“یہ پاکستان کا کتا بیٹھا ہوا ہے ۔”
یہ ہے ان فرعون کا انجام ذلت و رسوائی!
سوچیں اپنے ملک میں فرعون بنکر پھرنے والے کیسے بیرون ملک میں بنا پروٹوکول کے ذلیل ہو رہے ہیں انکی ساری فرعونیت اور اکٹر صرف اپنے ملک تک ہوتی ہے۔
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی اہل خانہ سے گفتگو (یکم جولائی، ۲۰۲۵)
(نوٹ: یہ ٹویٹ یکم جولائی 2025 کو کی گئی ٹویٹ پر مبنی ہے)
”جعلی پارلیمنٹ کے ذریعے چھبیسویں کے بعد ستائیسویں ترمیم لانے کا تکلف کرنے کی بجائے کھل کر “بادشاہت” ڈکلئیر کر دینی چاہییے، کیونکہ ملک پر اس وقت مکمل طور پر ڈکٹیٹرشپ مسلط ہے-
پاکستان کی بنیاد “لا الہ الا اللہ” ہے- یہ کلمہ انسان کو ہر قسم کی غلامی سے آزادی دیتا ہے- پاکستان کو بڑی قربانیاں دے کر انگریز سے آزاد کروایا گیا تاکہ ایک ایسا ملک بنے جہاں ہر شہری کو شخصی آزادی حاصل ہو- مگر یہاں حالات بالکل برعکس ہیں اور ایک مافیا پوری قوم کو غلامی میں مبتلا رکھنا چاہتا ہے۔ میں جیل کی کال کوٹھڑی میں رہ لوں گا لیکن غلامی قبول نہیں کروں گا۔ میرا تمام لوگوں کو پیغام ہے کہ سب کو ایسی غلامی پر قید کو ترجیح دینی چاہیئے کیونکہ جب ہم باہر آزاد ہی نہیں ہیں تو پھر ایسی رہائی کا کیا فائدہ؟ علامہ اقبال کا شاہین اونچا اڑتا ہے، وہ کسی کا غلام بن کر نہیں رہتا-
پوری قوم خصوصاً تحریک انصاف کے ورکرز اور سپورٹرز کو پیغام دیتا ہوں کہ ملک میں جاری ظلم کے نظام کے خلاف تحریک کا آغاز کریں۔ میرے لیے اس غلامی کے نظام کو قبول کرنے سے بہتر موت ہے۔
میری آواز ہر طرح سے دبائی جا رہی ہے تا کہ لوگوں تک میرا پیغام نہ پہنچ سکے اور جبر کے خلاف کوئی کھڑا ہونے والا نہ بچے۔ لیکن میں آخری سانس تک ظلم کے خلاف کھڑا رہوں گا- اور میرا اپنے رب پر یقین ہے کہ پاکستان سے ظلم کا سایہ جلد ختم ہو گا-
جمہوریت میں چار چیزوں کی بہت اہمیت ہوتی ہے: ووٹ کا حق، قانون کی حکمرانی، اخلاقیات اور آزاد میڈیا- چھبیسویں آئینی ترمیم نے ان چاروں کو ختم کر کے رکھ دیا ہے-
۱: ووٹ کا حق: جب ایک ڈکٹیٹر آتا ہے تو اسے ووٹ کی ضرورت نہیں ہوتی تو وہ ڈنڈے کے زور پر ملک چلاتا ہے- جس طرح فارم 47 والی اسمبلیاں بنائی گئیں اور اب مخصوص نشستیں بانٹی گئیں اس سے عوام کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ ان کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
۲: قانون کی حکمرانی: عدلیہ کو حکومت کے ایک ذیلی محکمے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ عدالتیں اپنی مرضی کے ججز سے بھر دی گئی ہیں اور آزاد ججز کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے گئے ہیں- ایسا صرف مارشل لاء میں ہی ہوتا ہے۔
۳: معاشرے کی اخلاقیات: اس ترمیم سے معاشرے میں اخلاقیات دفن کر دی گئی ہیں۔ اسمبلیوں میں ایسے لوگ بٹھا دئیے گئے ہیں جو عوام کے منتخب نمائندے نہیں ہیں- ارکان اسمبلی کی کھلے عام خرید و فروخت جاری ہے- اور عدلیہ بھی اسی مافیا کے انگوٹھے کے نیچے ہے-
۴: آزاد میڈیا: ڈکٹیٹرشپ میں میڈیا کو مکمل طور پر زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے۔ آزادی اظہار رائے پر مکمل پابندی عائد ہے۔ آزاد صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور باقیوں کو خرید لیا گیا ہے-
احتجاج بنیادی جمہوری اور آئینی حق ہے“
18+
میراثی کی بیوی میراثی کی بے اعتنائی سے تنگ آ کر مر گئی میراثی نے سوچا مر تو گئی ہو ناں ہو کاروائی ڈال لی جائے۔ میراثی کام ڈالا تو میراثن ہنس کے اٹھ بیٹھی کچھ عرصہ بعد میراثی کا سسر فوت ہو گیا میراثی چارپائی کے سرھانے کھڑا ہوا اور کہنے لگا مینوں مردے زندہ کرنے آؤندے نے جے تسی سارے من جاؤ تے.
----------------------------------------------------------------+----
پاکستان زندہ باد
A Pakistan Army officer shared this with me on condition of anonymity. Story of 19-year-old #Hira, newly married to a junior Pakistan Army officer.
I can’t independently verify it, but I trust the person.
