کہتے ہیں نا کہ: "کب تم پر یہ راز کھلا، انکار سے پہلے یا اقرار کے بعد؟"
آپ میری سالہا سال سے تقاریر سنتے آئے ہیں۔ میں اپنی قوم سے کیا کہنا چاہتا ہوں، میں اپنے کارکنوں سے کیا کہنا چاہتا ہوں، اور میں جہاں پر کھڑا ہوں، اس مناسبت سے بات کرتا ہوں۔ اگر میں اپوزیشن میں ہوں، تو اپوزیشن مستقل ایک پلیٹ فارم ہے؛ جمہوری، پارلیمانی، آئینی اور قانونی۔ اس پلیٹ فارم سے میری کیا ذمہ داری بنتی ہے، میں قوم کو کیا کہوں، میں اپنے کارکنوں کو کیا کہوں، یہ تمام تقریریں میری اسی حوالے سے ہوتی رہی ہیں۔
اور اب جو 2024 کا الیکشن ہوا، اور اس میں جو کچھ ہوا، اس پر جو ہم نے ردِعمل دیا، بیش بہا آپ نے میری تقاریر سنی ہیں۔ میرے خیال میں ان کے مضامین میں، میرے موقف میں کہیں بھی کوئی ایسی بات نہیں ہے، سوائے اس کے کہ کچھ چیزیں آگے ہوں، کچھ پیچھے ہوں، کچھ جملوں، الفاظ اور تعبیرات میں انیس بیس کا فرق ہو، لیکن میسج ایک ہی ہوتا ہے۔
اب ظاہر ہے کہ مجھے اس عمر میں آ کر کوئی یہ سمجھائے کہ فوج کیا ہے، وطن اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے قربانیاں کیا چیز ہیں، تو یہ طفلِ مکتب مجھے یہ چیزیں سمجھائیں گے؟
جو کچھ ہوا، اڑتالیس گھنٹے تک کچھ نہیں تھا۔ معمول کے مطابق ہمارا سیاسی عمل جاری تھا، اور اس کے بعد یکدم انہوں نے میری ایک گھنٹے کی تقریر میں سے ایک جملہ اٹھا کر پیالی میں طوفان کھڑا کر دیا۔ یہ بددیانتی ہے۔ نہ اس میں شہداء کی توہین کا کوئی پہلو ہے، نہ خدا کرے کہ ہم اس قسم کی باتیں سوچنے لگ جائیں۔
اور اگر فوج کو یہ دعویٰ ہے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، تو پبلک میں آپ جائیے، شاید وہاں پر ان کی پالیسیوں اور حکمتِ عملی پر سوال اٹھ رہے ہوں، لیکن 2001 سے لے کر آج تک پچیس سال پورے ہو رہے ہیں کہ جمعیۃ علماء اسلام کی پالیسیوں میں جو تسلسل ہے، ملک کے ساتھ کھڑے رہنا، پارلیمنٹ کے ساتھ کھڑے رہنا، آئین کے ساتھ کھڑے رہنا، ملک کے جمہوری نظام کے ساتھ کھڑے رہنا، اور جہاں میرے اکابر نے ہمیں چھوڑا ہیں، وہیں سے ہم نے ان کے نقشِ قدم کو لیا اور آگے بڑھتے رہے ہیں۔
تو اس دوران جمعیۃ علماء اسلام پبلک سے کیا بات کہہ دیتی؟ کیا ہم نے بندوق سے اپنے کارکنوں کو دور نہیں رکھا؟ کیا ہم نے بندوق سے اپنی قوم کو دور نہیں رکھا؟ کیا ہم نے بندوق کی سیاست کو غیر شرعی نہیں کہا؟
پاکستان کے اندر علماء کرام کا ایک اجماع ہے، اور اس کا تعلق تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام سے ہے۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان اور جمعیۃ علماء اسلام، جو علماء کرام کے سب سے بڑے پلیٹ فارمز ہیں، وہاں سے جو اجماعی رائے اٹھتی ہے، جمعیۃ علماء اسلام پبلک میں اس کی ترجمانی کرتی ہے۔ اس پر تو دو رائے ہی نہیں ہیں۔
اور پھر اس پر آپ خود اندازہ لگائیں کہ گزشتہ چار پانچ سالوں میں خود جمعیۃ علماء اسلام کے اپنے دو سے ڈھائی سو علماء و اکابر شہید ہوئے ہیں، اور آپ الزام لگا رہے ہیں کہ تمہیں شہداء کی قدر نہیں؟ جب بات چھڑتی ہے، تو پھر بات چھڑتی ہے۔
تو ہم نے نہ ان کے الزام کو تسلیم کیا ہے، نہ اس کے سامنے کوئی کمزوری دکھائی ہے۔ بڑے خود اعتمادی کے ساتھ میں سیاست کرتا ہوں، میری جماعت بڑے خود اعتمادی کے ساتھ سیاست کرتی ہے۔ اور یہ کون ہوتے ہیں جو ہمیں سیاست سکھلائیں گے، ہمیں وطن کی محبت سکھلائیں گے، اور ہمیں شہداء کی قدر سکھلائیں گے؟ یہ لوگ سکھلائیں گے؟
