دو سال ہو گئے، مگر ناانصافی ختم نہ ہوئی!
سید سلمان رضا امن اور روزگار کی تلاش میں شارجہ گئے اور سوشل میڈیا سے کنارہ کش ہو کر اپنی زندگی میں مصروف ہو گئے، لیکن 27 ستمبر 2024ء کو انہیں جبراً اغوا کر لیا گیا، آٹھ ماہ نا معلوم مقام پر بے رحمانہ تشدد اور بغیر اینستھیزیا کے ہولناک طبی سزاؤں کے بعد مئی 2025ء سے وہ ابوظبی کی الوثبہ جیل میں قید ہیں، ان کی اہلیہ نے 18 ماہ متحدہ عرب امارات میں تنہا جنگ لڑی اور انہیں ایک بار بھی بالمشافہ ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ 8 تکلیف دہ مہینوں کی قید کے بعد بالآخر انہیں ویڈیو کالز کی اجازت دی گئی جو ان کا بنیادی حق تھا لیکن صرف 8 مختصر کالز کے بعد پچھلے 4 ماہ سے وہ سلسلہ بھی مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے، پاکستان میں ان کے شدید علیل اور بستر سے لگے والد جو دل اور گردوں کے امراض میں مبتلا ہیں، اپنے بیٹے کی ایک آخری جھلک دیکھنے کو ترس رہے ہیں۔
سید سلمان رضا کے ساتھ قید جنید جہانگیر بھی اسی بے گناہی کی سزا کاٹ رہے ہیں، دو سال ان کی زندگی سے چھین لیے گئے۔
ہم اماراتی قیادت، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری سے سید سلمان رضا اور جنید جہانگیر کی فوری، غیر مشروط اور بحفاظت رہائی کا پرزور مطالبہ کرتے ہیں۔
@uaeembassyisb@hrw@amnesty@UNHumanRights@amnestysasia@amnestyAR@RSF_inter@DropSiteNews@FirstPakGlobal
#TransnationalRepression
#ReleaseSalmanRaza
#ReleaseJunaidJahangir
’’اس بار سوچ کر ووٹ دینا، دینا ہے تو دے بھی دینا کیا فرق پڑتا ہے، پہلے بھی دیا تھا نکلا نہیں تو کیا ہوا‘‘
عوام کے اجتماعی شعور پر آئینی عہدے پر بیٹھا شخص تقریباً لعنت بھیج رہا ہے، مذاق اڑا رہا ہے
تین سال میں تحریک انصاف کے ہاتھوں ایک بھی فوجی جان سے نہیں گیا۔ انہی تین سالوں میں تحریک انصاف کے درجنوں لوگ فوج کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ فوج کے ہاتھوں سینکڑوں لوگ زخمی ہوئے۔ ہزاروں گرفتار ہوئے۔ فوج کے ہاتھوں کروڑوں کا مینڈٹ چھینا گیا۔
ابھی تحریک انصاف متشدد ہے؟
آپ دنیا کے جس بھی کونے میں ملیں گے ہم آپ سے نفرت کریں گے ، آپ سے پہلے بھی بہت سے گزرے جو اپنے آپکو خدا سمجھتے تھے آج انکی قبروں پر تھوکنے والا بھی کوئ نہیں ہے اور یہ حال اپکا بھی ہوگا
یہ آپ کی غلط فہمی ہے کہ آپ کی سزاؤں سے تحریک انصاف انصاف ٹوٹ جائے گی۔ صوبائی صدر جنید اکبر کا مانسہرہ میں یوتھ کنونشن سے خطاب۔۔۔
#فیصلہ_کن_تحریک
ظلم سے قومیں کبھی ختم نہیں ہوتیں، بلکہ نئے سرے سے بنتی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے 13 سال مشکل ترین وقت کاٹا، لیکن آپ ﷺ ڈٹے رہے اور بالآخر سرخرو ہوئے۔ لہٰذا، ہم سب کو آپ ﷺ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، بحیثیت قوم ڈٹ کر آخری دم تک مقابلہ کرنا ہوگا۔ عمران خان
@ImranKhanPTI#imrankhanPTI
https://t.co/0Duh7xPSEu
علی افتخار پچس برس کا ایک پرعزم نوجوان جسکا واحد گناہ پرامن احتجاج میں شرکت تھا جس کی پاداش میں وہ نانی والدین کے انتقال کے بعد جو اسکا واحد سہارا تھی ان کو کندھا تک نہ دے سکا۔
نو مئی فالس فلیگ کے نام پر ناجائز ملٹری عدالتوں سے سزا پانے والے بیگناہوں کی کہانیاں۔ یہ پاکستان کے عام شہری تھے جو اپنے جمہوری حق کی خاطر نکلے تھے۔
#May9th_FalseFlag
#UndeclaredMartialLaw
ڈاکٹر امر زوہیب ایک پڑھے لکھی قابل شخصیت، علامہ اقبال میڈیکل کالج کے اسٹنٹ پروفیسر، ان کا جرم ملک میں آئین و قانون کے لئے جدوجہد کرنا اور عمران خان کے ساتھ کی گئی زیادتی پر احتجاج کرنا تھا، انھیں فوجی عدالتوں نے یکطرفہ کیس چلا کر 4 سال کی سزا سنا دی!
