میرا ایک مشورہ ہے
اگر کوئی مان لے تو
پاکستان میں بھی امریکہ ک�� طرح ہر اس شخص کو جسکی عمر 65 سال ہو گورنمنٹ کی طرف سے ماہانہ پینشن ملنی چاہی ہے
صرف سرکاری ملازمین کو نہیں کیونکہ باقی لوگ بھی انسان ہیں
کئی بوڑھے مرد اور عورتیں ایسے ہیں جن کا بڑھاپے میں کوئی سہارا نہیں ہوتا
وہ بیچارے بے یار و مد��گار ہوتے تو اس طرح انکا بھی کوئی آسرا ہوجاۓ گا😔
منقول پوسٹ
آج ایک ڈلیوری رائیڈر میرے دروازے پر آیا۔
دروازہ کھولتے ��ی میری نظر ایک غیر معمولی منظر پر پڑی۔
اس کے سینے سے ایک چھوٹا سا ��ھ ماہ کا بچہ، حمزہ، بندھا ہوا تھا اور گہری نیند سو رہا تھا۔
میں خود کو پوچھنے سے روک نہ سکا، "یہ آپ کے ساتھ کیوں ہے؟"
رائیڈر نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، "اس کی ماں اب اس دنیا میں نہیں رہی، اور میرے پاس اتنے وسائل نہیں کہ گھر بیٹھ سکوں۔ اگر میں کام نہ کروں تو ہمارا گزر بسر نہیں ہو سکتا۔ اس لیے میں جہاں جاتا ہوں، یہ بھی میرے ساتھ جاتا ہے۔"
ایک لمحے کے لیے میرے پاس کوئی الفاظ نہیں تھے۔
میرے سامنے ایک ایسا باپ کھڑا تھا جو غم، ذمہ داری اور زندگی کی جدوجہد—سب کچھ ایک ساتھ اٹھائے ہوئے تھا، اور اپنے بچے کو سینے سے لگائے روزی کمانے نکلا ہوا تھا۔
ہم اکثر طاقت ک�� کسی بلند آواز یا غیر معمولی کارنامے کی شکل میں دیکھتے ہیں، لیکن کبھی کبھی طاقت ایک تھکے ہوئے باپ کی صورت میں نظر آتی ہے جو اپنی موٹر سائیکل پر شہر کی سڑکوں پر ڈلیوریاں کرتا ہے، جبکہ اس کا ننھا بچہ اس کے دل کے قریب سکون سے سو رہا ہوتا ہے۔
شاید یہ بچہ کبھی ان دنوں کو یاد نہ رکھ سکے۔ شاید اسے کبھی معلوم نہ ہو کہ اس کے لیے آج کتنی قربانیاں دی جا رہی ہیں۔
لیکن ایک دن جب وہ اپنی زندگی کی یہ کہانی جانے گا، تو اسے احساس ہوگا کہ اس کے والد صرف سامان نہیں پہنچاتے تھے، بلکہ امید، محبت اور اپنے بچے کے مستقبل کا بوجھ بھی اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے تھے۔
کچھ لوگ ہیرو بننے کے لیے چغہ پہنتے ہیں، اور کچھ لوگ صرف ایک ڈلیوری بیگ۔اور کبھی کبھی دنیا کا سب سے امیر انسان وہ ہوتا ہے جس کے پاس بہت کم ہوتا ہے، مگر پھر بھی وہ ہمت نہیں ہارتا۔
یہ ہے کراچی پولیس کا جوان تیمور خان جو
2023 میں کراچی پولیس آفس پر حملے میں دہشتگردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اس پر ہینڈ گرنیڈ پھینکا گیا۔ جس سے اس کی ایک آنکھ چلی ��ئی اور گرینیڈ کے ٹکڑے اب بھی اس کے سر کے اندر موجود ہیں۔ وہ معجزانہ طور پر زندہ رہا
اس وقت حکومت نے کیمرون کے سامنے وعدے اور اعلانات کئے۔ سیاستدان ہسپتال میں اس کے سرہانے کھڑے ہو کر تصویریں کھنچواتے رہے مگر بات جب چند دن پرانی ہوئی تو سب بھول گئے۔
اب صورتحال یہ ہے کہ تیمور خان کینسر کے آخری مراحل میں کراچی کے ایک نجی اسپتال میں زیرِ علاج ہے، جہاں وہ بمشکل بات کر پا رہے ہیں۔
حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر مہم چلنے کے بعد کراچی پولیس حکام کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ وہ تیمور خان کے علاج کے اخراجات برداشت کر رہے ہیں اور اب تک لاکھوں روپے فراہم کئے جا چکے ہیں۔ تاہم تیمور کے اہل خانہ پکے مطابق یہ مدد ضرورت سے بہت کم اور تاخیر سے ملی
سوشل میڈیا پر شدید عوامی دباؤ کے بعد وزیرِ اعلیٰ سندھ نے بھی متعلقہ حکام کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
مگر ضرورت تو یہ ہے کہ انہیں پرائیویٹ ہسپتال میں چھوڑنے کی بجائے علاج کے لئے باہر بھیجا جائے یا پاکستان میں کسی بہترین کینسر ہسپتال میں ان کا مکمل سرکاری خرچ پر علاج کروایا جائے
اگر حکومت کو یہ بھی بوجھ لگتا ہے تو فلاحی ادارے اس پر پیشرفت کریں
تیمور خان نے ریاست کے لئے اپنی آنکھ اور صحت قربان کی، اب یہ ریاست کا فرض ہے کہ وہ اسے تنہا نہ چھوڑے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس غازی کو صحتِ کاملہ عطا فرمائے۔
@jdcfoundationpk
@S_ZafarAbbasJDC
ایران نے 13 اپریل 2026 کو امارات میں موجود ایک خفیہ (Cloud Seeding) موسم کنٹرول کرنے والے مرکز کو نشانہ بنایا،
تو اس نے دراصل اس نظام کے “دل” پر ضرب لگائی،
جو مبینہ طور پر عراق اور مشرقی ایران کو جان بوجھ کر خشک کر رہا تھا۔
اس کا نتیجہ ایک اچانک اور تیز موسمی تبدیلی کی صورت میں سامنے آیا:
ایران اور عراق میں بارشوں کی واپسی
درجہ حرارت میں تقریباً 5 ڈگری کمی
سیلابوں کی واپسی، جس نے کسی حد تک زراعت کو سہارا دیا
ہواؤں کے رخ میں تبدیلی اور بادلوں کی دوبارہ آمد
یہ خفیہ مرکز امارات میں موجود ایک عالمی سطح کے موسم کنٹرول نیٹ ورک کا حصہ بتایا جا رہا ہے۔
اگر یہ م��لومات درست ثابت ہوتی ہیں، تو یہ امریکہ/اسرائیل کی جانب سے قدرتی نظام میں مداخلت کی ایک بڑی مثال ہو سکتی ہے،
جسے بعض لوگ دجال کی نشانیوں میں سے ایک قرار دیتے ہیں—
اور ایک ایسا عمل سمجھتے ہیں جو اللّٰہ کے نظام میں دخل اندازی کے مترادف ہے
کوئٹہ میں نکاح کی ایک تقریب کا دلچسپ واقعہ
ایک شادی کی تقریب میں حق مہر کے لیے 5 سے 8 لاکھ روپے اور 5 تولے سونے کی بات ہو رہی تھی۔
سسر نے اپنے داماد کو ساتھ والی کرسی پر بلا کر سرگوشی میں پوچھا، "بیٹا، آپ کتنا مہر آسانی سے دے سکت�� ہیں؟"
داماد نے جواب دیا، "آپ لوگ جو مقرر کریں، منظور ہے، لیکن زیادہ سے زیادہ کوشش کروں تو دو لاکھ دے سکتا ہوں۔"
سسر نے نکاح خواں سے کہا، "مہر ایک لاکھ ہوگا۔"
پھر سسر نے سونے کے بارے میں پوچھا۔
داماد نے کہا، "میں دو تولے بنا چکا ہوں، تین اور بنا لوں گا۔"
سسر نے سب کو مخاطب کرتے ہوئے اعلان کیا، "سونا دو تولے ہوگا۔"
یہ سن کر تمام عزیز و اقارب ناراض ہوئے اور کہنے لگے کہ اتنے کم مہر اور سونے پر بات کیوں ختم کی؟
