روات انڈسٹریل ایریا میں فیکٹریاں جل جائیں ، اسلام آباد میں مارکیٹ جل جائے راوی چین ہی چین لکھتا ہے
کراچی میں کوئی ایم کیو ایم کا نشئی گٹر کا ڈھکن لے اڑے تو بھی سندھ حکومت ذمہ دار ہوتی ہے اور میڈیا پر سینہ کوبی جاری ہوتی ہے
@saeedhfs@AribaJalbani@BBhuttoZardari اور میں تیری اصل میں بجوا رہا ہوں پشاور سے۔۔۔۔مزہ آ رہا ہے نا ہیرہ منڈی کے دلے۔۔۔۔۔🤪🤣😂😜 آج لگتا ہے کوئی گاہک نہیں ملا تجھے اپنی عورت کا۔۔۔۔ذرا آ ادھر خوشبو لگا کہ۔۔۔۔
@RealWaqarMaliks ملک تو بالکل محفوظ ہے۔۔امریکہ سے لیکر ایران تک ساری دنیا پاکستان کی تعریفیں کر رہی ہے سوائے اسرائیل، بھارت اور یوتھڑوں کے۔۔۔ان کی ماں مر گئ ہے۔ لہٰذا تو پاکستان بچانے کو چھوڑ اور خچر کی فکر کر جو اڈیالہ میں سڑ رہا ہے۔
@NaseemAkram05 نونی صحافی اب پوری شدت سے حق نمک ادا کرنے کے چکر میں ہیں۔۔۔ارے بھائی پیپتو آپکے مطابق ختم ہو چکی پنجاب میں تو پھر کیا خطرہ ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ پنجاب میں خود ن لیگ کی بھی اصل میں کوئی خاص حمایت نہیں رہ گئ۔۔ لہذا ذرا حوصلہ کیجئے۔۔
@ARYSabirShakir سلمان اکرم راجہ جس کی اصل توجہ اپنے سارے بالوں کو سیاہ کرنے پر ہوتی ہے وہ مضحکہ خیز ٹوپی کیساتھ آج ایک الگ ہی قسم کا کارٹون لگ رہا ہے۔۔۔۔۔😜🤪🤣😂
@ARYSabirShakir علیمہ صاحبہ کی واقعی کوئی عزت نہیں کرتا ہو گا اس خاندان کے کرتوتوں کی وجہ سے۔۔۔۔پاکستان اور اسکے فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم کی تو اسوقت پوری دنیا عزت اور ستائش کر رہی ہے۔۔۔سوائے بھارت اور اسرائیل کے۔۔اس ہی لئے آپکو بھی مرچیں لگی ہوئی ہیں۔۔۔
محترم آصف صاحب
اور سعد رفیق بھائی،
مجھے یاد ہے کہ 2008 کے بعد جب نئی حکومت اقتدار میں آئی تو مشرف دور کے نسبتاً مضبوط اور بااختیار #بلدیاتی_نظام کو، #سندھ کے سوا، فوری طور پر ختم کر دیا گیا۔ #پنجاب میں یہ فیصلہ اُس وقت کے وزیرِاعلیٰ شہباز شریف صاحب کی خواہش پر کیا گیا، جبکہ صدر زرداری نے ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر سندھ میں اس نظام کو فروری 2010 تک جاری رکھا۔ اگرچہ اس کی آئینی مدت اگست 2009 میں ختم ہو چکی تھی۔
پنجاب میں اس کے بعد بلدیاتی انتخابات نہیں کروائے گئے، البتہ نظام کو ایڈمنسٹریٹرز کے ذریعے چلایا جاتا رہا۔ بظاہر اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ اُس وقت کی صوبائی حکومت بلدیاتی نوعیت کے ترقیاتی کاموں کا سیاسی کریڈٹ خود لینا چاہتی تھی۔ یاد رہے کہ چوہدری پرویز الٰہی کے دور اور اُس وقت کے میئرز کی کارکردگی کو عمومی طور پر کافی سراہا جاتا تھا۔
اس کے بعد پنجاب میں یا تو نیا بلدیاتی قانون متعارف کرانے میں غیرضروری تاخیر کی گئی یا مجوزہ قوانین کو اس حد تک متنازع بنایا گیا کہ بلدیاتی انتخابات طویل عرصے تک نہ ہو سکے۔ بالآخر 2015 میں انتخابات ہوئے، 2016 سے 2018 تک منتخب بلدیاتی حکومتوں نے کام کیا، اور پھر 2019 میں انہیں غیرآئینی و غیرقانونی طور پرتحلیل کر دیا گیا۔ اس کے بعد سے آج تک بلدیاتی قانون سازی، انتخابی تاریخوں کے اعلانات اور مختلف تاخیری حربوں کے ذریعے اس عمل کو مسلسل مؤخر کیا جاتا رہا ہے۔
دوسری جانب سندھ میں بھی مسائل اور قانونی تنازعات رہے، لیکن وہاں بالآخر بلدیاتی انتخابات 2015 اور پھر 2022-23 میں منعقد ہوئے۔ 2015 میں #کراچی میں ایم کیو ایم کے میئر نے اپنی مدت مکمل کی، جبکہ موجودہ بلدیاتی نمائندے بھی یعنی #پیپلزپارٹی کے میئر اپنی آئینی مدت پوری کرنے کے قریب ہیں۔
آج بھی آئین کا آرٹیکل 140A واضح طور پر صوبائی حکومتوں کو بلدیاتی قانون سازی، انتخابات اور منتخب مقامی حکومتوں کے قیام کا پابند بناتا ہے۔ یقیناً سندھ کے بلدیاتی نظام میں بہتری کی گنجائش موجود ہے اور ہمیشہ رہے گی، لیکن اسے جواز بنا کر پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہ کروانا یا منتخب ادارے قائم نہ کرنا ایک کمزور دلیل ہے۔ معذرت کے ساتھ، یہ طرزِ عمل نہ صرف جمہوری اصولوں بلکہ devolution of power and authority کے تصور کے بھی منافی ہے اور اس سے مرکزیت پسندی کا تاثر ابھرتا ہے۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا مؤقف اسی تناظر میں قابلِ غور ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ اگر اسلام آباد اور لاہور میں ایک مؤثر اور بااختیار بلدیاتی نظام متعارف کروا کر میئرز کو حقیقی اختیارات دیے جائیں تو وہی اختیارات کراچی اور دیگر بڑے شہروں کے منتخب نمائندوں کو بھی ملنے چاہئیں۔ ان کا طنز دراصل اس حقیقت کی طرف اشارہ تھا کہ جو جماعت اپنے صوبے اور وفاقی دارالحکومت میں مؤثر بلدیاتی نظام قائم نہیں کر سکی، وہ اخلاقی یا سیاسی طور پر دوسروں کو اس معاملے میں نصیحت دینے کی پوزیشن نہیں رکھتی ہے۔
پنجاب میں بلدیاتی نظام کمزور ہی سہی، لیکن اگر اس کا تسلسل برقرار رہتا تو وقت کے ساتھ اس میں بہتری اور مضبوطی آ سکتی تھی۔ آپ کو پسند ہو یا نہ ہو، دوسرے صوبوں میں کیا ہو رہا ہے یا کوئی اور جماعت کیا سوچتی ہے، اس سے قطع نظر بلدیاتی انتخابات نہ کروانا پنجاب حکومت کی ایک غیرآئینی، غیرقانونی اور غیرجمہوری روش ہے، جس کا دفاع مشکل ہے۔
@BBhuttoZardari@KhawajaMAsif@KhSaad_Rafique