Bara Police Station is still under attack by the TTP, and the police are still fighting there, while the Peshawar CCPO’s account is busy posting TikTok edits.
Roma fielded their youngest XI in 5 years: average age just 24 🐺
Missing 9 starters and coming off a UCL week, they still won.
Gasperini promoted 19 year old Lulli from the youth team & he scored his first goal.
One of the few in Italy who trusts youth.
Bravo Gasperini 👏
آج باجوڑ میں ہونے والی خونریزی نے مجھے ایک پرانا واقعہ یاد دلا دیا جب یوسف رضا گیلانی کے دور حکومت میں باجوڑ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر خلیل نے ایک حکومتی وزیر اور عمران خان کی موجودگی میں بتایا کہ کس طرح باجوڑ میں بے گناہوں کا قتل عام ہو رہا تھا اور انکے بیٹے کی ٹانگیں کاٹنی پڑ گئیں پندرہ بیس سال سے وہاں حالات جوں کے توں ہیں
اگر خیبر پختونخوا کے بارہ اضلاع کی ترقی کے لئے بنائی گئی مشاورتی کونسل میں مرحومین بھی شامل ہیں تو کیا اسکا مطلب یہ ہوا کہ فیصلہ سازوں نے کونسل کے اراکین کے ناموں کا اعلان کرنے سے قبل ان سے مشورہ کرنا بھی ضروری نہ سمجھا؟ یہ کون سے محب وطن ہیں جوہمیں اپنی دن رات محنت کی کہانیاں سناتے ہیں اور انکی بنائی گئی کونسل ایک سکینڈل بن چکی ہے؟ ایسی کونسل جس میں شامل کچھ زندہ ارکان کونسل سے اعلان لاتعلقی کر رہے ہیں اس کونسل اور گورنر راج کی کیا ساکھ رہ گئی؟ اس سے بڑی ملک دشمنی کیا ہو گی کہ آپ نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے ایک صوبے میں گورنر راج لگایا اور جو کونسل بنائی اس میں مرحومین کو شامل کر دیا۔ کیا اس کونسل کا اعلان کرنے والی اصل اتھارٹی پشاور کی بجائے کہیں اور ہے؟
اس حوالے میں نے ہر میٹنگ میں یہی بات کی ہیں،کہ پورے محکمے اور 4000 لیز ہولڈرز کو ایک مخصوص جماعت کیساتھ جوڑ کر روزگار چھیننا کہاں کا انصاف ہے؟ اس مطلب پھر صاف ہیں، کہ کسی طرح تمام لیز ہولڈرز کو مشکوک بناکر پروپیگنڈا کرکے عوامی رائے کو ہموار کرکے اسے ختم کردیں اور حوالدار صاحب گورنر راج اور ایمرجنسی کا فایدہ اٹھا کر اس پر لارج اسکیل لائسنس اپنے جاری کرکے قبضہ کرلیں، اور جس طرح امریکی بہادر سے بات پہلے جو کی جاچکی ہیں اس مقصد کو پورا کردیں،
مگر ھم ایسا ہرگز نہیں ہونے دینگے، پچھلے سال 2025 جس طرح گنڈا پور سرکار نے SIFC کے طرف سے بھیجی گئے ڈرافٹ کو کابینہ سے منظور کرکے اس بل کو اسمبلی میں ٹیبل کیا، اور اس منرلز ایکٹ 2017 میں تبدیل کرنے اور مسلط کرنے کی کوشش ہوئی، تو سب سے پہلے میں نے اسے پختونخوا کے عوام کے سامنے ایکسپوز کیا اور اسمبلی فلور پر اسکی بھرپور مخالفت کی، اور پختون قوم کی میراث پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو عوام کے سامنے ننگا کیا، اس وقت عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت نے اس ایشو پر جسطرح پوری قوم کو متحد کیا اور جرگے منعقد کی، سیمینارز، ال پارٹیز کانفرنس سمیت مظاہرے بھی کیے جس کی بدولت اس صوبائی حکومت کو مجبور کرکے اس بل کو ڈرافٹ آؤٹ کیا،
میں ہرگز صوبائی حکومت کا دفاع نہیں کرنا چاہتا مگر حقائق کے منافی ریاستی پروپیگنڈا ٹیک نہیں،
احتساب ضرور کریں، مگر ثبوت، قانون اور حقائق کی بنیاد پر، ھم خود چاہتے ہیں کہ احتساب ہو اور سرعام ہو۔محکمہ معدنیات میں جہاں خامیاں ہیں،انہیں درست کیا جائے، جہاں کرپشن ہے اسے بے نقاب کیا جائے۔ لیکن پختونخوا کی وسائل پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش ہرگز نا کریں۔ یہ اس پختونخوا کی عوام کا مشترکہ میراث ہیں، اور اسکا دفاع ہرصورت میں کرینگے۔
احتساب کی مخالف نہیں۔ اگر کسی بھی معدنی لیز میں حکومتی دباؤ، اقرباپروری، رشوت، اختیارات کے ناجائز استعمال یا قانون شکنی کے شواہد موجود ہیں، تو ان کی مکمل تحقیقات ضرور ہونی چاہیئں اور ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔
لیکن اسکی پس پردہ اگر کوئی اور منصوبہ بندی ہورہی ہیں تو ھم اسکو ایکسپوز کرتے رہینگے۔!!!
