عمران خان رہا ہورہے ہیں دسمبر 2023
عمران خان رہا ہونے والے ہیں نومبر 2024
عمران خان کی رہائی وٹ پر ہے ستمبر 2025
عمران خان کو ناحق قید میں تین سال گزر گئے ہیں
اور صدیق جان ان وی لاگز سے ڈالروں کی بوریاں بھر چکا ہے اور یوتھیوں کو مزید چوتیا بنا چکا ہے
بصد احترام اگر یہی لب لہجہ پاکستان کی کسی بھی دینی یا سیاسی جماعت کے قائد کا ہوتا تو اب تک کیا ہو چکا ہوتا۔
میرے فوجی بیٹے زندہ جلائے گئے لیکن مجرم آزاد ہے۔
پاکستانیوں تیار ہو کیا ڈی جی آئی ایس پی آر کی یہ بات یاد ہے 14 اگست کو پاکستان اپنی طاقت کا تھوڑا سا جلوہ کراۓ گا میرا خیال ہے پاکستانیوں سے زیادہ اسرائیل اور ہندوستان زیادہ پریشان مشتاق ہونگے ۔۔۔۔
نیتن یاہو بہت فخر سے اسرائیلی کابینہ کو بتا رہے ہیں کہ ایران خطے کے ہر ملک پر حملہ کر رہا مگر اسرائیل پر ایک حملہ نہی کیا کوئی ڈرون کوئی میزائل نہی مارا کیونکہ ایران اسرائیل سے ڈرتا ہے اسے پتہ اسرائیل جواب میں بجا دے گا
ایران صرف مسلم ملکوں پر حملہ کرتا
عباسی صاحب مرزا صاحباں کی شعری کہانی کا ایک مصرعہ ھے ۔۔
گلیاں ھو جان سنجیاں وچ مرزا یار پھرے
یہ طبقہ جسکا آپ ذکر کر رہے ھیں ان کے نزدیک پاکستان کا وجود صرف ایک شخص کے حوالے قائم رہ سکتا ھے۔
پاکستان اللہ کے فضل سے قیامت تک قائم رہنے کے لئے بنا ھے۔ دوام وطن کو ھے شخصیات کو نہیں ۔۔ انشا ء اللہ 🇵🇰
رینالہ خورد میں گرین بس سے سواری کا موبائل چوری ہوا تو ڈرائیور نے بس کے گیٹ بند کر دئیے اور بس کو تھانے صدر لے گیا پھر پولیس نے موبائل برآمد کرکے ملزم کو گرفتار کر لیا
العربیہ کے تجزیہ کار کا بڑا اعتراف..!
پاکستان صرف ایٹمی طاقت ہی نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر ایک بڑی عسکری قوت ہے۔ پاکستان ٹینکوں، ڈرونز اور اسلحے سے لے کر جنگی طیاروں تک اپنی دفاعی ضروریات خود تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور اس کی دفاعی صنعت نے بھارت کے مقابلے میں اپنی صلاحیت ثابت کی ہے۔
صرف تقریباً 25 ملین ڈالر کا JF-17 ایسی جنگی صلاحیت فراہم کرتا ہے جو ایک امریکی MQ-9 ڈرون کی قیمت کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔
پیغام واضح ہےکہ پاکستان کی طاقت صرف ایٹمی ہتھیاروں تک محدود نہیں، بلکہ مقامی دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی اور جنگی صلاحیت اس طاقت کا اصل ستون ہیں۔
⭕ دشمن سمجھتے رہے پاکستان صرف دفاع کرے گا، مگر وقت نے دکھا دیا کہ پاکستان جواب دینا بھی جانتا ہے اور اپنی طاقت خود بنانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
مکہ دفاعی معاہدے کا جشن تینوں ممالک میں بھرپور انداز سے منایا جا رہا ہے سعودیہ پاکستان کے علاؤہ ترکیہ میں بھی مکہ دفاعی معاہدے کو بھر پور طریقے سے پورے جوش و خروش کے ساتھ جشن منایا جا رہا ہے
