بخاری نے وعدہ کیا تھا کہ باہر بیٹھے وی لاگرز خاموش رہیں گے مگر وہ ساری رات بکواسیں کرتے رہے صابر شاکر نے جعلی تصویر تک پوسٹ کردی عمران ریاض نے دھمکیاں لگانا شروع کردیں کہ حکومت ڈر گئ ہے ۔ خان صاحب کو نتیجتاً ایک دفعہ پھر ان وی لاگرز کی وجہ سے تکلیف اُٹھانا پڑی اور انھیں واپس جیل بھیج دیا گیا۔۔ جب تک یہ وی لاگرز زہر اُگلتے رہیں گے خان کو کوئ آرام نہیں ملنا ۔
شام کا وزیر خارجہ آئے یا کویت کا ۔۔ استقبال سیکرٹری خارجہ کرے گا ۔
لیکن اگر ایرانی وفد آئے تو صدر ، وزیراعظم، فیلڈ مارشل ، قائد اعظم ، علامہ اقبال سب موجود ہوں گے ۔۔
ایرانی پراکسیز قابض ہیں
بے شرم لوگ تو وہ ہیں جب عمران خان کی حکومت تھی تو جوتے چاٹ رہے تھے،نواز شریف اور کلثوم نواز کی بیماری کا مذاق اُڑاتے تھے اے آر وائے پر بیٹھ کر بکواس کیا کرتے تھے۔دوسری بات عمران خان نے کب اجازت دی؟عدالت نے اجازت دی تھی جہاں میڈیکل رپورٹس ان کے اپنے بنائے گئے میڈیکل بورژ نے دی تھیں اور بتایا تھا ملک میں علاج نہیں ہوسکتا اور نواز شریف کو پاکستان میں سرکاری ہسپتال میں ایڈمٹ کروایا گیا تھا۔پہلی بار عدالت ایک مریض کو پرائیوٹ ہسپتال میں بھیج رہی اور میڈیکل بورڈ بنوا رہی ہے جبکہ اُس کو کوئی جان لیوا بیماری نہیں ہے۔بے شرم لوگ کل تک اسی عمران خان کے جوتے چاٹ رہے تھے۔
میں نے صرف اپنے لاپتا پالتو جانور کی واپسی کی اپیل کی تھی اور کمیونٹی نے مدد کی۔ اس پر بھی سیاست چمکانا تمہاری گرتی ہوئی سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔ ویسے Max تم سے ہزار گنا بہتر ہے، کیونکہ وہ نہ تو جعلی انگوٹھے لگا کر جیل جاتا ہے اور نہ ہی عوام کا پیسہ لوٹ کر ملک سے فرار ہوتا ہے۔ #میکس_گھر_آگیا_اب_تم_بھی_آجاو
صدیق جان سے ذیشان موری تک
سم ابراہم سے عمران ریاض تک
ہر یوٹیومر نے ہر اٹھائی گیرے نے ہر پیپٹ گیر نے کلثوم نواز سمیت شریف فیملی کی بیماری کا ہمیشہ ٹھٹھہ لگایا ہے مذاق اڑایا ہے اور آج یہ تمام کردار اپنے بھگوان ابو ٹیریان کے غم میں مرے جارہے ہیں
یہ چکی بہت باریک پیس رہی ہے
تین ارب 74 کروڑ روپے کے واجبات بھی واپس نہیں دے گا ٹول ٹیکس بڑھا کر اپنے محکمے کو منافع بخشش قرار دے کر ہڑتال کروا کر عوام کا نقصان بھی کروائے گا لیکن استعفی بھی نہیں دے گا بس ساشے پیک ملک ریاض پروپیگنڈہ کروائے گا
مفادات کے سوداگر انہی کو کہتے ہیں
ایک ارب سترہ کروڑ میں سے 72 کروڑ علی امین گنڈاپور نے دئیے
ایک دن ملاقات کے لئے گیا تو علی امین گاڑی کی ڈگی میں ایک وکیل کو پیسوں سے بھرے بیگ ٹھوس رہے تھے
علی امین کو دراصل ہٹانے کی وجہ یہ تھی کہ ایک گروپ کہتا تھا مجھے پیسہ نہیں دیا اُس کو کیوں دیا ؟
آج سھیل آفریدی وکیلوں کو ٹاوٹوں کو سب کو مال کھلا کر علیمہ کے گروپ میں لے گیا ہے ۔ شیر افضل مروت
محسن عزیز نے پیپلزپارٹی کے ووٹ چور فیصل راٹھور کے کرتوتوں پر ایچی بیچی کے ساتھ روشنی ڈالی ہے ایک ایک فارم دکھا کر بتایا ہے کہ کیسے 34 ووٹوں کو 595 ووٹوں میں بدل دیا
135 ووٹوں کو 622 ووٹوں میں تبدیل کر دیا
پیپلزپارٹی کی دھاندلی کی باریک واردات محسن عزیز نے سامنے رکھ دی 🙌🏻🙌🏻
بریکنگ نیوز: ایران کے مختلف شہروں میں پٹرول کی قلت شروع ہو گئی ہے. گھنٹوں انتظار کرنے کے بعد بھی صرف دس سے پندرہ لیٹر پٹرول ملتا ہے...... امریکی ناکہ بندی کے اثرات نظر آنا شروع ہو گئے ہیں.
