@ZeshanNoor007 آپ نے بالکل سہی کہا ہے مگر یہ ویڈیو بھی انہی ڈاکٹر کی ��جہ سے بنا شروع ہوئی ہے پہلے انکو کہا جاتا تھا کہ ایسے ہے تو یہ لوگ انکار کر دیا کرتے تھے اے دیں YDA کے پیچھے چھپ کر ہڑتال کر دیتے تھے۔ اگر یہ سب نہ ہو تو جو کچھ ہو رہا ہے مریضوں کے ساتھ ہسپتال میں آپکو بھی پتہ ہے اور مجھے بھی
فضل الرحمن کو اس پر معافی مانگنی پڑے گی کیونکہ شہداء کے ساتھ پوری قوم کھڑی ہے فضل الرحمن اور اس کے پیروکار اس قوم کے وظیفوں اور بھیک پر پلتے ہیں مدرسوں کو لوگ چندہ دینا بند کر دیں تو یہ بھوکے مر جائیں فضل الرحمن ہمارے ٹیکس کے پیسوں سے تنخواہیں اور مراد لیتا ہے کرپشن اس کے علاوہ ہے اور یہ ہم ہی پر بھونک رہا ہے
پاکستان کے بہترین فاسٹ باولر شعیب اختر نے پاکستان کے نمبر ون یوٹیوب وی لاگر ٹک ٹاکر سوشل میڈیا پرسنلٹی سعد الرحمن عرف ڈکی بھای کو اس کی اوقات دیکھا دی ��۔
شعیب اختر اور ڈکی بھای اک ہی تقریب میں شریک تھے شعیب اختر جیسے ہی حال میں انٹر ہوتے ہیں لوگ اٹو گراف لینے کیلے انکے قریب پہنچ جاتے ہیں ۔ شعیب اختر اٹو گراف دے کر جب سیٹوں کی طرف جاتے ہیں تو انکے سامنے ڈکی بھای برجمان ہوتے ہیں ۔
عیب اختر انکی طرف دیکھ کر انہیں بلکل اگنور کر دیتے ہیں اور اگے بڑھ جاتے ہیں ۔
مجھے لگتا ہے یہ اک سپر سٹار کا خاموش مسیج تھا جنہوں نے فیملی وی لاگنگ گندے گالیوں بھرے Content لوگوں کی روسٹنگ کر کے ٹک ٹاک پر گالی کلچر متعارف کرا کے شہرت حاصل کی انہیں یہ بتانا تھا کہ سپر سٹار ایسے راتوں رات نہی بن جاتے ۔۔
سپر سٹار بننے کیلے محنت چاہیے 161.3 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے باولنگ کرا کے دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرنا ہے ۔
ٹیسٹ کی اک اننگز میں بارہ بار پانچ سے زائد وکٹیں حاصل کرنی پڑتی ہے ۔۔ نامکن ہارے ہوے میچ جتوانے پڑتے ہیں پھر اس قابل بنتے ہو عوام اپکو سپر سٹار مانتی ہے ۔
نہ کہ تم جیسے بیویوں کو بہنوں کو ٹھمکے لگا کر گالیاں دے نوجوان نسل کو برباد کر کے اوٹ پٹانگ حرکتیں کر کے شہرت پیسہ تو حاصل کر لو گے مگر عزت صرف اس کی ہو گی جو اس عوام کے دل پر راج کرے گا ۔
حکومت جا رہی ہے
۔
ہوائوں کا رخ بدل رہا ہے، گہرے ہوتے سائے، اسلام آباد کی دیواروں کی سرگوشیاں اور اس جیسے کتنے ہیں جملے پاکستان کے شدید ب��خبر صحافیوں نے گھڑ رکھے ہیں۔
اللہ کریم کا کرم کہ پاکستان کے سب سے معتبر سیاستدان کے گھر آنکھ کھولی تو سیاست اور صحافت کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ آج سے تیس سال قبل بھی اور اج بھی یہ صحافت کے یہ جملے نہیں بدلے اج کم از کم چالیس سال کے صحافت کے مطالعے کے بعد پورے یقین سے یہ کہ سکتا ہوں کہ جو بھی یہ الفاظ استعمال کرتا ہے اصل میں اس باخبر صحافی کے پلے نوے فیصد کیسز میں کچھ نہیں ہوتا۔
