ڈیرہ غازی خان میں اس خاتون نے حاضر سروس SHO پر جنسی زیادتی کا الزام لگایا، کئی ہفتے مقدمہ درج نہ ہونے کی شکایت کی، آر پی او کے سامنے پہنچنے اور ویڈیو وائرل ہونے کے بعد دفعہ 376 کی ایف آئی آر درج ہوئی، اور چند ہفتوں بعد یہی خاتون خود سائبر کرائم کیس میں گرفتار ہوکر جیل پہنچ گئی۔
اب یہ نہ صرف اصل ملزم بلکہ پولیس اور NCCIA کے پورے طریقۂ کار پر سوال اٹھا رہی ہے۔
ڈیرہ غازی خان کی فریال تبسم کی ویڈیو وائرل ہے۔ معاملہ صرف ایک وائرل الزام نہیں۔
دستیاب ریکارڈ کے مطابق حاضر سروس پولیس انسپکٹر ابرار برمانی کے خلاف فریال کی مدعیت میں FIR 767/26، دفعہ 376 کے تحت مقدمہ درج ہوا تھا۔
لیکن اصل کہانی اس کے بعد شروع ہوتی ہے۔
فریال کا الزام ہے کہ انہوں نے تقریباً 25 دن میں چار درخواستیں دیں مگر FIR درج نہیں ہوئی۔
پھر وہ RPO ڈی جی خان محمد اظہر اکرم کی کھلی کچہری میں پہنچیں، ان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور اس کے بعد مقدمہ درج ہوا۔
فریال اب الزام لگا رہی ہیں کہ کچھ پولیس افسران نے ابرار برمانی کو ثبوت ضائع کرنے کا موقع دیا، Safe City/CCTV ریکارڈ چھپایا گیا اور تفتیشی افسر نے بروقت Medical/DNA کے عمل میں رکاوٹ ڈالی۔
یہ سنگین الزامات ہیں، ابھی ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
22 جون کو NCCIA Multan FIR 102/2026 سامنے آتی ہے اور 24 جون کے قریب فریال خود سائبر کرائم کیس میں گرفتار ہو جاتی ہیں۔
دستیاب سوشل میڈیا ریکارڈ اس مقدمے کو بھی ابرار برمانی کی شکایت سے جوڑتا ہے۔
فریال کا الزام ہے کہ انہیں باقاعدہ طریقۂ کار کے بجائے ابرار کے بھائی نے گاڑی میں بٹھایا، بعد میں NCCIA کے حوالے کیا گیا، دوران حراست تشدد ہوا اور ان کے موبائل میں موجود ڈیجیٹل ریکارڈ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی۔
ان الزامات کی بھی ابھی آزادانہ تصدیق ہونا باقی ہے۔
فریال تقریباً 32 دن جیل رہنے کے بعد ضمانت پر باہر آئیں۔
چند ریکارڈ فوراً سامنے آنے چاہئیں
Medical/DNA، CCTV، arrest memo، remand orders اور mobile forensic record۔
اصل سوال بہت سادہ ہے
اگر فریال کے الزامات غلط ہیں تو سرکاری ریکارڈ انہیں غلط ثابت کردے گا۔
اور اگر ایک rape complainant کی FIR میں واقعی تاخیر ہوئی، ثبوت محفوظ نہیں کیے گئے اور بعد میں اسی خاتون کے خلاف ملزم کی شکایت پر کارروائی ہوئی تو یہ انتہائی سنجیدہ institutional matter ہے۔
📌تساؤل
لماذا معظم عقود الصيانة لاتشمل صيانة الأنظمة المرفقة رغم انها من اعمال المقاولات وفق لائحة تنظيم ممارسة الأنشطة الهندسية والفنية والمقاولات المتعلقة بالوقاية والحماية من الحريق؟
Cal/OSHA issues #HeatSafety warnings as SoCal temps reach 113°F.
Employers are reminded to enforce mandatory water, shade and rest protocols to keep #workers safe.
