علامہ فاروق الحسن صاحب کو 8 ماہ سے جیل میں رکھا گیا ہے، لیکن ان کے چہرے پر آج بھی مسکراہٹ قائم ہے۔
وہ آج بھی تحریک کے ساتھ اور سعد بھائی کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں۔
یہی استقامت اور ثابت قدمی حسینی ہونے کی نشانی ہے۔
Release Saad Rizvi
@Khaqanabbasifan یار وہ جو شیعت ماتم کر رہی، سڑکیں بند، خونخوار درندے دندناتے پھرتے، متشدد سوچ، چھریاں زنجیریں آگ شعلے، ان سب پر بات کیوں نہی کرتے تم؟
کیا صرف دربار ہی ٹارگٹ کرنے؟لگتا ہے تم نئے رنگروٹ بھرتی ہوے ہو۔۔۔۔
مجھے راولپنڈی میں محرم الحرام کے عاشورہ جلوس کو کور کرتے اور دیکھتے ہوئے 17 سال ہو چکے ہیں۔ پہلی بار یہ اعتراف کرنا پڑ رہا ہے کہ اس مرتبہ انتظامات انتہائی شاندار اور قابلِ تعریف تھے، جس پر مریم نواز اور انتظامیہ تعریف کی مستحق ہیں۔
شدید گرمی کے باوجود فوگ مشینوں کے ذریعے ٹھنڈک کا بہترین انتظام کیا گیا، جبکہ صفائی کے حوالے سے بھی غیر معمولی اقدامات نظر آئے۔ جلوس کے دوران ورکرز مسلسل پانی کی خالی بوتلیں جمع کرتے رہے اور سڑکوں کو صاف رکھتے رہے، جس سے انتظامی کارکردگی واضح طور پر دکھائی دی۔
تاہم مختلف مقامات پر بعض ایس ایچ اوز اور پولیس اہلکاروں کے رویے سے متعلق شکایات بھی سامنے آئیں، جن کا جائزہ لے کر بہتری کے لیے اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
ننھی منتہا کیس میں واضح طور پر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
حنیف کریانہ اسٹور کو شہری انتظامیہ نے بھاری مشینری سے منہدم کرکے جائے وقوعہ اور تمام کرائم سین کو صاف کردیا ہے! جبکہ ابھی کیس کی تفتیش مکمل نہیں ہوئ یہ کونسے قانون اور قاعدے کے تحت کیا گیا ہے؟
اس کیس کے وقوعہ کے پہلے دن یہ بیان سامنے آیا کہ اس واردات میں دو ملزمان ملوث ہیں جو دکان میں موجود تھے۔ اس کے بعد منتہا کے ماموں کا بیان آیا کہ بچی کی گمشدگی کے بعد جب انہوں نے بچی کی تلاش شروع کی اور حنیف کریانہ اسٹور سے زرا فاصلے پر خان کراکری اسٹور کے CCTV کیمرہ کی کلپ کھلوا کر دیکھی تو بچی 11بج کر 3 منٹ پر دکان کے اندر داخل ہوتی نظر آئ۔ انہوں نے 11 بج کر 33 منٹ تک کی وڈیو دیکھی مگر بچی دکان سے نکلتی نظر نہیں آئ۔ اس کے بعد انہوں نے دوسرے کارنر پر واقع ایک دکان کی CCTV فوٹیج دیکھی کہ شاید بچی پچھلی طرف سے نکل گئ ہو مگر ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔ جب یہ اھل علاقہ کے چند افراد کے ساتھ دکان کے اندر گئے تو دکاندار کاؤنٹر پر موجود تھا۔ اس کے علاوہ دکان میں چار ملازمین اسٹور میں اور اوپری منزل پر موجود گودام میں موجود تھے۔ ان لوگوں نے دکان کی اور اوپری منزل کے گودام کی تلاشی لی تو ان کو کچھ نظر نہیں آیا۔ اوپر سامان کے کارٹن اور کاٹھ کباڑ کچرا پڑا تھا۔ جب بچی کے ماموں نے ان سے پوچھا کہ بچی دکان میں داخل ہوتی نظر آئ ہے مگر باہر نکلتے نظر نہیں آئ تو ان پانچوں نے بتایا کہ بچی آئ تھی مگر سودا لے کر چلی گئ۔ ماموں نے اس دکان کی نگرانی نہیں چھوڑی اور پولیس کے آنے تک دکان پر مستقل نظر رکھی۔ جب پولیس تلاشی لینے دکان کے اندر داخل ہوئ تو SHO نے بھی پوچھ گچھ کی۔ مگر ان لوگوں نے وہی بیان دیا کہ بچی سودا لے کر چلی گئ تھی۔ اس دوران SHO نے ایک بندے کے جوتے پر کچھ خون کے نشانات دیکھ کر جب پولیس کے روایتی طریقے سے تفتیش کی تو سب پتہ چل گیا اور بچی کی لاش دکان کے ایک کونے میں کچرے اور کارٹن کے نیچے سے برامد کرلی گئ!
