" مچھلی، مچھلی، کتنا پانی "
تحریر؛ طارق نعیم شاہ
مچھلی قدرت کی طرف سے انعام کی گئی نعمتوں میں سے ہے۔ مچھلی کا موضوع اور اس پر لکھنا ، دلچسپی کے کئی رنگ لئے ہوئے ہے۔ اور مچھلی کھانا ؟ سبحان اللّٰہ کیا ہی کہنے !
مچھلی واحد حلال جاندار ہے جسے ذبح نہیں کیا جاتا بلکہ پانی سے باہر لاکر اسکے مرنے کا انتظار کیا جاتا ہے ۔ قدرت کی طرف سے مچھلی کے جسم میں ، عام جانوروں کی خصوصیات کے علاوہ بھی کچھ دلچسپ تبدیلیاں کی گئی ہیں ۔ مالکِ کائنات کی اس پر صناعی پر شکر واجب ہے۔ دنیا کا کوئی ڈاکٹر آپ کو مچھلی کھانے سے منع نہیں کرے گا۔ یہ پروٹین کا بہترین ذریعہ ہے اور غذائیت سے بھرپور ، ایک لذیذ اور دل خوش کن تحفہ ہے ۔
مچھلی کے جسم میں ، زبان ، پپوٹے ، پتلیاں ، ناک، پھیپھڑے ، ہاتھ پاؤں ، دم ، بال ، معدہ اور جنسی اعضاء نہیں ہوتے۔ مچھلی بو کو محسوس کرسکتی ہے اور اس مقصد کیلئے اسکے سر پر دو سوراخ ہوتے ہیں جن میں ذائقے اور بو کو محسوس کرنے والے ریسیپڑرز یا سینسرز موجود ہوتے ہیں۔
مچھلی کا دل اسکے حلق میں ہوتا ہے اور خوراک معدے کے بجائے سیدھا آنتوں میں جاتی ہے۔ مچھلی دو اقسام کی ہوتی ہے۔ سبزی خور اور گوشت خور !
مچھلی پانی میں انڈے دیتی ہے جو باریک سرسوں کے بیج کے سائز سے بھی چھوٹے اور گچھوں کی شکل میں تھیلیوں میں بند ہوتے ہیں۔
رہو ، تھیلا ، موری ، گراس کارپ ، مہاشیر وغیرہ سبزی یا گھاس ، الجی ، فنجائی یا دیگر آبی پودے یا چھوٹے موٹے کیڑے جنہیں زو پلانکٹون کہا جاتا ہے ، کھاتی ہیں۔ یہی اقسام ہی عموماً فش فارمز میں پالی جاتی ہیں۔
سنگارا ، سولsnake head، ملہی ، کیٹ فش (مجاہد) ، ترکنڈہ وغیرہ گوشت خور predator یا شکاری مچھلیاں کہلاتی ہیں جو عموماً دریاؤں ، ندی نالوں اور جھیلوں میں پائی جاتی ہیں۔
مچھلی cool blooded جانداروں میں شمار ہوتی ہے۔ مچھلی کے چونکہ پھیپھڑے نہیں ہوتے ، اسلئے یہ پانی میں موجود حل شدہ آکسیجن desolved oxygen استعمال کرتی ہے۔ پانی مچھلی کے منہ کے ذریعے داخل ہوتا ہے اور گلپھڑوں سے نکل جاتا ہے۔ اس دوران ، گلپھڑوں کے اندر موجود گلز gills جو سرخ رنگ کے کنگھی نما پرت دار اعضاء ہوتے ہیں ، پانی میں سے آکسیجن جذب کرلیتے ہیں اور ساتھ ہی خوراک بھی فلٹر کرلیتے ہیں جو مچھلی کی آنتوں میں چلی جاتی ہے۔
یہ تو تھیں عمومی معلومات ۔ اب کچھ فش فارمرز کیلئے معلومات !
