In a brief session last night, @BBhuttoZardari took questions from six local journalists. @MediaCellPPP later shared the recording, but both of my questions were edited out, incl one about #Sindh's opposition to supplying 613 cusecs of water from #Mangla to #Mirpur. I wonder why.
غالب کی فارسی زبان میں لکھی گئی ایک ایسی غزل جس کا صوفی غلام مصطفٰی تبسم نے پنجابی میں ترجمہ کر کے اس غزل کو لازوال بنا کر کمال کر دیا اور استاد غلام علی خان نے اسے گا کر امر کر دیا۔
زمن گَرَت نہ بُوَد باور انتظار بیا
بہانہ جوئے مباش و ستیزہ کار بیا
میرے شوق دا نہیں اعتبار تینوں ، آ جا ویکھ میرا انتظار آ جا
اینوں لڑن بہانڑے لبھنا ایں ، کیہ توں سوچنا ایں سِتمگار آ جا
وداع و وصل جداگانہ لذّتے دارَد
ہزار بار بَرَو ، صد ہزار بار بیا
بھانویں ہجر تے بھانویں وصال ہووے ، وکھو وکھ دوہاں دیاں لذتاں نیں
میرے سوہنیا جا ہزار واری ، آ جا پیاریا تے لکھ وار آجا
رواجِ صومعہ ہستیست ، زینہار مَرَو
متاعِ میکدہ مستیست ، ہوشیار بیا
ایہہ رواج اے مسجداں مندراں دا ، اوتھے ہستیاں تے خود پرستیاں نیں
میخانے وِچ مستیاں ای مستیاں نیں ، ہوش کر ، بن کے ہُشیار آ جا
تو طفل سادہ دل و ہمنشیں بد آموزست
جنازہ گر نہ تواں دید بر مزار بیا
تُوں سادہ تے تیرا دل سادہ تینوں اینویں رقیب کُراہ پایا
جے تُوں میرے جنازے تے نہیں آیا ، راہ تکدا تری مزار ، آ جا
حصار عافیَتے گر ہوس کُنی غالب
چو ما بہ حلقۂ رندانِ خاکسار بیا
سُکھیں وسنا جے تُوں چاہو نا ایں میرے غالبا ایس جہان اندر
آجا رنداں دی بزم وِچ آ بہہ جا ایتھے بیٹھ دے نیں خاکسار آ جا
اپنا واٹس ایپ اکاؤنٹ سائبر فراڈ سے محفوظ رکھیں! صرف چند آسان حفاظتی اقدامات کے ذریعے آپ اپنا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیکنگ اور مالی فراڈ سے محفوظ کر سکتے ہیں۔آپ کی ایک چھوٹی سی احتیاط آپ کو بڑے نقصان سے بچا سکتی ہے۔
#WhatsAppSecurity #CyberSecurity #CyberFraud #OnlineSafety #StaySafeOnline #DigitalSafety #ScamAlert #CyberAwareness #AccountSecurity #TwoStepVerification #PTA #SafeInternet #ProtectYourAccount #ThinkBeforeYouClick
آزاد کشمیر کو پاکستانی سیاست کی تجربہ گاہ کس نے بنایا؟ سردار تنویر الیاس،راجہ فاروق حیدر اور فیصل راٹھور نے کشمیریوں کے ساتھ کون سے ظلم کئے؟ شوکت نواز میر بھارتی ایجنٹ ہے تو ان پر کھلی عدالت میں مقدمہ کیوں نہیں چلاتے؟ آزاد کشمیر کی صورتحال پر کچھ تلخ باتیں https://t.co/BjXStgUKyo
🚨حج کا مقصدذات کی اصلاح تھا مگر افسوس کہ لوگ اب بھی ظاہری چیزوں زم زم کی بوتلیں میں ہی کھوئے ہدایت تب ملتی ہے جب انسان اپنی انا کو مٹاے
جو کعبہ دیکھ کر بھی نہ بدلے وہ صرف ایک سفر کر کے آے زم زم ڈھونڈنے سے زیادہ ضروری تھااپنے اندر کاایمان ڈھونڈ کر لاتا
🌲 ارجن دل کا سرجن 🌲
قدرت کا دیا ہوا دل کا محافظ
ارجن (Terminalia Arjuna) وہ درخت ہے جس کی چھال دل کی صحت کے لیے ایک معجزاتی نسخہ سمجھی جاتی ہے۔ جب سینے میں درد ہو، ڈاکٹر دل ٹھیک بتائیں مگر دل کے پٹھے کمزور ہوں، یا معدے کی وجہ سے درد ہو، تو ارجن قدرت کا بہترین حل ہے۔
