@RH_views بے شرم آدمی آپ 2014 کی باتیں کر رہے ہو آپ کے جو قائد نواز شریف نے اُس وقت ایک نعرہ لگایا تھا ووٹ کو عزت دو بعد میں آپ کی پارٹی نے اپنا بیانیہ چھوڑ کر بوٹ کو عزت دو والی پالیسی اپنائی حالانکہ نواز شریف صاحب کی جنرل ضیاء الحق سے پہلے پاکستان کے لیے کیا خدمات تھے
لو بھای پنجاب والو اب اپکے ٹٹی خانہ بھی بند کرنے کا حکم ا گیا ہے ۔۔ سوشل میڈیا پر اک ویڈیو وائرل ہے جس میں
گٹروں کے بل باٹنے والے سرکاری ملازم نے جب اک شہری کو بل دیا اس نے پوچھا کس چیز کا بل ہے ۔۔ اس نے جواب دیا گٹر لائن کا بل ہے ۔
شہری حیران ہو گیا ۔ کہتا ہے پہلے تو کبھی نہی ایا اگر بل نہ دیں تو ؟
ملازم نے کہا پنجاب حکومت نے سخت اڈر ایا ہ�� جو گٹروں کا بل نہ دے ان کے گٹروں کو بھی بند کر دیں ۔۔
بس بتانا یہ تھا کہ جانور کے فضلے سے لیا جانے والا ٹیکس اب انسانی فضلے تک پہنچ گیا ہے ۔۔
تیاری پکڑو کوشش کریں پمپر لگا کر گھومیں اور سونے سے پہلے ��ہ پمپر ستھرا پنجاب کے کچرے کے ڈبے میں پھینک دیں تاکہ گٹر کے ٹیکس سے بچ سکیں ۔۔
جہاز تو لے لیا ہے اب اس کے پٹرول کا بھی تو بندوبست کرنا ہے
ایک یوٹیوب چینل، مائیکروفون اور کروڑ پتی بننے کا سب سے آسان شارٹ کٹ۔۔۔
لوگ کروڑوں روپے گنوا بیٹھے، مگر اس شخص کا خواب بیچنے کا دھندہ بند نہ ہوا۔
آج ایک ایسے "ہر فن مولا" کا کچا چٹھا کھلے گا، جس نے ہر وہ کام کیا جو اس نے کبھی خود نہیں سیکھا۔
پودکاسٹ سے لے کر پرائیویٹ جیٹ تک کا سفر
آپ نے انٹرنیٹ پر حافظ احمد کو تو دیکھا ہی ہوگا۔ وہی حافظ احمد جو کچھ عرصہ پہلے تک یوٹیوب پر بیٹھ کر انتہائی کم علمی پر مبنی پودکاسٹ کیا کرتے تھے۔
جب پودکاسٹ سے بات نہ بنی، تو انہوں نے پاکستانیوں کو ای کامرس (E-commerce) کے خواب دکھانا شروع کر دیے۔ دعوے کیے گئے کہ انہوں نے اس فیلڈ سے اربوں کمائے ہیں، اور پھر بھاری فیسوں کے عوض کورسز کی دکان سجا لی۔
پروفائل بدلنے کا جادوئی فارمولا۔
اب جب عوام کو ای کامرس کی اصل حقیقت سمجھ آنے لگی اور پاکستان میں آن لائن ٹریڈنگ کا ٹرینڈ آیا، تو محترم راتوں رات "ایکسپرٹ ٹریڈر" بن گئے۔
ای کامرس کے کورسز اچانک غائب ہوئے اور ٹریڈنگ سگنلز کا دھندہ شروع ہو گیا۔
سوشل میڈیا پر حال ہی میں ایک ویڈیو سامنے آئی جہاں پہلے تو بڑے فخر سے پرائیویٹ جیٹ میں سفر کی نمائش کی گئی، اور اگلے ہی لمحے ٹریڈنگ سکلز اور کورسز کی مارکیٹنگ شروع کر دی گئی۔
انٹرنیٹ پر اب ان کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں اور لوگ ان کے مبینہ منافع بخش سکرین شاٹس اور پیڈ سگنلز کی حقیقت کو بے نقاب کر رہے ہیں کہ کیسے معصوم لوگ ان کے چکر میں آ کر اپنی لائف سیونگز گنوا رہے ہیں۔
اگلی منزل: چاند کا سفر؟
اس بندے نے زندگی میں ہر کام ہاتھ میں لیا، لیکن کسی ایک میں بھی مہارت ثابت نہ کر سکا۔ نہ اچھے پودکاسٹر بن پائے، نہ ای کامرس سکھا سکے، اور اب ٹریڈنگ کے نام پر لوگوں کی جیبیں خالی کی جا رہی ہیں۔
جس تیزی سے یہ رنگ بدل رہے ہیں، بعید نہیں کہ کل کو یہ Elon Musk کی طرح لوگوں کو چاند کی سیر کروانے کی کمپنی کھول لیں اور اس کے بھی ایڈوانس کورسز بیچنا شروع کر دیں
یاد رکھیں اگر زندگی میں سچ میں کچھ سیکھنا ہے تو یوٹیوب پر دنیا کا بہترین مواد مفت دستیاب ہے۔ ان دو نمبر اور راتوں رات امیر بنانے کا جھانسہ دینے والے "کورس مافیا" سے خود کو بھی بچائیں اور اپنے دوستوں کو بھی۔