نثار باز خان
پچھلے دو سال سے میں رکن صوبائی اسمبلی کے حثیت سے صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی ماینز اینڈ منرل کا ممبر ہو، اور محکمہ معدنیات پختونخوا کا ریکارڈ ھمارے ساتھ کمیٹی میں ڈسکس کیا جاتا رہا، اور تقریباً یہ سب مندرجہ ذیل باتیں ھمارے ریکارڈ کا حصہ ہیں،
محکمہ معدنیات پختونخوا نے لارج اسکیل لائسنس 4 چار جاری کی ہیں، جس میں ایک لارج اسکیل لائسنس ایف ڈبلیو او کے پاس ہے، وزیرستان میں کاپر کی کان کنی ہورہی ہیں، 2016 میں یہ لاسینس ایف ڈی ایم اے کے پاس تھا جس کیساتھ ایف ڈبلیو او نے جائنٹ وینچر کرکے حاصل کیا ہے، 2017 میں پختونخوا ماینز اینڈ منرل ایکٹ بنا، اب ایک ہی لارج اسکیل لائسنس فنکشنل ہے اور وہ وزیرستان میں کاپر کی ہے ایف ڈبلیو او کے پاس ہے،
اس کا رقبہ 30 مربع کلومیٹر یعنی 7,410 ایکڑ ہے، جو 37 عام لیزوں کے برابر ہے۔ مقامی عوام کو صرف 50 سے 500 ایکڑ دیا جاتا ھے
محکمہ معدنیات کے ریکارڈ کے مطابق وہاں سے 2016 سے 2024 تک 987,000 ٹن کاپر نکالا گیا، جس میں پچھلے دو سال کا ریکارڈ شامل نہیں 2025,26 کا، اسکے باوجود ایف ڈبلیو او نے 10 لاکھ ٹن کاپر اوپن بولی کے ذریعے فروخت اور ایکسپورٹ کیا۔
اب اسکے پراسیسنگ کرکے 25٪ سے لیکر 30 فی صد کاپر تیار کرکے مارکیٹ میں بیچھتے ھیں، اج انٹرنیشنل مارکیٹ میں 25٪ کاپر کا ریٹ 9500 ڈالر جبکہ 30٪ کاپر کا ریٹ 11500 ڈالر فی ٹن ھے،
اب اس کاپر کی مالیت صحافی حامد میر کے بیان کردہ 7 لاکھ روپے فی ٹن نرخ کے حساب کے مطابق اس نکالی گئی کاپر کی مجموعی مالیت تقریباً 6.9 کھرب روپے بنتی ہے۔
اب پختونخوا کی محکمہ معدنیات ایکٹ 2017 کے معدنی قانون کے مطابق 5٪ رائلٹی کے حساب لگا کر تقریباً 34.5 ارب روپے بنتے ہیں، جبکہ محکمہ معدنیات کی ریکارڈ کے مطابق محکمہ معدنیات کو صرف 16.9 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔
جب مجھ سمیت دیگر ممبران اسمبلی احمد کریم کنڈی، ایم پی اے عدنان خان سمیت دیگر سیکٹری معدنیات، ڈی جی معدنیات سے اس حوالے سوال اٹھائے کہ کیوں پورا حساب کتاب نہیں دیا جارہا ہیں، تو بچارے خاموش ہو جاتے اور اکثر کہتے ہیں کہ سر ھم کچھ نہیں کرسکتے۔ یہ سب باتیں کمیٹی ریکارڈ کا حصہ ہیں، اور ھمارے پاس ڈاکومنٹس کی شکل میں بھی موجود ہیں،
بشرط یہ کہ اگر اب اس گورنر راج اور ایمرجنسی کی مارشلائئ دور میں محمکہ معدنیات کی ریکارڈ میں ردوبدل نا کریں۔۔
اب آتے ہیں احتساب کے طرف، کہ سب سے پہلے کس کا؟ جب صوبے کی 4000 زیادہ چھوٹے لیز ہولڈرز کی مجموعی سالانہ آمدن تقریباً 14 ارب روپے تک پہنچ چکا ہیں، تو دوسری طرف صرف ل اس ایک لیز ( وزیرستان کاپر ) کی مبینہ رائلٹی 33 ارب روپے بنتی ہے اور ادائیگی صرف 16.9 کروڑ دیکر باقی رقم نہیں دیتے،تو ائیں سب سے پہلے اس کا شفاف آڈٹ اور احتساب تو کریں۔؟