ارجن کے اہم فوائد:
دل کے پٹھوں کو مضبوط کرتا ہے
ہائی اور لو بلڈ پریشر کو متوازن رکھتا ہے
کولیسٹرول کم کرتا ہے، اچھا کولیسٹرول (HDL) بڑھاتا ہے
LDL اور ٹرائی گلائسرائیڈز کو کنٹرول کرتا ہے
سینے کا درد، دل کی گھبراہٹ اور بے چینی میں آرام دیتا ہے
خون کی روانی بہتر کرتا ہے
زخم جلدی بھرتا ہے
دمہ اور کھانسی میں فائدہ مند
دل کی کمزوری اور سینے کے درد کا آسان نسخہ
اجزاء:
ارجن کی خشک چھال (ہلکا کُٹا ہوا) — 1 چمچ
پانی — 2 کپ
شہد — حسب ذائقہ
طریقہ:
چھال کو پانی میں ڈال کر ہلکی آنچ پر ابالیں جب تک پانی 1 کپ رہ جائے۔ چھان کر نیم گرم کریں، شہد ملا کر پی لیں۔
روزانہ 1-2 بار استعمال کریں۔
🌻قدرت اللہ شہاب کہتے ہیں کہ جس مقام پر اب منگلا ڈیم واقع ہے وہاں پر پہلے میرپور کا پرانا شہر آباد تھا۔ جنگ کے دوران اس شہر کا بیشتر حصہ ملبے کا ڈھیر بنا ہوا تھا ۔ ایک روز میں ایک مقامی افسر کو اپنی جیپ میں بٹھائے اس کے گرد و نواح میں گھوم رہا تھا راستے میں ایک مفلوک الحال بوڑھا اور اس کی بیوی ایک گدھے کو ہانکتے ہوئے سڑک پر آہستہ آہستہ چل رہے تھے۔ دونوں کے کپڑے میلے کچیلے اور پھٹے پرانے تھے،دونوں کے جوتے بھی ٹوٹے پھوٹے تھے انہوں نے اشارے سے ہماری جیپ کو روک کر دریافت کیا "بیت المال کس طرف ہے؟"
میں نے پوچھا بیت المال میں تمہارا کیا کام ؟
بوڑھے نے سادگی سے جواب دیا ؛ میں نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر میرپور شہر کے ملبے کو کرید کرید کر سونے اور چاندی کے زیورات کی دو بوریاں جمع کی ہیں، اب انہیں اس "کھوتی" پر لاد کر ہم بیت المال میں جمع کروانے جا رہے ہیں ۔
ہم نے ان کا گدھا ایک پولیس کانسٹیبل کی حفاظت میں چھوڑا اور بوریوں کو جیپ میں رکھ کر دونوں کو اپنے ساتھ بٹھا لیا تا کہ انہیں بیت المال لے جائیں ۔
آج بھی وہ نحیف و نزار اور مفلوک الحال جوڑا مجھے یاد آتا ہے تو میرا سر شرمندگی اور ندامت سے جھک جاتا ہے کہ جیپ کے اندر میں ان دونوں کے برابر کیوں بیٹھا رہا ۔ مجھے تو چاہیئے تھا کہ میں ان کے گرد آلود پاؤں اپنی آنکھوں اور سر پر رکھ کر بیٹھتا ۔ ایسے پاکیزہ سیرت لوگ پھر کہاں ملتے ہیں۔
منقول
🚨 مہدی حسن @mehdirhasan نے سابق سی آئی اے آفیسر @JohnKiriakou جس نے الزام لگایا تھا کہ جیفری ایپسٹن اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے کام کرتا تھا کے ساتھ انٹرویو میں نئے انکشافات کیے ہیں کہ 👇
سوال: بہت سے لوگ آپ سے سازشی نظریات (Conspiracy Theories) کی تصدیق یا تردید کرنے کو کہتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں سب سے بڑی کہانیوں میں سے ایک جیفری ایپسٹین اور اس کے امیر و بااثر لوگوں سے تعلقات کے بارے میں تھی۔ ساتھ ہی اس کے غیر ملکی حکومتوں سے روابط کی بھی بات ہوتی رہی۔ اسرائیل کا نام اکثر سامنے آتا ہے، اگرچہ روس سمیت دیگر ممالک کا بھی ذکر ہوتا ہے۔ آپ کے خیال میں کیا جیفری ایپسٹین اسرائیل کی موساد یا کسی اور حکومت کا ایجنٹ تھا؟
جواب: میں نے ابتدا ہی سے کہا تھا، اور اس بات پر کافی تنقید بھی برداشت کی، کہ میرے خیال میں جیفری ایپسٹین موساد کا ایک "ایکسیس ایجنٹ" (Access Agent) تھا۔