میں اوورسیز پاکستانی، امریکی شہری، اور مرحوم پاکستان نیوی آفیسر محمد اختر کی بیٹی ہوں۔
یہ معاملہ ہمارے خاندانی گھر، House No. 1012-C, Shoukat Hayat Colony, Sargodha کا ہے۔
• عطا محمد (میرے حقیقی دادا)
• محمد اختر (میرے والد، مرحوم پاکستان نیوی آفیسر)
• ملکہ بانو (میرے والد کی حقیقی والدہ)
• ست بھرائی (میرے والد کی سوتیلی ماں)
• محمد اصغر (میرے والد کا سوتیلا بھائی)
میرے والد کی وفات کے بعد محمد اصغر نے اپنی والدہ ست بھرائی کے ذریعے وراثتی دعویٰ کیا اور بعد ازاں ان کے حصے کو اپنے نام منتقل کروا لیا۔ آج بھی ہمیں مسلسل دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا ہے کہ اگر ہم اپنے قانونی حقوق کا مطالبہ کرتے رہے تو سرگودھا والے گھر پر قبضہ یا فروخت کی کوشش کی جائے گی۔
لیکن سرکاری ریکارڈ کچھ اور کہانی بیان کرتا ہے:
✅ محمد اختر 1960 میں پیدا ہوئے۔
✅ 1967 کے Pakistan Air Force کے سرکاری Nomination Form میں عطا محمد نے ملکہ بانو کو اپنی بیوی اور محمد اختر کو اپنا بیٹا ظاہر کیا۔
✅ عطا محمد کی شادی ست بھرائی سے 1973 میں ہوئی، یعنی میرے والد کی پیدائش کے 13 سال بعد۔
✅ ست بھرائی 1950 میں پیدا ہوئیں، یعنی محمد اختر کی پیدائش کے وقت ان کی عمر تقریباً 10 سال تھی۔
✅ 1976 کے ایک اور سرکاری PAF Nomination Form میں بھی محمد اختر کو عطا محمد کا بیٹا ظاہر کیا گیا اور اس وقت ان کی عمر تقریباً 16 سال درج تھی۔
یہ خاندانی کہانیاں نہیں، Certified Government Records ہیں۔
سوال بہت سادہ ہے:
1950 میں پیدا ہونے والی خاتون، 1960 میں پیدا ہونے والے بچے کی حقیقی ماں کیسے ہو سکتی ہے؟
اگر ��رکاری ریکارڈ موجود ہے تو پھر میری شکایت پر پیش رفت کیوں نہیں ہو رہی؟
ہمارے گاؤں میں میرے باپ کی ایک چھوٹی سی نشانی تھی، ایک چھوٹا سا گھر۔ وہ ہم سے پہلے ہی چھن چکا ہے۔
اب سرگودھا کے اس گھر کے پیچھے پڑے ہیں جسے میری ماں اور میرے باپ نے اپنی ساری عمر کی محنت، قربانیوں اور بچت سے بنایا تھا۔
کئی سالوں سے ہمیں دباؤ، دھمکیوں اور مقدمات میں الجھا کر صرف ایک بات منوانے کی ک��شش کی جا رہی ہے:
کہ ہم تھک ہار کر یہ گھر بھی ان کے حوالے کر دیں۔
لیکن آخر کیوں؟
صرف اس لیے کہ میں ایک بیٹی ہوں؟
کیا بیٹیوں کا اپنے والد کی میراث، عزت اور جائیداد پر کوئی حق نہیں ہوتا؟
کیا ایک اوورسیز پاکستانی بیٹی کو اتنا مجبور کر دیا جائے کہ وہ انصاف مانگتے مانگتے خود ہی ہار مان لے؟
میں کسی رعایت کی طلبگار نہیں۔ صرف غیرجانبدارانہ تحقیقات، سرکاری ریکارڈ کا جائزہ، اور اپنے مرحوم والد کے حق کے لیے انصاف مانگ رہی ہوں۔
OPC Complaint ID: 43638
@MaryamNSharif @CMOPunjabPK @PunjabGovtPK @PakPMO @PakPMDU @OPCPunjab
#اوورسیز_پاکستانی #انصاف #سرگودھا
سعودی نے جھگڑے کے دوران پاکستانی کو دانتری مار دی پاکستانی اللہ کو پیارا ہو گیا سعودی حکومت سے اپیل ہے سعودی شہری کو جلد گرفتار کیا جائے اور قانون کے مطابق سزا دی جائے
سرکاری دفاتر میں سائل کو سزا کے طور پر کھڑا کردیا
اوپر سے ڈھٹائی دیکھو ہنس رہا ہے
کیا سرکاری دفاتر عوام کو سزائیں دینے کے لئیے بنائے گئے ہیں جہاں عوام کے حال پر ہنسا جائے
@Ahmad_Noorani 2026 ‘s first beautiful surprise for me that you also lived or belonged to one and only Great Bahawalpur and you are right Allah Buksh’s Sihanouk halwa has no comparison with these Multani outlets