پاکستان میں اس وقت لاکھوں ایکڑ زمین پر مچھلی فارم بنے ہوئے ہیں۔ ایک ایکڑ کے فش فارم میں عموماً سات سو سے ایک ہزار تک مچھلیاں ڈالی جاتی ہیں۔ بچہ مچھلی یا پونگ ، مارچ کے مہینے میں منتقل کی جاتی ہے اور نومبر دسمبر میں مچھلی کا فلاک تیار ہوجاتا ہے۔ مچھلی اپنی خوراک پانی سے حاصل کرتی ہے اور ہر وہ چیز کھاتی ہے جسے گائے یا بکری کھاسکتی ہے۔ فارمرز حضرات اضافی خوراک کے طور پر رائس پالشنگ ، مکئی یا کارخانے میں تیار کی گئی مچھلی کی مخصوص خوراک یا ونڈہ بھی ڈالتے ہیں۔
آجکل ، یعنی اگست کے مہینے میں فش فامرز حضرات کی جان پر بنی ہوتی ہے کیونکہ اس موسم میں لاکھوں کی تعداد میں پورے ملک میں مچھلیوں کی اموات ہوجاتی ہیں۔
اس موسم میں مچھلیاں کیوں مرتی ہیں ؟
مچھلی پانی کے اندر موجود حل پذیر آکسیجن کو استعمال کرتی ہے۔ پانی میں حل پزیر آکسیجن کی مقدار جتنی زیادہ ہوگی ، مچھلی اتنی آسانی محسوس کرے گی اور خوب پھلے پھولے گی۔ یہ آکسیجن مختلف ذریعوں سے پانی میں شامل ہوتی ہے۔ آکسیجن مہیا کرنے کا ایک ذریعہ پانی میں ، کھربوں کی تعداد میں موجود یک خلوی یا کثیر خلوی آبی پودے سورج کی روشنی میں ضیائی تالیف یا فوٹو سینتھسز کے عمل سے آکسیجن خارج کرتے ہیں۔ ہوا کے ذریعے پانی میں لہریں بننے یا سرفیس ٹریبیولنس کی وجہ سے بھی پانی میں آکسیجن شامل ہوتی ہے۔ تازہ اور ٹھنڈے پانی میں بھی آکسیجن وافر مقدار میں موجود ہوتی ہے۔
دن کے وقت تو مچھلیوں کیلئے راوی چین لکھتا ہے مگر مسئلہ شروع ہوتا ہے رات کے وقت ۔ جونہی سورج غروب ہوتا ہے ، پانی میں موجود کھربوں پودوں میں فوٹو سینتھیسز کا عمل رک جاتا ہے بلکہ الٹ جاتا ہے۔ پودے دیگر درختوں کی طرح آکسیجن بنانے کے بجائے الٹا استعمال کرنا شروع کردیتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے لگتے ہیں۔ مچھلی خود بھی تو آکسیجن استعمال کررہی ہوتی ہے۔ دیگر آبی جاندار ، کیڑے مکوڑے بھی حصہ بقدرِ جثہ ، آکسیجن چوس رہے ہوتے ہیں۔ اس سارے تماشے اور ہڑبونگ کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پانی میں desolced oxygen یا حل شدہ آکسیجن کی سطح خطرناک حد تک گر جاتی ہے۔ عموماً مچھلی کیلئے آکسیجن کی ضروری مقدار پانچ سے لے کر پندرہ تک بہتر خیال کی جاتی ہے۔ رات کے وقت یہ مقدار کم ہو کر چار یا اس سے کم کی سطح پر آجاتی ہے اور مچھلیوں کا دم گھٹنے لگتا ہے۔ رات کے آخری پہر میں ،
بقیہ کمنٹس میں
عامر خان نے اپنی فلموں میں دکھایا ہے کہ جو آپ کا دل کرے وہ کرو اور ان کی بیٹی کی شادی اس بات کا ثبوت تھی ۔جس سادگی سے انکی بیٹی اور داماد تیار ہوئے شاٹس سلیولیس ٹی شرٹ جاگرز اور دلہن کی کولہ پوری نے دل موہ لیا۔ان کی شادی تھی جو مرضی کریں ۔ کہیں سے نہیں لگا یہ انڈیا کہ ایک فیمس اداکار جس کے پاس پیسے کی ریل پیل ہے اس کی بیٹی کی شادی ہے ۔ totaly فیملی فنکشن تھا دیکھ کر اچھا لگا genuine لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں..💕