ایکسیس ایجنٹ عام جاسوس سے مختلف ہوتا ہے۔ وہ ایسا فری لانس رابطہ کار یا فکسر ہوتا ہے جو طاقتور اور بااثر لوگوں تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ اگر آپ کسی حکومت کے لیے دنیا کے امیر ترین اور طاقتور ترین افراد کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ براہِ راست انہیں بھرتی نہیں کرتے، کیونکہ ان کے پاس وہ سب کچھ پہلے ہی موجود ہوتا ہے۔ اس کے بجائے آپ کسی ایسے درمیانی شخص کو استعمال کرتے ہیں جو ان تک پہنچ سکتا ہو۔
سوال: لیکن وہ کئی حکومتوں کے لیے کام کیوں نہیں کر سکتا تھا؟ صرف اسرائیل ہی کیوں؟
جواب: میں نے اس پر اسرائیلی ایکسیس ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا تھا، اور آج بھی میرا یہی خیال ہے۔ لیکن حال ہی میں سامنے آنے والی دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ اس نے خود کو سی آئی اے، ایف بی آئی، ایم آئی 5، ایم آئی 6 اور جرمن انٹیلی جنس اداروں کے سامنے بھی پیش کیا تھا۔
وہ روسیوں تک بھی رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اسے براہِ راست ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔ اسے بیک وقت چار روسی جرنیلوں سے ملاقات کا کہا گیا مگر اس نے کہا کہ وہ ڈائریکٹ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کرنا چاہتا ہے جسکی اجازت نہیں دی گئی۔
لہٰذا وہ مختلف انٹیلی جنس اداروں کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کے عزائم بہت بلند تھے۔ وہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان (MBS) تک بھی پہنچ گیا تھا۔ ایک مشہور کہانی بھی ہے کہ اس کے سعودی حکام سے قریبی روابط تھے۔
سوال: گھسلین میکسویل کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا وہ اسرائیل کے لیے جاسوسی کر رہی تھی؟ اس کے والد رابرٹ میکسویل، جو برطانیہ میں ایک پبلشر تھے، پر بھی موساد کے لیے جاسوسی کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
جواب: میرے خیال میں اس بات کے کافی مضبوط شواہد موجود ہیں کہ رابرٹ میکسویل موساد کے لیے کام کرتا تھا۔
یہ غیر معمولی بات نہیں کہ جب کسی شخص کو حساس معلومات تک رسائی حاصل ہو جائے تو وہ اپنے بچوں کو بھی ایسے اداروں کے قریب لے آئے جنہیں ایسی معلومات میں دلچسپی ہو، جیسے موساد۔
اس لیے اگر کوئی یہ کہے کہ گھسلین میکسویل بھی کسی نہ کسی شکل میں اسرائیلی انٹیلی جنس سے منسلک رہی ہو، تو مجھے اس پر حیرت نہیں ہوگی۔"
’روئی کا بوجھ‘
میں صبح سیر کرنے قریبی پارک میں جاتا ہوں تو وہاں ایک بزرگ بھی ورزش کرتے ہوئے مل جاتے ہیں۔ اِن کی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ورزش کے بعد بھی یہ پارک میں ہی ایک طرف درخت کے نیچے چادر بچھا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ قریبی چنے والے سے نان چنے منگوا کر ناشتہ کرتے ہیں اور پھر وہیں لیٹ جاتے ہیں۔ اِن کے ہاتھ میں ایک کتاب ہوتی ہے جسے پڑھتے رہتے ہیں اور اونگھ آتی ہے تو اسی کا سرہانہ بنا کر لیٹ جاتے ہیں اور شام پانچ بجے تک یہ پارک میں ہی موجود رہتے ہیں۔ اِردگردکے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ کوئی پردیسی یا گھر سے نکالے ہوئے ہیں۔ بزرگ شکل و صورت سے پڑھے لکھے اور شریف انسان لگتے ہیں لہٰذا میں ایک دن گھر سے ناشتہ بنوا کے لے گیا اور ان سے کہا کہ میرے ساتھ ناشتہ کریں۔ بہت خوش ہوئے۔ پہلے انکار کیا لیکن پھر مان گئے۔ گفتگو میں تھوڑی فرینکنس ہوئی تو پتا چلا کہ دو گلیاں دور ہی ان کاذاتی گھر ہے اور کھاتے پیتے بندے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ کیوں سارا دن یہاں بیٹھے رہتے ہیں۔ انہوں نے ایک گہری سانس لی اور کہنے لگے ’’زندگی میں کچھ مخصوص وقت کیلئے گھر سے باہر رہنا بہت ضروری ہے۔ چاہے آپ دفتر جائیں، کسی دوست کے پاس جائیں یا کسی اور ایکٹیویٹی میں مصروف رہیں لیکن کم سے کم چھ سات گھنٹے گھر سے باہر ضرور رہیں۔ میں نے وجہ پوچھی تو بولے ’گھرمیں رہ کر آپ بے شک باغبانی کرتے رہیں یا کتابیں پڑھتے رہیں گھر والوں کو آپ کی خاموش موجودگی سے بھی عجیب قسم کی اکتاہٹ ہونے لگتی ہے۔ وہ ساری زندگی صبح سے شام تک آپ کی عدم موجودگی میں زندگی گزارنے کے عادی ہوچکے ہوتے ہیں لہٰذا جب آپ ہر وقت اُن کی آنکھوں کے سامنے رہتے ہیں تو اُنہیں لگنے لگتا ہے کہ آپ کسی کام کے نہیں رہے۔
اکثر گھر والے ایسا کچھ کہتے تو نہیں لیکن ان کے تیور یہی بتاتے ہیں آپ کا کسی بات میں بولنا بھی انہیں برا لگنے لگتاہ ہے۔ یہ جملہ تو کئی دفعہ سن چکا ہوں کہ ’ابو آپ کو کچھ نہیں پتا‘ اس قسم کی سچویشن میں گھر والوں پر آپ کا کنٹرول ختم ہو جاتا ہے اور آپ کی ضرورت زیادہ سے زیادہ مارکیٹ سے کوئی چیز لانے، تنور سے روٹیاں یا صبح دودھ لانے تک محدود رہ جاتی ہے میں اس لیے صبح سے شام تک یہاں بیٹھتا ہوں اور کوئی نہ کوئی کتاب پڑھتا رہتا ہوں۔ میں نے گھر میں بتایا ہوا ہے کہ میں ایک جگہ نوکری کر رہا ہوں۔ ایک بینک میں میں نے فکس ڈپازٹ کرایا ہوا تھا جس کا صرف مجھے علم تھا۔ وہاں سے پیسے آتے ہیں تو گھر میں دے دیتا ہوں کہ یہ میری تنخواہ آئی ہے۔ ساڑھے پانچ بجے جب میں یہاں سے گھر جاتا ہوں تو بیوی میرے لیے پانی کا گلاس لے کر آتی ہے۔ کھانے کا پوچھتی ہے۔ بچے یکدم محتاط ہو جاتے ہیں کہ باپ ابھی فالتو نہیں ہوا۔ بیٹے جب پیسے کمانے لگتے ہیں تو باپ بن جاتے ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ ان سے کچھ مانگوں۔ میں اس دوران اخبارات میں آنے والے مختلف اشتہارات پر بھی اپلائی کرتا رہتا ہوں لیکن بوڑھا بندہ کسی کمپنی کو نہیں چاہیے۔‘‘ ان کی یہ بات سن کر مجھے بے اختیار ایک فلم یاد آگئی’روئی کا بوجھ‘۔ یوٹیوب پر موجود ہے، موقع ملے تو دیکھئے گا۔
(گُل نوخیز اختر)
میانوالی والے.... 😎😎
آسٹریلیا کی ہاکی ٹیم پاکستان میچ کھیلنے آئی ان کا ڈسٹرکٹ میانوالی کی ہاکی ٹیم کے ساتھ پریکٹس میچ ہوا. وہ یہ میچ ہار گئے
کوچ بولا : دیکھ لو اپنی حالت, ایک ڈسٹرکٹ کی ٹیم نے تمہیں ہرا دیا ہے تو پاکستان کی قومی ٹیم کے خلاف تم کیا کرو گے
آسٹریلوی کپتان : انہوں نے ہمیں دھوکہ دیا ہے
میچ سے پہلے انہوں نے اپنے کھلاڑیوں کے نام کچھ یوں بتائے
عطاء اللہ
شفا اللہ
ثنا اللہ
مطیع اللہ
سمیع اللہ
کلیم اللہ
شفیع اللہ
لیکن میچ کے دوران انہوں نے اپنے نام تبدیل کر دئیے اور ایک دوسرے کو ان ناموں سے پکارتے رہے.
