائیکل ہی وہ بہت امیر ہیں یا پاکستانی نہیں ہیں
جواب کا انتظار رہے گا
ھم زندہ قوم ھیں —••— !!!
یوم ِ آزادی کی شب سڑکوں پر بے ھنگم شور ، نازیبا حرکات اور ھلڑبازی کا ایسا طوفان بدتمیزی برپا رھا کہ اللّٰہ کی پناہ ،جو کوئ کسی کام گھر سے نکلا توبہ توبہ کرتا واپس آیا ۔۔۔
پڑھے لکھوں ، ان پڑھ ، امیر ، غریب ، چھوٹے بڑے کی کوئ تمیز نہیں تھی
اسلام آباد میں 13 اور 14 اگست کی درمیانی شب ایک سرکاری تقریب کی سیکیورٹی کیلئے سب راستے بغیر کسی پیشگی اعلان یکایک بند کر دیے گئے، ھزاروں خواتین بچے بوڑھے افراد سڑکوں پر کىئ کىئ گھنٹوں تک خوار ھوۓ ، کوئ نوٹس نہیں لیا گیا ۔!!
پاکستان بنانے کیلئے اپنی جانیں ، عمریں ، عصمتیں ، جائیدادیں ، گھر بار قربان کرنے والوں کا ذکر کسی سیاسی یا سرکاری تقریب میں کہیں بھی سننے کو نہیں مِلا ،
سیاسی جماعتیں حسب ِ روایت سوئ رھیں ،
انجمن ھاۓ ستائش باھمی متحرک رھیں
اگر بدترین لاقانونیت ، غربت اور دھشت گردی کی شکار ریاست کا یوم ِ آزادی ریاست کو بحرانوں سے نکالنے کی تدبیر کرنے یا اسکے آئین کے تحفظ اور شھریوں کی فلاح کیلئے عملی اقدامات کرنے یا
تجدید عہد کرنے کی بجاۓ
محض جھنڈے لہرانا ، باجے بجانا ، ناچنا ، گانا ، ھلڑبازی ، کیک کاٹنا ، سٹیریو ٹائپ تقریبات اور ایک دوسرے کی تعریفوں میں قلابے ملانا ھی ھے تو یہ بے فکری ملک و قوم کو بہت مہنگی پڑ سکتی ھے
اسی لئے ھم ( زندہ قوم ھیں ) ........
@MaryamNSharif آپ کی توجہ ایک مسئلے کی طرف مبذول کرانی ہے راولپنڈی میں LPG پرائیویٹ فلنگ پوائنٹ پر ۴۷۰-۵۳۰ فی کلوگرام مل رہی ہے جبکہ گورنمنٹ ریٹ ۳۱۰-۳۳۰ ہے خدارا انتظامیہ کو اس بارے ہدایات جاری کریں
آپ کا خیر خواہ
ارمغان محسن
آج کل کوئی ریٹ چل رہا ہی LPG کا راولپنڈی اسلامآباد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے پچھلے ہفتے ۵۰۰/ کلو تھی اور آج ۵۳۰ جب کے گورنمنٹ ریٹ ۳۱۰-۳۲۰ کا ہے
اس بارے کسی کو کچھ معلوم ہی تو بتاۓ
کشمیریوں کی اکثریت پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتی ھے جن کو خودمختاری کا کیڑا ھے اُنکو پتا ھونا چاہیے کشمیر کی پچاس لاکھ کی آبادی ھو گی انڈیا تمھیں کھا جائے گا انڈیا نے بھوٹان،سری لنکا ،بنگلہ دیش سب کو دبا کر رکھا ھوا ھے یہ پاکستان ھی ھے جو انڈیا کو نتھ ڈال سکتا تم لوگوں کی موجیں لگی ھوئی سب کچھ سستا مل رہا پھر بھی ہر 6 ماہ بعد احتجاج کرنے نکل پڑتے ھو
ہم اتنی دیر سے نعرے مارتے آ رہے ہیں کہ کشمیر بنے گا پاکستان، اب وقت آ گیا ہے کہ اسے پاکستان کا حصہ بنا دیں کشمیریوں کی اکثریت بھی یہی چاہتی ہے گلگت بلتستان کو بھی پاکستان میں شامل کریں، متنازعہ علاقہ، متنازعہ علاقہ والے راگ الاپنا چھوڑیں، یہ تب کی باتیں تھیں جب بھارت نے آرٹیکل ۳۷۰ ختم نہیں کیا تھا
منگلا ڈیم مفت میں نہیں بنا اس کے بدلے انکو پنجاب میں زمینیں دی گئیں انگلینڈ میں انکو منتقل کیا گیا انکو مفت والے حساب سے بجلی ملتی پھر بھی احتجاج کرتے جبکہ پنجاب میں کسان کو گندم کے لیے کوئی سبسڈی نہیں ملتی