سسر نے وضاحت کی، "آج اگر میں اس سے کوئی بھی ڈیمانڈ کروں، یہ مجبوراً پوری کرے گا۔ لیکن بعد میں میری بیٹی کو جو پوری روٹی ملے گی، وہ آدھی ہو جائے گی، کیونکہ یہ قرض لے کر یہ ڈیمانڈز پوری کرے گا۔ میں چاہتا ہوں کہ میری بیٹی بعد میں آرام اور خوشی سے رہے۔"
اس شادی کو 15 سال گزر چکے ہیں۔ وہ داماد اپنی بیوی کا بہت خیال رکھتا ہے اور سسر کی خود سے بھ�� زیادہ عزت کرتا ہے۔ یہ واقعہ کوئٹہ کا ہے۔
کرپٹو کرنسی کو مداخلت سے پاک محفوظ کرنسی نظام سمجھا جاتا تھا ، لیکن کل کی خبر یہ ہے کہ امریکہ نے ایران سے منسلک کرپٹو اکاؤنٹس کو منجمند کر دیا۔
جو چیزیں بھی ٹیکنالوجی سے منسلک ہیں ، وہ انکل سام کی دسترس سے باہر نہیں۔ جب انکل سام چاہے گا گردن دبوچ لے گا۔ یا تو چین کے پوزیشننگ سسٹم بیدو کی طرح کوئی آزادانہ نظام ڈیویلپ کر لیا جائے، نہیں تو امریکی ٹیکنالوجی نظام پر منحصر کوئی بھی ٹول کسی بھی وقت گردن سے پکڑا جا سکتا ہے
Axios کا دعوی ہے کہ
ایران نے یو اے ای پر حملے کیے تو ان سے بچاو کیلئے اسرائیل نے اپنی تاریخ میں پہلی بار اپنا ’آئرن ڈوم‘ یو اے ای کو بھیجا۔ اس دفاعی نظام کو چلانے کیلئے اسرائیلی اہلکار بھی بھیجے۔
اسرائیل خود جنگ میں مصروف تھا لیکن جب صدر محمد بن زید نے اسرائیلی وزیراعظم سے رابطہ ک��کے مدد مانگی تو انہوں نے دفاعی نظام بھیجنے کا حکم دیا۔
یو اے ای میں تعینات اسرائیلی آئرن ڈوم نے درجنوں ایرانی میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کیا۔
ایران نے جنگ کے آغاز سے اب تک یو اے ای پر تقریباً 550 بیلسٹک و کروز میزائل اور 2,200 سے زائد ڈرونز فائر کیے۔
ابھی بھی کچھ لوگ پوچھتے ہیں ایران نے عرب ممالک پر حملے کیوں کیے؟؟
راولپنڈی کے تھانہ چکلالہ کے علاقے میں لڑکے کی گھر میں گھس کر 13 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی ۔ملزم کے دو ساتھی زیادتی کے دوران ویڈیو بناتے رھے بعدازاں ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکیاں دیکر بچی کو اغوا کرکے ساتھ لے گیے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں راہ گیر نے گاڑی سے اتارتے بچی کو پریشان کرتے دیکھ کر پوچھا تو ملزمان بچی کو چھوڑ کر فرار ہوگیے پولیس نے بچی کی والدہ کی درخواست پر مقدمہ درج کرلیا ۔۔
حکومت نے ایک سال میں تقریبا 7 ارب ڈالر آئی پی پیز کو کیپسٹی پیمنٹ ادا کی. اس حساب سے دس سال میں مجموعی رقم تقریبا 70 ارب ڈالر بنتی ہے۔ ملک کے بیرونی قرضوں کا نصف۔
ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز پر اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کو آئرن ڈوم فضائی دفاعی نظام بھیجا، اور اسے چلانے کے لیے اپنے فوجی اہلکار بھی تعینات کیے۔
یہ پہلا عرب ملک بن گیا ہے جو اب باضابطہ طور پر اپنی سرزمین پر اسرائیلی فوجیوں کی میزبانی کر رہا ہے۔