لالہ رَکھیس
لالہ دَبیس
لالہ مَریس
لالہ مَنڈیس
لالہ وَڑیس
لالہ جَھمبیس
لالہ پَٹیس
لالہ اُڈے سَٹیس
لالہ تُنییس
لالہ پراں وَیس
😀😀
اہم ترین۔
پوسٹ کو ضرور پڑھیں اور ریٹویٹ بھی کر دیں۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وفاقی بیوروکریسی ایک بار پھر اسٹیبلشمنٹ، وفاقی حکومت اور پاکستان کے سیاسی نظام کو نئے انداز میں مینپولیٹ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اگر زیرِ غور مجوزہ اسکیم واقعی اسی سمت میں جا رہی ہے، تو اس میں پیش کیا جانے والا “یونفائیڈ سول سروس” کا تصور پاکستان کی وفاقی اور آئینی ساخت کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔
یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک طرف وفاقی حکومت ہو، دوسری طرف صوبائی حکومتیں ہوں، پھر مشترکہ مفادات کونسل (CCI) جیسا آئینی فورم موجود ہو، اور ساتھ ہی مضبوط لوکل گورنمنٹس بھی ہوں، مگر ان تمام مختلف حکومتوں اور آئینی اکائیوں کے لیے ایک ہی “یونفائیڈ سول سروس” نافذ کر دی جائے؟ بنیادی تصور یہ ہے کہ لوکل گورنمنٹ ، صوبائی حکومت ، سی سی آئی اور وفاقی حکومت کی اپنی سول سروس ہو، تاکہ وہ متعلقہ پولیٹیکل انتظامیہ ، مقننہ اور قانون کے زیر انتظام کام کرے۔ ایک یونیفائیڈ سروس کیسے لوکل گورنمنٹ ، صوبائی حکومت ، سی سی آئی اور وفاقی حکومت میں کام کر سکتی ہے۔ یہ تو کلونیل ماڈل ہے جسکو محمد علی جناح نے آزادی ہند ایکٹ 1947 کے ذریعے ختم کر دیا تھا۔ مگر بیوروکریسی مسلسل کلونیل سلیم کو بغیر قانون کے نافذ کیے جا رہی ہے۔
یونفائیڈ سول سروس صرف اسی صورت میں منطقی ہو سکتی ہے جب ریاست کا پورا انتظامی اور سیاسی ڈھانچہ بھی یونفائیڈ ہو۔ اگر حکومتیں، اختیارات، آئینی دائرہ کار اور عوامی مینڈیٹس الگ الگ ہیں، تو ان کے لیے ایک ہی مرکزی سول سروس دراصل وفاقیت کے تصور کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
اس طرح کا ماڈل عملی طور پر پاکستان کو ایک وحدانی ریاست (Unitary State) کی طرف لے جا سکتا ہے، جہاں وفاق، صوبے اور لوکل گورنمنٹس محض رسمی ادارے رہ جائیں اور اصل طاقت ایک مرکزی نوآبادیاتی طرز کی بیوروکریسی کے ہاتھ میں مرتکز ہو جائے۔ نتیجتاً، لوکل گورنمنٹ سے لے کر صوبائی حکومتوں، CCI اور وفاقی حکومت تک پورا نظام ایک ہی انتظامی اشرافیہ کے کنٹرول میں آ سکتا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ ایک وفاقی نظام میں واحدانی سول سروس کیسے قائم کی جا سکتی ہے؟