انقلابیوں کے لیڈر زیر زمین محفوظ بنکروں میں چھپے ہوئے ہیں اور وہیں سے کبھی مسلمان ملکوں پر حملوں کا حکم دیتے ہیں اور کبھی مسلمان ملکوں کے آئل ٹینکرز پر حملے کرواتے ہیں. امریکی طیارہ بردار جہاز اور اسرائیل میں امریکی اثاثے انہیں نظر نہیں آتے.
انقلابی رہنماؤں کے غلط فیصلوں کی وجہ سے ایرانی عوام مہنگائی سے پریشان ہیں. امریکی ناکہ بندی مزید کچھ وقت برقرار رہی تو ایک بار پھر ایران میں عوامی احتجاج شروع ہو سکتا ہے اور یہ انقلابیوں کیلئے مزید مشکلات کا سبب بن جائے گا.
KPK ہاؤس میں کرائے کے یوٹیوبروں کو پانچ چھ کمرے سھیل آفریدی نے الاٹ کر رکھے ہیں جو اپنی فیملیوں کے ساتھ آ کر رہتے ہیں کھاتے پیتے ہیں گاڑیوں کا پیٹرول تک ڈلوا کر دیا جاتا ہے
اخے وہ چائے کے ساتھ بسکٹ نہیں دیتا 🤡
ثمینہ پاشا گروپ پہاڑوں پر ٹکرے مارنے کیوں گیا تھا اب آئی سمجھ ؟
وطن عزیز کی 78 سالہ تاریخ میں سیاستدانوں کے جھوٹے سچے احتساب کی مثالیں بے شمار ملیں گی۔ باقی حکمران طبقات کی بھی آپکو چند مثالیں ضرور مل جائیں گی۔ نہیں ملیں گی تو ھماری بیوروکریسی کی نہیں ملیں گی۔ بیوروکریٹس پاکستان کے اصل اور دائمی حکمران ھیں اور رہیں گے۔ ھم نے انکو وزیر اعظم بھی بنایا گورنر جنرل و صدر پاکستان دو دو دفعہ بنایا ۔ انمیں سے ایک وقت کا بیوروکریٹ حکمران سیاست دانوں کو منہ پہ ماں بہن کی گالیاں بھی دیتا تھا اور وہ سنتے تھے ۔ بیوروکریٹ وزیر ومشیر گنتی کریں تو 78 سال میں لاتعداد ملیں گے۔
اب اگر یہ طبقہ untouchable بن گیا ھے اور انکو کوئ پوچھنے والا نہیں نا تو عاقبت اندیش قصور وار ھم سیاستدان ھیں بیوروکریٹ تو فنکار ھیں۔
70کی دھائی میں نیشنلائیزیشن ھوئ۔ ملک کےتمام کاروبا ر پہ بیوروکریسی قابض ھو گئی۔ قومیا یا nationalised اثاثوں کو برباد کر دیا گیا کسی حکومت نے ان untouchables کو کبھی پوچھا۔ احتساب کیا؟ اگر نقصان کا تخمینہ لگایا جائے تو نیشنلائزیشن سقوط ڈھاکہ سے بڑی ٹریجڈی ثابت ھوگی۔ حساب کی گنتی میں اتنے ھندسہ نہیں ھونگے۔
آج بھی حکومت نجکاری کے پروگرام عمل کر رہی ھے کامیابی ھو رہی ھے میں دعاگو ھوں۔ نواز شریف پہلا حکمران تھا جس نے تباہی کو ریورس کرنے کی کامیاب کوشش کی بی بی شہید اس سلسلے کو آگے بڑھایا مگر اسکے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی دائمی حکمران نوکر شاہی نے بریکیں لگا دیں ۔ شہباز شریف کا فوکس کام کر رہا ھے اللہ کامیاب کرے ۔
یہ ساری کہانی سنانے کا مقصد صرف یہ تھا کہ قصور وار سیاستدان اور انکی کمزوریاں ھیں ۔ یہ پرتگال کینیڈا امریکہ برطانیہ یا وطن عزیز میں بیٹھے مالدار بیوروکریٹ ھماری ناعاقبت اندیشی کے ڈائریکٹ بینیفشری ھیں ۔
سیاست دانوں کو منہ پہ گالیاں نکالنے والے گورنر جنرل کو بد قسمتی سے فالج ھو گیا تھا تو جب سیاستدان اسکو ملنے جاتے تھے وہ انکو ننگی گالیں نکالتا تھا جسکی سیاستدانوں کوسمجھ نہیں آتی تھی تو گورنر جنرل صاحب کی گوری سیکرٹری ترجمہ کرکے بتاتی تھی۔
فخر درانی نے نام تو نہیں لیا لیکن جن کے متعلق بات کی گئی ہے ان میں سے ایک حسنین رفیق وہ یوٹیومر ہے جس پر پختونخوا حکومت کے ترجمان خالد سپاری نے پیسے اور آئی فون سترہ لینے سمیت لاتعداد مالی خرد برد اور عیاشیوں کے الزامات بھی عائد کئے ہیں
این اے 18 ہری پور
جہاں الیکشن کمیشن سمیت پوری صوبائی ضلعی مشینری سہیل آفریدی کی تھی اور پختونخوا حکومت نے الیکشن لڑا لیکن بابر نواز خان نے عمران خان کے بیانیہ کو گھر میں گھس کر مارا
اور کرغستان زیادتی معاملہ اور بیلٹ پیپر فیک سٹوری چلانے والے گٹے جوڑ کر جھوٹ بولتے رہیں گے