یہ کراچی بلکہ پاکستان کا اہم ترین صدر بازار ہے،
پاک فوج جاکر افغانستان میں گھس حملے کرے لیکن کراچی میں جو یہ افغانی دہشت گرد سندھ حکومت اور پولیس کے گٹھ جوڑ سے کاروبار، زمینیں خرید کر بیٹھے ہیں انکو پکڑنے اقوام متحدہ کی فورس آئیگی؟؟پولیس رینجرز کہاں ہیں؟؟
آپ میڈیکل اسٹوڈنٹس کو نکلیں لیکن اس سے پہلے ان غنڈوں پہ ہاتھ ڈالیں، یہ نمک حرام یہاں دولت جائیداد بنا کر پاکستانیوں کو مار پیٹ رہے ہیں۔۔۔ اور ایک بار پھر سب سے بیغرت ادارہ @KElectricPk
صرف شریف سفید پوش لوگوں کو لوٹتے ہیں۔ گوٹھوں، افغان بستیوں جانے کی ہمت نہیں ہوتی ۔
کراچی کو تحفظ دیں ، یہ صدر بازار اس ملک کو سب سے زیادہ ٹیکس دینے والی مارکیٹ ہے ، اگر یہاں افغانی اس دیدہ دلیری سے کاروبار جما کر غنڈہ گردی کررہے ہیں تو @OfficialDGISPR
اپ خود سوچ لیں۔
پنجاب کے ہر ضلع سے سینکڑوں پولیس اہل کار مارچ روکنے کی ایمرجنسی ڈیوٹی پر اٹک اور میانوالی اضلاع میں بلائے گئے ہیں۔ تا ہم ان کی خوراک اور رہائش کا کوئی مناسب انتظام موجود نہیں، اہل کاروں کے مطابق انہیں جیل کی بچی ہوئی دال کے ساتھ ایک نان دوپہر کو، چاول اسی پتلی اور بدمزہ دال کے ساتھ شام کو اور رات کے بچے ہوئے بسے بدمزہ چاول کے ساتھ ایک چائے کا کپ صبح ناشتے میں دیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں بیشتر کی طبیعت خراب ہے۔
پنجاب پولیس کے ذمہ داران سے التماس ہے کہ اگر یہ الزام درست ہے تو اس مسئلے کو حل کیا جائے۔
اور اگر ممکن نہ ہو تو انہیں مقامی درباروں میں جانے دیا جائے تا کہ وہ لنگر کے ساتھ ساتھ دھمال بھی ڈال سکیں۔
العارض
ڈپٹی
علیمہ خان شوکت خانم ہسپتال اور نمل کے بورڈ میں ہیں اور عمران خان کی آفشور کمپنی کی ڈائریکٹر بھی، وہ ہسپتال اور نمل کے لئے دنیا بھر سے خیرات بھی اکٹھی کرتی ہیں تاہم اس دوران جو بیرون ملک جائیداد بنائی اس بارے عمران خان سے آپ اس لئے نہیں پوچھ سکتے کیونکہ وہ اپنی بہن کے کفیل نہیں
ڈپٹی پرائم منسٹر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا لاہور فارن آفس: لمبی قطاریں، گندگی، ٹوکن لینے والوں کے لیے بیٹھنے کا کوئی انتظام نہیں، پانی کی دو چھوٹی بوتلیں 160 روپے میں۔ صبح 10:20 تک انچارج افسر نہیں آیا تھا۔ پولیس کا ایک ’’رضاکار‘‘ لوگوں کو گائیڈ کرتا رہا اور میرٹ و ڈسپلن کا بھاشن دیتا رہا۔جب تک باہر ایجنٹ موجود تھے، ان کی معیشت بھی چل رہی تھی، لوگوں کے کام بھی آسانی سے ہو رہے تھے۔ چھوٹے چھوٹے اہلکاروں کے خلاف کرپشن کے ایکشن کے بعد روٹین کا “سسٹم “بھی بیٹھ رہا ہے، کام رک رہے ہیں۔ حکمرانوں اور بیوروکریسی کے نخرے اور خرچے پھٹے ہوئے جوتے کی طرح بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔
ابھی ایک خاتون عملے سے واش روم کے متعلق پوچھ رہی تھیں تو بتایا گیا کہ نہیں ہے۔
اعزاز سید نے تین روز اسلام آباد کے حوالے سے وہ وہ رپورٹ دی جس کا بچے بچے کو پتا تھا۔ بہرحال، تیر نشانے پر لگا، حکومت کچھ ایکشن لینے پر مجبور ہو گئی۔ رہ گئی عوام کی تکالیف، تو ان کے اور حکمرانوں کے درمیان کوہِ ہمالیہ اور بحرِ اوقیانوس جتنا فاصلہ ہے۔
