ہم آزادی کی تحریک چلانے والے مجاھدین کے بیٹے ہیں تمہاری طرح غلاموں اور مجاوروں کے بیٹے نہیں
ہماری تاریخ میں سرخیلی لکھی ہے
تاریخ گواہ ہے
ہمارا یہ سر ایک مرتبہ اللہ کے آگے جھکا ہے
اب ہمارا سر نہ رہے تو کوئی بات نہیں مگر یہ کسی اور کے آگے کبھی نہیں جھک سکتا
پشاور، مفتی محمود مرکز
19 ستمبر 2026
جےیوآئی کی مرکزی مجلس عمومی کا دو روزہ اہم اجلاس آج پشاور میں شروع ہوگیا ۔ترجمان جے یو آئی
اجلاس کی صدارت جےیوآئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کررہے ہیں۔اسلم غوری
اجلاس میں مرکزی و صوبائی قائدین سمیت ایک ہزار سے زائد اراکین شریک ہیں۔ترجمان جےیوآئی
اجلاس میں انتظامی یونٹس اور نئے صوبوں کے قیام کی باز گشت پر بحث ہو رہی ہے ۔اسلم غوری
آئندہ بلدیاتی انتخابات کے لیے صوبائی جماعتوں کی تیاریوں کا جائزہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ترجمان جےیوآئی
اجلاس میں ملک میں امن و امان کی تشویشناک صورتحال پر غوروخوض ہو گا۔اسلم غوری
اجلاس میں ملکی و بین الاقوامی صورتحال کا جائزہ بھی لے گا۔ ترجمان جےیوآئی
اجلاس میں آئندہ کی سیاسی حکمت عملی طے کی جائے گی۔ترجمان جےیوآئی
سعودی عرب کی سلامتی پر حملہ پوری امتِ مسلمہ کی سلامتی پر حملہ ہے،سعودی عرب پر حوثی دہشتگردوں کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں،سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ امت مسلمہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی پوری دنیا کے امن کے لیے خطرناک ہے،مسلم ممالک متحد ہوکر اسلامی بلاک بنائیں جس پر مؤثر سیاسی،معاشی اور دفاعی حکمت عملی بنائیں،موجودہ حالات میں مشترکہ پلیٹ فارم کی ضرورت پہلے سے بڑھ کر ہے۔
پاکستان کو مسلم دنیا کے اتحاد اور سعودی عرب کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا چاہئے۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا 6 ایسے لوگ جن پر میں اور اللہ لعنت بھیجتے ہیں۔اُن میں ایک وہ ہے جو طاقت کی بنیاد پر مسلط ہوتا ہے اور جن کو اللہ نے عزت دی ان کو رسوا کرتے ہیں اور جو گھٹیا قسم کے لوگوں کو اوپر لاتے ہیں، مولانا فضل الرحمٰن
اب نئی بحث چھڑ گئی کہ ہم نئے صوبے بنائیں گے۔ میں نے کہا، کوئی عقل بھی ہے تمہارے اندر، کم بختو! سوچو تو سہی، ایک گھر ہے، اس کے ایک حصے میں آگ لگی ہوئی ہے، دوسرے حصے میں آگ لگی ہوئی ہے۔ کیا اس ماحول میں بھائی بیٹھ کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ آئیے، ذرا مکان جو ہے، اس کو تقسیم کر لیں؟ ان شعلوں کے اندر آپ صوبوں کی بات کر رہے ہیں؟صوبے بنتے رہتے ہیں، دنیا میں بھی بنتے ہیں، انڈیا میں بھی بنتے ہیں، لیکن نہ ماحول اس وقت موجود ہے، نہ تیاری ہے۔
بس ایک ادارہ اور ایک ادارے کے سربراہ کی خواہش ہے اور وہ جبراً قوم پر مسلط کر رہا ہے۔
