یہ نوجوان مجذوب ہے۔
آج سے ڈھائی تین سال قبل خیبرپختونخواہ کے ضلع ہنگو آیا تھا۔
جس وقت آیا تھا پینٹ شرٹ میں ملبوس تھا اور صحت بھی اچھی تھی۔ زبان ذرا توتلی ہے ۔ اپنا نام عمران بتاتا ہے۔
ایسے محسوس ہوتا ہے کہ پنجابی زبان بولتا ہو اور کبھی کبھی میاں والی کا ذکر بھی کرتا ہے کہ میں میانوالی کا ہوں۔
ہنگو کی سڑکوں پر گھومتا ہے۔ٹریفک پولیس کے ساتھ خود کو مصروف رکھتا ہے۔ مقامی لوگ بہت پیار کرتے ہیں۔ لیکن اپنا گھر اپنا ہوتا ہے۔
گھر میں ماں باپ بہن بھائی بے چینی سے اسکا منتظر ہونگے اور دن رات اسکو یاد کررہے ہونگے۔ ایسے بچوں سے محبت بھی زیادہ ہوتی ہے،گھر کی رونق ہوتے ہیں۔
آپ تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ اس پوسٹ کو خوب زیادہ شئیر کریں۔ اس اللہ والے کو آپکی وجہ سے اپنا گھر مل جائے تو ان شاءاللہ اسکی دعا لے سکیں گے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
25 Aug 2026
#waliullahmaroof
ہمارے پنجاب کے شہر راولپنڈی کی بہادر بیٹی روزگار کے لیے بھیس بدل کر باہر نکلتی ہے گھر پر باپ بیمار ہے گھر کے حالات سامنے ہیں
ایسی کہانیاں سامنے آتی ہیں تو تکلیف ہوتی ہے
لوگ سوال جائز اُٹھاتے ہیں پنجاب کے فنڈ دوسروں پر تب لگائیں جب اپنا ہر شہری خوشحال ہو
پورے سسٹم پر سوال اٹھانے والے جناب نقوی صاحب، جس ادارے کی ذمہ داری آپ کے ماتحت ہے، وہ بے لگام گھوڑے کی طرح بدعنوانی اور بدمعاشی پھیلا رہا ہے۔ خدارا اسے قابو کریں اور اس نظام کو تباہ ہونے سے بچائیں۔ آپ کی آمد سے پہلے اس ادارے میں ایسا کچھ نہیں ہوتا تھا،
اب سوال یہ ہے کہ یہ سب آپ کی نگرانی میں کیسے ہو رہا ہے؟
"True sportsmanship is measured not in victory, but in how we handle defeat. Great athletes respect their opponents, accept the result with dignity, and let their character shine brighter than the scoreboard."
"True sportsmanship is measured not in victory, but in how we handle defeat. Great athletes respect their opponents, accept the result with dignity, and let their character shine brighter than the scoreboard."
ایرانی وزیر خارجہ کی والدہ محترمہ نے اپنے بیٹے سے فرمائش کی کہ مجھے فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر سے ملاؤ محسن ایران سے ملتے ہی اپنے بیٹے کی طرح پیار کیا
ماشاءاللہ 🤗 جزاک اللہ خیرا
پاکستان زندہ آباد
پاک فوج پائندہ باد
پاکستان اور ایران بھائی بھائی
🇵🇰 ❤️ 🇮🇷
کے ایف سی پاکستان کا نیا فراڈ