مجھے تو حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ ہم اتنے گر گئے ہیں کہ اب ہم ان سے متاثر ہو کر سیاست کریں گے، ان سے مرغوب ہو کر سیاست کریں گے؟ جن کو ہم سیاست سکھانا چاہتے ہیں، جن کو ہم ملک کی قدر و قیمت سکھانا چاہتے ہیں، وہ ہمارے بارے میں اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ تعجب ہوتا ہے جی۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی صحافی آصف نثار سے گفتگو
#فخر_ملت_مولانا
#سرکاری_چمچے_فلاپ
#بارڈر_یا_بیرکس
#مہنگائی_کا_جواب_دو
میں اپنے ملک کے اندر بات کر رہا ہوتا ہوں۔ اگر میرے بیانیے پر غلط الزام لگایا جاتا ہے، مجھے ایک ابتلا میں مبتلا کرنے کے بعد جب میں نے اس کا دفاع کیا، تو اب میرے دفاع کو کاؤنٹر کیا جا رہا ہے کہ ہندوستان میں یہ چل رہا ہے، ہندوستان میں یہ ہو رہا ہے۔
جب بنگال میں آپ سرنڈر کر رہے تھے، اُس وقت انڈیا پر کیا اثر تھا؟ اُس وقت ہندوستان کیا پیغام دے رہا تھا؟ ان کو ایسی باتوں پر شرم نہیں آتی؟
خود کو ٹھیک کرو، اور جب آپ ٹھیک ہوں گے تو قوم آپ کو مبارک باد دے گی۔
انڈیا نے ہم پر حملہ کیا، اور سب سے پہلے فضل الرحمٰن کھڑا ہو گیا اپنی فوج کو سپورٹ کرنے میں۔ اور جب آپ نے بہادری دکھائی، تو میں آپ کے شانہ بشانہ کھڑا تھا۔ میں نے آپ کو تنہا تو نہیں چھوڑا۔
ہم ملک میں آئین کی بھی جنگ لڑ رہے ہیں، ہم ملک کے اندر انصاف کی بھی جنگ لڑ رہے ہیں، اور اُس میں ملک کے رکھوالے اپنے ہی قوم اور اپنے ہی شہریوں کی نیتوں پر شبہ کرتے ہیں، اور ہمارے ملک کے رکھوالے اپنے ہی شہریوں کی کردار کشی کرتے ہیں۔
ملک کے ساتھ ہمدردی رکھنے والے، اخلاص رکھنے والے، اُس کے لیے قربانیاں دینے والوں پر جب ہمارے ملک کے رکھوالے شک کی نگاہ سے دیکھیں گے، تو پھر بحث چھڑے گی۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی صحافی آصف نثار سے گفتگو
#فخر_ملت_مولانا
#سرکاری_چمچے_فلاپ
#بارڈر_یا_بیرکس
#معدنیات_فروش_ٹولہ
#مہنگائی_کا_جواب_دو
جے یوآئی کا حکومت مخالف تحریک کا اگلا قدم
جمعیت علماء اسلام کا اگست میں چاروں صوبوں سمیت اسلام آباد میں صوبائی اور ضلعی ذمہ داروں سے مشاورت کا فیصلہ۔ ترجمان جےیوآئی
تمام صوبوں میں مشاورت کیلئے کنونشن منعقد کئے جائیں گے ۔اسلم غوری
کوئٹہ ، پشاور ،سکھر اور ملتان میں کونشن ہونگے ۔ترجمان جےیوآئی
کنونشن سے مولانا فضل الرحمن اور دیگر مرکزی وصوبائی قائدین خطاب کریں گے۔ اسلم غوری
مہنگائی ،بدامنی ،لاقانونیت اور آئین سے ماورا قانون سازی کے خلاف آئندہ لائحہ عمل پر مشاورت کی جائے گی ۔اسلم غوری
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کے خلاف حالیہ جھوٹے پروپیگنڈہ کو بے نقاب کیا جائے گا ۔ترجمان جےیوآئی
جے یو آئی آئین اور جمہوریت کی بقاء کی جنگ ایوانوں کے ساتھ ساتھ میدانوں میں بھی لڑے گی ۔اسلم غوری
ایوان میں اٹھنے والی آواز کو بلیک آوٹ اور میدانوں میں بلند ہوتی آواز پر کردار کشی کو چیلنج کیا جائے گا ۔ترجمان جےیوآئی
انتہاء پسندی ،فرقہ واریت اور لسانیت کی سیاست دفن کرنے کا صلہ کردار کشی اور جھوٹے پروپیگنڈے کی صورت قبول نہیں ۔اسلم غوری
انتخابات چوری کرنے والوں کا بھر پوتعاقب کریں گے ۔اسلم غوری
کارکن تیاری کریں ۔ان شاء اللہ اگلا دھکا ریت کی دیواروں کیلئے آخری ہو گا ۔ترجمان جے یو آئی
#عوام_مولانا_کے_سنگ
#حق_کی_آواز_جمعیت
#نکے_دا_پروپیگنڈا
#شہدابہانہ_خزانہ_نشانہ
#ذخائر_کے_چور
مونچھوں والی مسرت شاہین کو اسٹیبلشمنٹ نے مولانا فضل الرحمان صاحب کے مقابلے میں لانچ کیا ہے۔
کل 1997 میں ایک مسرت شاہین کو لایا گیا تھا آج اسکا نام و نشان تک نہیں باقی۔
نہ تب مولانا کی سیاست ختم ہوئی تھی نہ آج ہوگی ..
@ziaurrehman76#فخر_ملت_مولانا#سرکاری_چمچے_فلاپ
#بارڈر_یا_بیرکس
#معدنیات_فروش_ٹولہ
#مہنگائی_کا_جواب_دو