پاکستان سعودیہ اور ترکیہ تینوں بردارد ممالک کی عوام اس معاہدے سے بہت پرجوش اور خوش ہیں
لاشیں تو ازلی دشمنوں کے درمیان جنگ میں بھی واپس کی جاتی ھیں ۔ یہ کون زہریلے لوگ ھیں جو لاشوں کی بھی بیحرمتی کرتے ھیں اور وارثوں کواغوا کرکے ننگا کرکے تشدد کرتے ھیں ۔
میں نے تو صرف جغرافیہ کے حوالے کشمیریت پہ سوال اٹھایا تھا تو کمیٹی والوں کو بڑا ناگوار گزرا تھا۔ سیاسی مسائل پہ جب متشدد ھتھکنڈے اور زبان استعمال جاتی ھے تو ریاست پھر طاقت کے استعمال میں حق بجانب ھو جاتی ھے۔
پاکستان اور کشمیر میں شہیدوں کے مقدس خون کا رشتہ ھے۔ اس رشتے پہ حملہ کا ھر قیمت پہ دفاع کیا جائے گا۔ اختلاف اور سیاسی ڈائیلاگ مستند رویہ ھے۔ اس کے علاوہ جو رستہ اختیار ھو گا اسکے نتائج ھونگے۔
راجن پور کا ایک شہری تصدیق کرنے گیا کیا واقعی راجن پور کو مریم نواز نے بدل دیا ھے۰
اپنی آنکھوں سے دیکھ کے اسکا ماننا ھے راجن پور وہ راجن پور نہی کسی دوسرے ملک کا شہر لگ رھا ھے۰
ویلڈن مریم نواز ۰۰۰ 👏🏻👏🏻👏🏻
خاموش کشمیری باہر نکلا تو اب چپ لگ گئی بہت سوں کو
یہ وہ کشمیری ہے جو تمہارے شر کی وجہ سے خاموش تھا
جو تمہاری گالم گلوج کی وجہ سے خاموش تھا
یہ وہ کشمیری ہے جو اپنی آنکھوں سے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا ہوتا دیکھتا رہا اور دل ہی دل میں کڑتا رہا
گزشتہ کل یہ خاموش کشمیری پہلے پونچھ ڈویژن کے ضلع حویلی میں نظر آیا اور اب وہی صورتحال پونچھ ڈویژن کے ضلع باغ کی تحصیل دھیرکوٹ میں نظر آ رہی ہے
جہاں ریاستی جماعت آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق احمد خان کے جلسے کی صورتحال میں عام کشمیری باہر نکلا ہے
سردار عتیق احمد خان صاحب کے خلاف سوشل میڈیا پر پروپگینڈا مہم چلی جو انتہائی نفرت انگیز تھی لیکن آج خاموش کشمیری ووٹر باہر نکلا تو سب نے دیکھا ہے کے
کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے تھم نہیں رہے
یہ آٹھ ہندو خاندان اندرون سندھ میں قوم پرستوں کے بھارت کی ترقی والے پراپیگینڈا سے متاثر ہوکر دہلی چلے گئے۔
لیکن تین سال میں بھارت میں پھیلی نفرت اور بدامنی دیکھ کر وہ ہندو خاندان آج واپس اپنے ملک پاکستان آ گئے۔
کیونکہ پاکستان نظریہ اسلام پر بنا ہے، جس میں سب برابر ہیں۔
بڑی بریکنگ: ترکی کے وزیر خارجہ نے مکہ دفاعی معاہدہ کی تفصیلات بتا کر سب کو حیران کر دیا۔۔
ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ دفاعی معاہدہ نیٹو کے آرٹیکل پانچ جیسا ہی ہے۔۔
نیٹو کی طرح وزرا کی مشترکہ کمیٹی ہوگی اسی طرح ایک سیکرٹریٹ ہو گا۔۔
ایران کے حوالے سے معنی خیز بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ "کوئی ملک ہدف نہیں ہے جب تک کہ وہ معاہدےمیں شامل ملک پر حملہ نہ کرے"
مصر بھی تکنیکی معاملات طے ہونے پر فوجی اتحاد میں شامل ہو گا۔۔