ایک غریب شخص کے جنازہ سے پہلے امام صاحب نے شرکاء سے کہا
"یہ میت جس کا ہم جنازہ پڑھنے لگے ہیں اپنے گھر کا واحد کفیل تھا۔ سوگواران میں ایک بیوہ اور چھوٹے بچے ہیں۔جس کا عدت کے ایام میں کوئی ذریعہ آمدنی نہیں ہے۔ جنازہ گاہ کے مرکزی دروازے پر ایک چادر بچھا دی گئی ہے۔ اللہ کی رضا کے لئے اپنی حیثیت کے مطابق جو جتنی رقم دے سکتا ہے وہ وہاں ڈال دے۔"
ایک لاکھ روپے سے زائد رقم اکٹھی ہوئی تعزیت صرف دعا کرنے کا نہیں مشکل گھڑی میں عملی سہارا بننے کا نام ہے۔
( منقول )
🚨بریکنگ نیوز :ایران وزیر خارجہ عباس اراغی وارننگ:
اگر وہ اگلے 48 گھنٹوں میں کوئی تجویز پیش نہیں کرتے تو جنگ بندی ختم ہو سکتی ہے
"ہرمز اس وقت تک مسدود رہے گا جب تک 11 ٹریلین ڈالر منجمد ایرانی اثاثے جاری نہیں کیے جاتے۔"
کچھ انتہائی برا ہو رہا ہے...🔥
منی ٹریل کے بغیر خریدے گئے لندن فلیٹس کے خلاف دائر ریفرنس میں قاضی سر سے پاؤں تک آہنی بیڑیوں میں جکڑا جا چکا تھا، سپریم کورٹ کے ایف بی آر کو معاملہ ریفر کرنے اور ایف بی آر کی رپورٹ آنے کے بعد قاضی کی برطرفی سوفیصد یقینی ہو گئی تھی، پھر اسے کرونا ہوا، وہ ایک اسپتال میں داخل ہوا، جہاں وہ طاقت کے دیوتا کے پاؤں میں گر پڑا، فیض آباد ازخود نوٹس دھرنا کیس اور کوئٹہ بم دھماکہ میں شہید ہونے والے سینکڑوں وکلاء کی انکوائری رپورٹ میں اپنے گستاخانہ ریمارکس پر رو رو کر اور گڑگڑا گڑگڑا کر معافیاں مانگیں جو قبول کر لی گئیں۔
پھر عبدالقیوم صدیقی لندن گیا، اس کے فون سے قاضی اور ایون فیلڈ میں بار بار رابطے ہوئے، ججز مینج کیے گئے، قاضی کی ریویو پٹیشن میں منظور ملک اور دو موجودہ ججز مینج کیے گئے۔ ریویو کو منظور کر کے قاضی کی ریفرنس سے جان چھڑوائی گئی، جواب میں قاضی نے طاقت کے دیوتا کی غیر مشروط وفاداری کا حلف اٹھایا، نواز شریف کو ریسیکیو کرنے کے وعدے کیے، اسی لیے نواز شریف تب واپس آیا جب قاضی چیف جسٹس کے منصب پر براجمان ہو گیا۔
اسی دور میں یہ شہرۂ آفاق لطیفہ مشہور ہوا تھا کہ دنیا بھر کے عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کا اتنی شدت سے انتظار نہیں کر رہے جتنی شدت سے ن لیگی قائدین قاضی فائز عیسیٰ کے چیف جسٹس کے منصب پر فائز ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔
یہ ساری باتیں آئین شکنی کے زمرے میں آتی ہیں، اس دور میں مسلم لیگ ن کی قیادت نے کھلم کھلا کہا کہ نواز شریف تب واپس آئے گا جب قاضی ��ا دور شروع ہو جائے گا۔
قاضی کے نواز شریف سے وعدے آئین سے غداری کے دائرے میں آتے ہیں جن پر آرٹیکل 6 لاگو ہوتا ہے جس کی سزا پھانسی ہے۔ کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ کی پریس کانفرنس قاضی فائز عیسیٰ کے لیے ایک الگ پھانسی کا پھندا ہے۔