طریقہ واردات بڑا سادہ ہے ہر کچھ عرصے بعد ایسی کوئی پھلجڑی چھوڑ دو ایک تو یہ چورن ہمیشہ اچھا بکتا ہے دنیا کی ہر حکومت سے نالاں افراد ہوتے ہی ہیں وہ اس پر امید باندھ کر آپ کے اچھے گاہک بن جاتے ہیں۔ دوسرا پچاس بار یہ دعوی کریں انچاس بار جھوٹا ثابت ہو گا ایک بار تُکہ لگ جائے گا تو عمر بھر یہ خبر بیچو کہ دیکھو میں نے فلاں وقت یہ خبر دی تھی اور اگلے ہفتے حکومت چلی گئی۔ کچھ بہت شاطر بڈھے صحافی کسی کمشنر کسی پولیس افسر کسی فوجی تقرر تبادلے پر یہ تُکہ نکال کر بیٹھ جاتے ہیں دیکھا میں نے پہلے ہی کہ دیا تھا کہ چل چلائو کا وقت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا آنے کے بعد رہی س��ی صحافت کا جنازہ نکل چُکا ہے ہر صحافی کو خبر نکالنی ہی نہیں خبر بیچنی بھی ہے گھر کی روٹی بچوں کی فیس محبوبہ کے نخرے یا ولایتی شراب کی بوتل کا خرچہ خبر کی سچائی سے پورا نہیں ہو سکتا سو کمزور اذہان کو ��ھوٹ بیچو جھوٹی امید بیچو۔ اگر پھر بھی بات نہ بنے تو دلیری کا اسٹنٹ مار کر مخالفوں کو راتب خور لفافہ اور خود ک بطل حریت کہ لو حلانکہ صحافت کا تعلق تو خبر کی سچائی سے ہے ایکٹوزم سے نہیں۔
میں سیاستدان ہوں میری دیانت کا تقاضہ یہ کہ میں اپنے نظریے اپنے سیاسی گروہ اپنے اتحادیوں کے لیے جانبدار رہوں لیکن پاکستان میں سیاستدان سے مطالبہ ہے کہ وہ غیر جانبدار ہو جائے۔ جبکہ پاکستان میں گندگی پر کھمبیوں کی طرح اگ آنے والے چرب زبان جس کے پاس چار فالوور ہیں وہ صحافی کہلوانے پر بھی بضد ہے اور اس کی دیانتداری یہ ہے کہ وہ غیر جانبدار نہیں ہے۔
میری بات بہت تلخ لگے گی لیکن پاکستان میں ��قیقی صحافیوں کی تعداد اب دو ہاتھوں کی اگلیوں سے بھی کم ہے باقی کوئی بھی صحافی نہیں بلکہ سب کسی نہ کسی قوت کے میڈیا مینیجر اور سپوکس پرسن ہیں۔ ہر وہ فرد جو گلا پھاڑ بھاڑ کر کسی دوسرے فرد کو راتب خور کہ رہا ہوتا ہے اس کی دو جملے کی تحریر بتا دیتی ہے کہ موصوف کو راتب کہاں سے ملتا ہے۔
پاکستان کو اگر ترقی کرنا ہے تو اس سارے میڈیائی ہیجان کو فوری لپیٹنا ہو گا چاہے اس میں لپیٹنے والوں کے اپنے راتب خور بھی بے روزگار ہو جائیں۔ کیونکہ ان کی خبر سازی سچ نہیں پیسے سے جڑی ہے وہ پیسہ کمانے کے لیے کبھی کشمیر میں سیکڑوں افراد ہلاک کرنے کی خبر چلائیں گے کبھی پنجاب کالج میں بچی کے ریپ کی خبر۔ کبھی ہر خاتون سیاستدان کے ناجائز تعلقات کی خبر۔ کچھ نہیں ملے گا تو خاکم بدہن پاکستان پر ایٹم بم گرنے کی خبر۔ روک لیں ان جھوٹ کی فیکٹریوں اور راتب خور انقلابیوں کو ورنہ پھر سال کے تین سو پینسٹھ دن یہی چورن بکے گا کہ
حکومت جا رہی ہے
