ثانیہ زہرہ کا باپ بیٹی کی قبر پر دو سالہ نواسے کو گود میں لیے کر دھاڑیں مار کر روتا رہا اور ہر بار کہتا رہا میں بیٹی کو انصاف دلانے کے لیے آخری سانس تک جنگ لڑوں گا ۔ اور وہ لڑگیا ۔۔۔
اگر ثانیہ کا باپ ہمت ہار دیتا، دباؤ میں آکر چپ ہو جاتا، تو یہ قتل بھی درجنوں دیگر کیسزز کی طرح خودکشی کا لیبل لگا کر بند فائلوں میں دفن ہو جاتا۔
پچھلے سال جولائی میں 2 بچوں کی ماں 21 سالہ ثانیہ زہرہ اپنے
کمرے میں چھت کے پنکھے سے لٹکی ہوئی مردہ پائی گئی ۔ سسرالیوں نے قتل کو خودکشی ظاہر کیا ، ثانیہ زہرہ کے والد اسد عباس نے بیٹی کے قتل کو خودکشی ماننے سے انکار کردیا ، ڈیڑھ سال تک بیٹی کی قانونی اور اعصابی جنگ لڑی ۔ تاریخ پر تاریخ، دباؤ، مخالفت ، قاتلوں کا اثرورسوخ ۔۔۔ مگر ثانیہ کا باپ ڈٹا رہا ۔پھر فرانزک رپورٹ نے بھی ثابت کردیا کہ موت پھندا لگنے سے نہیں ہوئی بلکہ مردہ جسم کو دوپٹہ باندھ کر لٹکایا گیا تھا۔
کل عدالت کا فیصلہ آ گیا ۔ شوہر کو سزاے موت اور ساس کو عمر قید کا حکم سنایا گیا۔۔ پاکستان جیسے ملک میں ایسا انصاف اور باپ کا بیٹی کے حق میں یوں ڈٹ جانا ایک مثال ہے ۔ لیکن ثانیہ کی روح کو چین تب ملے گا جب قاتل کو صرف کاغذی فیصلے میں ہی نہیں حقیقت میں بھی پھندے پر ویسے ہی لٹکایا جائے ، جیسے اس کے حاملہ جسم کو لٹکایا گیا تھا ۔
موبائل انٹرنیٹ پیکجزکےنام پرٹیلی کام کمپنیاں جس طرح صارفین کولوٹ رہی ہیں اوراربوں روپےماہانہ سادہ لوح شہریوں سےہڑپ کررہی ہیں اس معاملےکو بھی آج ٹیلی کام کی وزیرصاحبہ کےسامنےرکھ کردرخواست کہ ٹیلی کام کمپنیوں کالگام ڈالی جائے۔
آپ بھی اس لوٹ مارسےپریشان ہیں تو ری ٹوئٹ کریں
@ShazaFK
Absolutely extraordinary exchange between Israel and China 👇 I've never seen such a heated exchange come out of top-level forum in China (this is from the 12th Beijing Xiangshan Forum that started yesterday), this normally never happens.
The guy speaking is Yan Xuetong, the dean of the Institute of International Relations at Tsinghua University, the most prestigious university in China.
Speaking for Israel is a military officer apparently called Elad Shoshan.
Yan Xuetong truly doesn't hold back:
- When the Israeli officer tries to bullshit him around how Israel supposedly protects civilians in Gaza, he replies: "You killed more than 70,000 civilians!... The fact is not decided by you... It is not decided by your government. Your government has no legitimacy or the right to decide or defend what is fact"
- And when told that the war will end when Hamas release hostages he replies: "No, this kind of propaganda have too many. No one believe it! Too many! Too much! No one believe it, except a few Israelis"