پنجاب والے ٹک ٹاکس اب خیبر پختونخوا میں بھی دستیاب ہیں! ٹک ٹاکر تھیف منسٹر کے بعد ٹک ٹاکر گورنر۔ کوئی ذی ہوش انسان غریب عوام کا پیسہ اتنی بے دردی اور بے شرمی سے اپنی نوٹنکیوں پر کیسے لگا سکتا ہے!
بار سکیم سواتی سہیل آفریدی جنید اکبر احسان طور غائب ہیں۔ اغواہ ہیں۔ گرفتار ہیں۔
کدھر ہے ہمارا KP میں ILF وکلا۔ لیبر ونگ۔ کیا ہر روز انکے غائب کئیے جانے پر ایک ایک پریس کانفرنس۔ یا والک نہیں ہو سکتی۔ وکلا بھی غائب۔
ظالمو کوئی چھوٹا موٹا چراغ تو جلاؤ۔
پنجاب کے 100 MPA. کیا ایک پریس کانفرنس؟
ایم این اے۔ سینیٹر۔ ایک والک سپریم کورٹ تک ؟
کوئی رہ تو نہیں گیا۔ ؟
پشاور سے چھ لاشیں ملی ہیں ۔ میجر کی خبر چلا دی ہے سپاہیوں کی چھپا دی ہے۔ شہری فوجی گاڑیوں کا رستہ روک کر کہہ رہے ہیں تم ہمارے دشمن ہو۔ ٹی ٹی پی میزائلوں کے تجربے کررہی ہے۔ سات لاکھ فوج ہے۔ کھربوں کا بجٹ ہے۔ پورے ملک پر قبضہ ہے اور یہ حالات ہیں۔
کاش ہم یہ پہلے کر لیتے : صرف 6 دن میں خیبرپختونخواہ میں دہشت گردی ختم ہو گئی اور گورنر صاحب اب انٹرنیشنل کمپنیوں کو دعوت بھی دی جا چُکے ہیں کہ آ ��ر معدنیات نکالیں..
جنرل باجوہ کو سب سے زیادہ غصہ خان کی طرف سے اپنی تقریر میں میر جعفر میر صادق کے الفاظ استعمال کرنے پر تھا۔
کبھی آپ نے سوچا خان نے یہ کیوں استعمال کئیے تھے۔خان کو باہر والوں کا تو پتہ ہی تھا۔ اصل دکھ خان کو یہ تھا کہ اپنے ہم وطن میر جعفر میر صادق بن گئے۔
مریم نواز نے ٹویٹ کر کے خیبر پختونخواہ کی عوام کو ایمرجنسی لگنے پر مبارکباد پیش کی۔
جس کے جواب میں عوام نے مریم نواز کو وہ وہ جواب دیے ہیں کہ مریم نواز میاں داؤد کی جانب سے کی گئی عزت افزائی بھول جائیں گی۔
عوام کے ہاتھوں اتنی بےعزتی کبھی کسی خاتون کی نہیں ہوئی ہو گی۔
آئین کا آرٹیکل 199 ہائی کورٹ کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے احکامات (Writs) جاری کرے۔ لیکن جب کسی علاقے میں آرٹیکل 245 کے تحت فوج تعینات ہوتی ہے، تو ہائی کورٹ اس مخصو�� علاقے کی حد تک اپنے ان اختیارات کا استعمال نہیں کر سکتی اور خیبر پختونخواہ میں آرٹیکل 245 بھی نافذ ہے : یوں پی ٹی آئی کی پشاور ہائی کورٹ میں جاتی درخواست پر خاطر خواہ رزلٹ آتا نظر نہیں آ رہا۔