حکمران اسی وقت اچھی باتیں کرتے ہیں جب سات سمندر پار جلاوطنی کاٹ رہے ہوں یا جیل میں ہوں یا پھر ریٹائر ہو چکے ہوں ۔ اور یاد رکھنے کی یاد صرف اتنی ہے:
’’یہ چمن یونہی رہے گا‘‘
نوٹ: مجھے کچھ دوستوں نے مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی، مگر میں نے مشاہدہ کرنے کو بہتر جانا تاکہ زمینی حقائق پر تبصرہ کر سکوں۔
@MIshaqDar50@AzazSyed@CMShehbaz@ForeignOfficePk
جناب سہیل آفریدی نے صوبائی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ خیبرپختونخواہ کا ہر نوجوان بدمعاش ہے۔
ہم یہ بات واضح کرتے ہیں کہ آفریدی صاحب بکواس کر رہے ہیں، خیبر پختونخواہ میں تین فیصد ایجنسیوں کی پالی جانائز اولاد پی ٹی آئی کے علاوہ باقی سب لوگ شرفا اور اسلام پر عمل کرنے والے ہیں اور یہ معصوم دہشت گردوں کے خلاف لگاتار اپنی جانوں کی قربانی دے رہے ہیں۔ یہ سہیلا پریدی جیسے لوگ بدمعاش ہیں جو ان معصوموں کا بے گناہ خون بیچ کھاتے ہیں۔
ہائی کورٹ میں ججز کی تقرری کیسے ہوتی ہے؟
محمد افضل چیمہ 1962 کے آئین کے تحت تشکیل پانے والی قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر تھے انھوں نے صدر ایوب کی خدمت اورحمایت بھرپور انداز میں کی جس پر خوش ہوکر جنرل ایوب خان نے انھیں مغربی پاکستان ہائی کورٹ کا جج مقرر کردیا تھا۔ وہ ڈپٹی سپیکر شپ مستعفی ہوکر جج شپ پر فائز ہوگئے تھے۔ یوسف خٹک صوبہ سرحد کے معروف سیاست دان تھے انھوں نے صدر جنرل ایوب خان کے الیکشن میں ان کی بھرپور مدد کی تھی جس پر جنرل ایوب خان نے خوش ہوکران کی سیاسی خدمت کا صلہ ان کے بھائی عبدالغنی خان خٹک کو مغربی پاکستان ہائی کورٹ کا جج مقرر کردیا تھا حالانکہ موصوف کسی ایک کیس میں بی ہائی کورٹ میں پیش نہیں ہوئے تھے۔ اسی طرح لاہور کے ایک بریف لیس وکیل شمیم حسین قادری کو بھی مغربی پاکستان ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا تھا کیونکہ اس کی تقرری کی سفارش جنرل ایوب خان کے مرشد پیر صاحب آف دیول شریف نے کی تھی۔ بعد ازاں جسٹس شمیم حسین قادری لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی بن گئے تھے۔ ایسی تھی ہماری عدلیہ اور ایسے تھے ہمارے ججز۔ آج تک بھی اس میں سرمو کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ایگزیکٹو آج بھی اپنی مرضی اور پسند کے جج مقرر کرتی اور کراتی ہے تاکہ بوقت ضرورت کام آئیں۔
ریفرنس پاکستان میں عدلیہ کی تاریخ از حامد خان صفحہ 125
ہر افغان مہاجر چاہے وہ قانونی ہو یا غیر قانونی, وہ نہ صرف پاکستان کا دشمن ہے بلکہ انڈین پراکسی بھی ہے-
ارباب اختیار و اقتدار سے افغان مہاجروں کو پاکستان سے دیس نکالا دینے کیلئے فل اینڈ فائنل آپریشن کرنے کی گزارش ہے-
اگر کامیابی کیساتھ ایسا کر دیا گیا تو خیبر پختونخواہ سے اشتعال انگیزی کا عنصر بڑی حد تک ختم ہو جائے گا-
افغان طلبہ کی ملک بدری کے خلاف حکم امتناعی جاری کرنے والے دونوں ہائی کورٹس کے ججز حضرات سے التماس ہے کہ افغان خود کُش حملہ آوروں کے خلاف بھی کوئی ایک آدھ حکم امتناعی جاری فرمادیں، ہمارے بچے شہید ہو رہے ہیں۔
