🚨"شوگر کین بنیادی طور پر ساحلی علاقوں کی فصل ہے۔ اس میں موجود سکروز سے چینی بنتی ہے، اور ساحلی علاقوں میں اگنے والے گنے میں سکروز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ جوں جوں آپ ساحل سے دور اور شمال کی طرف جاتے ہیں، سکروز کی مقدار کم ہوتی جاتی ہے۔ میری رائے میں پاکستان میں شوگر کین کی کاشت صرف چند اضلاع، مثلاً ٹھٹھہ، بدین اور سجاول تک محدود ہونی چاہیے۔ اسی طرح شوگر ملیں بھی انہی علاقوں میں ہونی چاہئیں۔
جب شوگر کی پیداوار بڑھتی ہے تو حکومت اسے ترقی کا نام دیتی ہے، حالانکہ یہ حقیقی ترقی نہیں بلکہ معیشت کے لیے نقصان دہ عمل ہے۔ اس میں حکومت کے خزانے سے پیسہ نکلتا ہے، اور دراصل وہ عوام کی جیب سے نکالا گیا پیسہ ہوتا ہے جو شوگر مل مالکان کو منتقل کیا جاتا ہے۔
لہٰذا صرف اعداد و شمار کو دیکھ کر ترقی کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں دوبارہ یہ طے کرنا ہوگا کہ ترقی دراصل ہوتی کیا ہے۔ پاکستان کے ابتدائی تیس برسوں میں، چاہے حکومت فوجی ہو یا سویلین، ایک واضح قومی وژن موجود تھا کہ ملک کو کس سمت لے جانا ہے اور ترقی کا ماڈل کیا ہوگا۔ انہی برسوں میں نمایاں پیش رفت بھی ہوئی۔
آج مسئلہ یہ ہے کہ ایسا کوئی واضح وژن نظر نہیں آتا۔ اب زیادہ زور اس بات پر ہے کہ وسائل اور مراعات طاقتور طبقات میں تقسیم کر دی جائیں اور پھر اعداد و شمار کے ذریعے یہ تاثر دیا جائے کہ ملک میں بہت ترقی ہو رہی ہے، جبکہ حقیقت اس سے مختلف ہے۔"
ڈاکٹر قیصر بنگالی
ماہر معاشیات
The sexual-misconduct charges against Karim Khan have nothing to do with the validity of the charges against Israel's Netanyahu & Gallant, which were upheld by a three-judge panel of the International Criminal Court. Israel is shameless to argue otherwise. https://t.co/3bXRHKc8V9
شیخ رشید جو ہر دور میں ڈیکٹیٹر کا ساتھی ہؤا کرتا تھا, آج 4 سال ہوگئے جیل کاٹی پریشر برداشت کیا, آج خاموش ہے لیکن ڈیکٹیٹر کا ساتھ نہیں دیا!
سب سے بڑی بات, عمران خان کے خلاف ایک لفظ نہیں بولا❤️
شیخ صاحب کوئی نہیں یہ دن بھی گزر جائے گے!!
@hend_mana can we have you live in AsiaOne News TV on and iran war. please @hend_mana
faraz
rundown producer
whatsapp + 92 3232900072
[email protected]