📶 بہتر انٹرنیٹ، مضبوط ڈیجیٹل پاکستان
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ترمیمی) بل 2026 کے حوالے سے بعض حلقوں کی جانب سے غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مجوزہ رائٹ آف وے (ROW) اصلاحات کا مقصد صرف ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی تنصیب کو آسان بنانا، فائبر آپٹک نیٹ ورک کو وسعت دینا اور عوام کو بہتر انٹرنیٹ سہولیات فراہم کرنا ہے۔
✅ کسی بھی ٹیلی کام کمپنی کو کسی شہری کی نجی ملکیت میں مالک کی اجازت یا قانونی کارروائی کے بغیر داخل ہونے کا اختیار نہیں دیا جا رہا۔
✅ نجی زمین کے جبری حصول کی کوئی شق موجود نہیں۔
✅ جائیداد مالکان کے حقوق، اعتراضات، مذاکرات اور معاوضے کے تمام قانونی حقوق مکمل طور پر محفوظ ہیں۔
✅ انفراسٹرکچر کی تنصیب کے بعد متعلقہ ادارے جائیداد کو اصل حالت میں بحال کرنے کے پابند ہوں گے۔
پاکستان میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری اور کمزور کنیکٹیویٹی کی ایک بڑی وجہ فائبر نیٹ ورک کی توسیع میں رکاوٹیں ہیں۔ یہ اصلاحات سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور تیز رفتار انٹرنیٹ کے فروغ میں مدد دیں گی، جس سے طلبہ، کاروباری طبقہ، فری لانسرز اور عام صارفین سب مستفید ہوں گے۔
🇵🇰 ڈیجیٹل ترقی کا سفر مضبوط انفراسٹرکچر سے ہی ممکن ہے، اور یہ اصلاحات اسی سمت ایک اہم قدم ہیں۔
@ShazaFK
#DigitalPakistan #TelecomReforms #ROW #ITMinistry #Connectivity #Pakistan
“ٹیلی کام بل” کی قومی اسمبلی سے منظوری کو کوئی دلیل، کوئی جواز اور کوئی وضاحت قابلِ دفاع نہیں بنا سکتی۔
اس بل کو پیش کرنے والے، اس کی حمایت کرنے والے اور اس کے حق میں ووٹ ڈالنے والے, سب برابر کے ذمہ دار ہیں!
جب وزارتیں سرکاری بابوؤں کے حوالے کرکے آپ صرف گاڑی پر جھنڈا لگانے اور وزارت کے مزے لوٹنے میں لگے ہوں تو ایسے ہی عوام دشمن بل آپکے علم میں لائے بغیر تیار ہو جاتے ہیں۔
شزا خواجہ فاطمہ نے سینیٹ میں جو قانون پیش کیا ہے اس کو آسان الفاظ میں یوں سمجھیں کہ
اگر کسی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کو لگے کہ رائیونڈ میں نواز شریف صاحب کے گھر پر ٹاور لگانے سے سگنل اچھے آئیں گے اور نواز شریف صاحب ٹاور لگانے کی اجازت نہ دیں تو بھی کمپنی اپنا ٹاور لگاسکتی ہے
اور نواز شریف صاحب کو کوئی حق نہیں ہوگا کہ وہ کمپنی کو اپنے زاتی گھر میں ٹاور لگانے سے روکیں ۔
اب بتائیں ۔ کیا ایسی غیر زمہ دار خاتون کو سائنس و ٹیکنالوجی کا وزیر ہونا چاہیے ۔ جو میاں نواز شریف صاحب سمیت پاکستان کی کسی بھی شخصیت کے گھر کو حکومتی ملکیت قرار دے رہی ہے کہ جب کسی کمپنی کا دل چاہے گا اس پر حکومت کی مدد سے قبضہ کرسکتی ہے
ظاہر ہے ایک گھر میں ٹاور لگ گیا تو وہاں انسان تو پھر رہنے سے رہے
Thanks Bhai @KlasraRauf for waking us up to the reality that we still are slaves of multi-nationals. A person exhausts his/her life time savings to build a house and the East India Companies (not one by all Tech companies) are empowered to take him/her out of the house. And the story doesn't end there. The Slave also has to pay 50 million penalty. And our alleged REPRESENTATIVES had passed the law from directly elected National Assembly. Wish you best of luck and energy for telling such stories.