یہاں اس شخص کا نام نہیں بتایا گیا جس کے جوتے پر خون کے قطرات دیکھ کر SHO نے تفتیش کی۔ دوسری بات یہ کہ اگر وقوعہ کے وقت یہ پانچوں دکان میں موجود تھے تو اصولا” تو بچی کو کاونٹر پر بیٹھے حنیف کو پیسے دے کر سودا لے جانا تھا۔ دکاندار کی موجودگی میں بچی اوپر کیسے پہنچ گئ؟اگر ارسلان اصل مجرم ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ دکاندار اور دیگر تین افراد کی دکان میں موجودگی کے باوجود بچی کو اوپر لے گیا اور سب کچھ کیا مگر باقی سب گونگے بہرے بنے رہے؟ اگر یہ سب اس جرم میں ملوث نہیں ہیں تو پھر بچی کے دکان سے سودا لے کر چلے جانے کا بیان کیوں دیا؟ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ دکاندار کی چند روز پہلے بچی کے والد سے کسی بات پر بحث و تکرار ہوئ تھی جس پر دکاندار نے بچی کے والد کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی تھیں؟
تو پھر پولیس نے کس بنیاد پر صرف ارسلان کو مجرم ٹھہرا کر اس کو پار لگادیا؟ جبکہ بتایا جارہا ہے کہ ارسلان گزشتہ تین سال سے دکان پر ملازم تھا مگر اس کی طرف سے ماضی میں ایسی کوئ شکایت نہیں ملی جبکہ یقینا” اگر بچی ریگولرلی ان کی دکان پر آتی تھی تو پہلے بھی درجنوں بار آچکی ہوگی۔
کہیں ایسا تو نہیں کہ اصل مجرم کوئ اور ہو مگر دکاندار نے بھاری معاوضے کا لالچ دے کر ارسلان کو الزام اہنے سر لینے کا کہا ہو اور بعد از گرفتاری ضمانت وغیرہ کا بھی وعدہ کیا ہو؟ مگر کوئ بھی ذی شعور اس قدر گھناؤنے اور شیطانی جرم کا الزام اپنے سر نہیں لے سکتا۔
باقی چار ملزمان کی نہ تو تصاویر شئر کی جارہی ہیں اور نہ ان سے متعلق کوئ دیگر تفصیل جاری کی جارہی ہے جبکہ حالات و واقعات کے مطابق تو یہ بھی جرم میں برابر کے شریک ہیں۔ DNA اور فارنسک کی رپورٹ آنے سے پہلے کیسے پولیس نے ارسلان کو پکا مجرم قرار دے کر پار لگا دیا؟
پولیس کا کسی ایک شخص کو مرکزی ملزم قرار دینا عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب اس کے خلاف ابتدائی شواہد، اعترافی بیان، برآمدگی، فارنزک شواہد یا دیگر قرائن موجود ہوں۔ تاہم عوامی سطح پر سامنے آنے والی معلومات اکثر مکمل نہیں ہوتیں۔ DNA اور فارنزک رپورٹس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ حتمی طور پر یہ رپورٹس ہی واضح کرتی ہیں کہ جرم میں کون ملوث تھا اور کس حد تک ملوث تھا۔ اگر تفتیش ابھی جاری ہو تو مزید گرفتاریاں یا الزامات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
مزید مشکوک کرنے والی تازہ ترین خبر یہ ہے کہ شہر کی انتظامیہ نے کرین اور دیگر مشینوں کے ذریعے حنیف کریانہ اسٹور کو منہدم Demolish کردیا ہے۔ یعنی کیس کی مکمل تفتیش ختم ہونے سے پہلے ہی جائے وقوعہ اور تمام اہم ترین ثبوت مکمل طور پر ختم کردئے گئے ہیں۔ یہ اقدام پولیس اور انتظامیہ کی نیت اور کارکردگی پر انتہائ سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھاتا ہے۔ یہ کس قانون یا اصول کے تحت کیا گیا ہے؟
ننھی منتہا کیس میں واضح طور پر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
حنیف کریانہ اسٹور کو شہری انتظامیہ نے بھاری مشینری سے منہدم کرکے جائے وقوعہ اور تمام کرائم سین کو صاف کردیا ہے! جبکہ ابھی کیس کی تفتیش مکمل نہیں ہوئ یہ کونسے قانون اور قاعدے کے تحت کیا گیا ہے؟