One month after her wedding, Hira was sent to Karachi for a fake “course.” For an entire week, she was allegedly rapęd repeatedly by DG Rangers Sindh, Maj Gen Shamraiz Khan Tanoli.
Her own husband had given full consent and kept her in the dark, because the General specifically enjoyed “rap!ng” ” her. He loved her screams and pleas.
Stories like Hira’s are disturbingly common in the Pakistan Army, but fear silences the victims.
#DirtySecrets #PakistanArmy #Rapists
پرنٹ یعنی شائع ہونے والا اخبار اب کوئی، کوئی پڑھتا ہے-
گزشتہ روز پاکستان کے دو بڑے انگریزی اخبارات میں دو خبریں شائع ہوئیں-
پہلی خبر روزنامہ ڈان میں میرے یونیورسٹی کے کلاس فیلو کاشف علی عباسی کی ہے-
خبر کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں ایلیٹ کلاس اور بیوروکریسی کے اڈے یا بیٹھک اسلام آباد کلب نے 51 کنال سرکاری اراضی پر قبضہ کر رکھا ہے۔ اسلام آباد کلب نے پارکنگ کی زمین بھی وفاقی ترقیاتی اتھارٹی کی ملکیتی قبضہ کر رکھی ہے- اسی طرح سیرینہ ہوٹل کو فیض آباد سے ملانے والی مری روڈ کے کچھ حصے پر بھی قبضہ ہے۔
اسلام آباد کلب کے پچھواڑے میں قائم ایلیٹ کلاس کے گن اینڈ کنٹری کلب کی 256 کنال زمین بغیر کسی لیز معاہدے استعمال کی جا رہی ہے-
ایکسپریس ٹریبیون میں ارشد انصاری کی خبر تھی کہ:
پاکستان میںحکومت نے ایران-امریکہ جنگ کے صرف 6 ہفتوں کے دورانیے میں عوام کی جیبوں سے پٹرولیم لیوی (پیٹرول پر ٹیکس( کی مد میں 180 ارب روپے وصول کیے ہیں- یہ رقم گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 400 فیصد زیادہ ہے۔
نوٹ: اس طرح کی خبریں آپ کو مشہورِ زمانہ تفتیشی سیل اب نہیں دیتا کیونکہ اس کا سربراہ ملا متقی آج کل فضا علی کے مارننگ شوز کے کلپ دیکھ کر اس کی گرفتاری کے مطالبات میں مصروف ہے- اور اس کے چیلے پنجاب حکومت کی پی آر کر رہے ہیں- اور ایک ٹیوب فروش خود بھی اسی کلب ممبرشپ حاصل کر کے اپنی کلاس تبدیل کر چکا ہے-
We are proud to welcome Etihad Airways back to Israel. 🇮🇱🇦🇪
Once again, Etihad is the first to resume its flights, proving that true partnership is measured by consistency and an uncompromising commitment. In just a few years, Etihad has become a favorite for many Israelis, ranking as the 8th most popular airline in the country for 2025.
Thank you for being a reliable bridge between our nations and for always leading the way. Welcome back! ✈️
#Israel #UAE #EtihadAirways #Partnership #Aviation #WelcomeBack
🛑یہ یزیدوں کی حکومت ہے🛑
مشہور معروف قاری صداقت علی جو ٹی وی پر تلاوت قرآن کرتے ہیں انہوں نے حکومت اور عسکری فیکٹری کی درندگی اور کرپشن کے خلاف تھوڑا سا بول دیا تھا تو نے انکو فورن اٹھوا کر تشدد کروایا انکی دو پسلیاں توڑ دیں انکو ننگا کر کے مارا آنکھیں سجا دیں💔
ایک سردار نے بیٹے کی شادی کی، جس رات لڑکے کی سہاگ رات تھی لڑکے کی ماں نے خاوند سے کہا کہ آج ہمارا بیٹا عیاشی مارے گا، میرا خیال ہے کہ ہمیں بھی نوجوانی کی یاد تازہ کرنے کے لیے سہاگ رات دوبارہ سے منانی چاہیے۔
ادھر دوسرے کمرے میں بیٹے نے پہلا راونڈ مکمل ہوتے ہی “ایک “ کا نعرہ لگایا، نعرہ سنتے ہی بابے اور بڑھیا نے جلدی سے اپنا راؤنڈ مکمل کیا اور انہوں نے جوابی زور دار نعرہ “ایک” لگایا۔
کچھ دیر بعد لڑکے کے کمرے سے بلند آواز میں “دو “ کی آواز آئی،بڑھیا بابا بھی جلدی سے دوسرے کی تیاری کرنے لگے، پھر کچھ دیر بعد لڑکے کے کمرے سے “ تین“ کا نعرہ بلند ہوا ۔
بابا بڑھیا نے ہانپتے ہوئے کچھ دیر بعد جوابی تیسرا راؤنڈ لگایا اور بستر پہ گِر گئے۔
کچھ دیر بعد لڑکے کے کمرے سے “چار “ کی آواز آئی، تب بابے نے غصے میں چیختے ہوئے کہا ۔۔۔
بس کر جا پین یکا ، کیوں مقابلے وچ ماں یوائی جا ریا ایں؟
مبشر زیدی کہتا ہے آٹھ ارب ڈالر آرہے ہیں ، رضی دادا کہتا ہے دس ارب ڈالر آرہے ہیں شہباز شریف کہتا ہے پندرہ ارب ڈالر آرہے ہیں عاصم منیر کہتا ہے سو ارب ڈالرز آرہے ہیں ۔
پین یکو کیوں ماں یوائی جارے او؟؟