اس نوجوان نے کے ایف سی کے اس ڈرامہ کو بینقاب کرتے ہوے کہا کہ یہ لوگ ہر بل پر سولہ پرسنٹ جی ایس ٹی لیتے ہیں بار جوڈ فیک لگا ہوا ہے ۔۔
اس نے کہا جب میں نے یہ بات کے ایف سی عملے سے پوچھنی چاہی انہوں نے شیشہ بند کر دیا ۔۔
انداہ لگائیں عام کاروباری شخص ٹیکس نہ دے تو اس کیلے مشکلات بن جاتی ہیں ۔۔
یہاں کیونکہ باہر کی کمپنی ہے وہ ہمارے ملک کا ٹیکس چوری کر رہی ہیں فیک بار کوڈ لگا کر عام پاکستانی سے ٹیکس لیکر اسے پر مال پانی بنایا جارہا ہے ۔
اور یہاں کوی پیرا فورس ریٹ پوچھنے کیلے صفای کا انتظام دیکھنے کیلے مہنگای کنٹرول کرنے کیلے ٹیکس سسٹم دیکھنے کیلے ان کی رسیدوں پر لگے بار کوڈ چیک کرنے کیلے نہی جائیں گے ۔۔
کیونکہ انکا زور بھی ریڑھی والے پر ٹھیلے والے پر چھوٹی دوکان پر چلتا ہے ۔۔
رمضان سےایک دن پہلے میٹرو سے اور چیزوں سمیت یہ پریشر کُکر خریدا ، چند دنوں بعد پہلی بار چنے اُبالنے کے لئے رکھا تو اُبال آنے کے تھوڑی دیر بعد کُکر میں آگ لگ گئی ، شکر ہے کوئی بندہ قریب نہیں تھا اور کُکر کا پانی گرنے سے چولہا بُجھ گیا ، تاہم کافی پریشانی ہوئی ،
بتہ چلا اس میں لگی ربڑ غیر معیاری تھی ، میٹرو پر لے کر گئے تو متعلقہ فردنے کہا ، باہر کہیں سے ربڑ تبدیل کروا لیں ، ہم کُچھ نہیں کر سکتے ،
میرا خیال ہے اتنے بڑے سٹورز کوغیر معیاری اور نقصان دہ چیزیں نہیں بیچنی چاہیے اور خرابی کی صورت میں تبدیل کرنا چاہیے ،
@LahoreMetro
صبح میں نے لاہور سے
"Daewoo express"
کے ذریعے واپس گھر(ملتان) کیلئے نکلنا تھا۔ میرے ساتھ ایک عزیز(جو کولیگ اور فیملی فرینڈ بھی ہیں) تھے۔ ٹھوکر پر بس رکی تو وہ کچھ کھانے کو لینے کیلئے نیچے اُتر کر ابھی گئے ہی تھے کہ ڈرائیور نے بس چلا دی۔
میں نے بس ہوسٹس کو بلایا، بیل بجائی، ڈرائیور کو آوازیں دیں، آگے جا کر بتایا کہ ابھی رُکیں ایک پیسینجر نیچے ہیں وہ آتے ہونگے۔ کسی نے نہیں سُنی اور جواب مِلا کہ ہم اس میں کچھ نہیں کر سکتے۔
لاکھ سمجھانے کی کوشش کی کہ بھائی وہ اپنا فون بھی سیٹ پر چھوڑ گئے ہیں میں رابطہ نہیں کر پا رہی۔ دو منٹ کیلئے بس روکنے سے کچھ نہیں ہو جائے گا۔
المختصر میری کوئی بات نہیں سُنی گئی یہاں تک کہ میں نے چِلا چِلا کر کہا کہ آپ انکو نہیں بِٹھا سکتے تو مجھے
یہیں اُتار دیں میں اتنا سامان اکیلے نہیں سنبھال پاوں گی۔
کوئی جواب نہیں!! کسی کو کوئی فرق نہیں پڑا۔۔
ٹرمینل پر فون کیا کال ایجنٹ سے بات کی سب کیا۔۔
مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اپنے کسٹمرز کے ساتھ یہ اتنی بے حسی کا مظاہرہ کیسے کر سکتے ہیں۔ تو خیال آیا کہ پوسٹ کرنی چاہیے ۔
دل تھام کے پڑھئے!
