رنجیت سنگھ کیساتھ آپ کا مذہب نہیں ملتا ، جارج ، ایڈورڈ کے ساتھ آپ کی پھوپھی بیاہی ہوئی تھی؟ وکٹوریہ نانی لگتی تھی؟ الزبت�� آپ کی امی تھی ؟ ابھی ��گلے روز پاک فوج کے جوان ولایتی فوجی کپڑے پہنے سکاٹش دھنوں کے سائے میں ملکہ کی فوٹو کے سامنے ڈنر کررہے تھے وہاں تو کسی نے اس قدر کراہت کا اظہار نہیں کیا۔ کیوں نہیں ؟ امریکی سفارتخانے کی کوئی تقریب ہو، برطانوی سفارتخانے کی کوئی تقریب ہو ٹائی کوٹ اور ہاتھ باندھ کر جو وہاں کھڑے ہوتے ہیں وہ کیا تمہارے ہم مذہب ہیں؟ ہیں جی؟ نہیں جی۔ مسئلہ اس قدر سادہ نہیں ہے۔ مسئلہ ہے سارا خوئے غلامی کا۔ غلام فطرت کا اور غلام ذہنیت کا۔
ہم جیسے لوگ کم از کم تین چار ہزار سال سے اس خطے کے باسی ہیں۔ اسلام چودہ سو سال پرانا ہے۔ میرے علاقے میں اسلام ایک ہزار سال پہلے آیا۔ یقیننا ہمارے کوئی اجداد ہندو وغیرہ تھے۔ ممکن ہیں ہزار سال پہلے اسلام قبول نہ کیا ہو ، تین سو سال پہلے کیا ہو ، پھر ممکن ہے گورونانک سے متاثر بھی ہوتے ہوں۔ اب کیا اس کو جھٹلانا شروع کردیں؟ نئی نئی روایتیں گھڑ لیں؟ پٹھان دوستوں سے معذرت ایک روایت انہوں نے اپنے ہاں بنا رکھی ہے کہ ان کا کوئی سربراہ نبی کریم کے وقت میں اسلام قبول کرآیا، ایسی کوئی روایت کسی حدیث کسی تاریخ میں موجود نہیں۔ مسلمان لشکروں کی آمد کیساتھ یہ لوگ رفتہ رفتہ پارسی اور بدھ مت سے مسلمان ہوئے ،اگرچہ برصغیر کی دیگر کئی اقوام سے پہلے۔
زمانہ طالبعلمی میں ایک جگہ پارٹ ٹائم نوکری کی۔ وہاں ہم تین لوگ کام کرتے تھے۔ ہندو پنجابی ، سکھ پنجابی اور ادارہ یعنی ادارہ ہذا۔ کتنا ہی عرصہ ہم حیرت کا اظہار کرتے رہتے کہ ہمارا بچپن دو مختلف ملکوں میں بلکہ دشمن ملکوں میں گزرا لیکن ہمارے کھلونے تک ایک جیسے تھے۔ ہمارے شادی بیاہ کے رسم رواج ایک سے ، اوزار ایک سے ، کتنے ہی تہوار ایک جیسے ، ہماری طرف کوئی محفل میلاد ختم ہوتا تو ادھر وہ بھی کوئی پاٹھ کروا رہے ہوتے۔ کتنی ہی دفعہ حیرت سے کہتے اچھا تہاڈے پاسے وی؟ بس مجھے دو تین مہینے مجھے یہ سمجھ نا آئی کہ یہ مجھے چپکے چپکے سے جو کٹوا کہتے ہیں اس کا کیا مطلب ہوتا ہے۔ پھر ایک دن وہ بھی پتہ چل گیا۔
اب آتے ہیں کہ مسئلہ کہاں ہے۔ مسئلہ ہے غلامانہ فطرت کا۔ اسکی وجوہات کوئی دانشور بیان فرما لے ، ادارے کے پاس وجوہات کی بجائے مثالیں ہیں۔ انگریزوں سے ان کا کچھ نہیں ملتا۔ نا مذہب ، نا رواج ، نا زبان ، نا رنگت ، نا زمین کی وٹ سانجھی۔ لیکن کے پہناوے بھی پہنتے ہیں ، انکے زبان بھی بولتے ہیں اور ہرگز ان سے کراہت کا اظہار نہیں کرتے۔ کیونکہ وہ غالب ہیں ، طاقتور ہ��ں اور بس۔ کچھ بعید نہیں کہ اگر سکھ چیلیانوالہ میں انگریز سے نہ ہارتے اور پنجاب پر قبضہ برقرار رکھتے تو آج پاک فوج ملکہ کی فوٹو کی بجائے رنجیت سنگھ کی فوٹو کے نیچے بیٹھ کر ڈنر کرتی اور سکاٹش دھنوں کی بیٹ کی بجائے ڈھول بج رہا ہوتا۔ آخری مثال بھی پکڑ لیں ، آپ لوگ بھی فوج سے متاثر اس لیے ہیں کہ آپ کی بھی فطرت وہی ہے۔ طاقتور اور غالب سے دبنے والی۔ ورنہ آپ انکی حرکتوں سے اس وقت نفرت کررہے ہوتے۔
کچھ چیزیں جھٹلائی نہیں جاسکتیں۔ رنجیت سنگھ کی حکومت یہاں کی تاریخ ہے۔ رنجیت سنگھ اچھا جنگجو اور اچھا ایڈمنسٹریٹر تھا۔ انگریز نے رنجیت سنگھ سے کہیں زیادہ مسلمان مارے تھے ، جی ہاں پاک فوج نے انگریز اور رنجیت سنگھ دونوں سے کہیں زیادہ مسلمان مارے ہیں۔ لوٹ کا مقابلہ بھی انگریز اور پاک فوج کا ہوسکتا ہے۔ رنجیت سنگھ تو انکے سامنے بونا ہے۔ آپ کی غلامانہ فطرت ، غلام ذہنیت پر اگر گراں نہ گزرے تو جتنی گنجائش آپ اپنی نانی وکٹوریہ کے لیے پھوپھی الزبتھ کے لیے نکالتے ہیں اس سے تھوڑی سی کم ہمارے ہم زبانوں کے لیے نکال لیجیے۔
نفرت کرنی ئے تو پھر بھی میرٹ پر کیجیے۔ کسی اصول کی بنیاد پر کیجیے۔ ہر قابض ، ہر ظالم سے کیجیے۔ پھر رنجیت سنگھ سے بھی کیجیے انگریز سے بھی کیجیے اور پاک فوج سے بھی کیجیے۔