وہی لوگ آج کوسنے دیتے اور گالیاں دیتے دکھائی دیتے ہیں جو کبھی ان باتوں کو خطبہ سمجھ کر سنا کرتے اور سر دھنتے تھے-
مسئلہ مہنگائی کی وجوہات کا ہے ہی نہیں بلکہ انہیں صرف مخالفین کو گالیاں دینے کا بہانہ چاہیئے ہوتا ہے- کیونکہ انکے پاس گالیوں کے سوا اور کچھ ہے بھی نہیں-
میری زندگی کی بڑی خواہش ہے کہ جرائم پیشہ اشرافیہ کے ٹکڑوں پر پلنے والا پالتو کتوں جیسا بھوٹان اور بوسنیا کا عدالتی نظام کبھی ایسی ہی تیز رفتاری اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غریبوں، مجبوروں اور مظلوموں کی ضمانتوں پر، رہائی کی درخواستوں اور سزائوں کیخلاف اپیلوں پر بھی فیصلے کرے اور انصاف کرے جیسی تیز رفتاری سے اشرافیہ کے بچوں کے حق میں فیصلے کئے جاتے ہیں۔
کاش بھوٹان اور بوسنیا کی ریاست بھی منفاقت اور دھوکے بازی چھوڑ کر جرائم پیشہ اشرافیہ کے بچوں، عورتوں اور مردوں کیخلاف ویسے ہی ٹھوس مقدمات بنائے جیسے عام ملزموں کیخلاف مقدمات بنائے جاتے ہیں اور وہ ساری زندگی قید کی سزائیں کاٹتے ہیں۔
جمائمہ گولڈ سمتھ نے وفا نبھانے کی انتہا کر دی ہے، اس نے دنیا کے بڑے میڈیا ٹائیکونوں میں سے ایک، کیمرون صاحب کے ساتھ شادی کی ہے تا کہ خان کی رہائی کے لئے ہونے والا میڈیائی خرچہ بچایا جا سکے۔ دیکھیں کس قدر سگھڑ ماما ہے یوتھڑوں کی۔
ڈپٹی کی انتہائی گہری تحقیق
عوام حقیقی آزادی کی جنگ کی تیاری کرے
عوام باہر نکلے اور اس نظام سے ٹکرا جائے
عوام سر پر کفن باندھ کر نکلے اور سسٹم کو گرادے
عوام اپنے حقوق کیلئے باہر نکلے
وغیرہ وغیرہ
جبکہ جن کا حقیقی کھٹیٹ ابا جیل میں ہے وہ اپنے ہتھی ماں کو دلہن بنوا کر منجی تک چھوڑ کر ائے ہیں جبکہ عوام اپنا پچھواڑہ قاسم سلیمان اور ٹیریان کے ابو کیلئے لال کروائے
جمائمہ صاحبہ کی دوسری شادی چرچ میں ہوئی جہاں شادی کی رسومات میں عمران کے دونوں بیٹے موجود تھے تصویر میں عیسائیوں کے فادر شادی کروا رہے ہیں چند دن پہلے میں نے ایک سوال کیا تھا کہ جمائمہ صاحبہ نے کیا اسلام ترک کر دیا ہے اس پر ایک نقوی نے گریبان پھاڑ لیا تھا مگر وہ سوال اب بھی قائم کہ کیا اسلام قبول کر کے ترک کر دیا ہے ؟
ریاست مدینہ بنانے کے دعویدار کے دونوں بیٹوں نے والدہ کا مذہب اپنایا یا باپ کا ؟
دوہرے معیار اور منافقت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے! ایک طرف سلمان اور قاسم اپنے جیل میں پڑے باپ کی ہمدردی کا ڈھونگ رچا کر پاکستان میں انتشار اور بدامنی کا خمیر اٹھا رہے ہیں، اور دوسری طرف اپنی ماں کی دوسری شادی کا جش منا کر رنگ رلیاں منا رہے ہیں۔ یہی حال جمائمہ کا ہے، جو زبان سے تو عمران خان کی تکالیف کا ماتم کرتی نہیں تھکتیں، مگر عملی طور پر اپنی زندگی میں آگے بڑھ کر عیش کر رہی ہیں۔ افسوس تو ان عقل سے پیدل 'یوتھیوں' پر آتا ہے جو اب بھی ان غیر ملکی شہزادوں کے کھوکھلے بیانات کو سیاسی تحفہ سمجھ کر سر پر بٹھاتے ہیں۔ ویسے جمائمہ کو نئی زندگی مبارک ہو، آخر عمران خان نے بھی کون سی کسر چھوڑی تھی؟ جمائمہ کو چھوڑ کر ریحام سے دل لگایا، ریحام کو لتاڑ کر پنکی پیرنی کی مریدی اختیار کر لی۔ جس باپ نے خود وفاداری کا جنازہ نکالا ہو، اس کی اولاد سے شرافت اور سچے جذبات کی امید رکھنا ہی حماقت ہے۔