عمران سے ملاقات کرکے جب میں نے انکی زبانی انکی داستان سنی تو واللہ میں خود پر قابو نہیں رکھ پایا تھا،رات بھر مجھے ان دو ننھے منے بہن بھائی پر گزرے وقت کی داستان سن کر بہت رویا۔
یہ سال 2009 کی بات ہے،نیچے جو تحریر کاپی کی ہے یہ عمران کا لکھا ہوا ہے:
"میرا نام عمران ھے اور میری بہن کا نام لا ئبہ(اصل نام اسماء) ھے
ھم دونوں جب گھر سے نکلے تھے تب میری عمر چار۔ بہن چھ سال کی تھی۔
ہمارے گھر میں ماں باپ کے درمیان کوئ جھگرا ہوا،ماں ھم دونوں کو لیکر گھر سے نکل گئ ۔
تب رات زیادہ ہونے کی وجہ سے ھم فت پاتھ پر ہی سو گئے۔
جب آدھی رات میں آنکھ کھلی تو ماں نہیں تھی،میں اور بہن روتے روتے ڈرتے سہمتے سوگئے۔
صبح اٹھ کر پھر رونے لگے ۔
وہاں تین آدمی أئے انہوں نے ہمے ناشتہ کروایا ۔
ایک آدمی ھم دونوں کو اپنے گھر لے گیا،انہوں نے کئ روز ہمیں اپنے پاس رکھا ۔
ایک دن ایک بندہ آیا اور ان سے بولا یہ دونوں بچے مجھے دیں دے آپ،پھر وہ ہمیں اپنے ساتھ لیکر اپنے گھر لے آیا۔
وہ ہم پر ظ*لم کرتا اور گھر کے کام کرواتا تھا۔
جسکی وجہ سے ایک خاتون نے ہمیں کورنگی کے ایک شیلٹر میں داخل کرادیا ۔
مجھے تب اپنا نام بھی سہی سے یاد نہیں تھا ۔
میری بہن کہتی کہ اس نام اسماء ھے اور والد کا نام برھان ہے ۔
مجھے بس اتنا یاد ھے کہ ہمارے ابو ہمیشہ ٹوپی اور شلوارکمیز پہنے تھے ۔
کبھی کبھی یاد آتا ہے ٹرین میں صفر بھی کیا ہے۔
اور سمندر بھی گئے ہیں ۔
ابھی میرا نام عمران اور میری بہن کا نام لائبہ رکھا ھے
بہن کا کہنا ہے کہ ہمارے بھائ بہن یا کزن بھی ہیں
وہ ہمارے گھر آتے رہتے تھے۔ مجھے کنفرم نہیں ہے کہ میرا نام شیلٹر مے رکھا ہے یا یہی اصلی نام ہے۔ اسماء نے کہا ہے کہ گھر میں بھی یہی نام ہے۔"
یہ دلخراش داستان جب عمران کے ساتھ بیٹھ کر انکی زبانی سنیں تھی تو میں بالکل ساکت ہوگیا تھا اور میں سب کچھ بھول گیا اور ان بہنوں پر گزرے حالات کے سوچ میں بالکل گم گیا۔
اور عمران نے جب یہ بتایا کہ "بہن سے ملنے جاتا ہوں تو وہ بہت ہی حسرت کے ساتھ کہتی ہے بھائی گھر کا کچھ کرو نا""تو ایسے لگا جیسے کسی نے وار کردیا ہو دل پر۔
اگر کراچی کے دوست اس پوسٹ کو پورے شہر میں پھیلا دیں تو یہ دو بہن بھائی اپنے خاندان کے پاس پہنچ سکتے ہیں۔انکی زندگیاں سنور سکتی ہیں۔
خدارا اس پوسٹ کو ملک بھر میں عام کریں تاکہ دو پھول جیسے بہن بھائی اپنوں سے ملیں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
24 may 2026
#waliullahmaroof
جینا علی کو پیسے یا مالی سپورٹ نہیں چاہیے ۔ہارورڈ یونیورسٹی اسے پاکستان کی نمائندگی کے لیے بلا رہی ہے۔ وہ دنیا کے بارہ ذہین ترین طالب علموں میں واحد پاکستانی ہے لیکن ۔۔۔۔۔۔ اس کا المیہ دیکھیں
میرا نام جینا علی ہے اور میں آئی سی ایس پارٹ 1 کی طالب علم ہوں۔ میں نے ہارورڈ، USA میں بین الاقوامی ریسرچ اولمپیاڈ (IRO) فائنل کے لیے کوالیفائی کیا ہے۔
یہ باوقار اور مسابقتی سائنس اور تحقیقی اولمپیاڈ تھا جس میں دنیا بھر سے ہزاروں طلباء نے حصہ لیا۔
ان ہزاروں طلباء میں سے صرف 293 طلباء ہی کوارٹر فائنل میں پہنچنے اور سیمی فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو سکے۔ میں بھی ان میں شامل تھی۔
پھر دنیا بھر کے ان 293 طلباء میں سے صرف 12 طلباء کو فائنلسٹ نامزد کیا گیا۔ ان 12 طلباء میں سے میں واحد پاکستانی طالبہ ہوں جو عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کروں گی۔ ممکن ہے میں پہلے نمبر پر آوں لیکن پاکستانی طالبہ ہونے کی وجہ سے شاید میں جا ہی نہ سکوں اور میرے خواب ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائیں
مجھے اس کے لیے رقم نہیں چاہیے ۔ میں پنجاب کالج کی سٹوڈنٹ ہوں ۔ مجھے میرے کالج نے سپانسر کر دیا ہے کہ میری ٹکٹ اور ویزہ کے اخراجات کالج کی طرف سے ہوں گے ۔ مڈل کلاس ہونے کے باوجود کچھ اخراجات میرے والدین کر لیں گے ۔ میرا مسئلہ پیسے نہیں ہیں بلکہ اس مقابلے میں شریک ہونا ہے ۔
مجھے ویزہ انٹرویو کے لیے اگلے سال کی تاریخ دی گئی ہے جبکہ یہ مقابلہ اگلے مہینے 19 سے 21 جون کو ہے ۔ میرے پاس ہارورڈ کا لیٹر ہے ۔ اپنے کالج کا لیٹر بھی ہے ۔ میری ٹکٹ کا مسئلہ بھی حل ہو چکا ہے لیکن اگر ویزہ کے لیے انٹرویو ہی اگلے سال ہو گا تو میں اگلے مہینے کیسے جا سکوں گی ؟؟
مجھے حکومت سے صرف اتنی سپورٹ چاہیے کہ مجھے بروقت ویزہ اور ٹکٹ مل جائے ۔ میں اس عالمی سطح کے مقابلے میں پاکستان کی واحد سٹوڈنٹ کے طور پر شرکت کر سکوں اور میری اتنی محنت ضائع نہ ہو ۔ میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنا چاہتی ہوں ۔ میں اپنے خواب پورے کرنا چاہتی ہوں ۔
نوٹ :
اس بچی اور اس کے والدین نے مجھ سے رابطہ کیا۔ لوگ سمجھتے ہیں میرے بہت تعلقات ہیں اور میری وجہ سے ان کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے ۔ اللہ نے بھرم رکھا ہوا ہے ورنہ سچ یہ ہے کہ خود مجھے بھی نہیں علم کہ یہ کام کون کر سکتا ہے اور جو کر سکتے ہیں وہ غالبا میرے مہربان نہیں ہیں ۔۔ میں حقیقتا اس بچی کے لیے پریشان ہوں ۔ میں اس سے کبھی نہیں ملا لیکن یہ جانتا ہوں کہ ہمارا ٹیلنٹ اسی طرح ضائع ہوتا ہے ۔ آپ کچھ کر سکتے ہیں تو اس کے لیے لازمی کریں ۔ نہیں کر سکتے تو اس پوسٹ کو اتنا شیئر کر دیں کہ یہ ان تک پہنچ جائے جو اس ذہین بچی کا مسئلہ حل کر دیں (سید بدر سعید )
@MohsinnaqviC42@TararAttaullah
As the nation commemorates the glorious success of Marka-e-Haq and Operation Bunyan-un-Marsoos, we thank Allah Almighty and pay tribute to the extraordinary courage, unwavering resolve, and supreme sacrifices of our Armed Forces and the people of Pakistan.
In the face of aggression, Pakistan stood united in purpose, disciplined in action, and unshakable in faith. Operation Bunyan-un-Marsoos reflected the exceptional strength, professionalism, and operational excellence of our Armed Forces, who, under the resolute and visionary leadership of Field Marshal Syed Asim Munir, defended the sovereignty and dignity of the motherland with remarkable precision, valor, and determination. His bold leadership and unflinching commitment to the defence of Pakistan inspired the nation and strengthened the resolve of our brave Armed Forces at a defining moment in our history.
Marka-e-Haq shall forever remain a symbol of national unity, resilience, and our collective determination to safeguard Pakistan at all costs.
Today, we salute our brave sons and daughters in uniform, whose sacrifices continue to strengthen the foundations of our security and freedom. The grateful nation stands proud of every soldier, officer, martyr, and veteran who upheld the honor of Pakistan with courage and selflessness.