پاکستان میں پولیس سروس کی مثال پہلے ہی ہمارے سامنے موجود ہے۔ پولیس عملی طور پر ایک یونفائیڈ سول سروس کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس کے باعث بلوچستان سے لے کر خیبر پختونخوا تک صوبائی اور مقامی سطح پر حقیقی خودمختار پولیسنگ کا نظام کبھی مضبوط نہ ہو سکا۔ یہی خلا بعد ازاں عسکری اداروں کو پُر کرنا پڑتا ہے۔ اگر پولیس واقعی صوبائی اور لوکل گورنمنٹ کے تابع، جوابدہ اور مقامی نوعیت کی ہوتی تو شاید یہ خلا اس شدت سے پیدا نہ ہوتا۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ پورا تصور ایک نوآبادیاتی (Colonial) ذہنیت کی توسیع معلوم ہوتا ہے، جہاں “یونفائیڈ سول سروس” کے نام پر ہر افسر کے سامنے گریڈ 22 تک پہنچنے کا ایک مرکزی کیریئر اسٹرکچر رکھا جاتا ہے، جبکہ وفاقیت، مقامی خودمختاری اور جمہوری گورننس کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اٹھائیسویں ترمیم کے تناظر میں اس موضوع پر سنجیدہ قومی بحث ناگزیر ہو چکی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے وفاقی ڈھانچے، صوبائی خودمختاری اور لوکل گورنمنٹ سسٹم کو محض چند طاقتور انٹریسٹ گروپس کے کیریئر مفادات کی خاطر کمزور نہ ہونے دیا جائے۔ اگر انتظامی اصلاحات کا مقصد واقعی بہتر گورننس ہے، تو پھر اصلاحات کو آئینِ پاکستان، وفاقی توازن، صوبائی اختیارات اور مقامی جمہوریت کے مطابق تشکیل دینا ہوگا، نہ کہ ایک ایسی مرکزی بیوروکریٹک اسکیم کے ذریعے جو پورے وفاقی نظام کو دوبارہ نوآبادیاتی انداز میں اپنے کنٹرول میں لے آئے۔
ان تمام نکات، آئینی مباحث، انتظامی تضادات اور گورننس کے بحران پر تفصیلی بحث پر ریپبلک پالیسی کی دو اہم کتابیں Fixing Executive Branch of Government in Pakistan اور The Bureaucratic Coup میں تفصیلات موجود ہیں ، جو کہ وین گارڈ بکس پر دستیاب ہیں۔
دوسری جنگِ عظیم میں ایک سپاہی نے اپنے کمانڈر سے کہا:
"سر! میرا دوست میدانِ جنگ سے واپس نہیں آیا۔ مجھے اجازت دیں کہ میں جا کر اسے ڈھونڈ لاؤں۔"
کمانڈر نے جواب دیا:
"اجازت نہیں دی جا سکتی۔ میں نہیں چاہتا کہ تم اپنی جان خطرے میں ڈالو۔ ممکن ہے وہ اب تک مر چکا ہو۔"
مگر سپاہی نے حکم کی پروا نہ کی اور میدانِ جنگ کی طرف روانہ ہو گیا۔
ایک گھنٹے بعد وہ شدید زخمی حالت میں واپس آیا، جبکہ اس کے کندھوں پر اُس کے دوست کی لاش تھی۔
کمانڈر نے کہا:
"میں نے تم سے کہا تھا کہ وہ مر چکا ہوگا۔ کیا یہ سب تمہاری جان خطرے میں ڈالنے کے قابل تھا؟"
سپاہی نے کمزور آواز میں جواب دیا:
"جی سر! جب میں اُس تک پہنچا، وہ ابھی زندہ تھا اور اُس کے آخری الفاظ یہ تھے:
'مجھے یقین تھا کہ تم ضرور آؤ گے۔'"
دوستی صرف تعلق کا نام نہیں، بلکہ وہ احساس ہے جس میں انسان ایک دوسرے کے لیے جان تک قربان کر دیتا ہے۔ ❤️
The US returned stolen Pakistani antiquities worth nearly $23 million, including rare Gandharan sculptures and 4,000-year-old artifacts recovered from trafficking networks.
پتا چلا ہے کہ دونوں کے "آپسی معاملات" 5 سال سے چل رہے تھے. نا موصوفہ میں کوئی مومنات والی بات تھی اور نا موصوف اپنے نام کے مطلب کے مطابق روشن اور سمجھدار.
خاتون اس سے پہلے بھی شادی کر چکی ہیں اور موصوف بھی بچوں کے باپ ہیں.
حال ہی میں دونوں باکو بھی گھوم پھر اور کھیل کود کرکے آچکے ہیں.
