اس مساج میں سینٹر میں دمبوں کا بھی مساج کیا جاتا ہے ،اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بس ایک یہ ہی بے حیائ والا کام رہ گیا تھا جو ہر بدلتے دن کے ساتھ عروج پکڑ رہا ہے،
آئی ٹی منسٹر شزا فاطمہ نے جس قسم کا بل اسمبلی سے پاس کروایا ہے۔، اس پر نہ صرف ان سے استعفی لینا چاہئے بلکہ سب سے پہلا ٹاور ان کے گھر میں نصب کرنا چاہئے۔ ایسی بے وقوف اور گھٹیا عورتوں کو اقتدار پکڑا دیا گیا یے جنکی قابلیت صرف باپ چاچا کی سفارش اور موروثیت ہے۔ سائرہ بانو
یہ کون لوگ ہیں ، نا ضمیر ، نا شرم ، نا غیرت , نا ایمان :
پاکستان سیاست اور صحافت میں کیسے کیسے لوگوں کے گلےکے پٹے کھول کر میدان میں چھوڑ دیا گیا ہے - سیاست میں آجکل سب سے سستا اور بے شرم سودا ایک فیصل ووڈا نامی شخص بیچ رہا ہے جسکو عمران خان لے کر آیا اور یہ بے غیرت اسی کے خلاف ہو کر فوجی درندوں کے ساتھ مل کر آجکل چودھری کے اس میراثی کا کام کر رہا جو سب کو ڈراتا ہے اور خود چودھری کے سامنے شلوار کھول کر لیٹا ہوتا ہے -
چار حرف تو ان سیاسی پارٹیوں پر جاتے ہیں جو اسکو اپنے ووٹوں سے ملک کے سب سے مقدس ایوان یعنی سینیٹ میں ایک ممبر بنا کر لائے اور اب وہ انپر چار ٹانگوں والوں کی طرح آوازیں نکلتا ہے -
صحافت میں ان لوگوں کی بھرمار ہے - کہیں زبردست کسی منے کو بٹھا دیا گیا ہے کہیں راوی کو ، ذرا سا ضمیر رکھنے والوں کو یا تو نکال دیا گیا ہے یا زبردستی چپ کرا دیا گیا ہے اور لاکھوں کروڑوں خرچ کرکے کامران خان جیسے ہمیشہ بکنے والے ، بک بک کرنے والوں کو ایک اجینڈا ، یعنی صرف فوجی بوٹوں کو پالش کرنا یا زبان سے چاٹ کر صاف کرنا ، دے دیا گیا ہے -
اس ماحول میں نہ ہی سیاست میں کوئی آبرو رہی نہ صحافت میں - صحافت کو تو میر شکیل کب کا بیچ گئے یہ کہ کر یہ میرا دھندا ہے - اورکیا ہوا جو گندا ہے -