#EndMilitaryTrials
Below is a THREAD with some shorter clips of the most important messages from my boys’ interview regarding their father’s incarceration.
Please share if you can.
1) His conditions in jail
“پاکستانی قوم کو بیرونی اور اندرونی دونوں طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ چھبیسویں آئینی ترمیم نے ہمارے انصاف کے نظام کا جنازہ نکال دیا ہے اور ملک اس وقت مکمل ڈکٹیٹر شپ میں جا چکا ہے- سویلینز کا ملٹری ٹرائل قانونی قرار دینا اسی ترمیم کا نتیجہ ہے۔ ایوانوں میں اس ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والے تو صرف کٹھ پتلی تھے اور احکامات کی پاسداری کر رہے تھے۔
دنیا کی کسی جمہوریت میں اپنے شہریوں کے ساتھ ایسا مذاق نہیں ہوتا کہ انہیں احتجاج کرنے پر ملٹری کورٹس کے حوالے کر دیا جائے۔ اس طرح کے فیصلوں سے پاکستان کی جگ ہنسائی ہوتی ہے۔
نو مئی کے واقعات میں اپنے بچوں کو سزائیں دینے کے بجائے توجہ ہندوستان سمیت دیگر اندرونی و بیرونی مسائل پر مرکوز ہونی چاہیے۔ یہ وقت نوجوانوں کو متحد کرنے کا ہے۔
جن نوجوانوں کو ملٹری کورٹس سے دس ، دس سال کی سزائیں دلوائی گئی ہیں ان کا جرم صرف احتجاج کرنا ہے۔ بارہا کہتا ہوں کہ نو مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیج نکلوائی جائے تا کہ معلوم ہو سکے کہ اصل مجرمان کون ہیں اور سزائیں کن کو ملنی چاہئیں ۔ یوں کسی آرمی افسر کے کہنے پر قوم کے نوجوانوں کے مستقبل کو برباد کرنا ظلم ہے۔
چھبیسویں آئینی ترمیم کا دوسرا نتیجہ یہ ہے کہ ججز اب صرف ایک سرکاری ملازم کی حیثیت رکھتے ہیں اور کوئی آزادانہ فیصلہ نہیں لے سکتے۔ ججز کو ایک فرد واحد سب فیصلے لکھ کر دیتا ہے جو کہ نظام انصاف کی موت ہے۔ میرے خلاف جھوٹے اور بوگس مقدمات اسی لیے چل رہے ہیں کیونکہ عدلیہ آزاد نہیں ہے۔
القادر ٹرسٹ کیس سمیت میرے خلاف بنائے گئے تمام کیسز بوگس ہیں اس لیے مرضی کے ججز لانے کے باوجود میری اپیلیں مسلسل التوا میں رکھی جا رہی ہیں- جس دن میرے مقدمات میرٹ پر سنے گئے سب کا خاتمہ ہو جائے گا۔
میرا تمام پارٹی عہدیداران کے لیے واضح پیغام ہے کہ وہ تحریک چلانے پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔ میری پہلی ترجیح تحریک اور پارٹی کی تنظیمِ نو ہے۔
جنید اکبر پر مجھے پورا اعتماد ہے۔ اگر وہ تنظیمی ذمہ داریوں پر فوکس رکھنے کے ساتھ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بھی چلا سکتے ہیں تو یہ اچھی بات ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اہل خانہ اور وکلأ سے ملک میں جاری لاقانونیت اور فسطائیت پر گفتگو
(13-05-2025)
2/2
ایک طرف باپ کے آرمی چیف بننے کے اگلے ہی ہفتے ناجائز سفارتی پاسپورٹ حاصل کرنے والی خدیجہ اور سندس
دوسری طرف جبرا قید کیے گئے باپ کا مقدمہ بہترین الفاظ سے لڑتے ہوئے دو بچے قاسم اور سلمان
توں نیازی دے لیول دا ای نئیں شوریا !
