حالات نے پاکستان کی سیاسی اور فوجی ایسٹبلشمنٹ کو موقع دیا ھے کہ وہ معاہدہ کراچی 1949 اور آزاد کشمیر کے 1974 میں بنائے گئے عبوری آئین میں کچھ تبدیلیاں کرکے پاکستان مخلاف نام نہاد کشمیری اور گلاب سنگھی قوم پرستی کا مستقل بندوبست کریں۔ اگر آزاد کشمیر کو صوبہ نہیں بھی بنانا تو کم از کم قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اس خطے کو نمائندگی دی جائے اور انہیں پاکستانی شہریت کا حصہ بنایا جائے تاکہ سروسز چیف، چیف جسٹس اور پاکستان کے صدر وزیراعظم کے عہدوں پر اس خطے کے لوگوں کے انتخاب میں قانونی رکاوٹ دور کی جائے۔ ورنہ کچھ عرصے کے بعد بھارتی پالیسی ساز کسی نئے قوم پرست بیانیے کو لانچ کرکے اس حساس خطے میں پھر گڑبڑ کر سکتے ہیں جو شاید پہلے سے بھی زیادہ سنگین ��و