تو ہم نے اس کا مشاہدہ کیا ہے کہ فاٹا انضمام پر ہم چیخ رہے تھے کہ وقت نہیں ہے، ابھی تم تیار نہیں ہو، ماحول نہیں ہے۔ آپ نے کہا، نہیں، بن کے رہے گا۔ تو مجھے تو اس وقت بھی پتا ہے کہ اس کے پیچھے امریکہ تھا۔ تو میں کیسے نہیں کہوں گا کہ آج صوبوں کی تقسیم اور ملک کے اندر یہ افراتفری، اس کے لیے بیرونی دباؤ نہیں ہوگا؟ اور تم خود اتنے تگڑے ہو کہ ملک کے اندر یہ رسک لے رہے ہو اور صوبوں کو کیوں توڑا جا رہا ہے!اس لیے نہیں کہ اصولی طور پر یونٹ بنتے ہیں اور پوری دنیا میں ہو رہے ہیں اور انڈیا میں بھی ہو رہا ہے،
اس لیے کہ اٹھارویں ترمیم میں این ایف سی ایوارڈ آئینی طور پر طے ہوا کہ محصولات میں صوبوں کے حصے میں اضافہ کیا جا سکے گا اور کمی نہیں کی جا سکے گی۔ اور اس وقت شاید انچاس فیصد محصولات کا صوبوں کے لیے تھا، بڑھتے بڑھتے شاید چھپن، ستاون فیصد تک ہو گیا ہے۔ یہ ہے وہ چیز جس کے لیے وہ صوبوں کو توڑنا چاہتے ہیں، تاکہ ازسرِنو ہم نیا این ایف سی ایوارڈ کریں گے۔
اور دوسرا یہ کہ جو صوبوں کے اندر معدنی ذخائر ہیں، ان پر صوبوں کے عوام کا حق ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے تحت وہ صوبوں کی ملکیت ہے۔ ان معدنی ذخائر کے لیے وہ ہمارے قبائل کو، ہمارے صوبوں کے عوام کو، عام آدمی کو مالک تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ان کو اپنے قبضے میں لینا چاہتے ہیں۔ ان دو مقاصد کے لیے صوبوں کو تقسیم کرنا بڑا ناگزیر ہو گیا ہے، بڑا ناگزیر ہو گیا ہے۔
تو ہم نہ ہی ایسی چیز کی حمایت کر سکتے اور نہ ہی آپ کی بس میں ہے کہ آپ جبراً قوم کے اوپر فیصلے مسلط کریں گے اور ہم اس کو مانتے رہیں گے۔ یہ کیسے ہوگا؟
بلوچستان میں آپ کی گرفت نہیں ہے۔ ہنہ اوڑک اور اس کے پہاڑ یہ چھاؤنی کے بالکل اوپر ہے اور وہاں لوگ چڑھ گئے اور لوگوں کو شہید کیا۔ زیارت میں یہی ہوا۔ آج جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلسِ عمومی کا جو اجلاس کراچی میں ہو رہا تھا، بلوچستان کی جماعت کی درخواست پر پشاور میں لایا گیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم کراچی نہیں پہنچ سکتے، ہمارے راستے نہیں ہیں اس قابل۔
کبھی ہم نے، آج سے، کسی جماعت نے اس حوالے سے کوئی عذر نہیں پیش کیا۔ میں خود پورے بلوچستان میں پھرا ہوں، ایک گاڑی کے اندر پھرتا رہا ہوں، مکران تک گیا ہوں، تربت تک گیا ہوں، پنجگور تک گیا ہوں، پسنی تک گیا ہوں، گوادر تک گیا ہوں۔ آج وہاں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
کراچی، کوئٹہ شاہراہ غیر محفوظ ہے، ہمارے ہاں کی شاہراہوں پر گھنٹوں گھنٹوں کے ناکے لگے ہوتے ہیں۔ ہم کیا زندگی گزار رہے ہیں؟ ہمیں ٹھنڈی زمین تو دو، ہمیں امن تو دو۔
تو صوبوں کے حوالے سے بھی ہم ان کو خیرخواہانہ مشورہ دے رہے ہیں کہ اس وقت صوبوں کو توڑنا، اس کو نئے صوبوں میں تبدیل کرنا، اور پھر لوگوں کو لالچ دیتے ہیں، پھر آپ کی حکومت ہوگی، پھر آپ کی حکومت ہوگی، پھر آپ کی حکومت ہوگی۔ جیسے ہم حکومت کے بھوکے ہیں!