“Our father, Imran Khan, has been in isolation for two years. I wish we could speak to our father on the phone regularly, the court ordered that we talk every week, but we haven’t been able to speak for 2/3 months”
Kasim Khan, Imran Khan’s son
As a muslim we will not tolerate disrespect of kalma لا اله الا الله محمد رسول الله.
This is not only flag of Saudi Arabia, this is basic part of Isalam.
9 مئی 2023: ایک سیاہ دن، ایک خاموش لاش، ایک چیخ جو آج تک سنائی دیتی ہے۔
عبدالقدیر، محض 24 سال کا نوجوان، قانون کا طالب علم تھا۔ وہ اپنے خوابوں کی تکمیل کے سفر پر تھا، ایک پرامید مستقبل کی تلاش میں، اور اپنے خاندان کا واحد سہارا بھی۔ دن بھر وکیل ریحان احمد خان کے ساتھ کلرک کے طور پر کام کرتا، اور شام کو پڑھائی وہ نہ کسی سیاسی جماعت کا کارکن تھا، نہ کسی فساد کا حصہ۔
لیکن وہ مجرم ٹھہرا، صرف اس لیے کہ وہ 9 مئی کو اپنے لیڈر کی گرفتاری کے خلاف آواز بلند کرنے باہر نکلا۔ پرامن احتجاج کے لیے۔ نہ اس کے ہاتھ میں اسلحہ تھا، نہ زبان پر نفرت، صرف ایک سوال
"میرے حق رائے دہی کا کیا؟"
اور پھر…..... سیدھے ماتھے پر گولی۔
کور کمانڈر ہاؤس کے سامنے، عبدالقدیر کو نشانہ بنایا گیا۔ گولی سیدھی پیشانی پر لگی۔ وہیں، زمین پر گرا، اور اس کی سانسیں ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئیں۔
نہ کوئی عدالت، نہ صفائی کا موقع۔
صرف خاموشی، اور پھر اندھیرا۔
ریحان احمد خان، جس کے ساتھ قدیر روز کام کرتا تھا، تین دن تھانے کے چکر لگاتا رہا صرف اس کی لاش، اس کی میت، اس کے ماں باپ کو دلوانے کے لیے۔
ریاست ماں ہوتی ہے نا؟
اس دن ریاست نے ماں جیسا سلوک نہیں کیا وہ سوتیلی بھی نہیں، بلکہ ظالم ترین ثابت ہوئی۔
قدیر کا جرم؟
صرف ایک پرامن احتجاج۔
اس کا قصور؟
جمہوریت پر یقین۔
اس کی سزا؟
موت۔
آج ریحان ایڈووکیٹ، قدیر کے چھوٹے بھائی کو اپنے دفتر میں ملازمت دے کر اور ہر ماہ تنخواہ اس کے والدین کو بھجوا کر وہ خلا بھرنے کی کوشش کر رہا ہے جو کبھی پر نہیں ہو سکتا۔
عبدالقدیر، ایک نام نہیں، ایک علامت ہے!
یہ کہانی ہرگز مت بھولیں،
کیونکہ کل شاید کوئی اور عبدالقدیر ہو۔
پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن، ۹مئ-
9 مئ کے دن صرف واحد صوبہ گلگت بلتستان تھا جس میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تھی جہاں میں وزیر اعلیٰ تھا، اگر پی ٹی آئ ۹مئ کروا رہی ہوتی تو گلگت بلتستان سب سے آسان تھا ۹مئ ک لئے پر وہاں تو گملہ بھی نہی ٹوٹا-
پنجاب میں محسن نقوی کی حکومت تھی جس کو اسٹیبلشمنٹ لے کر آئ تھی- جان بوجھ کربھری عدالت کے اندر رینجر کے زریع آپریشن کر کے عدالتی تقدیس پامال کر کے چیئرمین عمران خان کی غیر قانونی گرفتاری کروای گئ تاکہ لوگوں کو اشتعال دلایا جاۓ-
جس شہر میں 25 سے 30 ہزار کی پولیس ہے، رینجرز ہے، دو ڈویژن کی آرمی ہے، کور کمانڈر ہاؤس کی اپنی سکیورٹی ہے، دو سے تین گھنٹے لگے لبرٹی چوک سے لوگ ادھر آئے اور جو کمانڈر ہاؤس کے باہر کی فوٹیجز ہے 500 سے اوپر لوگ نہیں ہے، کدھر گئ تھی پولیس؟ کدھر گئ ساری سیکورٹی؟
سی سی ٹی وی فوٹیجز کون چوری کر گیا ؟
عدالتی سی سی ٹی وی فوٹیجز کس نے چوراۓ؟
۹ مئ اک فالس فلیگ آپریشن تھا اور ٹارگٹ پاکستانی قوم اور قوم کا واحد لیڈر تھا-