ہت دفعہ لکھا کہ نون لیگ کی موجودہ حکومت مکمل عوام دشمن ہے ان سے جو مرضی کروا لیں یہ شوق اقتدار میں کر لیں گے اب نون کی وزیر شزا فاطمہ صاحبہ نے قومی اسمبلی سے قانون منظور کروا لیا کہ کسی کے گھر ذاتی جائداد سے فائبر تاریں گزار سکتے اگر کوئی کھمبا جرنیٹر لگانا تو تیس دن میں گھر خالی کرنا ہو گا اگر نا کیا تو پانچ کروڑ جرمانہ اس فون کمپنی کو دیں گے
یہ آپ سب کے گھروں کا سودا ہے اور قومی اسمبلی کے انگوٹھا چھاپوں نے بغیر پڑھے یہ بل پاس بھی کر دیا تھا
اب کیا اس کام پر نون کی حکومت کی تعریفیں کریں ؟
Yesterday, the IDF seized 4 students from their homes in the West Bank, including 20-year-old American, Sama Safi.
The Israeli govt didn’t tell her family or the U.S. Embassy where or why she was being taken & is holding her without charges.
America must secure her release NOW.
ایک جرمن آدمی بار میں داخل ہوا اور ایک بیئر کا آرڈر دیا۔
بار ٹینڈر نے کہا: "20 یورو!"
جرمن حیران رہ گیا: "20 یورو؟ کل تو یہی بیئر صرف 3 یورو کی تھی!"
بار ٹینڈر بولا: "جی ہاں، لیکن آج اس کی قیمت 20 یورو ہے۔"
جرمن نے غصے سے پوچھا: "آخر کیوں؟"
بار ٹینڈر نے وضاحت کی:
3 یورو بیئر کی قیمت ہے۔
3 یورو یوکرین کی مدد کے لیے۔
4 یورو ان یورپی ممالک کی امداد کے لیے جنہوں نے روس پر پابندیاں لگائی ہیں لیکن یورپی یونین کے رکن نہیں۔
4 یورو برطانیہ کی مدد کے لیے تاکہ وہ روس کے خلاف پابندیوں کو کامیابی سے نافذ کر سکے۔
3 یورو بلقان کے ممالک کو کوئلہ خریدنے کے لیے امداد کے طور پر۔
اور آخری 3 یورو یورپی یونین میں گیس سبسڈی اور روس پر پابندیاں برقرار رکھنے کے فنڈ کے لیے۔
جرمن نے خاموشی سے 20 یورو نکالے اور بار ٹینڈر کو دے دیے۔
بار ٹینڈر نے رقم کیش رجسٹر میں ڈالی اور 3 یورو واپس کر دیے۔
جرمن نے حیرت سے پوچھا: "ایک منٹ! تم نے 20 یورو مانگے تھے، میں نے 20 دیے ہیں، پھر یہ 3 یورو واپس کیوں؟"
بار ٹینڈر مسکرایا اور بولا:
"کیونکہ... ہمارے پاس بیئر ہی نہیں ہے!"
😂
پاکستان میں یوٹیلٹی بلوں کا حال بھی کچھ ایسا ہی لگتا ہے؛ بل تو پورا آ جاتا ہے، مگر سہولت اکثر غائب ہوتی ہے!
گھر کا ملازم چکن کڑاہی کھا رہا تھا کہ مالکن آ گئی
اور غصے سے چلا کر بولی،
"شرفو! تمہیں کہا تھا کہ آج کے بعد گھر میں گوشت نہیں پکے گا بلکہ صرف دال پکے گی کیوں کہ صاحب بے روزگار ہو گئے ہیں۔"
ملازم سکون سے بوٹی نوچتے ہوئے بولا،
"بی بی جی، شور مت مچائیں۔ آپ کے لیے دال ہی بنی ہے۔ یہ چکن میرے لیے ہے۔
بےروزگار صاحب ہوئے ہیں، میں نہیں۔"
کیونکہ ملکی حالات صرف عوام کے لیے خراب ہیں۔
عوام کے خادموں کے لیے نہیں۔🙄🙃🤭
♤♤♤ منقول
چار سال سے بند نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ جس کا آج بھی سرچارج بلوں میں لگا ہوا ہے، اور جس پر ہر سال ایک ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، اس پر پلاننگ کمیشن کے اجلاس میں چئیرمین نیسپاک نے جو بریفنگ دی وہ "چیٹ جی بی ٹی" سے لکھوائی گئی تھی اور جس پر جناب پروفیسر ڈاکٹر احسن اقبال صاحب نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔ کروڑوں روپے میں تنخواہیں لے کر پندرہ ارب روپے کے پراجیکٹ کو سوا چھ سو ارب روپے میں مکمل کروانے والے نیسپاک کے حرام خوروں کا بھی کبھی احتساب ہو گا؟؟؟
پلاننگ کمیشن میں بیٹھے غدار، جنہوں نے بھارت کی سہولت کاری کرتے ہوئے اس منصوبے میں چار سالتاخیر کی، ان پر بات کرنے سے مسلم لیگ ن کو آگ لگ جاتی ہے۔
جب اس پراجیکٹ کی قوم کو ضرورت پڑی تو یہ بند پڑا ہے اور کوئی اس کا جواب دینے کو تیار نہیں۔