اس تھوڑے کو زیادہ سمجھیں، قاضی کے خلاف ثبوتوں کے اتنے انبار ہیں کہ ان شاءاللہ دنیا کی کوئی طاقت قاضی کو پھانسی کے پھندے تک پہنچنے سے روک نہیں سکتی۔
بس وقت کے بدلنے کا انتظار ہے، وقت سدا ایک جیسا نہیں رہتا، سدا بادشاہی صرف سوہنے رب کی ہے جس نے قرآن میں فرمایا ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان دنوں کو پھیرتا رہتا ہے:
ؕوَ تِلۡکَ الۡاَیَّامُ نُدَاوِلُہ��ا بَیۡنَ النَّاسِ ۚ ﴿القرآن: آل عمران:۱۴۰﴾ۙ
ترجمہ: اور یہ دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں،
These are the days which We rotate amongst people
قاضی کے لیے پھانسی کا پھندا دنوں کے پھرنے کا بڑی بے تابی سے انتظار کر رہا ہے۔
#QaziFaezIsa #Reference #ElectionRigging
#CommissionerRawalpindiLiaqatChatha
جب بھائی سمیع اللہ پر تشدد ہورہا تھا تو اسکی بہن شاہین فرش پر بیٹھی تھی، تشدد کا نشانہ بننے والا سات بہنوں کا اکلوتا بھائی ہے۔ بہن نے ڈیلی پاکستان کو بتایا کہ اسے تھانے میں لے جایا گیا تو لیڈی کانسٹیبل نہیں تھی،مرد اہلکاروں نے اسے بالوں سے پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اسے تھپڑ مارے گئے اور کمر پر پائپ مارے گئے اور غلیظ گالیاں دی گئیں۔
ظہر کی نماز کے لیے ہم ایک قریبی مسجد میں گئے۔ جماعت ہو چکی تھی، ہم نے بھی وضو کیا اور نماز ادا کی۔
نماز کے بعد والد صاحب مسجد کے ایک کونے میں تھکن اتارنے کے لیے لیٹ گئے۔ میں ساتھ بیٹھا رہا۔
کچھ دیر گزری ہوگی کہ ایک شخص مسجد کے ساتھ ملحق دروازے سے نکلا، اور پاؤں سے والد گرامی کو ہلانے لگا۔ ساتھ ہی انتہائی گھٹیا انداز میں برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔
ایک بیٹے کے لیے یہ غیر متوقع اور حیران کن صورتحال تھی۔ میں ششدر رہ گیا۔
والد صاحب خاموشی سے اٹھے، میرا ہاتھ پکڑا، مجھ سے نظریں چرا کر مسجد سے نکل گئے۔
وہ شخص بڑبڑاتا رہا۔
اس کا انداز، الفاظ اور چہرہ آج بھی ذہن میں محفوظ ہے۔ وقت گزر گیا، لیکن وہ منظر نہ بھول سکا۔
پھر ایک دن اس شخص سے دوبارہ ملاقات ہوئی۔
وہ اسی مسجد کے امام صاحب تھے!
(میں نے اس کے کیساتھ کیا معاملہ جیا اس واقعے کا الگ ذکر پھر کبھی کروں گا۔)
احبابِ گرامی!
آج کل گرمیوں کی شدت اپنی انتہا پر ہے۔
دھوپ، پسینہ، تھکن، فاقہ...
ایسے میں اگر کوئی مزدور، مسافر یا راہ چلتا شخص مسجد کے کسی کونے میں تھوڑا سا لیٹ جائے، تھکن اتار لے، تو کیا مسجد کی بے حرمتی ہو جاتی ہے؟
نہیں صاحب!
یہ بے حرمتی نہیں — یہی تو مسجد کا اصل حسن ہے،مسجد تو سوشل ویلفٸیر سنٹر ہوتی ہے!
مسجد اگر اللہ کا گھر ہے،
تو پھر اللہ کے بندے کو وہاں سستانے سے روکنے والے ہم کون ہوتے ہیں؟
رب کی رحمت صرف نمازی پر نہیں،
بلکہ اس تھکے ہارے، بھوکے پیاسے، سفر کی صعوبتوں سے گزرے ہوئے مسافر پر بھی نازل ہوتی ہے
جو بس چند لمحے خدا کے گھر میں آرام کے لیے بیٹھ جائے۔
یاد رکھیے!