لاہور کے حفیظ سنٹر موبائل مارکیٹ میں اک نوجوان کو 142000 ہزار کا چونا لگا دیا ۔ خریدتے وقت یہ لوگ کہتے ہیں کوی خرابی ہو پیسے واپس مل جائیں گے عام بندہ اعتبار کر کے لے اتا ہے ۔۔
جب خرابی نکلتی ہے واپسی پیسے مانگیں تو شاپ والے الٹا برا بھلا کہ کر بے عزت کر کے بھگا دیتے ہیں سنیے اس نوجوان کی کہانی تاکہ باقی لوگ بچ سکیں ۔۔
میں نے جمعہ کی شام حفیظ سینٹر لاہور کی ایک دکان سے 142,000 روپے میں آئی فون 16 پلس خریدا۔ چونکہ مجھے موبائل فونز کے بارے میں زیادہ تکنیکی معلومات نہیں تھیں، اس لیے دکان دار اور اس کے بیٹے نے مجھے 100 فیصد اوریجنل فون ہونے کی مکمل تسلی اور گارنٹی دی، جس پر بھروسہ کر کے میں نے فون لے لیا۔
اگلے دن ہفتے کی شام جب میں اس پر پروٹیکٹر گلاس لگوانے گیا تو وہ اسکرین پر بیٹھ ہی نہیں رہا تھا۔ چیک کرنے پر متعلقہ دکاندار نے بتایا کہ اسکرین کے اسکریچز چھپانے کے لیے اسے گہرا "بف" (Buff) کیا گیا ہے جس کی وجہ سے گلاس نہیں لگ سکتا، اور مارکیٹ کے دیگر دکانداروں نے بھی اسی بات کی تصدیق کی۔ جب میں یہ شکایت لے کر اصل دکاندار کے پاس گیا تو اس نے اپنی غلطی ماننے سے صاف انکار کر دیا اور الٹا بدتمیزی اور غیر اخلاقی رویے پر اتر آیا۔
یہ شخص سیدھے سادھے خریداروں کو جھوٹ بول کر دھوکہ دے رہا ہے اور کھلم کھلا فراڈ کر رہا ہے، لہٰذا سب سے گزارش ہے کہ حفیظ سینٹر میں ایسے نوسربازوں سے ہوشیار رہیں اور کسی بھی قسم کے لین دین سے مکمل گریز کریں۔
یہ منظر شاہراہ دستور کا ہے ایک جانب آڈیٹر جنرل پاکستان کا آفس ہے جو سارے پاکستان کا آڈٹ کرتا ہے دوسری جانب وفاقی آئینی عدالت جو آئینی مقدمات کے فیصلے کرتی ہے ان دونوں کے درمیان واقع یہ گٹرگندے پانی سے ابل رہا ہے اور تعفن پھیلا رہا ہے یہ ہمارے سی ڈی اے کی کارکردگی ہے
کسی ہایئکورٹ میں ضمانت یا سزا معطلی کی درخواست زیر التواء ہونے اور اس پر فیصلہ نہ کئے جانے کی بنیاد پر آج تک کبھی بھی سپریم کورٹ نے مداخلت کر کے کسی ملزم کی رہائی کا حکم جاری نہیں کیا۔ اس لئے سپریم کورٹ کا ایمان مزاری صاحبہ اور ہادی چٹھہ صاحب کی رہائی کا حکمنامہ اپنی بنیاد میں ہی غیرقانونی اور غیر مئوثر ہے۔ جب عدلیہ ازخود اختیارات کے ناجائز استعمال کی بنیاد رکھے گی تو انتظامیہ بھی اسی نقش قدم پر چلے گی، اطلاعات ہیں کہ دونوں ملزمان کو ایک دوسرے مقدمے میں جیل سے ہی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہمیشہ عدالتی فیصلوں نے ہی انارکی اور لاقانونیت کو جواز اور دوام بخشا ہے۔
سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے اس پارلیمانی رہنما کی انگریزی ملاحظہ کریں- شکر ہے یہ بھ--ڑی کا پیپلز پارٹی میں نہیں ہے ورنہ قیامت کے دن بینظیر بھٹو کو ایسی انگریزی میں جواب دیتا تو چپیڑیں کھاتا- 😂😂
پاکستان میں تیل کی قیمتیں محض اس خدشے پر بڑھا دی گئیں کہ باب المندب اور آبنائے ہرمز بند ہونے سے تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
کاش اتنی مستقبل بینی باقی معاملات پر بھی ہو جایا کرے۔