ہاں میں مانتا ہوں کہ پی ٹی آئی کی ناقص حکمرانی کے ساتھ ھمارا اختلاف تھا اور رہے گا، کیونکہ اسکے دور حکومت میں اقربا پروری، کرپشن سب کچھ ہو رہا تھا، ھم بھی اسکے ساتھ اختلاف رکھتے ہیں،
لیکن ریکارڈ کو دروست رکھنے کیلے یہ لمبی تحریر لکھنا پڑھ رہا ہیں، تاکہ پنجاب کی سول ملٹری اشرافیہ نے جس طرح پچھلے دو دنوں سے عوام کو گمراہ کرنے کی مذموم کوشش شروع کر رکھے ہیں، اسکے آڑ میں پختونخوا کی موجودہ تمام چھوٹے لیز ہولڈرز کی لایسینز مشکوک کرکے ختم کرنے کی سازش ہورہی تاکہ اسے ختم کرکے کمپنی سرکار اپنے لیے لارج اسکیل لائسنس کا اجراء کرکے ھمارے وسائل پر قبضہ جمانے کی کوشش ہورہی ہیں،
اب آتے موجود چھوٹے لائسنس کی اجراء کے بارے میں بات کرکے ہیں،
محمکہ معدنیات پختونخوا نے آن لائن پورٹل 2017 میں رسالپور میں سیکیورٹی ادارے نے محکمہ معدنیات کو تربیت دے کر شفاف آن لائن پورٹل نظام تیار کروایا، جس سے شہری گھر بیٹھے لائسنس کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
2024 میں مائن اونرز ایسوسی ایشن نے میڈیا اور اداروں کو بتایا کہ فیسیں اور کاغذات مکمل ہونے کے باوجود 7000 درخواستوں پر لائسنس جاری نہیں ہوئے۔
اس ایشو کو کمپنی سرکار کی حکم پر نیب نے نوٹس لیا، اور اکتوبر 2024 میں نیب نے مشترکہ پریوینشن کمیٹی کے ذریعے جانچ پڑتال کی اور زیرِ التوا لائسنسوں کا معاملہ فوری حل کرنے پر زور دیا۔
نیب اعلامیے کے بعد محکمہ معدنیات کی اس وقت کی ڈائریکٹر جنید خان نے درخواستوں کی پراسیسنگ شروع کی اور قانونی تقاضے پورے کرنے والوں کو لائسنس جاری کیے۔ اور کمیٹی میں باقاعدہ رپورٹ پیش کیا،
ان 4000 سے زیادہ لیز ہولڈرز میں مختلف سیاسی جماعتوں کے افراد، ریٹائرڈ فوجی افسران اور پاکستان بھر کے شہری شامل ہیں۔ اور یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہیں،
اس حوالے سے ھمارا موقف بڑا واضح ہیں کہ ان لیزوں میں بے ضابطگیاں اور بی قاعدگیاں ہوئیں ہیں تو ان کی تحقیقات ضرور ہونا چاہیے، اور ـــــــ 1/2
@UmerOrakzai1@awaheedmurad اپنے مرضی کے جواب سے آپ کی کم معلومات میں اضافہ نہ ہو رہا بلکہ یہ جہالت کے زمرے میں آتا ہے سر۔۔
اللہ خوش رکھے۔۔ اور کسی بھی بری بات کیلئے معذرت
یہ آرٹی فیشل انٹیلی جینس کے ذریعہ بنی جعلی ویڈیوز کا دور ہے لیکن نواز شریف کی طرف سے شفیع نقی جامی صاحب کو BBC کے لئے دئیے گئے انٹرویو کی یہ ویڈیو اصلی ہے جس میں نوازشریف صاحب سے پوچھا جا رہا ہے کہ ANP اور PPP پر حملے ہوتے ہیں PML-N اور PTI پر حملے کیوں نہیں ہوتے جواب میں نواز شریف صاحب کہتے ہیں زرداری حکومت نے طالبان سے مذاکرات کیوں نہیں کئے؟