اس کیس کے وقوعہ کے پہلے دن یہ بیان سامنے آیا کہ اس واردات میں دو ملزمان ملوث ہیں جو دکان میں موجود تھے۔ اس کے بعد منتہا کے ماموں کا بیان آیا کہ بچی کی گمشدگی کے بعد جب انہوں نے بچی کی تلاش شروع کی اور حنیف کریانہ اسٹور سے زرا فاصلے پر خان کراکری اسٹور کے CCTV کیمرہ کی کلپ کھلوا کر دیکھی تو بچی 11بج کر 3 منٹ پر دکان کے اندر داخل ہوتی نظر آئ۔ انہوں نے 11 بج کر 33 منٹ تک کی وڈیو دیکھی مگر بچی دکان سے نکلتی نظر نہیں آئ۔ اس کے بعد انہوں نے دوسرے کارنر پر واقع ایک دکان کی CCTV فوٹیج دیکھی کہ شاید بچی پچھلی طرف سے نکل گئ ہو مگر ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔ جب یہ اھل علاقہ کے چند افراد کے ساتھ دکان کے اندر گئے تو دکاندار کاؤنٹر پر موجود تھا۔ اس کے علاوہ دکان میں چار ملازمین اسٹور میں اور اوپری منزل پر موجود گودام میں موجود تھے۔ ان لوگوں نے دکان کی اور اوپری منزل کے گودام کی تلاشی لی تو ان کو کچھ نظر نہیں آیا۔ اوپر سامان کے کارٹن اور کاٹھ کباڑ کچرا پڑا تھا۔ جب بچی کے ماموں نے ان سے پوچھا کہ بچی دکان میں داخل ہوتی نظر آئ ہے مگر باہر نکلتے نظر نہیں آئ تو ان پانچوں نے بتایا کہ بچی آئ تھی مگر سودا لے کر چلی گئ۔ ماموں نے اس دکان کی نگرانی نہیں چھوڑی اور پولیس کے آنے تک دکان پر مستقل نظر رکھی۔ جب پولیس تلاشی لینے دکان کے اندر داخل ہوئ تو SHO نے بھی پوچھ گچھ کی۔ مگر ان لوگوں نے وہی بیان دیا کہ بچی سودا لے کر چلی گئ تھی۔ اس دوران SHO نے ایک بندے کے جوتے پر کچھ خون کے نشانات دیکھ کر جب پولیس کے روایتی طریقے سے تفتیش کی تو سب پتہ چل گیا اور بچی کی لاش دکان کے ایک کونے میں کچرے اور کارٹن کے نیچے سے برامد کرلی گئ!
یہاں اس شخص کا نام نہیں بتایا گیا جس کے جوتے پر خون کے قطرات دیکھ کر SHO نے تفتیش کی۔ دوسری بات یہ کہ اگر وقوعہ کے وقت یہ پانچوں دکان میں موجود تھے تو اصولا” تو بچی کو کاونٹر پر بیٹھے حنیف کو پیسے دے کر سودا لے جانا تھا۔ دکاندار کی موجودگی میں بچی اوپر کیسے پہنچ گئ؟اگر ارسلان اصل مجرم ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ دکاندار اور دیگر تین افراد کی دکان میں موجودگی کے باوجود بچی کو اوپر لے گیا اور سب کچھ کیا مگر باقی سب گونگے بہرے بنے رہے؟ اگر یہ سب اس جرم میں ملوث نہیں ہیں تو پھر بچی کے دکان سے سودا لے کر چلے جانے کا بیان کیوں دیا؟ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ دکاندار کی چند روز پہلے بچی کے والد سے کسی بات پر بحث و تکرار ہوئ تھی جس پر دکاندار نے بچی کے والد کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی تھیں؟
تو پھر پولیس نے کس بنیاد پر صرف ارسلان کو مجرم ٹھہرا کر اس کو پار لگادیا؟ جبکہ بتایا جارہا ہے کہ ارسلان گزشتہ تین سال سے دکان پر ملازم تھا مگر اس کی طرف سے ماضی میں ایسی کوئ شکایت نہیں ملی جبکہ یقینا” اگر بچی ریگولرلی ان کی دکان پر آتی تھی تو پہلے بھی درجنوں بار آچکی ہوگی۔
کہیں ایسا تو نہیں کہ اصل مجرم کوئ اور ہو مگر دکاندار نے بھاری معاوضے کا لالچ دے کر ارسلان کو الزام اہنے سر لینے کا کہا ہو اور بعد از گرفتاری ضمانت وغیرہ کا بھی وعدہ کیا ہو؟ مگر کوئ بھی ذی شعور اس قدر گھناؤنے اور شیطانی جرم کا الزام اپنے سر نہیں لے سکتا۔
باقی چار ملزمان کی نہ تو تصاویر شئر کی جارہی ہیں اور نہ ان سے متعلق کوئ دیگر تفصیل جاری کی جارہی ہے جبکہ حالات و واقعات کے مطابق تو یہ بھی جرم میں برابر کے شریک ہیں۔ DNA اور فارنسک کی رپورٹ آنے سے پہلے کیسے پولیس نے ارسلان کو پکا مجرم قرار دے کر پار لگا دیا؟