Criticism in a productive way is acceptable on this post
ایک سیاسی پریشر گروپ بنانے کا آئیڈیا جنرل حمید گل نے 1994 میں ایک ٹی وی پروگرام میں دیا تھا۔
عمران خان، لیاقت بلوچ، حکیم محمد سعید اور لاہور کے ایک سکول سسٹم کے مالک بریگیڈئیر (ر) جاوید اقبال اس وقت حمید گل کا پہلا انتخاب تھے۔ برگیڈئیر صاحب حمید گل کے ساتھ ایجنسی میں کام کر چکے تھے، لہذا انکو بطور اتالیق مقرر کیا گیا۔
لیاقت بلوچ کو قاضی صاحب نے اجازت نہیں دی کہ ان کے ذریعے تعلیمی اداروں میں جمیعت کا نظام چلایا جاتا تھا لہٰذا لیاقت بلوچ نے منع کر دیا، حکیم سعید وقت کی کمی کا عندیہ دے کر ایک طرف ہو گئے لیکن بریگیڈئیر جاوید اقبال مان گئے۔ تحریکِ انصاف کی بہت شروع کی میٹنگز کی تصاویر میں برگیڈئیر صاحب دیکھے جا سکتے ہیں
اسی پریشر گروپ میں عبدالستار ایدھی مرحوم کو بھی شامل کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ انکی نیک نامی کو پریشرگروپ کی پوِترتا ثابت کرنے کیلئیے استعمال کیا جا سکے۔ لیکن جب عبدالستار ایدھی نے اپنا نام سیاسی مقاصد کیلئیے کیش ہونے دینے سے انکار کر دیا تو ان کو دھمکایا جانے لگا۔ اس کے نتیجے میں عبدالستار ایدھی نے دسمبر1994 میں جلاوطنی اختیار کی۔
کچھ مزید تیاری کے بعد 1996 میں اس پریشر گروپ کی داغ بیل ڈال دی گئی۔ چونکہ خان صاحب بقول انکے اپنی جمع پونجی ہسپتال میں لگا چکے تھے شروع میں پارٹی چلانے کیلئیے فنڈز موجود نہیں تھے، اسی دوران خان صاحب کی جمائما سےشادی ہو گئی، اس دور کے اخبارات کے مطابق خان صاحب کو انکے سسر جیمز گولڈ سمتھ کی طرف سے ایک خطیر رقم بطور تحفہ دی گئی تھی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ 1997 کے انتخابات میں خان صاحب نے شاید پانچ (کچھ لوگوں کے مطابق آٹھ) جگہوں سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے اور تمام سیٹوں سے ہارے۔ بالخصوص باغبانپورہ لاہور کی سیٹ پر معروف ٹی وی کیمپیئر طارق عزیز سے ہارے تھے۔ خان صاحب کی آٹھ جگہوں پر الیکشن کیمپین چلانے کا خرچہ اور پارٹی چلانے کا خرچہ کہاں سے آیا؟ یہ سوال کبھی نہیں پوچھا گیا۔
اسکے بعد چونکہ خان صاحب نے پارٹی چلانے کے حوالے سے من مانی شروع کر دی تو آہستہ آہستہ حمید گل خان صاحب سے پیچھے ہٹتے گئے۔