تو ان مشکلات سے ہم گزر رہے ہیں۔ بلوچ علاقوں میں خون ریزی ہو رہی ہے، جنگ ہے، پشتون علاقوں میں جنگ ہے، خیبر پختونخوا میں جنگ ہے۔ کشمیر میں، راولاکوٹ میں، تین مہینے ہو گئے ہیں لوگ بیٹھے ہیں، یہ ان سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ کیا مقاصد ہیں؟ رفتہ رفتہ اس میں ان عناصر کو غلبہ مل رہا ہے جو خودمختار کشمیر کی بات کرتے ہیں۔ جذبات میں تبدیلی آ رہی ہے۔ کیا مقصد ہے؟ کیا اس ملک کو توڑنا ہے؟
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا پشاور میں خطاب
اسلام آباد: امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی پارلیمنٹ ہاوس میں جوائنٹ اپوزیشن اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو
24 اگست 2026
جیسا کہ قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف نے آج کے دن کو مبارک دن قرار دیا کہ ہم نے، حزبِ اختلاف کی بینچوں پر بیٹھنے والے تمام لوگوں نے، تمام پارٹیوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ایک جوائنٹ اپوزیشن کا کردار ادا کیا جائے گا۔ مشترکہ حکمتِ عملی اور مشترکہ اقدامات باہمی مشاورت کے ساتھ سرانجام پائیں گے۔
اور کچھ چیزیں جو ہم سب کے مدنظر ہیں اور اس پر سب کا ایک اتفاقِ رائے ہے کہ ملک میں اس وقت امن و امان کی صورتِ حال انتہائی مخدوش ہے۔ امن و امان کی اس صورتِ حال کو محض ایک معروضی حادثہ قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ دو صوبوں کی صورتِ حال تقریباً نصف صدی سے خون آلود ہے۔ اور ایک طرف ہماری سرزمین خون سے سرخ ہے اور دوسری طرف ہمارے حکمران بیرونِ ملک سرخ قالینوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
تو درونِ در چہ کردی کہ بیرونِ خانہ آئی
() تو نے گھر کے اندر کونسا تیر مارا کہ اب باہر آکر دندنا رہے ہو۔ پہلے اپنے گھر کا حال تو لے لو۔ اندر کی ساری کمزوریوں کو بیرونی اسفار اور لال قالینوں سے نہیں چھپایا جا سکتا۔
امن و امان اگر خراب ہے تو ملکی معیشت بری طرح متاثر ہے۔ ہم ہندوستان کے ساتھ جنگ کی باتیں کرتے ہیں، ہندوستان کے ساتھ ہم تقابل کی باتیں کرتے ہیں۔ آئیے ذرا دیکھیں تو صحیح کہ آج بھارت دنیا کی چوتھی معیشت بن چکا ہے اور چھے سے سات سو ارب ڈالر کے زرِمبادلہ کے ذخائر کا مالک بنا ہے، اور ہم کہاں کھڑے ہیں؟
عدلیہ کے حوالے سے ہم کہاں کھڑے ہیں؟ پوری دنیا میں ہماری رینکنگ کیا ہے؟ معیشت کے حوالے سے ہم کہاں کھڑے ہیں؟ امن و امان کے حوالے سے ہم کہاں کھڑے ہیں؟
اور جب ملک اس طرح آگ کی لپیٹ میں ہے، بھوک کی لپیٹ میں ہے تو ہم ایسے وقت میں صوبوں کو توڑ رہے ہیں۔
ہمارا اس پر بھی اتفاقِ رائے ہے کہ یہ وقت صوبوں کی تقسیم کا نہیں ہے، نہ ماحول ہے، نہ اس کے لیے تیاری ہے۔ اس سے عدمِ اعتمادی بڑھے گی کہ ایک زمانے سے اٹھارہویں ترمیم مقتدرہ کے حلق کا کانٹا ہے، اسے ہر قیمت پر اٹھارہویں ترمیم کو ختم کرنا ہے اور صوبوں کے جو وسائل ہیں،معدنی ذخائر ہیں ان کو اپنی گرفت میں لینا ہے۔ اس کے لیے صوبوں کو کمزور کرنا، ان کو توڑنا، نئی یونٹ بنانا، اس حوالے سے ہم سب کا اتفاق ہے کہ یہ وقت اور اس طرح کے اقدامات ریاستی سطح پر، ملکی سطح پر پاکستان اس کا متحمل نہیں ہو سکے گا۔