پولیس کا کسی ایک شخص کو مرکزی ملزم قرار دینا عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب اس کے خلاف ابتدائی شواہد، اعترافی بیان، برآمدگی، فارنزک شواہد یا دیگر قرائن موجود ہوں۔ تاہم عوامی سطح پر سامنے آنے والی معلومات اکثر مکمل نہیں ہوتیں۔ DNA اور فارنزک رپورٹس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ حتمی طور پر یہ رپورٹس ہی واضح کرتی ہیں کہ جرم میں کون ملوث تھا اور کس حد تک ملوث تھا۔ اگر تفتیش ابھی جاری ہو تو مزید گرفتاریاں یا الزامات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
مزید مشکوک کرنے والی تازہ ترین خبر یہ ہے کہ شہر کی انتظامیہ نے کرین اور دیگر مشینوں کے ذریعے حنیف کریانہ اسٹور کو منہدم Demolish کردیا ہے۔ یعنی کیس کی مکمل تفتیش ختم ہونے سے پہلے ہی جائے وقوعہ اور تمام اہم ترین ثبوت مکمل طور پر ختم کردئے گئے ہیں۔ یہ اقدام پولیس اور انتظامیہ کی نیت اور کارکردگی پر انتہائ سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھاتا ہے۔ یہ کس قانون یا اصول کے تحت کیا گیا ہے؟
ماڈل ٹاون لاہور سے تعلق رکھنے والے اس امیر کبیر سید ذادے نقوی rapist کو CCD نے مقابلے میں پار کیوں نہیں لگایا ؟؟
حنا پرویز بٹ صاحبہ !! معذرت کے ساتھ ،، اگر اس بچی کی جگہ آپ کی بیٹی ہوتی ؟؟
@hinaparvezbutt@MaryamNSharif
فیض آباد میں بھی پانی بند ہوا اور کربلا میں بھی پانی بند ہوا
کربلا میں بھی یزید نے پانی بند کیا۔
فیض آباد میں بھی پانی یزیدیوں نے ہی بند کیا۔
کربلا میں مولا حسینؓ آئے تھے۔
فیض آباد میں حسینؓ کا خادم آیا تھا۔
#ہر_زمانہ_میرے_حسین_کا#ڈٹ_جاو_حسین_کے_انکار_کیطرح
🚨شیعہ جواد نقوی ملعون کی کاتب وحی صحابی رسول حضرت امیر معاویہ رضی اللّٰہ عنہ کی شان میں بدترین گستاخی‼️⚠️
ادارے ففلور اِس ملعون کو گرفتار کریں اور کیفرِ کردار تک پہنچائیں
سرگودھا تھانہ جھال چکیاں کی حدود میں
بااثر افراد کی طرف سے زیادتی کا نشانہ بنانے کی شکایت پر بچے کو زندہ دفن کر دیا
مقامی ذرائع کے مطابق 12/13سالہ بچہ غلام رسول ولد مظہر قوم ماچھی کل سے لاپتہ تھا۔
دفن کیے گئے بچے نے ہوش میں آنے پر چلانا شروع کیا تو قریبی کھیت میں موجود لوگوں نے پولیس کو اطلاع دی۔
بچے کو طبی امداد کے لیے ڈسٹرکٹر ہیڈکوارٹر اسپتال سرگودھا منتقل کیا گیا۔
ملزمان تاحال مفرور ہیں۔
اوورسیز پاکستانی یہ ایف بی آر کا اعتراف جرم دیکھ لیں جنہوں نے عام پاکستانی شہری کے اکاونٹ سے پیسے چرائے۔ لہذا اب پاکستانی بینکنگ پر اعتماد کرنے کی بجائے اپنی سیونگ بچانے کیلیے کوئی اور حل نکالیں۔
FBR response to Mr. Arsalan Adam’s tax grievance letter:
Mr. Adam presents himself publicly as a non-resident expat.Yet when filing his own income tax returns for 2017&2018,he declared himself a resident individual,a status that carries full tax liability under Pakistani law.1/6
آپ نہیں خریدو گے تو مروگے نہیں ، لیکن اگر آپ خریدو گے تو وہ مرجائیں گے۔
ترکی کے گلی کوچوں میں یہ ایمانی صدائیں لگاتا ہمارا مسلمان بھائی صرف ترکی ہی نہیں پوری دنیا میں اپنی پکار پہنچا رہا ہے۔
بس کوئی ہے جو لبیک کہے۔
سلمان علی کی اس وڈیو میں آپ بھی اس ایمانی پکار کو عمل میں ڈھالیں
#shaoorfeed ##uncleboycott #Turkeynews #GlobalSolidarity #FaithInAction #shaoornews