موصوف کی اہلیہ نے موصوفہ کو فون کرکے انکی ہمشیرہ والدہ ایک کیں. اسکے بعد موصوف نے شادی کا سین پکا کرنے کے لئے منگنی کرلی. موصوفہ کو اسی دوران کوئی اور پسند آگیا، موصوف نے اُس بندے پر ایف آئی آر دے دی. پھر موصوفہ نے بھی ہراساں کرنے کا پرچہ دے دیا جسکے بعد پورا ملک موصوفہ کا بھائی بن گیا. خیر موصوف بھی کم رامی نہیں تھے.
اور اب دونوں ایک دوسرے کے سارے راز سب کو بتارہے ہیں.
پہلا مسئلہ پتا ہے کیا ہے؟
آتی ہوئی عورت میکسی میں بھی ہو تو وہ قلندرانی لگتی ہے، لیکن جاتی ہوئی عورت کی چپل کی چمک پٹی بھی بے حیائی لگتی ہے.
اسی طرح آتا ہوا مرد متشکک (agnostic) بھی ہو تو وہ rational thinker نظر آتا ہے، جبکہ جاتا ہوا مرد ایک وقت نماز بھی چھوڑتا ہو تو بے دین لگتا یے.
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ
جس نے دوسری شادی کرنی ہے وہ کرے، قدرت نے مالی، اعصابی، جسمانی قوت دی یے تو کرلے لیکن decency کو ملحوظ خاطر رکھے. دوسری شادی کے لئے افئیر نا چلائے، خاتون خانہ کو مکمل اعتماد میں لیکر کرے، اور اس اعتماد کے لئے زبان سے نہیں بلکہ ایک ذمہ دار اور سنجیدہ مرد بن کر اپنے عمل سے قائل کرے. یعنی اگر قائل کرنے کی صلاحیت نہیں ہے تو دوسری شادی کو احسن طریقے سے چلانے کی قابلیت بھی نہیں ہوگی.
تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ
معاملات میں اپنا اور اپنے سے وابستہ کسی شخص کا راز نہیں رکھ سکتے تو پھر خود کو اور اسے خوار کرنے سے بچانے کے لئے معاملہ شروع ہی نا کرو کیونکہ تم ایک کمزور مرد اور وہ ایک کھوکھلی عورت ہے.
پاکستان میں ٹوٹل 400 ارب سگریٹ کی ڈبی استعمال ہوتی ہے، جس پر 600ارب کے پاس ٹیکس جمع ہونا تھا، جوکہ نہیں ہوا۔ سگریٹ انڈسٹری پر سارا کنٹرول پارلیمنٹ اور قائمہ کمیٹیوں میں بیٹھے لوگوں کا ہے، یہ باقاعدہ ایف بی آر کے ٹیکس کولیکٹ کرنے والے لوگوں کو تھریٹ کرتے ہیں، عدنان حیدر
نیرہ نور نے فیض کا ”آج بازار میں پابہ جولاں چلو“ جیسے گایا تھا شاید ہی اس قدر کمال گائیکی کہیں اور سُنی ہو۔ دھن ارشد محمود نے بنائی تھی۔
مجھے اب اس بات پر حیرت ہے کہ لڑکپن میں اس کو ریڈیو پاکستان پر سُنتا رہتا تھا۔ یہ نظم پی ٹی وی پر بھی نشر ہوتی رہی۔ اور گزشتہ دہائی سے میرے ساؤنڈکلاؤڈ البم میں ہے۔
آج بازار میں پابَجولاں چلو
چَشمِ نَم، جانِ شوریدہ کافی نہیں
تُہمتِ عِشق، پوشیدہ کافی نہیں
آج بازار میں، پا بہ جولاں چلو
دَست افشاں چلو ، مَست و رَقصاں چلو
خاک بر سر چلو ، خُوں بداماں چلو
راہ تکتا ھے سب ، شہرِ جاناں چلو
حاکِمِ شہر بھی ، مَجمعِ عام بھی
تیرِ الزام بھی ، سَنگِ دُشنام بھی
صُبحِ ناشاد بھی ، روزِ ناکام بھی
اِن کا دَم ساز اپنے سِوا کون ہے
شہر جاناں میں اب باصفا کون ہے
دَستِ قاتل کے شایاں رہا کون ہے
رَختِ دل باندھ لو ، دِل فِگارو چلو
پِھر ہمیں قَتل ہو آئیں یارو ، چلو
— فیض اَحمّد فیضؔ