کشمیر کی صورتِ حال ابتر ہے۔ پہلے ہی ہندوستان کشمیر کے حوالے سے ایسے اقدامات کر چکا ہے کہ ان اقدامات کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر کی جو اسپیشل اسٹیٹس تھی، وہ ختم کر دی گئی ہے۔
اور اب یہاں پر کشمیر میں جو کھیل کھیلا جا رہا ہے، جہاں مصنوعی طور پر اکثریتیں قائم کرکے حکومتیں بنائی جا رہی ہیں، ایسی صورتِ حال میں جب وہاں کے عوام سڑکوں پر ہیں، راولا کوٹ میں تین مہینوں سے لوگ دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور ان کی بات نہیں سنی جا رہی۔ عوام کے مسائل کے حل کی بجائے احتجاج کرنے پر اور مطالبہ کرنے پر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اس قسم کے اقدامات، اور پھر ہمارے ملک میں سیاسی قیدی جیلوں میں ہیں۔ ان سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے کوئی وجوہات نہیں ہیں کہ ملک کی جیلیں جو ہیں، وہ سیاسی قیدیوں سے بھری پڑی ہوں۔ اس حوالے سے بھی ہمارا اتفاق ہے کہ قیدیوں کی رہائی ہونی چاہیے اور ملک کا سیاسی ماحول صحیح کرنا چاہیے۔
دھاندلی کی بنیاد پر قائم کی گئی حکومت، وہ نہ ملک کے اندر عوام کی نمائندہ ہے، نہ ملک سے باہر عوام کی نمائندہ ہے، نہ ملک کے اندر مسائل کا حل پیش کر سکتی ہے، نہ باہر دنیا میں پاکستان کے وقار اور مقام کو بلند کر سکتی ہے۔
تو ان نکات پر ہمارا اتفاق رہا ہے اور ان شاء اللہ آج پہلا قدم ہے، اور اس پہلے قدم سے ہم جس سفر کا آغاز کر رہے ہیں، ہمیں امید ہے کہ ان شاء اللہ یہ پاکستان کی بقا اور سالمیت اور ملک کے آئین کے تحفظ کا سبب اور ذریعہ بنے گا۔
جہاں تک انہوں نے کہاہے، وہ تو صحیح ہے، اس سے آگے نہ ان کو پتا ہے، نہ مجھے پتا ہے۔
یہاں تک پہنچنا چاہیے نا ہمیں! یعنی اگر ہم نہیں پہنچ پا رہے تو اس کی وجہ کیا ہے؟ ہم تو دو تین سال سے اسی انتظار میں ہیں کہ ہم کسی ایک حتمی نتیجے پر پہنچ جائیں۔
صرف یہ بات کافی نہیں ہے کہ میں تحریک چلاؤں اور آپ میری تحریک کو سپورٹ کریں، مجھے افرادی قوت مہیا کریں، بلکہ جو ماضی کی تلخیاں ہیں، ان کے اسباب کیا تھے؟ ہمارا مؤقف کیا تھا؟ اختلاف کی وجوہات کیا تھیں؟ اس کو ہم کس طرح سمیٹیں گے؟ ساری چیزیں جو ہیں، اس سنجیدہ گفتگو کی طلبگار ہوتی ہیں۔
تو یہ ساری چیزیں ہیں جس کے لیے ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں ایک اچھے ماحول کی طرف جانا چاہیے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے درمیان تلخیوں کا جو ایک دور گزرا ہے، وہ ہمارے عمومی مزاج کے مطابق نہیں تھا، چاہتے ہیں کہ ایک معمول کے مطابق حالات لائیں۔ اختلاف بھی ہو، اختلاف دوسری پارٹیوں سے بھی ہوتا ہے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی پارلیمنٹ ہاوس میں صحافیوں سے گفتگو
پشاور: مفتی محمود مرکز میں احبابِ جمعیت سے ملاقات
جمعیت علماء اسلام خیبرپختونخوا کے کوآرڈینیٹر برادرم صداقت خان کی دعوت پر مفتی محمود مرکز پشاور میں حاضری ہوئی، جہاں ڈیجیٹل میڈیا سیل خیبرپختونخوا کے دفتر میں احبابِ جمعیت سے ملاقات اور تنظیمی امور پر تبادلۂ خیال ہوا۔