افوس ہے سر کی آپ لوگ اسی بات کا کریڈٹ لیتے ہو کہ ہم مے جانیں دیں ہیں۔ بلکل سچ ہے یہ بات۔
لیکن ساتھ یہ سچ بھی بولیں کہ اے این پی نے سارے قبائل علاقہ جات میں آپریشن کرنے کی اجازتیں دی اور پاکستان ایک نہ ختم ہونے والے جنگ میں ہے آج تک۔
اسی کا طعنہ دے رہے ہو کہ تم بھی سائن کرتے۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے لیے ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے زیادہ ذمہ دار پی ٹی آئی کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے حالات کو اس نہج تک پہنچایا اور مذاکرات کو ناکام بنایا۔ پی ٹی آئی کے وزیراعلیٰ کے رویے کے باعث معاملہ سیاسی حل کی طرف نہ بڑھ سکا۔ یہ بات بھی کہی جا رہی ہے کہ وہ کسی کے اشارے پر یہ سب کچھ کر رہے تھے، کس کے اشارے پر کررہے تھے، یہ بھی سامنے آجائے گا
پشاور میں پولیس چوکی پر دہشت گردوں کا حملہ، ایک اہلکار شہید ہوگیا، ٹانک میں پولیس اسٹیشن پر دہشت گردوں کا ڈرون حملہ ناکام، کوئی جانی نقصان نہ ہوا۔ گزشتہ روز بھی باجوڑ میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے قبائلی رہنما ملک اکرام شہید ہوگئے۔
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
According to Intelligence source the PTI leader & former Federal Minister Murad Saeed is hiding in eastern Afghanistan. Kabul based Intel say Murad Saeed is in Sharana city of Paktika province Afghanistan sheltered by the Afghan Taliban local leader Abdul Khalique Akhund. However, officuals sources in Afgjanistan are unable to confirm the presence of PTI leader in Kabul.
جھوٹ اور فریب تم لوگوں پر ختم ہے۔۔ منافقت بھی شرمندہ ہے۔
یہ بسیں اللہ کے نام پر نہیں دی گئی اور نہ آلو ٹماٹر ہیں کہ ایک دن میں دکان سے خرید کر لے آؤ۔
پولیس والی گاڑیوں کا ذکر تو سی ایم صاحب کر چکے اسمبلی فلور پر اس کا کریڈٹ بھی کسی اور کو؟؟
کیسے صحافی ہیں یہ۔
انتظار کی گھڑیاں ختم، خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز، کہیں انڈر پاس تعمیر ہو رہے ہیں تو، کہیں فلائی اوور، کہیں شہریوں کے لیے نئی بسیں ارہی ہیں تو کہیں پولیس کے لیے جدید بلٹ پروف گاڑیاں!
@azaad_urdu جھوٹ اور فریب تم لوگوں پر ختم ہے۔۔ منافقت بھی شرمندہ ہے۔
یہ بسیں اللہ کے نام پر نہیں دی گئی اور نہ آلو ٹماٹر ہیں کہ ایک دن میں دکان سے خرید کر لے آؤ۔
پولیس والی گاڑیوں کا ذکر تو سی ایم صاحب کر چکے اسمبلی فلور پر اس کا کریڈٹ بھی کسی اور کو؟؟
کیسے صحافی ہیں یہ۔