Full story ⬇️
https://t.co/wdLDcWDZDa
ہاکستانی شوبز کی اداکارہ سعدیہ امام نے روتے ہوے اک ویڈیو مسیج بیان ریکارڈ کرایا ۔انتہای جذباتی کر دینے والا بیان ۔یہ الفاظ نہی اس ملک کے نظام کا نوحہ ہے
میں مر گئی۔ یہ الفاظ کسی نے یونہی نہیں لکھے ہیں۔ یہ الفاظ اس وقت نکلے ہیں جب شوبز سٹار سعدیہ امام ایک ماں نے اپنی سکرین پر وہ رپورٹ پڑھی جس میں ایک معصوم بچی کی دونوں ٹانگوں کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔
کتنا وحشی ہوگا وہ انسان جس نے یہ کیا۔ کتنا جانور ہوگا وہ جسم جو انسان کہلاتا ہے مگر انسانیت اس میں کہیں باقی نہیں بچی۔
گجرات میں ایک چار سالہ بچی۔ بھکر میں ایک معذور بچی۔ چکوال میں ایک پیر کے ہاتھوں ایک کمسن بیٹی۔ راولپنڈی میں بارہ برس کی ایک زندگی۔ میاں چنوں میں آٹھ برس کی ایک مسکراہٹ۔ منڈی بہاؤالدین میں ایک سولہ سالہ بیٹا۔
یہ صرف نام نہیں ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جو صبح سکول جانے کے لیے تیار ہوتے تھے۔ یہ وہ بچیاں ہیں جو اپنی ماں کے ساتھ لپٹ کر سوتی تھیں۔
اور ہم کہتے رہے کہ ریاست ماں ہے۔ ریاست ہمیں بچائے گی۔ مگر ریاست کہاں ہے۔
پمز ہسپتال میں آگ بھڑکی۔ بچے جل کر مر گئے۔ اور کسی ڈاکٹر کسی نرس کو ایک آنچ تک نہ آئی۔ یہ سوال میڈیا پوچھتی رہی۔ یہ سوال ایک ماں کا دل پوچھتا رہا۔ کوئی جواب نہیں آیا۔
زینب سے نور مقدوم تک۔ آیت النور سے ان گنت گمنام بچیوں تک۔ کتنے مجرموں کو سزا ملی۔ کوئی گنتی نہیں۔ کوئی فیصلہ وقت پر نہیں ہوتا۔ کوئی سزا سرعام نہیں ہوتی۔ اور مجرم جانتا ہے کہ اسے سزا نہیں ملنی۔ پیسہ چلے گا تو راستہ نکل آئے گا۔ تو وہ پھر وہی کرے گا۔
میں ایک ماں ہوں۔ میں ہاتھ جوڑتی ہوں۔ میرا دل اس وقت پھٹ رہا ہے۔اس ماں پر کیا گزرتی ہو گی جو اپنی بچی کا خون سے لت پت پمپر دیکھا ہو گا کسی نے ٹوٹی ہوی ہڈیاں دیکھی ہو گی ۔
دنیا اپنی رفتار سے چلتی رہے گی۔ ایوارڈ شوز چلیں گے۔ محفلیں سجیں گی۔ مگر ایک بات ہمیں کہنی ہوگی۔ کیونکہ ہم سب سے پہلے کسی کی بیٹی ہیں۔ کسی کی بہن ہیں۔ کسی کی ماں ہیں۔
اور خاموشی اب گناہ بن چکی ہے۔ جو خاموش ہے وہ بھی برابر کا شریک ہے۔ جس نے دیکھا اور کچھ نہ بولا وہ بھی شریک ہے۔ جس نے چھپایا وہ سب سے بڑا مجرم ہے۔
آج ایک پولیس افسر کی بیوی ڈمبل اٹھا کر ایک کمزور عورت کو مارتی ہے۔ اور کہتی ہے کہ نظام میرا ہے۔ طاقت میری ہے۔ قانون میرے ہاتھ میں ہے۔ قانون کہاں چلا گیا۔ انصاف کہاں چلا گیا۔
ہمارے حکمران اپنے علاج کے لیے لندن جاتے ہیں۔ جرمنی جاتے ہیں۔ امریکہ جاتے ہیں۔ اور عام آدمی سرکاری ہسپتال کی دہلیز پر دم توڑ دیتا ہے۔
اگر ایک قانون بن جائے کہ ہر وزیر اپنے ہی شہر کے سرکاری ہسپتال میں علاج کروائے۔ ہر وزیر کے بچے اسی ہسپتال میں پیدا ہوں۔ تو شاید ہسپتال بھی بدل جائیں۔ شاید نظام بھی بدل جائے۔
ہم اپنے بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں۔ کیا ہم نے اپنی بیٹی کو سکھایا کہ غلط کے خلاف آواز اٹھانی ہے۔ کیا ہم نے اپنے بیٹے کو سکھایا کہ کسی لڑکی کو تکلیف میں دیکھ کر آگے بڑھنا ہے۔ یا ہم نے صرف موبائل نکالنا اور ویڈیو بنانا سکھایا ہے۔
آج کسی اور کی بیٹی کا ذکر آسان لگتا ہے۔ مگر یہ آگ کسی کے بھی گھر تک پہنچ سکتی ہے۔ اللہ نہ کرے یہ درد کسی اور ماں کے حصے میں آئے۔
جس ماں نے اپنی بچی کا پیمپر کھولا اور خون میں لتھڑا جسم دیکھا۔ جس ماں نے اپنی بیٹی کی ٹوٹی ہوئی پسلیاں دیکھیں۔ اس دل پر کیا گزری ہوگی۔
ہم کہاں جا رہے ہیں۔ ہم کون ہیں۔
خدا کے واسطے اپنے بچوں کی تربیت کریں۔ خدا کے واسطے مجرموں کو سزا دیں۔ سرعام سزا دیں۔ ایک ہفتے میں انصاف ہو۔ ورنہ لوگ خود انصاف کرنے نکلیں گے۔ اور جب لوگ خود انصاف کرنے نکلتے ہیں تو وہاں سے فساد شروع ہوتا ہے۔