اس موقع پر ڈیجیٹل میڈیا سیل خیبرپختونخوا کے رکن برادرم کرامت علی ثروت کی والدہ کی وفات پر ان سے تعزیت اور مرحومہ کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔
ملاقات میں جے یو آئی خیبرپختونخوا کے ناظم مولانا احمد علی درویش، صوبائی ڈیجیٹل میڈیا سیل کے اراکین برادرم ابابیلِ جمعیۃ مولانا مجیب اللہ ساحل، ضلعی چارسدہ کے کوآرڈینیٹر برادرم شبیر شیر، عبداللہ حقیار ، عارف اللہ جان اور دیگر احباب بھی موجود تھے۔
رب کریم احباب جمعیت سے قائم جماعتی وابستگی کے طفیل ان محبتوں کو سلامتی اور دوام بخشے ۔ آمین
#مولانا_کا_پاکستان
#علماء_وطن_کے_معمار
#دھرتی_کی_بنیاد_کلمہ
اسلام آباد:امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اہم ویڈیو پیغام، یکم اگست 2026
کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کی زیرِ قیادت اہلِ کشمیر کا احتجاج جاری ہے۔ دو ماہ سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے، وہ دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ اس حوالے سے 5 جون 2026ء کو جب حالات خراب ہوئے، کشیدگی بڑھ گئی، حکومت اور کمیٹی کے درمیان بات چیت تعطل کا شکار ہو گئی، تو کمیٹی نے مجھے پیغام بھیجا۔ ایک بہت بڑے وفد کے ساتھ یہاں تشریف لائے اور تحریری طور پر مجھ سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے مجھ پر اعتماد کیا، میں ان کا تہہِ دل سے ممنون ہوں۔
میں نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے ان کی اپیل پر لبیک کہا۔ اس کے بعد میرا رابطہ حضرت مولانا سعید یوسف خان صاحب، امیر جمعیت علماء اسلام آزاد جموں و کشمیر، اور جناب سردار کامران اعظم خان صاحب کے ذریعے ان کے ساتھ رہا۔
اس پورے دورانیے میں، جہاں کمیٹی نے مجھ پر اعتماد کیا اور ثالثی کا کردار ادا کرنے کی اپیل کی، وہاں حکومت نے اسے کوئی اہمیت نہیں دی۔ سیاسی حل کی طرف متوجہ ہونے کے لیے بھی حکومت تیار نہ ہوئی، بلکہ طاقت کے ذریعے ان کی تحریک کو کچلنے پر مصر رہی، جو نہایت افسوسناک بات ہے۔
عوام اپنی حکومت اور اپنی ریاست سے ماں جیسا سلوک روا رکھنے کی امید رکھتے ہیں۔ یہاں وہ ہر وقت، صبح و شام، اور ہر لمحہ ریاست کے بھیانک جبر و ظلم کے خوف میں مبتلا رہے۔ مائیں، بہنیں اور چھوٹے چھوٹے بچے اسی خوف میں زندگی گزارتے رہے، لیکن حکمرانوں کے جسم پر جوں تک نہ رینگی، انہیں کوئی احساس تک نہ ہوا۔
اس وقت، ہر چند کہ حکومت نے تشدد کا راستہ اختیار کیا، نہتے عوام پر گولیاں چلائیں، اور میری معلومات کی حد تک شہداء کی تعداد اسی تک پہنچ چکی ہے، تب بھی حکمرانوں کے دل پتھر بن چکے ہیں۔ کسی بھی طریقے سے وہ اپنے عوام اور اپنے کشمیریوں، جن کے سینوں میں ایک پاکستانی دل دھڑکتا ہے، ان کے لیے کوئی رحم دکھاتے نظر نہیں آتے۔
اس کے باوجود کشمیر ایکشن کمیٹی نے اس نئی صورتحال میں جو اگلا اقدام اٹھانا ہے، میں ایک بار پھر ان حالات میں، جہاں میں ان کے جذبات، ان کے کرب اور ان کی تکلیف کو دیکھ کر، ان سے معذرت کے لہجے میں اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ وہ مسئلے کے حل کے لیے مزید مہلت دیں، کسی بڑے اقدام سے گریز کریں، اور ایک اور موقع دیں۔
