نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے اضافی ٹول کا معاملہ کیسے کھلا ؟؟؟ یہ وکیل محمد جلال حیدر ہیں جو کچھ عرصہ قبل موٹروے پر جا رہے تھے اضافی ٹول ان سے وصول کیا گیا انہوں نے اس نوٹیفکیشن کی تلاش شروع کی وہ بڑی مشکل ان کو ملا انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ چیلنج کیا آج ہائیکورٹ نے اس نوٹیفکیشن کو معطل کر دیا ہے ان کی زبانی ہی ان کی مختصر کہانی سن لیں
سُکھ بیاس کی بحالی : ایک شاندار کارنامہ
سکھ بیاس دراصل ایک قدیم دریا کا طویل عرصے سے خشک پڑا ہوا راستہ ہے۔ جسے پنجاب اریگیشن کے انجینئر ز نے ایک کامیاب تجربہ سے بحال کرنے پر کام کیا ہے جسے اگر پوُرے پنجاب پر پھیلا دیا جائے تو نہ صرف کئی مُردہ دریا دوبارہ زندہ ہوسکتے ہیں بلکہ سیلابی پانی کی تباہ کاریوں سے بھی بچا جاسکتا ہے۔
پچھلے سال کے سیلاب میں ان انجینیئرز نے تقریباً 12,000 ایکڑ فٹ پانی کو دریائے ستلج سے نکال کر ایک متروکہ سیلابی نہر (اولڈ میلسی کینال) کی 14 کلومیٹر لمبائی میں نہر کے 150 فُٹ چوڑے پیندے سے 144 پانی چوس کنوؤں کی مدد سے زیرِزمین جذب کروا دیا جس سے زیرزمین پانی کی سطح اوسطاً 5 فُٹ بلند ہو گئی۔ کئی جگہوں پر تو گروانڈ واٹر ٹیبل 11 فُٹ تک بھی اُوپر اُٹھ آیا۔
محکمہ آب پاشی کے ریسرچ انجینیئرز نے اس مقصد کے لئے اس متروکہ سیلابی نہر کو باقاعدہ صفائی کرکے پہلے بحال کیا گیا اور بھل صفائی کی
پھر پوری نہر کی کھدائی کرکے اس کو تین بڑے ریچارج تالابوں کی شکل دے دی گئی جن میں سے ہر تالاب کی لمبائی بالترتیب 5.8, 3.4 اور 4.6 کلومیٹر تھی۔ نہر کے ان طویل وعریض تالابوں کے اندر زیرِزمین پانی کا لیول دیکھنے کے لئے پیزو میٹر اور ریچارج ہونے والے پانی کی کوالٹی چیک کرنے کے آلات نصب کئے گئے جن کی مدد سے کئی مہینوں تک گراونڈ واٹر ٹیبل اور واٹر کوالٹی پر نظر رکھی گئی۔ زیرِ زمین مٹی کی تہوں کو جانچنے کے لئے نہ صرف ڈرلنگ کی گئی بلکہ الیکٹرک ریزسٹیویٹی ٹیسٹ بھی کئے گئے۔
اس کام کیلئے اللہ کی مدد یوں پہنچی کہ گزشتہ سال ہی دریائے ستلج میں سیلابی پانی کا بڑا ریلا آیا جس سے اس منصوبے کے بنتے ہی اس کو جانچنے کا فوری موقع مل گیا اور مہینوں کی اس جانچ کا نتیجہ کامیابی کی صورت میں ملا۔ ایک ہی سیلاب میں اس متروکہ نہر کی صرف 14 کلومیٹر لمبائی سے 12,000 ایکڑ فٹ پانی زیرِزمین ریچارج ہوگیا اور زائد پانی سُکھ بیاس میں بہہ گیا۔
اس تجربے نے پنجاب کی سینکڑوں نہروں سے سیلابی پانی کے ریچارج کی راہ ہموار کردی ہے جوکہ یا تو متروک ہوچُکی ہیں یا پھر کبھی کبھی ہی چلتی ہیں۔
اولڈ میلسی کینال دریائے ستلج پر 1924 میں زائد سیلابی پانی موڑنے کے لئے بنائی گئی تھی تاہم 1960 کے سندھ طاس معاہدے کے بعد دریائے ستلج میں پانی نہ آنے کی وجہ سے یہ متروک ہو گئی تھی اور 1965 میں اسے باقاعدہ طور پر ختم کردیا گیا تھا۔
یہاں حیرت اس پر ہے کہ پنجاب حکومت جو ہر منصوبے کے مکمل ہونے سے بہت پہلے کریڈٹ لینے آ جاتی ہے اتنے زبردست کام سے لاعلم لگتی ہے یا پھر خوش نہیں ہے ۔ کیونکہ وہ اس پر بات تک نہیں کر رہے
@muzamil_45 پل گرا رہے ہیں تو سیکورٹی فورسز کہاں ہیں۔ کیا اس علاقہ میں کوئی پولیس کوئی رضاکار کوئی خفیہ کا نہیں۔ ویڈیو بن گئی کیا پولیس کو نہیں بتا سکتے اگر بتایا تو کیوں نہیں پہنچی
پاکستانی زیتون کے تیل کے ایک برانڈ نے لندن انٹرنیشنل اولیو آئل کمپیٹیشن 2026 میں گولڈ میڈل جیت کر ملک کے لیے اعزاز حاصل کر لیا۔ بلوچستان کے ضلع لورالائی میں پیدا ہونے والے زیتون سے تیار کیے گئے اس برانڈ نے دنیا بھر کے ممتاز برانڈز کے درمیان نمایاں کامیابی حاصل کی۔
روسی صدر پیوٹن کے نمائندے کا خیال ہے کہ پاکستان کو افغانستان کے ساتھ معاملات جنگ کی بجائے مکالمے سے حل کرنا ہوں گے۔
پیوٹن بھائی بھاگ لگے رہن، یہ جو آپ ساڑھے چار سال سےیوکرین کے ساتھ چولیں مار رہے ہیں اور یوکرینیوں نے توآپ کی تیل والی جگہوں پر بھی تیلی لگادی ہے اس کے پیش نظر پہلے آپ ڈائیلاگ والے آپشن پر غور فرمائیں۔
پہلے آپ
نہیں پہلے آپ
یہ روسی ایمبیسی کو ٹیگ کر دینا بھائی
وقت کم مقابلہ سخت
پنجاب اس قسم کی دیہاڑیاں لگاتے ٹھیکیدار اور حکومت بھی نہیں دیکھہ، کھڑے پانی میں اینٹیں لگائی جارہی ہیں، کام تو ہورہا ہے بھائی بہت کام ہو رہا ہے۔
شخوپورہ، ٹوکریاں والا بازار