یہ ملک لا الہ الا اللہ کہہ کر بنا تھا۔ اس کی بنیاد میں انصاف تھا۔ ہاتھ کے بدلے ہاتھ۔ جان کے بدلے جان۔ آنکھ کے بدلے آنکھ۔ یہ اصول کہاں کھو گئے۔
سوشل میڈیا کھلا ہے۔ بغیر کسی حد کے۔ بغیر کسی عمر کی قید کے۔ پوری دنیا میں اس پر قانون ہے۔ ہمارے یہاں کیوں نہیں۔
اب بس۔ اب مزید برداشت نہیں۔ ایک ماں کے ہاتھ جڑے ہیں۔ ایک قوم کا دل ٹوٹا ہوا ہے۔
خدا کے واسطے اب کوئی تو جاگے۔ خدا کے واسطے اب کوئی تو بولے۔ کیونکہ خاموشی اب سب سے بڑا گناہ بن چکی ہے ۔
میری حکومت سے گزارش ہے کہ ہر ایک ادارے میں، خاص طور پر ایجوکیشن اور ہسپتال میں، فوری طور پر کوالیفائیڈ، جیسے کہ نیبوش ہیلتھ اینڈ سیفٹی کا بندہ تعینات ہونا چاہیے اور وہ انڈیپنڈنٹلی کام کرے، نہ کہ کسی اس ادارے کے ہیڈ کے تحت۔ تب ہی ہم حادثات پر کنٹرول کر سکتے ہیں
@CM_MaryamNawaz
لاہور جنرل اسپتال کے گائنی وارڈ میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے پر دلی افسوس ہے۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی۔ وزیراعلیٰ پنجاب @MaryamNSharif کی ہدایت پر ریسکیو ٹیموں نے انتہائی بروقت، پیشہ ورانہ اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے حاملہ خواتین سمیت 70 افراد کو بحفاظت باہر نکالا اور آگ پر قابو پایا۔ ریسکیو اہلکاروں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا، جس پر ان کی کارکردگی قابلِ تحسین ہے۔ ایک گارڈ کی طبیعت خراب ہونے پر تشویش ہے، اس کی جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہوں۔
Happening today at #SafetyPlus2026:
📣 CEO Panel Session
🕘 9/1 | 1-2:30 p.m. CT
Hear the latest on OSHA’s regulatory efforts, cooperative programs, and agency priorities.
We are looking forward to a great discussion!
Verifying a NEBOSH certificate is easy with our online verification tool, and can be an important step in a robust recruitment process.
Start by scanning the QR code on a NEBOSH certificate, or find out more on our website: https://t.co/BcajKXV9ZU
Are hidden pitfalls risking your hearing testing #compliance?
Join Ally Lecky and Uttam Varma on Sept 9 in our free webinar on simple ways to fix #program gaps.
Reserve your spot for this webinar, sponsored by @SHOEBOX_Aud ▼
https://t.co/GrOpdL26lm
اتنا بھی کیا غصہ کے اگلے انسان کی جمع پونجی سے خریدی ہوئی گاڑی ہی تباہ کر دی جائیں، پنجاب پولیس گاڑی کا نمبر ٹریس کر کے ملزمان تک پہنچ سکتی ہے، اور ایسے عناصر کو انکے انجام تک پہنچا سکتی ہے؟
Fire Safety is not an option—it is a responsibility.
Let’s work together to make Pakistan a safer nation. 🇵🇰
@GovtofPunjabPK
@HamidMirPAK
@CMShehbaz
🚨 Is your fire department ready for September 28?
TEST YOUR SMOKE ALARM DAY is coming!
Make sure your department is stocked up with our colouring sheets
🎉 BUY 4, GET THE 5TH FREE!
Order at https://t.co/vIef2KfCdw
Through our partnership with @EHNCanada, IAFF members in Canada can access specialized care from clinicians who understand the job.
Follow the link in the comments to explore your options.
☀️ Keeping your crew safe in the heat starts with looking out for each other. Know the signs of heat illness, stay hydrated, take breaks, and look out for your co-workers. Learn how to prevent heat-related injuries: https://t.co/NTgQ9SDS15
پمز کے سانحے نے پاکستان میں ہیلتھ کئیر سسٹم کی خرابیوں کو بے نقاب کر دیا ہے پاکستان میں ایک لاکھ لوگوں کے لئے صرف 127 ڈاکٹر اور 55 نرسیں دستیاب ہیں ایک لاکھ لوگوں کے لئے اسپتالوں میں صرف 67 بستر موجود ہیں جی ڈی پی کا صرف 2.62 فیصد ہیلتھ کیئر پر خرچ ہوتا ہے