باوجود اس کے کہ ان کا جسم زخمی زخمی ہے، لہو لہو ہے، ان کے دامن میں لاشیں پڑی ہوئی ہیں، اس کے باوجود میں ان کے تحمل، ان کے صبر اور ان کی برداشت کو سلام کرتا ہوں، اس اپیل کے ساتھ کہ وہ مزید کوئی بڑا اقدام کرنے سے گریز کریں، تاکہ اللہ کرے مسئلے کا کوئی منصفانہ اور پائیدار حل سامنے آ سکے۔
ہمیں اس بات پر بھی تشویش ہے، اور یہ بڑے خطرے کی گھنٹی ہے، کہ اب یہ تحریک پورے کشمیر میں پھیل گئی ہے۔ اس کے اثرات پاکستان کے مختلف علاقوں میں نظر آ رہے ہیں، اور بیرونِ ملک، خاص طور پر یورپ میں، کشمیری عوام سراپا احتجاج بن رہے ہیں، اور یہ تحریک پوری دنیا میں پھیل رہی ہے۔
اس ساری صورتحال کی سنگینی کا حکومت کو احساس کرنا چاہیے، ہمارے ریاستی اداروں کو اس کا احساس کرنا چاہیے، ہماری ریاستی قوت کو اس کا احساس کرنا چاہیے، اور اپنے گھر کو خون سے رنگین کرنے کے بجائے اسے شاداب کرنے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ صلح و آشتی کی طرف میں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ہماری اپیل پر سنجیدگی سے غور کریں اور مسئلے کے حل کے لیے آگے بڑھیں۔
میں کشمیریوں کے صبر، تحمل، برداشت اور مجھ پر ان کے اعتماد پر ان کا بہت شکر گزار ہوں۔
اللہ تعالیٰ کشمیر کو جنت نظیر بنائے، اسے امن کا گہوارہ بنائے اور ترقیوں سے سرفراز فرمائے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔
کردار کی طاقت، اقتدار سے بڑی ہوتی ہے۔
وطن کے لیے جان دینے والا ہر پاکستانی احترام کا مستحق ہے، خواہ وہ کسی بھی ادارے یا شعبے سے تعلق رکھتا ہو۔ قومی قربانیوں کا احترام سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔
کردار کی طاقت، اقتدار سے بڑی ہوتی ہے۔
#مولانا_چھاگئے#کرپٹ_چوکیدار #کالےچینلز_کی_مشتاقیاں #پیڈ_ٹرینڈ_فلاپ #کرائے_کے_باکو
یہ پاکستان ھے ھم سب کا مشترکہ وطن، یہ پاکستان ایک آئین کے تحت چلتا ھے جیسا کہ ھمیں بتایا گیا ھے اور اس آئین نے ھر ایک کے لیے حدود متعین کردی ھیں لیکن ایک عجیب منظر ھمارے سامنے ھے
قصور کے جلسے کے بعد کچھ صحافی اپنے یوٹیوب چینلز سے مولانا فضل الرحمن صاحب کے خلاف میدان میں آئے گالیاں دیں الزامات لگائے غداری کے فتوے لگاۓ دشنام طرازی کی اور جو غلاظت نکالی جاسکتی تھی وہ نکالی گئی،
لیکن اس سے بھی عجیب بات یہ کہ ISPR کے زیراھتمام ورکشاپس ھوتی ھیں ان میں انہی لوگوں کو دعوت دے کر بلایا جاتا ھے، ابھی حال ھی میں پچھلے ھفتے کوئٹہ کینٹ کا دورہ کروایا تو یہی لوگ شریک تھے اب کل ھی ورکشاپ کے اختتامی تقریب سے دارالحکومت میں فیلڈ مارشل صاحب مہمان خصوصی تھے تو وھی لوگ اور چہرے تھے جو پچھلے دس دن سے مولانا صاحب کو گالیاں دے رھے ھیں۔
تو @OfficialDGISPRصاحب بحیثیت ایک پاکستانی کے میرا سوال ھے کہ آخر ھمارے خون پسینے کی کمائی سے ان لوگوں کی آبیاری کیوں کی جارھی ھے جو سیاسی لوگوں اور جماعتوں کو گالیاں دیتے ھیں؟؟؟ آپ ان کو اون کرتے ھیں یا اس سے لاتعلقی کا اظہار کریں گے؟؟ اگر آپ ان سے لاتعلقی کا اظہار نہیں کرینگے تو انگلیاں آپ کی طرف اٹھیں گی۔ دعوت فکر ھے
آپ ملاحظہ کیجئے
#مولانا_چھاگئے
#کرپٹ_چوکیدار
#کالےچینلز_کی_مشتاقیاں
#پیڈ_ٹرینڈ_فلاپ
#کرائے_کے_باکو