Pakistan remains steadfast in its commitment to peace, yet equally unwavering in defending its sovereignty, territorial integrity, and national honor against any threat.
Pakistan Zindabad
🚨🚨جنگل کی آگ کی طرح پھیلا دو
گل جماس ٹوبہ ٹیک سنگھ سے ہے ایران میں ایک نیوز چینل پر کام کرتا ہے اس کی بیگم ایرانی ہے پکا یوتھیا بھی ہے جمی ورک کے نام سے ایران سے اکاؤنٹ چلا رہا اور اس قدر نفرت اور زہر پاکستان کے خلاف فیلڈ مارشل کے خلاف شہباز شریف کے خلاف پھیلا رہا آپ سب ہر گروپ میں یہ ٹویٹ بھیجیں ایرانی سفیر ایرانی ایمبیسی کو ٹیگ کریں اسے کاپی پیسٹ کریں تاکہ یہ اپنے انجام کو پہنچے
صدقہ اور نیکی سمجھ کر پاکستان کے لیے یہ کام لازمی کریں
The world has been criminally negligent to the plight of Palestinians for too long. Israel targeting children & unarmed civilians is terrorism at its worst. I strongly condemn this brutality in Al Aqsa Mosque & Gaza. My heart goes out to the victims. The world must act & act NOW
یہ بچہ جو کہ
محمد عدیل ولد لیاقت ہے ۔
دو دن پہلے مغرب کے وقت فیضان مدینہ شجاع آباد نماز پڑھنے گیا وقت گزر گیا جیسے تھوڑی دیر ہوئی تو تمام گھر والے تلاش کرنے لگے ۔
رات کے وقت ہی دروازہ بجا کہ حارث بھائی مدد کریں کیونکہ میرے گھر کے سامنے والا گھر ہے خیر ہم جب سے تلاش کرتے رہے ۔
پہلے لگ رہا تھا کہ شجاع آباد کے آس پاس میلہ لگا ہوا ہے وہاں جاکر دیکھا نہیں ملا اب نوری لعل تک جاکر دیکھ لیا ۔
ابھی تک عدیل کا کوئی نام و نشان نہیں ملا بچے کی عمر 13 سال ہے
پلیز اس کو وائرل کردیں تاکہ کسی غلط انسان کے ہاتھ میں نہ پہنچے
اب بہت سے خدشات ذہن میں آرہے ہیں جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے غلط سوچیں گھیر رہیں ہیں ۔
کیونکہ بچہ ہمارے سامنے ہی کھیلتا ہوا بڑا ہوا ہے اس لیئے دل پریشان ہے
گھر والوں کی کیفیت دیکھی نہیں جاتی اگر کسی نے اس بچے کو کہیں بھی دیکھا ہو تو پلیز مجھ سے رابطہ کریں
😪😪😪?
🚨🚨انتہائی اہم مسلہ اسے وزیر تعلیم پنجاب تک پہنچا دو
ہمارے ایک عزیز ہیں ڈنمارک میں انہیں اپنے گاؤں ٹھوٹھا رائے بہادر میں ایک گرلز کالج بنوانا تھا 36 کنال زمین وہ حکومت کو مفت ڈونیٹ کر چکے اور کافی عرصہ ہو گیا دھکے کھا رہے زمین حکومت کو منتقل ہو چکی مگر کالج نہی بن رہا اب وزیر تعلیم تک سفارشیں بھی بھجوا چکے مگر کام نہی ہو رہا آپ بتائیں کیا طریقہ ہو کہ حکومت اس علاقے کی بچیوں کے لئے کالج بنا دیں وہ پاؤں پکڑنے تک تیار ہیں
آپ سب مریم اور وزیر تعلیم تک یہ پہنچا دیں شاید آپ کی سنی جائے
اسلام آباد اکارڈ کا نغمہ بھی ریلیز ہوگیا۔
سب دوست لازمی شئیر کرتے جائیں۔
آج بہت عرصے بعد کلیجے میں ٹھنڈک پڑی ہے۔
اتنی ٹھنڈک تو دس مئی کو بھی نہیں پڑی تھی۔
آج ہم نے دس مئی سے زیادہ بڑا کام کر دکھایا ہے۔