دنیا کی کسی بھی مہذب معاشرے میں صحافی یوں مخاطب نہیں ہوتے جبکہ پاکستان میں صوبائی دارلحکومت کے ڈی آئی جی کو گفتگو کرنے پر کتوں کی طرح پڑ جانے والے صحافتی کارڈ گلے میں ڈال کر تشریف لے ائے ہیں
زمین ملی تو بنجر صحافی ملے تو کنجر
خدیجہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) میرا کون یقین کرے گا؟
آپ محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا یہ جملہ ہمیشہ میرے رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے ۔
اے اللّٰہ کے نبی گواہ رہیے گا ہم آپ پر بن دیکھے ایمان لائے
ہم نے آپ کو نہیں دیکھا لیکن خدا کی قسم ہم آپ سے بےپناہ محبت کرتے ہیں
🌸♥اللہ اکبر
اور پھر یقین والوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہو گئی
صلی اللہ علیہ وسلم
لوگوں کو ڈھائی سو کا نان بیچو،لیکن سرکار کو کرائے کی مد میں ایک روپیہ نا دو،ٹی کے آر نے سی ڈی اے کے ایک کروڑ کی ادائیگی کرائے کے مد میں کرنی ھے،جب ان کو بار بار نوٹس بھیجے جانے پر یہ ایک روپیہ ادا ناکریں تو کیا ان کو سیل نہیں کرنا چاھئے؟آگے سے ان کی ڈرامے بازی چیک کریں کہ 500 لوگ بے روزگار ھوگئے۔
ساہیوال میں آٹھویں کلاس کے طالبعلم
اور 4 بہنوں کے اکلوتے بھائی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کر کے اس کی گردن تیز دھار آلے سے کاٹ کر لاش
کھیت میں پھینکنے والے تینوں ملزمان پولیس مقابلے میں ہلاک ایک پولیس اہلکار زخمی معصوم
بچے کی لاش جانور نوچ نوچ کر کھا گئے تھے سر کا تھوڑا سا حصہ اور ایک ٹانگ کی چھوٹی ہڈی ملی
بچے کی شناخت اس کے جوتوں، بیگ اور موٹر سائیکل سے ہوئی تھی
جن لوگوں کو سی سی ڈی کے پولیس مقابلوں سے تکلیف ہے وہ جان لیں اگر ایسا نہ ہوتا تو ان جیسے جانور کچھ عرصہ بعد پھر کسی کے ساتھ یہی ظلم کرتے۔۔
#PakistanZindabad
ایک مشہور واقعہ ہے وائٹ ہاؤس کا، جب میاں محمد نواز شریف امریکی صدر باراک اوباما سے ملنے گئے۔ اوباما نے مسکرا کر کہا:
"کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ اس وقت دنیا کی سب سے عظیم عمارت میں موجود ہیں؟" 🏛️🌍
تو نواز شریف نے بڑے وقار اور مزاح کے ساتھ جواب دیا:
"ہاں! لیکن شاید آپ نہیں جانتے کہ دنیا کی عظیم ترین عمارت اِس وقت میرے قدموں کے نیچے ہے، کیونکہ میں اُس قوم کا نمائندہ ہوں جو اپنی طاقت اور عزت سے دنیا میں پہچانی جاتی ہے۔" 🇵🇰💪🔥
یہ جواب صرف بات نہیں تھی، بلکہ ایک قوم کی شان اور وقار کا اظہار تھا۔ 🌟
اور دلچسپ بات یہ کہ اوباما بھی حیران رہ گئے، کیونکہ انہوں نے کبھی نہیں ��وچا تھا کہ پاکستان کی طاقت اور عزت اتنی پُراثر ہو سکتی ہے۔ 😎👏
یہ لمحہ بتاتا ہے کہ قائد وہی جو اپنے ملک کے لیے فخر سے کھڑا ہو، اور پاکستان ہمیشہ بلند رہنے والی قوم ہے! ✌🏻💚✨