اسلام میں مسجد صرف سجدے کی جگہ نہیں تھی —
بلکہ ایک جامع مرکز تھی، جہاں:
- تعلیم ہوتی تھی
- مشورے اور فیصلے ہوتے تھے
- مہمان ٹھہرتے تھے
- مسافر قیام کرتے تھے
- بھوکے کھانا پاتے تھے
- زخمی و بیمار پناہ لیتے تھے
یعنی مسجد نبی ﷺ کے دور میں سوشل ویلفیئر کا مکمل ادارہ تھی۔
آج اگر کوئی تھکا ہارا مزدور، مسافر، یا غریب مسجد میں چند لمحے آرام کر لے، تو ہمیں اعتراض کیوں؟
کیا مسجد اب صرف قالین، کولر اور اے سی کی زینت بن گئی ہے؟
کیا مسجد کے دروازے غریبوں اور مسافروں کے لیے بند ہو گئے ہیں؟
نہیں دوستو!
مسجد اللہ کا گھر ہے، اور اللہ کے گھر سے کسی بندے کو روکنا، اللہ سے جنگ کے مترادف ہے۔
چنانچہ!
مسجد کو صرف عبادت گاہ نہ سمجھیں
اسے دوبارہ "سوشل سنٹر" بناٸیں۔
یہی سنت ہے،
یہی اصل اسلام ہے۔
"مسجد سب کے لیے ہے!"
👈کرنے کا کام:
تمام مساجد، بالخصوص جو ہسپتالوں، بازاروں، سڑکوں یا عوامی مقامات کے قریب ہیں،
وہاں کچھ جگہ مخصوص کر دی جائے، جہاں مسافر یا تھکے ماندے لوگ
ظہر سے عصر کے درمیان #اعتکاف کی نیت سے کچھ دیر آرام کر سکیں۔
اس پیغام کو آگے پھیلائیں۔۔۔
تاکہ کسی مسافر کو دھتکارا نہ جائے،
بلکہ مسجد سے وہی محبت، وہی تحفظ، وہی شفقت ملے
جو مدینے کی مسجد میں ملا کرتی تھی۔
نندی پور پراجیکٹ/57 ارب کی 95 میگا واٹ بجلی
آپ کو علم ہے کہ ن لیگ کا مشہور زمانہ نندی پور پاور پراجیکٹ جو 57 ارب میں مکمل ہوا اس نے اب تک کتنی بجلی پیدا ہوئی ہے؟
95 میگا واٹ جی صرف 95 میگاواٹ اور یہ منصوبہ نواز شریف کے دور میں چلنے کے پانچ روز بعد ہی بند ہوگیا تھا اور تب سے ابتک بند ہے۔پراجیکٹ کی مشینری فرنس آئل کے لیے ڈیزائن کی گئی تھی اور اسے گیس پر بھی چلایا جا سکتا تھا مگر انجینئرز نے پل��نٹ کو کروڈ آئل سے چلانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں ٹربائن صرف پانچ روز چلنے کے بعد تباہ ہو گئی۔اس سے پیدا ہونے والی بجلی تب 42 روپے فی یونٹ میں پڑنی تھی۔ن لیگ ایسے پراجیکٹ کو ترقیاتی پراجیکٹ کے طور پر پیش کرتی ہے۔ اسکا ٹھیکہ ایک چینی بلیک لسٹ کمپنی کو دیا گیا تھا۔
سمجھدار آگ درست جگہ پہنچ گئ
اسلام آباد اربن رجسٹری برانچ کے ریکارڈ روم میں رات گئے آگ لگ گئی
اہم ریکارڈ جل کر خاکستر ہو گیا
ذرائع کے مطابق ان دنوں اربن رجسٹری برانچ میں FBR کی جانب سے آڈٹ کیا جا رہا تھا
ذرائع کےمطابق اربن رجسٹری برانچ میں FBR کے گین و ایڈوانس ٹیکس میں گھپلے و کرپشن کے ثبوت منظر عام پر آنے کے خدشات موجود تھے جسکے بعد چھٹی کے دن اربن برانچ کے ریکارڈ کو آ گ لگنا انتہائ تشویش کا باعث ہے
یقیناً کرپشن کی داستان اب بطور صحافی ہمیں ہی عوام کے سامنے لانی ہوں گی اور جو فائلیں جل گئیں انکی تفصیلات عوام کے سامنے رکھنی پڑیں گی۔ 😔