عمران خان نے “دو ریاستی حل” کی جو بات کی وہ 1967 سے پہلے والی پوزیشن پر مبنی تھی۔ یہ وہی مؤقف ہے جو پاکستان ہمیشہ سے رکھتا آیا ہے۔
شہباز شریف جس “دو ریاستی حل” کو ماننے جا رہے ہیں وہ دراصل ابراہام اکارڈ ہے، جو فلسطین کے حق میں نہیں بلکہ اسرائیل کے فائدے میں ہے۔
اِن دونوں میں فرق کیا ہے ؟
ابراہام اکارڈ:
یہ امریکا کی نگرانی میں اسرائیل اور چند عرب ملکوں کا معاہدہ ہے جس میں اسرائیل کے قبضے کو برقرار رکھ کر تعلقات نارمل کرنے پر زور دیا گیا ہے ۔ اِس میں فلسطینی ریاست یا ان کے حقوق کا ذکر تک نہیں۔
1967 سے پہلے کی پوزیشن:
وہ سرحدیں جو جنگ سے پہلے طے تھیں انہیں تسلیم کیا جاۓ ۔ جس کے تحت اسرائیل کو مقبوضہ علاقوں سے نکلنا ہوگا (ویسٹ بینک، غزہ ، مشرقی یروشلم وغیرہ)۔ اس حل کی بدولت فلسطین کو ایک مکمل اور آزاد ریاست کا حق ملتا ہے ۔
“کامن ویلتھ کی 8 فروری کے الیکشن پر جو رپورٹ لیک ہوئی ہے اس نے بھی انتخابی دھاندلی کا پول کھول دیا ہے کہ کیسے بےشرمی اور ڈھٹائی سے ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا۔
کامن ویلتھ کے مطابق یہ رپورٹ پہلے ہی سرکاری سطح پر حکومت پاکستان کو دے دی گئی تھی مگر یہاں سکندر سلطان راجہ جیسے بے ضمیر لوگ ہیں جنھوں نے انتخابی چوری کی سہولت کاری سمیت اس پر پردہ ڈالنے میں بھی بھرپور کردار ادا کیا- پاکستان میں ووٹ چوری کا قانون سخت ہے اور ایسا کرنے پر آرٹیکل 6 کا نفاذ ہوتا ہے- لیکن ملک میں اس وقت عاصم لا کے سوا سب قانون ختم ہو چکے ہیں۔
یہاں پر لیاقت چٹھہ جیسے لوگ قابل تحسین ہیں جنہوں نے اپنے عہدے پر ضمیر کی آواز کو ترجیح دی۔ اس چوری کے بعد عوام کا قتل عام کیا گیا اور چھبیسویں آئینی ترمیم کی گئی۔ اس ترمیم کے خلاف بھی جن ججز نے آواز بلند کی وہ تعریف کے قابل ہیں۔
دھاندلی پر قائم حکومت کو قانونی طور پر قبول کرنے کا وقت اب ختم ہو چکا ہے۔ اسی لیے سینیٹ اور پارلیمانی کمیٹیوں سے استعفے دئیے گئے ہیں۔
اپنے ارکان پارلیمنٹ کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ملک میں نافذ عاصم لاء سے بالکل نہ گھبرائیں نہ ہی جیل سے گھبرائیں۔ایک فرد واحد اپنے اقتدار کی ہوس کو پورا کرنے کی خاطر آپ کو دبانا چاہتا ہے۔ آپ جتنا ان سے ڈریں گے یہ اتنا ہی آپ کو دبائیں گے۔ آپ حق پر ہیں اور حق اور سچ انسان کو بہادر بناتا ہے، اور حق کی ہی فتح ہوتی ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (۱۵ ستمبر، ۲۰۲۵)
1/3
ہمارے علی پور کا کچھ نہیں رہا ، خدا کی قسم یہاں لاشوں کے ڈھیر لگنا شروع ہوگئے ہیں ، ہمیں دھوکے میں رکھا گیا ہمارے لوگوں کے پاس کھانے کو کچھ نہیں، شعبہ صحت سے تعلق رکھنے والے شہری کی فریاد