مولانا فضل ارحمان اور JUI کو سپیکر پنجاب اسمبلی کا منہ توڑ جواب ۔
اگر حکومت ملے تو سب حلال اور اگر حکومت نا ملے تو اس فوج کی طرف ہرزہ سرائی ۔
ہمیں وہ وقت نہیں بھولا JUI کا وہ دور جب باوردی صدر منتخب کروانے کے لئے ووٹ دیتے رہے
مولانا فضل الرحمان کی ہمیشہ تکریم کی ان کو نہایت ادب احترام سے پکارا اور انہیں ایک زیرک سیاستدان سمجھا لیکن افسوس کہ مولانا نے وہ ریڈ لائن کراس کردی جس کی امید نہ تھی کیونکہ آپ فیلڈ مارشل پر تنقید کریں آپ ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی ایس پی آر پر طنز تیر چلائیں کوئی آپکو نہیں روکے گا کوئی آپکو نہ ٹوکے گا آپ عیوب سے یحییٰ ضیاع سے مشرف تک کے جرنیلوں کا لتاڑیں کوئی آپکو نہیں روکے گا لیکن دھرتی ماں پر جان قربان کرنے والے شہدا کی تضحیک کریں تو آپکو بخشا نہیں جائے گا چاہے آپکا تعلق کسی بھی سیاسی مذہبی جماعت سے ہو
ہمارے شہدا ہمارا فخر ہیں ہماری آزادی کی علامت ہیں
مولانا فضل الرحمان ایک کہنہ مشق سیاست دان اور ممتاز مذہبی رہنما ہیں، اس لیے ان سے الفاظ کے انتخاب میں زیادہ ذمہ داری کی توقع کی جاتی ہے۔ فوجی جوانوں کی وطن کے لیے قربانی کو ان کی تنخواہ سے جوڑنا نہ صرف غیرمنصفانہ ہے بلکہ شہداء اور ان کے خاندانوں کی دل آزاری کے مترادف ہے۔ کوئی شخص محض تنخواہ کے لیے اپنی جان نہیں دیتا۔ جان کی قربانی کے پیچھے کسی نظریے، عقیدے، فرض اور وطن سے گہری وابستگی ہوتی ہے۔ آپ حالات و واقعات یا طریقہ کار سے اختلاف کر سکتے ہیں، مگر اس نظریے، وابستگی، محبت اور قربانی کی توہین نہیں کر سکتے۔
ایسے وقت میں، جب دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے اور ماؤں کے جوان بیٹے (بشمول افواج پاکستان، دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سب سے بڑھ کر ہمارے سویلینز) روز قومی پرچم میں لپٹ کر واپس آ رہے ہیں، ان کی قربانی کو تنخواہ کا نتیجہ قرار دینا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہے۔ مولانا صاحب نے صرف ایک ادارے کو نہیں، ہزاروں شہداء، زخمیوں، بیواؤں، یتیم بچوں اور سوگوار والدین کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔
بھارت اسرائیل اور ان کی پراکسی اگر سمجھتی ہے کہ پاکستان کو چند غنڈے بدمعاش تباہ کر دیں گے تو جس ملک میں شہداء کے وارث باپ ایسے والہانہ اپنے شہید بیٹے کا استقبال کرتے ہیں۔
کوئی مائی کا لال اس ملک بال بھی بانکا نہیں کر سکتا۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد
کیا مولانا اسعد محمود کی والدہ اپنے بیٹے کیلئے یہ الفاظ استعمال کرسکتی ہیں جس کی جیب میں نیلا پاسپورٹ ہے اور بینک میں کتنا بیلنس ہے پتہ نہیں اور بلٹ پروف امپورٹڈ گاڑیوں میں سفر کرنے اور محلوں میں رہنے والا اسعد محمود اور اسکا باپ شہادت کا رتبہ کیا جانیں
@othman_t7@mohsinsami85 بھائی پہلی بات چھوڑ اگلی بات شروع اسکا جواب یہ ہے کہ سہولتکاری ہورہی صوبائی حکومت کی طرف سے وادی تیراہ میں اپریشن والا جھوٹ سب کو یاد اور ہرجگہ نگرانی کیسے ممکن اتنی لمبی سرحد ہے
کیا مولانا فضل الرحمن کا بیٹا میجر عدنان شہید جتنی تنخواہ کی خاطر مادر وطن حفاظت کرتے ہوئے اپنے سینہ پر گولی کھائے گا ؟ جواب کا انتظار رہے گا
یہاں مورخ لکھے گا کہ اسد محمود میجر عدنان کی مونچھ کے وال برابر نہیں ہے
اسلام آباد۔ درختوں کو پہلے کیمیکل لگا کر آگ لگائ جاتی ہے جس سے انکے تنے کمزور ہو جاتے ہیں اور ایک دھکا دینے سے گر جاتے ہیں۔ پھر انکی لکڑی چوری کر لی جاتی ہے اور پھر اس پورے علاقہ کو آگ لگا دی جاتی ہے ۔ یوں درخت جلنے کا تاثر دے دیا جاتا ہے جبکہ دراصل لکڑی چوری کی گئ ہوتی ہے۔
اکثر کہتا ہوں کہ مارگلہ ہلز میں آگ لگتی نہیں، لگائ جاتی ہے۔
مزکورہ ویڈیو میں بھی اسی جانب نشاندہی کی گئ ہے۔
جنگل کو آگ لگانے کی تیاری جاری تھی جبکہ رات شدید بارش کے سبب آگ پوری طرح نہ لگ سکی اور قدرت نے مافیا کو بے نقاب کر دیا۔
(ویڈیو کریڈٹ رانا ریئلٹر ٹک ٹاک اکاؤنٹ) ۔ نشاندہی کے لیئے بہن صائمہ کا شکریہ۔
@othman_t7@mohsinsami85 افغان حکومت ان دہشت گردوں سے برات کا اظہار نہیں کرتی اور انٹرنیشنل رپورٹس بھی اس بات کی تصدیق کہ افغانستان میں دہشتگردی کی سرپرستی ہورہی پاکستان پر یہ الزام انٹرنیشنلی مسترد ہوچکے کھوتے گھوڑے کو مکس مت کریں
@Aadiiroy2 ہرجگہ یہی حال ہے وجہ صرف عوامی نمائندوں کی بے توقیری منہ زور بیوروکریسی جو لمبی دیہاڑیاں لگاکے زلیل عوام کو کررہے بدنام حکومت ہوریی ہے سب اچھا کی رپورٹ دینے والے چکنائیزر سونے پہ سہاگہ
دیکھیں وزیر اعظم صاحب ہم نے نون لیگ کو بہت سپورٹ کیا ہے اور کریں گے لیکن ایسا لگتا ہے آپ تو بھول گئے ہیں آپ عوامی وزیر اعظم ہیں کبھی بجلی کے بلو میں زیاتی کبھی کسی اور چیز میں کیا چاہ رہے ہیں عوام خودکشی کر لے۔