کث ٹو مشرف مارشل لاء۔۔۔مارشل لاء لگنے کے شروع کے دنوں میں خان صاحب اور حمید گل دونوں مشرف کے حمایتی تھے، خان صاحب کو تو بالخصوص مشرف سے امید تھی کہ وہ ان کو یکمٗشت اٹھا کر ایوانِ اقتدار میں پہنچا دے گا کیونکہ پچھلے الیکشن میں خان صاحب اپنی تمام سیٹوں سے ہار چکے تھے۔ مشرف کے ایک انٹرویو کے مطابق خان صاحب نے مشرف سے 100سیٹوں پر جتوانے کا مطالبہ کر دیا تھا، لیکن مشرف 10-8 سیٹیں دینا چاہتا تھا کہ ق لیگ، متحدہ مجلس عمل اور خان صاحب کو ملا کر مطلوبہ سیاسی حمایت پوری ہو رہی تھی۔
خان صاحب کسی طور 100سیٹوں سے کم لینے پر تیار نہیں ہوئے، یہیں سے ایک دم سے خان صاحب کی رگِ حمیت جاگ گئی اور انکو مشرف بُرا لگنا شروع ہوا، بالکل یہی کہانی خان صاحب نے قمر باجوہ کے ساتھ2018 میں دہرائی۔ جب تک باجوہ خان صاحب کا حمایتی رہا خان صاحب باجوہ کو قوم کا باپ قرار دیتے رہے وہ قوم جس میں وہ خود بھی شامل تھے، مگر جیسے ہی قمر باجوہ نے حمایت سے ہاتھ کھینچا خان صاحب کو ایک دم سے پتہ چلا کہ باجوہ تو ملکی وے گلیکسی کے تمام مسائل کی جڑ ہے۔
2002 کے الیکشن میں کچھ برادری ازم اور کچھ جنرل احتشام ضمیر کی شفقت سے خان صاحب کی پوری پارٹی صرف ایک میانوالی سے سیٹ جیت سکی جو خان صاحب خود جیتے تھے۔ اس دوران خان صاحب کا طاہرالقادری سے سیاسی رومانس شروع ہوا، مشرف پر دباؤ بڑھانے کیلئیے دونوں نے مستعفی ہونے کا اعلان کیا، طاہرالقادری نے اپنی سیٹ سے استعفیٰ دےدیا تو خان صاحب کلٹی کھا گئے۔ باقی کا عرصہ خان صاحب ن لیگ اور پی پی کے ساتھ مل کر مشرف کی ڈھولکی بجاتے رہے۔
2008 کے الیکشن میں خان صاحب اپنی بائیکاٹ کی حماقت سے 5سال کیلئیے سسٹم سے باہر ہو گئے۔ یہی وہ وقت تھا جب جنرل پاشا کو مین سٹریم سیاسی پارٹیوں کا صفایا کر کے نئی سیاسی پارٹیاں جو انکے ساتھ چل سکیں کا آئیڈیا آیا۔ اسکے لئیے انہیں حمید گل کے قائم کردہ پریشرگروپ کو استعمال کرنے کا خیال سوجھا۔ یہی وجہ ہے کہ 30اکتوبر2011 کے مینارِ پاکستان کے جلسے کیلئیے لاہور کینٹونمنٹ اور صدر ایریاز میں مقیم عسکری گھرانوں کو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار آفیشلی مینارِ پاکستان کے جلسے میں شرکت کا حکم دیا گیا۔ یہ درحقیقت خان صاحب کی لانچنگ ceremony تھی۔
اگلے دو سال خان صاحب کی پارٹی کو مستحکم کرنے کیلئیے ATMs ڈھونڈ کر دی گئیں جنہوں نے ذاتی جیب سے پارٹی پر اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی، ان سب کا سرمایہ خان صاحب نے حکومت میں آنے کے بعد آٹا، چینی، گندم اور ماسک امپورٹ سکینڈلز کی صورت بمع منافع نہایت دیانتداری سے قومی خزانے سے واپس کیا۔
یہ پریشرگروپ 2017 میں پک کر تیار ہو گیا تھا اور آج ریاست کو اپنی ہاکی سے ہانک رہاہے۔
@Doctorkhan6666 مرد کے ذمے نان نفقہ ہے یہ مہنگے ڈریس، اوٹنگ اور اللے تللے نہیں۔
ہاں اگر یہ بھی ڈیمانڈ ہیں تو پھر کچھ صبر اور کمپرومائز عورت کو کرنا چاہیے۔
لکھے لکھائے سارے قوانین سے رشتے نہیں چلا کرتے۔